بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 47
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 47
آیت نمبر: 47 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
وَ نَضَعُ الۡمَوَازِیۡنَ الۡقِسۡطَ لِیَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ فَلَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَیۡئًا ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِثۡقَالَ حَبَّۃٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ اَتَیۡنَا بِہَا ؕ وَ کَفٰی بِنَا حٰسِبِیۡنَ ﴿۴۷﴾
قیامت کے روز ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو رکھ دیں گے، پھر کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا جس کا رائی کے دانے کے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہو گا وہ ہم سامنے لے آئیں گے اور حساب لگانے کے لیے ہم کافی ہیں
قیامت کے دن ہم درمیان میں ﻻ رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ﻇلم نہ کیا جائے گا۔ اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے ﻻ حاضر کریں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے
اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا، اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کو،
ہم قیامت کے دن صحیح تولنے والے میزان (ترازو) قائم کر دیں گے۔ پس کسی شخص پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی (عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو ہم اسے (وزن میں) لے آئیں گے اور حساب لینے والے ہم ہی کافی ہیں۔
اور ہم قیامت کے دن ایسے ترازو رکھیں گے جو عین انصاف ہوں گے، پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے ایک دانہ کے برابر عمل ہو گا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ذلت و رسوائی کے مارے لوگ ٭٭

کافروں کے کینے کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتا رہا، لمبی لمبی عمریں ملیں، انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں۔ اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ ’ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کر دیں؟ ‘ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورۃ الرعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔ جیسے فرمایا آیت «ووَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [46-الأحقاف:27] ‏‏‏‏، ’ ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں ‘۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ’ ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے آئے ہیں ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:494/1:] ‏‏‏‏ کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کر دیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کر دیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی۔ کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔ میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں، یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کر دی ہیں، جن کے دل و دماغ بند کر دیئے ہیں، انہیں یہ اللہ کی باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بے کار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آ جائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بے ساختہ اپنے قصور کا اقرار کر لیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ‏‏‏‏ ’ اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا ‘۔ اس لیے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لیے کافی ہے۔ ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہو جائے گا۔

اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ فرمان ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ‏‏‏‏، ’ اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے ‘۔ لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا، «يَابُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ‏‏‏‏ ’ بیٹے ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، وہ اللہ اسے لائے گا، وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2695] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے۔ جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا۔ پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ ’ کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا؟ ‘ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلماً لکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اچھا تیرے پاس کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے؟ ‘ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا ’ کیوں نہیں؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا ‘۔ اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اسے پیش کرو ‘۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا؟ جناب باری فرمائے گا ’ تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔ اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور وہ اونچے ہو جائیں گے اور اللہ رحمان و رحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی } }۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں بھی روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے گا اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے، وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو۔ ایک چیز اس کی ابھی باقی رہ گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا }۔۱؎ [مسند احمد:221/2:حسن] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں، میری خیانت بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں۔ اب فرمائیے میرا ان کا کیا حال ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی خیانت، نافرمانی، جھٹلانا و‏غیرہ جمع کیا جائے گا اور تیرا مارنا پیٹنا برا بھلا کہنا بھی۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو تو چھوٹ گیا نہ عذاب نہ ثواب۔ ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کا فضل و کرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا }۔ یہ سن کر وہ صحابی رضی اللہ عنہ رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے کیا ہو گیا؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» } [آیت:47] ‏‏‏‏ یہ سن کر اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3165،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

47۔ 1 ‏موازین، میزان (ترازو) کی جمع ہے وزن اعمال کے لئے قیامت والے دن یا تو کئی ترازو ہونگے یا ترازو تو ایک ہی ہوگی انسان کے اعمال تو بےوزن ہیں یعنی ان کا کوئی ظاہری وجود یا جسم تو ہے نہیں پھر وزن کس طرح ہوگا؟ یہ سوال آج سے قبل تک شاید کوئی اہمیت رکھتا ہو۔ لیکن آج سائنسی ایجادات نے اسے ممکن بنادیا ہے۔ اب ان ایجادات کے ذریعے سے بےوزن چیزوں کا وزن بھی تولا جانے لگا ہے۔ جب انسان اس بات پر قادر ہوگیا ہے، تو اللہ کے لئے ان اعمال کا، جو بےوزن کو دکھلانے کے لئے ان بےوزن اعمال کو وہ اجسام میں بدل دے گا اور پھر وزن کرے، جیسا کہ حدیث میں بعض اعمالوں کے مجسم ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلا! صاحب قرآن کے لئے ایک خوش شکل نوجوان کی شکل میں آئے گا۔ اور پوچھے گا، تو کون ہے؟ وہ کہے گا میں قرآن ہوں جسے تو راتوں کو (قیام اللیل) بیدار رہ کر اور دن کو پیاسا رہ کر پڑھا کرتا تھا، اسی طرح مومن کی قبر میں عمل صالح ایک خوش رنگ اور معطر نوجوان کی شکل میں آئے گا اور کافر اور منافق کے پاس اس کی برعکس شکل میں (مسند احمد 5۔ 287)۔ اس کی مذید تفصیل کے لیے دیکھئے سورة الاعراف 7 کا حاشیہ القسط مصدر اور الموازین کی صفت ہے معنی ہیں ذوات قسط انصاف کرنے والی ترازو یا ترازوئیں

📖 القرآن الکریم

(آیت 47) ➊ {وَ نَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ …:} پچھلی آیات میں ذکر ہوا ہے کہ کفار کے پاس جب تک قدرت رہتی ہے وہ عدل و انصاف سے کنارہ کش اور ظلم و جور پر تلے رہتے ہیں اور اختیار ختم ہوتے ہی حق کا اعتراف کرنے لگتے ہیں، اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اس طرح نہیں، وہ ہمیشہ {”قَائِمًا بِالْقِسْطِ“} انصاف پر قائم ہے، حتیٰ کہ قیامت کے دن بھی وہ انصاف کے ترازو قائم فرمائے گا، پھر کسی جان پر کچھ ظلم نہیں ہو گا۔ (بقاعی) ➋ {” الْمَوَازِيْنَ”مِيْزَانٌ“} کی جمع ہے۔ {” الْقِسْطَ “} مصدر ہے جو اسم فاعل{ ”مُقْسِطٌ“ } کے معنی میں ہے اور {” الْمَوَازِيْنَ “} کی صفت ہے، جیسے مبالغے کے لیے عادل آدمی کو {”رَجُلٌ عَدْلٌ“} کہہ لیتے ہیں، یعنی اتنا عادل آدمی کہ سراپا عدل ہے۔ یعنی ہم ایسے ترازو رکھیں گے جو اتنے انصاف والے ہیں گویا عین انصاف ہیں۔ موصوف واحد ہو یا تثنیہ یا جمع، مذکر ہو یا مؤنث، اگر اس کی صفت مصدر ہو تو وہ سب کے لیے ایک جیسی ہوتی ہے۔ {” الْقِسْطَ “} مفعول لہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی ہم انصاف کے لیے بہت سے ترازو رکھیں گے۔ ➌ {” الْمَوَازِيْنَ “} سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن متعدد ترازو ہوں گے، جن کے ساتھ اعمال کا وزن کیا جائے گا، پھر یا تو ہر آدمی کے لیے الگ ترازو ہو گا یا ہر عمل کے لیے۔ نیز دیکھیے سورۂ اعراف (۷)۔ ➍ { فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا:} ”پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہیں کیا جائے گا“ یعنی نہ نیکیوں میں کچھ کمی آئے گی اور نہ برائیوں میں کوئی اضافہ ہو گا۔ ➎ { وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ زلزال (۷، ۸) اور لقمان (۱۶)۔ ➏ {وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِيْنَ:} ہم حساب لینے والے کافی ہیں، ہمیں کسی مدد گار کی ضرورت نہیں، پھر نہ ہمارے حساب کے بعد کسی پڑتال کی گنجائش ہے اور نہ کہیں اپیل ہو سکتی ہے۔
← پچھلی آیت (46) پوری سورۃ اگلی آیت (48) →