بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 39
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 39
آیت نمبر: 39 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
لَوۡ یَعۡلَمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا حِیۡنَ لَا یَکُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡہِہِمُ النَّارَ وَ لَا عَنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۳۹﴾
کاش اِن کافروں کو اُس وقت کا کچھ علم ہوتا جبکہ یہ نہ اپنے منہ آگ سے بچا سکیں گے نہ اپنی پیٹھیں، اور نہ ان کو کہیں سے مدد پہنچے گی
کاش! یہ کافر جانتے کہ اس وقت نہ تو یہ کافر آگ کو اپنے چہروں سے ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی
کسی طرح جانتے کافر اس وقت کو جب نہ روک سکیں گے اپنے مونہوں سے آگے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد ہو
کاش ان کافروں کو اس کا کچھ علم ہوتا۔ جب یہ لوگ آگ کو نہیں روک سکیں گے نہ اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔
کاش! وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اس وقت کو جان لیں جب وہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو روک سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

خود عذاب کے طالب لوگ ٭٭

عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے، اس لیے جرأت سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ’ تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے ‘۔ «لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ» ۱؎ [39-الزمر:16] ‏‏‏‏ ’ اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے ‘، «لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:41] ‏‏‏‏ ’ طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹا سکو ‘۔ «سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ» ۱؎ [14-ابراھیم:50] ‏‏‏‏ ’ گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہرطرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی ‘۔ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» ۱؎ [13-الرعد:34] ‏‏‏‏ ’ کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے۔ جہنم اچانک دبوچ لے گی۔ اس وقت ہکے بکے رہ جاؤ گے، مبہوت اور بے ہوش ہو جاؤ گے، حیران و پریشان ہو جاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفع کرو، اس سے بچ جاؤ اور نہ ایک ساعت کی ڈھیل اور مہلت ملے گی ‘۔

📖 احسن البیان

39۔ 1 اس کا جواب علیحدہ ہے، یعنی اگر یہ جان لیتے تو پھر عذاب کا جلدی مطالبہ نہ کرتے یا یقینا جان لیتے کہ قیامت آنے والی ہے یا کفر پر قائم نہ رہتے بلکہ ایمان لے آتے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 39) ➊ { لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …:} یعنی ان لوگوں کے عذاب کو جھٹلانے اور اسے ناممکن سمجھنے کی اصل وجہ ان کا جہل ہے، انھیں اس وقت کا علم ہی نہیں جب آگ انھیں چاروں طرف سے گھیر لے گی۔ یہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو روک سکیں گے، جو ان کے جسم کا سب سے اہم اور خوبصورت حصہ ہے اور نہ پشتوں سے، جو جسم کا سب سے مضبوط حصہ ہے۔ جب ان اعضا کو آگ سے نہ بچا سکے تو دوسرے اعضا کو کیسے بچائیں گے؟ کفار کو آگ کے چاروں طرف سے گھیرنے کا ذکر کئی جگہ آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ کہف (۲۹)، اعراف (۴۱)، زمر (۱۶)، ابراہیم (۵۰)، مومنون (۱۰۴) اور دوسری آیات۔ ” لَوْ “ کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ یہ حرف شرط ہے اور اس کی جزا محذوف ہے، جو خودبخود سمجھ میں آ رہی ہے، یعنی اگر کافر لوگ اس وقت کو جان لیں تو نہ کبھی اسے جلدی طلب کریں، نہ اس کا مذاق اڑائیں اور نہ اس کا انکار کریں۔ دوسری تفسیر یہ کہ یہ حرف تمنی ہے، یعنی ”کاش کہ کافر لوگ اس وقت کو جان لیں“ اس صورت میں جزا کی ضرورت نہیں۔ ➋ { وَ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ:} کوئی ان کی مدد کو نہیں آئے گا اور نہ وہ اپنی یا ایک دوسرے کی مدد کر سکیں گے۔ دیکھیے سورۂ طارق (۱۰)، صافات (۲۵، ۲۶) اور شعراء (۹۲ تا ۹۵)۔
← پچھلی آیت (38) پوری سورۃ اگلی آیت (40) →