بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 43
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 43
آیت نمبر: 43 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
اَمۡ لَہُمۡ اٰلِہَۃٌ تَمۡنَعُہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ؕ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ نَصۡرَ اَنۡفُسِہِمۡ وَ لَا ہُمۡ مِّنَّا یُصۡحَبُوۡنَ ﴿۴۳﴾
کیا یہ کچھ ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں؟ وہ نہ تو خود اپنی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہماری ہی تائید اُن کو حاصل ہے
کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں جو انہیں مصیبتوں سے بچا لیں۔ کوئی بھی خود اپنی مدد کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ کوئی ہماری طرف سے رفاقت دیا جاتا ہے
کیا ان کے کچھ خدا ہیں جو ان کو ہم سے بچاتے ہیں وہ اپنی ہی جانوں کو نہیں بچاسکتے اور نہ ہماری طرف سے ان کی یاری ہو،
کیا ہمارے علاوہ ان کے ایسے خدا ہیں جو ان کی حفاظت کر سکیں؟ وہ (خود ساختہ) خدا تو خود اپنی مدد نہیں کر سکتے اور نہ ہی ہماری طرف سے ان کو پناہ دی جائے گی (اور نہ تائید کی جائے گی)۔
یا ان کے لیے ہمارے سوا کوئی اور معبود ہیں، جو انھیں بچاتے ہیں؟ وہ نہ خود اپنی جانوں کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہماری طرف سے ان کا ساتھ دیا جاتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ تمہیں جو ستایا جا رہا ہے، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے، اس پر پریشان نہ ہونا، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں نے یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں میں پھنس گئے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:34] ‏‏‏‏ ‏‏‏‏، ’ تجھ سے پہلے کے انبیاء بھی جھٹلائے گئے اور انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ اللہ کی باتوں کا بدلنے والا کوئی نہیں۔ تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں ‘۔ پھر اپنی نعمت بیان فرماتا ہے کہ ’ وہ تم سب کی حفاظت دن رات اپنی ان آنکھوں سے کر رہا ہے جو نہ کبھی تھکیں نہ سوئیں ‘۔ «مِنَ الرَّحْمَٰنِ» کا معنی رحمان کے بدلے یعنی رحمان کے سوا ہیں۔ عربی شعروں میں بھی «مِنَ» بدل کے معنی میں ہے۔ اسی ایک احسان پر کیا موقوف ہے۔ یہ کفار تو اللہ کے ہر ایک احسان کی ناشکری کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کے منکر اور ان سے منہ پھیرنے والے ہیں۔ پھر بطور انکار کے ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کہ ’ کیا ان کے معبود جو اللہ کے سوا ہیں، انہیں اپنی حفاظت میں رکھتے ہیں؟ ‘ یعنی وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ ان کا یہ گمان محض غلط ہے۔ بلکہ ان کے معبودان باطل خود اپنی مدد و حفاظت کے بھی مالک نہیں۔ بلکہ وہ ہم سے بچ بھی نہیں سکتے۔ ہماری جانب سے کوئی خبر ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ ایک معنی اس جملے کے یہ بھی ہیں کہ ’ نہ تو وہ کسی کو بچا سکیں نہ خود بچ سکیں ‘۔

📖 احسن البیان

43۔ 1 اس معنی ہیں ' وَلَا ھُمْ یَجْارُوْنَ مِنْ عَذَابِنَا ' نہ وہ ہمارے عذاب سے ہی محفوظ ہیں، یعنی وہ خود اپنی مدد پر اور اللہ کے عذاب سے بچنے پر قادر نہیں ہیں، پھر ان کی طرف سے ان کی مدد کیا ہوئی ہے اور وہ انھیں عذاب سے کس طرح بچا سکتے ہیں؟

📖 القرآن الکریم

(آیت 43) ➊ { اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا:اَمْ “} کا عطف اس سے پہلے محذوف جملہ استفہامیہ پر ہوتا ہے۔ (بقاعی) یعنی کیا حقیقت وہی ہے جو اوپر گزری کہ ہمارے عذاب سے انھیں کوئی بچانے والا نہیں، یا ہمارے سوا ان کے کوئی ایسے معبود ہیں جو ان کو بچاتے اور ان کا دفاع کرتے ہیں؟ {” مِنْ دُوْنِنَا “} کا ایک معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ”یا ان کے کوئی ایسے معبود ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کو بچاتے اور ان کا دفاع کرتے ہیں۔“ ➋ {لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ:} یہ اس کا رد ہے کہ ان کے معبود انھیں بچا سکتے ہیں، یعنی ان کے بنائے ہوئے معبود اپنی مدد نہیں کر سکتے تو ان کی یا کسی اور کی کیا مدد کریں گے؟ ➌ { وَ لَا هُمْ مِّنَّا يُصْحَبُوْنَ:} ”اور نہ ہماری طرف سے ان کا ساتھ دیا جاتا ہے“ یہ کفار کے اس عقیدے کا رد ہے کہ ہمارے معبود ہمیں بچانے کی طاقت نہ بھی رکھتے ہوں تو انھیں اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کا ساتھ حاصل ہے، جس کی بدولت وہ جو چاہیں کروا لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے معبود نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں اور نہ انھیں ہمارا کسی قسم کا ساتھ یا تائید حاصل ہے۔ اس کے قریب معنی والی آیت دیکھیے سورۂ زمر (۳)۔ (ابن عاشور)
← پچھلی آیت (42) پوری سورۃ اگلی آیت (44) →