بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 40
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 40
آیت نمبر: 40 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
بَلۡ تَاۡتِیۡہِمۡ بَغۡتَۃً فَتَبۡہَتُہُمۡ فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ رَدَّہَا وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۴۰﴾
وہ بلا اچانک آئے گی اور اِنہیں اِس طرح یک لخت دبوچ لے گی کہ یہ نہ اس کو دفع کر سکیں گے اور نہ اِن کو لمحہ بھر مُہلت ہی مل سکے گی
(ہاں ہاں!) وعدے کی گھڑی ان کے پاس اچانک آجائے گی اور انہیں ہکا بکا کر دے گی، پھر نہ تو یہ لوگ اسے ٹال سکیں گے اور نہ ذرا سی بھی مہلت دیئے جائیں گے
بلکہ وہ ان پر اچانک آپڑے گی تو انہیں بے حواس کردے گی پھر نہ وہ اسے پھیرسکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی
بلکہ وہ (گھڑی) اچانک ان پر آجائے گی۔ اور انہیں مبہوت کر دے گی پھر نہ تو وہ اسے ہٹا سکیں گے اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔
بلکہ وہ ان پر اچانک آئے گی تو انھیں مبہوت کر دے گی، پھر وہ نہ اسے ہٹا سکیں گے اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

خود عذاب کے طالب لوگ ٭٭

عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے، اس لیے جرأت سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ’ تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے ‘۔ «لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ» ۱؎ [39-الزمر:16] ‏‏‏‏ ’ اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے ‘، «لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:41] ‏‏‏‏ ’ طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹا سکو ‘۔ «سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:50] ‏‏‏‏ ’ گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہرطرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی ‘۔ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» ۱؎ [13-الرعد:34] ‏‏‏‏ ’ کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے۔ جہنم اچانک دبوچ لے گی۔ اس وقت ہکے بکے رہ جاؤ گے، مبہوت اور بے ہوش ہو جاؤ گے، حیران و پریشان ہو جاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفع کرو، اس سے بچ جاؤ اور نہ ایک ساعت کی ڈھیل اور مہلت ملے گی ‘۔

📖 احسن البیان

40۔ 1 یعنی انھیں کچھ سجھائی نہ نہیں دے گا کہ وہ کیا کریں؟ 40۔ 2 کہ وہ توبہ و اعتذار کا اہتمام کرلیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 40) ➊ {بَلْ تَاْتِيْهِمْ بَغْتَةً …:} ”بلکہ وہ ان کے پاس اچانک آئے گا۔“ {” تَاْتِيْهِمْ “} کی ضمیر سے مراد قیامت ہے، کیونکہ آگ کا چاروں طرف سے گھیرنا قیامت کے دن ہو گا۔ اچانک آنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے آنے سے پہلے اس کا وقت معلوم ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ نے وہ کسی کو بتایا ہے۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۵)، اعراف (۱۸۷) اور نازعات (۴۲ تا ۴۶) نہ قیامت آہستہ آہستہ بتدریج آئے گی کہ اس کے آنے کا علم ہو جائے۔ (بقاعی) بلکہ اچانک آئے گی، اسی لیے اس کا ایک نام {” اَلسَّاعَةُ “} ہے، اس لیے کہ وہ ایک ساعت (گھڑی) میں قائم ہو جائے گی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَهُمَا فَلاَ يَتَبَايَعَانِهٖ وَلَا يَطْوِيَانِهٖ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِهٖ فَلَا يَطْعَمُهٗ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَةُ وَهُوَ يَلِيْطُ حَوْضَهٗ فَلَا يَسْقِيْ فِيْهِ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ أَحَدُكُمْ أُكْلَتَهُ إِلٰی فِيْهِ فَلَا يَطْعَمُهَا ] [ بخاري، الرقاق، بابٌ: ۶۵۰۶۔ مسلم: ۲۹۵۴ ] ”قیامت اس حال میں قائم ہو گی کہ دو آدمیوں نے اپنا کپڑا پھیلایا ہو گا، پھر نہ اس کی خرید و فروخت کر سکیں گے اور نہ اسے لپیٹ سکیں گے اور قیامت اس حال میں قائم ہو گی کہ آدمی اپنے دودھ والے جانور کا دودھ لائے گا تو اسے پیے گا نہیں اور قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ وہ اپنے حوض کی لپائی کر رہا ہو گا تو اس میں اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکے گا اور قیامت اس حال میں قائم ہو گی کہ اس نے لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھایا ہو گا تو کھا نہیں سکے گا۔“ ➋ { فَتَبْهَتُهُمْ:بَهَتَ يَبْهَتُ بَهْتًا “} (ف،ع، ن، ک) اچانک آپکڑنا، لاجواب کر دینا، حیران کر دینا۔ (قاموس) یعنی وہ انھیں مبہوت (حیرت زدہ) کر دے گی۔ {” فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ رَدَّهَا “} کیونکہ نہ وہ اسے ہٹا سکیں گے اور نہ اس پر صبر کر سکیں گے۔ {” وَ لَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ “} اور نہ انھیں کوئی مہلت ملے گی کہ ایک لمحہ آرام کر لیں، کیونکہ مہلت کی مدت تو اس سے پہلے پوری ہو چکی ہو گی۔ (قاسمی)
← پچھلی آیت (39) پوری سورۃ اگلی آیت (41) →