بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 3
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 3
آیت نمبر: 3 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
لَاہِیَۃً قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجۡوَی ٭ۖ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ٭ۖ ہَلۡ ہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ ۚ اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَ اَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۳﴾
دِل ان کے (دوسری ہی فکروں میں) منہمک ہیں اور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ "یہ شخص آخر تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے، پھر کیا تم آنکھوں دیکھتے جادُو کے پھندے میں پھنس جاؤ گے؟"
ان کے دل بالکل غافل ہیں اور ان ﻇالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں کہ وه تم ہی جیسا انسان ہے، پھر کیا وجہ ہے جو تم آنکھوں دیکھتے جادو میں آجاتے ہو
ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورت کی کہ یہ کون ہیں ایک تم ہی جیسے آدمی تو ہیں کیا جادو کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر،
ان کے دل بالکل غافل ہیں اور یہ ظالم چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ شخص (رسول) اس کے سوا کیا ہے؟ تمہاری ہی طرح کا ایک بشر ہے کیا تم آنکھیں دیکھتے ہوئے (اور سوجھ بوجھ رکھتے ہوئے) جادو (کی بات) سنتے جاؤگے؟
اس حال میں کہ ان کے دل غافل ہوتے ہیں۔ اور ان لوگوں نے خفیہ سرگوشی کی جنھوں نے ظلم کیا تھا، یہ تم جیسے ایک بشر کے سوا ہے کیا؟ تو کیا تم جادو کے پاس آتے ہو، حالانکہ تم دیکھ رہے ہو؟

📖 تفسیر ابن کثیر

قیامت سے غافل انسان ٭٭

اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ ’ قیامت قریب آ گئی ہے۔ پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لیے کوئی تیاری کر رہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہو گئے ہیں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» ۱؎ [16-النحل:1] ‏‏‏‏ ’ امر ربی آ گیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو؟ ‘ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» ۱؎ [54-القمر:2-1] ‏‏‏‏ ’ قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا ‘ الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے «(‏‏‏‏النَّاسُ فِي غَفَلَاتِهِمْ)‏‏‏‏‏‏‏‏» «(‏‏‏‏وَرَحَا الْمَنِيَّةِ تَطْحَنُ)‏‏‏‏‏‏‏‏» ”موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔‏‏‏‏“

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے، انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ عامر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ» کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [میزان الاعتدال:256/2:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ ’ یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں ‘۔ بخاری شریف میں ہے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کر لیا، تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7523] ‏‏‏‏ یہ لوگ کتاب اللہ سے بے پرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کر سکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کر دے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باوجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں؟

📖 احسن البیان

3۔ 1 یعنی نبی کا بشر ہونا ان کے لئے ناقابل قبول ہے پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ تم دیکھ نہیں رہے کہ یہ تو جادوگر ہے، تم اس کے جادو میں دیکھتے بھالتے کیوں پھنستے ہو۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 3) ➊ {لَاهِيَةً قُلُوْبُهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى …: ” لَاهِيَةً “ ” لَهِيَ يَلْهٰي “} (ع) یا {” لَهَا يَلْهُوْ“} (ن) سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے۔ {” لَهْوٌ“} وہ چیز ہے جو انسان کو اس کے ضروری اور اہم کاموں سے کسی اور کام میں مشغول کر دے۔ (راغب) جیسا کہ مادہ پرست لوگ آخرت کی فکر چھوڑ کر صرف دنیا کی طلب میں مشغول ہیں۔ آج کل کے علوم و فنون سائنس، آرٹ وغیرہ میں کوئی چیز ایسی نہیں جو آخرت کی یاد دلانے والی ہو، بلکہ یہ سب روشن خیالیاں دن بدن موت اور آخرت کی فکر سے دور لے جا رہی ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ روم (۶، ۷)۔ ➋ { وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى:} یہاں نحو کا ایک مشہور سوال ہے کہ جب فاعل ظاہر ہو تو خواہ وہ واحد ہو یا تثنیہ یا جمع، فعل واحد کے صیغے کے ساتھ آتا ہے۔ یہاں {” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “} فاعل ظاہر ہونے کے باوجود فعل جمع کے صیغے کے ساتھ کیوں آیا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ {” اَسَرُّوا “} کا فاعل ضمیر جمع ہے اور {” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “} اس سے بدل ہے، یعنی کفار نے باہمی خفیہ مشورے سے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور رکھنے کے لیے خفیہ مشاورت کرکے طے کیا کہ لوگوں سے یہ کہو اور خفیہ رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اگر لوگوں کو پتا چل گیا کہ یہ ان کی طے کردہ بات ہے تو وہ اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔ ➌ {هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ …:} یعنی یہ کوئی فرشتہ نہیں ہے، بلکہ تمھاری طرح کا ایک انسان ہے، اب جو یہ معجزات دکھاتا ہے اور اس کلام کو سن کر لوگ گرویدہ ہو رہے ہیں تو یہ سب جادو ہے۔ کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر دو طرح سے طعن کیا، ایک یہ کہ آپ بشر ہیں اور بشر نبی نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کئی جگہ بیان فرمائی ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۹۴)، تغابن (۶)، قمر (۲۴)، مومنون (۳۳، ۳۴)، فرقان (۷) اور ابراہیم (۱۰) پہلے کفار و مشرکین کہتے تھے کہ بشر نبی نہیں ہو سکتا، آج کل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی بشر نہیں ہو سکتا، بات ایک ہی ہے، «{ بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ[المؤمنون: ۸۱ ] ”بلکہ انھوں نے کہا جیسے پہلوں نے کہا تھا۔“ اللہ تعالیٰ نے آگے اس کا رد فرمایا۔ دوسرا طعن یہ تھا کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ جادو ہے۔ کفار کا یہ طعن بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ مدثر (۲۴) اور ذاریات (۵۲)۔
← پچھلی آیت (2) پوری سورۃ اگلی آیت (4) →