بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنبياء — Surah Anbiya
آیت نمبر 50
کل آیات: 112
قرآن کریم الأنبياء آیت 50
آیت نمبر: 50 — سورۃ الأنبياء islamicurdubooks.com ↗
وَ ہٰذَا ذِکۡرٌ مُّبٰرَکٌ اَنۡزَلۡنٰہُ ؕ اَفَاَنۡتُمۡ لَہٗ مُنۡکِرُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾
اور اب یہ بابرکت "ذکر" ہم نے (تمہارے لیے) نازل کیا ہے پھر کیا تم اِس کو قبول کرنے سے انکاری ہو؟
اور یہ نصیحت وبرکت واﻻ قرآن بھی ہم ہی نے نازل فرمایا ہے کیا پھر بھی تم اس کے منکر ہو
اور یہ ہے برکت والا ذکر کہ ہم نے اتارا تو کیا تم اس کے منکر ہو،
اور یہ (قرآن) بابرکت نصیحت نامہ ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے۔ کیا تم اس کا انکار کرتے ہو؟
اور یہ ایک با برکت نصیحت ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، تو کیا تم اسی سے منکر ہو؟

📖 تفسیر ابن کثیر

کتاب النور ٭٭

ہم پہلے بھی اس بات کو جتا چکے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اکثر ملا جلا آتا ہے اور اسی طرح توراۃ اور قرآن کا ذکر بھی عموماً ایک ساتھ ہی ہوتا ہے۔ فرقان سے مراد کتاب ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:353/18:] ‏‏‏‏ یعنی تورات ہے جو حق و باطل، حرام و حلال میں فرق کرنے والی تھی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:353/18:] ‏‏‏‏ اسی سے جناب موسیٰ علیہ السلام کو مدد ملی۔ کل کی کل آسمانی کتابیں حق وباطل، ہدایت وگمراہی، بھلائی برائی، حلال و حرام میں جدائی کرنے والی ہوتی ہیں۔ ان سے دلوں میں نورانیت، اعمال میں حقانیت، اللہ کا خوف وخشیت، ڈر اور اللہ کی طرف رجوع حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ’ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے یہ کتاب نصیحت و پند اور نور و روشنی ہے ‘۔ پھر ان متقیوں کا وصف بیان فرمایا کہ ’ وہ اپنے اللہ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں ‘۔ جیسے جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت «مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِ» ۱؎ [50-ق:33] ‏‏‏‏ ’ جو رحمن سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور جھکنے والا دل رکھتے ہیں ‘۔ اور آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ» ۱؎ [67-الملک:12] ‏‏‏‏ ’ جو لوگ اپنے رب کا غائبانہ ڈر رکھتے ہیں، ان کے لیے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر ہے ‘۔ ان متقیوں کا دوسرا وصف یہ ہے کہ یہ قیامت کا کھٹکا رکھتے ہیں۔ اس کی ہولناکیوں سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ اس قرآن عظیم کو بھی ہم نے ہی نازل فرمایا ہے جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آ سکتا۔ جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اترا ہے۔ افسوس کیا اس قدر وضاحت وحقانیت، صداقت ونورانیت والا قرآن بھی اس قابل ہے کہ تم اس کے منکر بنے رہو؟ ‘

📖 احسن البیان

50۔ 1 یہ قرآن، جو یاد دہانی حاصل کرنے والے کے لئے ذکر اور نصیحت اور خیر و برکت کا حامل ہے، اسے بھی ہم نے ہی اتارا ہے۔ تم اس کے مُنَزَّل مِّنَ اللّٰہِ ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو، جب کہ تمہیں اعتراف ہے کہ تورات اللہ کی طرف سے ہی نازل کردہ کتاب ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 50) ➊ {وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ:هٰذَا “} (یہ) سے مراد قرآن مجید ہے، سامعین کے ذہن میں حاضر ہونے کی وجہ سے اس کی طرف {” هٰذَا “} کے ساتھ اشارہ فرمایا ہے۔ {” ذِكْرٌ “} یعنی یہ نصیحت ہے اور یاد دہانی بھی۔ {” مُبٰرَكٌ “} جس میں بہت برکت، یعنی بے شمار بھلائیاں ہیں اور ہم نے (اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرمایا ہے) اسے نازل کیا ہے۔ ➋ { اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ:} ہم نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو تورات اور معجزات عطا کیے، تم لوگ انھیں مانتے ہو تو یہ بابرکت ذکر یعنی قرآن بھی ہم نے ہی نازل کیا ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ تم اسے نہیں مانتے؟
← پچھلی آیت (49) پوری سورۃ اگلی آیت (51) →