بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 9
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 9
آیت نمبر: 9 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
ثُمَّ صَدَقۡنٰہُمُ الۡوَعۡدَ فَاَنۡجَیۡنٰہُمۡ وَ مَنۡ نَّشَآءُ وَ اَہۡلَکۡنَا الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۹﴾
پھر دیکھ لو کہ آخرکار ہم نے ان کے ساتھ اپنے وعدے پُورے کیے، اور انہیں اور جس جس کو ہم نے چاہا بچا لیا، اور حد سے گزر جانے والوں کو ہلاک کر دیا
پھر ہم نے ان سے کیے ہوئے سب وعدے سچے کیے انہیں اور جن جن کو ہم نے چاہا نجات عطا فرمائی اور حد سے نکل جانے والوں کو غارت کر دیا
پھر ہم نے اپنا وعدہ انہیں سچا کر دکھایا تو انہیں نجات دی اور جن کو چاہی اور حد سے بڑھنے والوں کو ہلاک کردیا
پھر ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کر دکھایا اور انہیں اور ان کے ساتھ جن کو چاہا بچالیا اور زیادتی کرنے والوں کو تباہ و برباد کردیا۔
پھر ہم نے ان سے وعدہ سچا کر دیا تو ہم نے انھیں نجات دی اور اسے بھی جسے ہم چاہتے تھے اور ہم نے حد سے بڑھنے والوں کو ہلاک کر دیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے ٭٭

چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے۔ فرماتا ہے، ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے، ان میں ایک بھی فرشتہ نہ تھا ‘۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» ۱؎ [12-یوسف:109] ‏‏‏‏ یعنی ’ تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی، سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے ‘۔ اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» ۱؎ [46-الأحقاف:9] ‏‏‏‏ یعنی ’ کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں ‘۔ ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت «أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» ۱؎ [64-التغابن:6] ‏‏‏‏ ’ کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہو گا؟ ‘ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ’ اچھا تم اہل علم سے (‏‏‏‏یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے) اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے؟ ‘ یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» ۱؎ [25-الفرقان:20] ‏‏‏‏ یعنی ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے، وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی کرتے تھے ‘ یعنی وہ سب انسان تھے، انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج، بیوپار، تجارت کے لیے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔ جیسے مشرکین کا قول تھا آیت «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:7، 8] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ رسول کیسا ہے؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا۔ اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کر دیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھا پی تو لیتا ‘، الخ۔ اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے، آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» ۱؎ [21-الأنبياء:34] ‏‏‏‏ یعنی ’ تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی۔ فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتا تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا، وہ سچا ہو کر رہا ‘ یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہو گئے۔ اور پیغمبر علیہم السلام نجات پاگئے ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے۔ اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا۔

📖 احسن البیان

9۔ 1 یعنی وعدے کے مطابق نبیوں کو اور اہل ایمان کو نجات عطا کی اور حد سے تجاوز کرنے والے یعنی کفار و مشرکین کو ہم نے ہلاک کردیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 9) {ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ …: ” صَدَقَ يَصْدُقُ“} لازم بھی آتا ہے، یعنی سچ کہنا اور متعدی بھی، یعنی سچا کر دکھانا، ”پھر ہم نے ان سے وعدہ سچا کر دیا۔“ {” ثُمَّ “} (پھر) کا لفظ یہ بتانے کے لیے ہے کہ رسولوں کی مخالفت ہوئی، انھیں ستایا گیا، جنگیں بھی ہوئیں مگر پھر آخر کار ہم نے ان سے مدد کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا، سو ہم نے رسولوں کو نجات دی اور ان کو بھی جنھیں ہم چاہتے تھے۔ اس میں رسولوں کے پیروکار بھی شامل ہیں اور کفار میں سے وہ بھی جنھیں آئندہ ایمان لانا تھا، یا جن کی اولاد کو ایمان کی توفیق ملنا تھی۔ عربوں پر سب کو ہلاک کرنے والا عذاب نہ آنے میں یہی حکمت تھی۔ ”اور حد سے بڑھنے والوں کو ہلاک کر دیا“ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکاروں کے لیے خوش خبری ہے اور کفار کے لیے وعید۔ رسولوں سے کیے گئے مدد کے وعدے اور اسے پورا کرنے کے ذکر پر مشتمل آیات سورۂ مجادلہ (۲۱)، صافات (۷۱ تا ۷۳)، ابراہیم (۱۳، ۱۴) اور یوسف (۱۱۰) میں ملاحظہ فرمائیں۔
← پچھلی آیت (8) پوری سورۃ اگلی آیت (10) →