بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 225
صفحہ 7 از 12
حدیث نمبر: 23360 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيٌّ ، وَاصِلٌ الْأَحْدَب ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَب ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعًا وَلَا سُجُودًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ دَعَاهُ حُذَيْفَةُ، فَقَالَ لَهُ: مُنْذُ كَمْ صَلَّيْتَ هَذِهِ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتُهَا مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: مَا صَلَّيْتَ، أَوْ قَالَ: مَا صَلَّيْتَ لِلَّهِ صَلَاةً، شَكَّ مَهْدِيٌّ وَأَحْسِبهُ قَالَ: وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ سُنَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ابواب کندہ کے قریب ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے وہ رکوع و سجود کامل نہیں کر رہا تھا جب نماز سے فارغ ہوگیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تم کب سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا چالیس سال سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے چالیس سال سے ایک نماز نہیں پڑھی اور اگر تم اسی نماز پر دنیا سے رخصت ہوجاتے تو تم اس فطرت پر نہ مرتے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عطاء فرمائی گئی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23360]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 389
الحكم: إسناده صحيح، خ: 389
حدیث نمبر: 23361 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، أَخْبرَنَا عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، قَالَ: تَسَحَّرْتُ ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَمَرَرْتُ بمَنْزِلِ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ بلَقْحَةٍ فَحُلِبتْ، وَبقِدْرٍ فَسُخِّنَتْ، ثُمَّ قَالَ: ادْنُ فَكُلْ، فَقُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ، فَقَالَ: وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ، فَأَكَلْنَا وَشَرِبنَا، ثُمَّ أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ، فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، ثُمَّ قَالَ حُذَيْفَةُ : هَكَذَا فَعَلَ بي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أَبعْدَ الصُّبحِ؟ قَالَ: نَعَمْ، هُوَ الصُّبحُ غَيْرَ أَنْ لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ ، قَالَ: وَبيْنَ بيْتِ حُذَيْفَةَ وَبيْنَ الْمَسْجِدِ كَمَا بيْنَ مَسْجِدِ ثَابتٍ وَبسْتَانِ حَوْطٍ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا: وَقَالَ حُذَيْفَةُ: هَكَذَا صَنَعْتُ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَنَعَ بيَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سحری کھا کر مسجد کی طرف روانہ ہوا راستے میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا گھر آیا تو وہاں چلا گیا انہوں نے حکم دیا تو ایک بکری کا دودھ دوہا گیا اور ہانڈی کو جوش دیا گیا پھر وہ فرمانے لگے کہ قریب ہو کر کھانا شروع کرو میں نے کہا کہ میں تو روزے کی نیت کرچکا ہوں انہوں نے فرمایا میں بھی روزے کا ارادہ رکھتا ہوں چناچہ ہم نے کھایا پیا اور مسجد پہنچے تو نماز کھڑی ہوگئی پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا میں نے پوچھا صبح صادق کے بعد؟ انہوں نے فرمایا ہاں! صبح ہوچکی تھی لیکن سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23361]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات غير عاصم بن بهدلة، فهو حسن الحديث، لكنه قد خولف فى رفع الحديث، فقد رواه من هو اوثق منه فوقفه
الحكم: رجاله ثقات غير عاصم بن بهدلة، فهو حسن الحديث، لكنه قد خولف فى رفع الحديث، فقد رواه من هو اوثق منه فوقفه
حدیث نمبر: 23362 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبا إِسْحَاقَ ، الْوَلِيدَ أَبا الْمُغِيرَةِ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْوَلِيدَ أَبا الْمُغِيرَةِ ، أَوْ الْمُغِيرَةَ أَبا الْوَلِيدِ، يُحَدِّثُ أَنَّ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ذَرِب اللِّسَانِ، وَإِنَّ عَامَّةَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِي، فَقَالَ:" أَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ؟" , فَقَالَ: " إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، أَوْ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسروں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حذیفہ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23362]
حکم دارالسلام
قوله: اني لاستغفر الله ...... صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى المغيرة
الحكم: قوله: اني لاستغفر الله ...... صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى المغيرة
حدیث نمبر: 23363 مسند احمد
بهْزٌ ، حَمَّادٌ ، عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عُمَيْرٍ ، ابنُ عَمٍّ لِحُذَيْفَةَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي ابنُ عَمٍّ لِحُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قُمْتُ إِلَى جَنْب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَرَأَ السَّبعَ الطِّوَلَ فِي سَبعِ رَكَعَاتٍ، قَالَ: فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ ذِي الْمَلَكُوتِ وَالْجَبرُوتِ، وَالْكِبرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ"، وَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، وَسُجُودُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ، فَقَضَى صَلَاتَهُ، وَقَدْ كَادَتْ رِجْلَايَ تَنْكَسِرَانِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رات کو قیام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سات رکعتوں میں سات طویل سورتیں پڑھ لیں اور رکوع سے سر اٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے، پھر فرماتے الحمدللہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمۃ " اور ان کارکوع قیام کے برابر تھا اور سجدہ رکوع کے برابر ہے نماز سے جب فراغت ہوئی تو میری ٹانگیں ٹوٹنے کے قریب ہوگئی تھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23363]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبن عم حذيفة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبن عم حذيفة
حدیث نمبر: 23364 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ أَبي عَدِيٍّ ، ابنِ عَوْنٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابنِ أَبي لَيْلَى ، معاذ ، ابنُ عَوْنٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ أَبي عَدِيٍّ ، عَنِ ابنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابنِ أَبي لَيْلَى , قَالَ معاذ : حَدَّثَنَا ابنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ إِلَى بعْضِ هَذَا السَّوَادِ، فَاسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، قَالَ: فَرَمَاهُ بهِ فِي وَجْهِهِ، قَالَ: قُلْنَا: اسْكُتُوا اسْكُتُوا، وَإِنَّا إِنْ سَأَلْنَاهُ لَمْ يُحَدِّثْنَا، قَالَ: فَسَكَتْنَا، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ بعْدَ ذَلِكَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ لِمَ رَمَيْتُ بهِ فِي وَجْهِهِ؟ قَالَ: قُلْنَا: لَا، قَالَ: إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُهُ، قَالَ: فَذَكَرَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَشْرَبوا فِي آنِيَةِ الذَّهَب، قَالَ مُعَاذٌ: لَا تَشْرَبوا فِي الذَّهَب، وَلَا فِي الْفِضَّةِ، وَلَا تَلْبسُوا الْحَرِيرَ وَلَا الدِّيباجَ، فَإِنَّهُمَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا؟ ہم نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23364]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5633، م: 2067
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5633، م: 2067
حدیث نمبر: 23365 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، جُفَالُ الشَّعَرِ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اس کے بال اون کی مانند ہوں گے اس کے ساتھ جنت اور جہنم بھی ہوگی لیکن اس کی جہنم درحقیقت جنت ہوگی اور جنت درحقیقت جہنم ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23365]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934
حدیث نمبر: 23366 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، وَابنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، وَابنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ" ، قَالَ ابنُ نُمَيْرٍ: قُلْتُ لِلْأَعْمَشِ: بالسِّوَاكِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23366]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 245، م: 255
الحكم: إسناده صحيح، خ: 245، م: 255
حدیث نمبر: 23367 مسند احمد
ابنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، الْمُسْتَوْرِدِ بنِ الْأَحْنَفِ ، صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَافْتَتَحَ، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ، قَالَ: ثُمَّ مَضَى، فَقُلْتُ: يُصَلِّي بهَا فِي رَكْعَةٍ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ بهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ، ثُمَّ افْتَتَحَ عِمْرَانَ، يَقْرَأُ مُسْتَرْسِلًا، إِذَا مَرَّ بآيَةٍ فِيهَا تَسْبيحٌ، سَبحَ، وَإِذَا مَرَّ بسُؤَالٍ، سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بتَعَوُّذٍ، تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ فَجَعَلَ يَقُولُ: " سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ"، فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا قَرِيبا مِمَّا رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، فَقَالَ:" سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى"، فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبا مِنْ قِيَامِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کردی جب سو آیات پر پہنچے تو میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ دو سو آیات تک پہنچ گئے میں نے سوچا کہ شاید اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ اسے ختم کرلیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت نساء شروع کرلی اور اسے پڑھ کر رکوع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے رکوع میں " سبحان ربی العظیم " اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلی " کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23367]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 7729
الحكم: إسناده صحيح، م: 7729
حدیث نمبر: 23368 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبرَاهِيمَ ، هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبو نُعَيْمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ فُلَانًا يَرْفَعُ إِلَى عُثْمَانَ الْأَحَادِيثَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23368]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
حدیث نمبر: 23369 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ باسْمِكَ أَمُوتُ، وَباسْمِكَ أَحْيَا"، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بعْدَمَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23369]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6312
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6312
حدیث نمبر: 23370 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبي مَالِكٍ ، وَابنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، رِبعِيٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبي مَالِكٍ . وَابنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ ابنُ جَعْفَرٍ: عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ نَبيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23370]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، م: 1005
الحكم: إسناداه صحيحان، م: 1005
حدیث نمبر: 23371 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبي إِسْحَاقَ ، عُبيْدِ بنِ الْمُغِيرَةِ ، حُذَيْفَةَ ، لِأَبي برْدَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبيْدِ بنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا ذَرِب اللِّسَانِ عَلَى أَهْلِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ خَشِيتُ أَنْ يُدْخِلَنِي لِسَانِي النَّارَ، قَالَ: " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ؟ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةً مرة" ، قَالَ أَبو إِسْحَاقَ: فذَكَرْتُهُ لِأَبي برْدَةَ ، فَقَالَ: وَأَتُوب إِلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسروں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حذیفہ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23371]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قصة ذرابة اللسان، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبيد أبى المغيرة
الحكم: صحيح لغيره دون قصة ذرابة اللسان، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبيد أبى المغيرة
حدیث نمبر: 23372 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبي إِسْحَاقَ ، بعْضُ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي بعْضُ أَصْحَابنَا، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ أَخَذُوهُ وَأَباهُ، فَأَخَذُوا عَلَيْهِمْ أَنْ: لَا يُقَاتِلُوهُمْ يَوْمَ بدْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَوَالِهِمْ، وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا رہے ہو؟ ہم نے کہا کہ ہمارا ارادہ تو صرف مدینہ منورہ جانے کا ہے انہوں نے ہم سے یہ وعدہ اور مضبوط عہد لیا کہ ہم مدینہ جا کر لڑائی میں ان کا ساتھ نہیں دیں گے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور ساری بات بتادی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم دونوں واپس چلے جاؤ ہم ان کا وعدہ وفا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23372]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن حذيفة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن حذيفة
حدیث نمبر: 23373 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، خَيْثَمَةَ ، أَبي حُذَيْفَةَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بطَعَامٍ، فَجَاءَ أَعْرَابيٌّ كَأَنَّمَا يُطْرَدُ فَذَهَب يَتَنَاوَلُ، فَأَخَذَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيَدِهِ، وَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُطْرَدُ فَأَهْوَتْ، فَأَخَذَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيَدِهَا، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَمَّا أَعْيَيْتُمُوهُ، جَاءَ بالْأَعْرَابيِّ وَالْجَارِيَةِ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ إِذَا لَمْ يُذْكَرْ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، بسْمِ اللَّهِ، كُلُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کھانے میں شریک تھے اسی اثناء میں ایک باندی آئی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کوئی دھکیل رہا ہے وہ کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالنے لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک دیہاتی آیا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کوئی دھکیل رہا ہے وہ کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا اور فرمایا کہ جب کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو شیطان اسے اپنے لئے حلال سمجھتا ہے چناچہ پہلے وہ اس باندی کے ساتھ آیا تاکہ اپنے لئے کھانے کو حلال بنا لے لیکن میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر وہ اس دیہاتی کے ساتھ آیا تاکہ اس کے ذریعے اپنے کھانے کو حلال بنا لے لیکن میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا اس لئے بسم اللہ پڑھ کر کھایا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23373]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2017
الحكم: إسناده صحيح، م: 2017
حدیث نمبر: 23374 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، الْحَكَمِ ، ابنَ أَبي لَيْلَى ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابنَ أَبي لَيْلَى يُحَدِّثُ , أَنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بهِ، وَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ قَدْ نَهَيْتُهُ فَأَبى أَنْ يَنْتَهِيَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ نَهَانَا أَنْ نَشْرَب فِي آنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ، وَعَنْ لُبسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيباجِ، وَقَالَ: " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا؟ ہم نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23374]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5633، م: 2067
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5633، م: 2067
حدیث نمبر: 23375 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، أَبي حَمْزَةَ ، رَجُلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبي حَمْزَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي عَبسٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: " اللَّهُ أَكْبرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبرُوتِ، وَالْكِبرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ"، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، وَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، وَكَانَ يَقُولُ:" سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ، سُبحَانَ رَبى الْعَظِيمِ"، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَكَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ، وَكَانَ يَقُولُ:" لِرَبيَ الْحَمْدُ، لِرَبيَ الْحَمْدُ"، ثُمَّ سَجَدَ، فَكَانَ سُجُودُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، وَكَانَ يَقُولُ:" سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى، سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى"، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَكَانَ مَا بيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنَ السُّجُودِ، وَكَانَ يَقُولُ:" رَب اغْفِرْ لِي، رَب اغْفِرْ لِي"، قَالَ: حَتَّى قَرَأَ، عمران،، وَالْمَائِدَةَ، وَالْأَنْعَامَ" . شُعْبةُ الَّذِي يَشُكُّ فِي وَالْأَنْعَامَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کردی، جب سو آیات پر پہنچے تو میں نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اب رکوع کریں گے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ دو سو آیات تک پہنچ گئے، میں نے سوچا کہ شاید اب رکوع کریں گے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ اسے ختم کرلیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت نساء شروع کرلی اور اسے پڑھ کر رکوع کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے رکوع میں " سبحان ربی العظیم " اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلی " کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23375]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى حمزة الأنصاري. والرجل المبهم هو صلة بن زفر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى حمزة الأنصاري. والرجل المبهم هو صلة بن زفر
حدیث نمبر: 23376 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبةُ ، قَتَادَةَ ، أَبي مِجْلَزٍ لَاحِقِ بنِ حُمَيْدٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ . وَحَجَّاجٌ , حَدَّثَنِي شُعْبةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبي مِجْلَزٍ لَاحِقِ بنِ حُمَيْدٍ ، وَقَالَ حَجَّاجٌ: سَمِعْتُ أَبا مِجْلَزٍ، قَالَ: قَعَدَ رَجُلٌ فِي وَسْطِ حَلْقَةٍ، قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ : مَلْعُونٌ مَنْ قَعَدَ فِي وَسْطِ الْحَلْقَةِ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَعَدَ فِي وَسْطِ الْحَلْقَةِ" . قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبةُ: لَمْ يُدْرِكْ أَبو مِجْلَزٍ حُذَيْفَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص وسط حلقہ میں بیٹھتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی ملعون قرار دے دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23376]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو مجلز لم يسمع من حذيفة
الحكم: إسناده ضعيف، أبو مجلز لم يسمع من حذيفة
حدیث نمبر: 23377 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبا إِسْحَاقَ ، صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ , عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ابعَثُوا إِلَيْنَا رَجُلًا أَمِينًا، فَقَالَ: " لَأَبعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ، حَقَّ أَمِينٍ"، قَالَ: فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ، قَالَ: فَبعَثَ أَبا عُبيْدةَ بنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران سے ایک مرتبہ کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حقدار ہوگا یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23377]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4381، م: 2420
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4381، م: 2420
حدیث نمبر: 23378 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبي إِسْحَاقَ ، مُسْلِمِ بنِ نُذَيْرٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بنِ نُذَيْرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَخَذَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعَضَلَةِ سَاقِي، أَوْ بعَضَلَةِ سَاقِهِ، فَقَالَ: " حَقُّ الْإِزَارِ هَا هُنَا، فَإِنْ أَبيْتَ فَهَا هُنَا، فَإِنْ أَبيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبيْنِ" ، أَوْ" لَا حَقَّ لِلْكَعْبيْنِ فِي الْإِزَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی پنڈلی کی مچھلی پکڑ کر فرمایا تہبند باندھنے کی جگہ یہاں تک ہے اگر تم نہ مانو تو اس سے کچھ نیچے لٹکا لو اگر یہ بھی نہ مانو تو ٹخنوں سے نیچے تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23378]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23379 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبا مَالِكٍ يَعْنِي الْأَشْجَعِيَّ ، رِبعِيٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا مَالِكٍ يَعْنِي الْأَشْجَعِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23379]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1005
الحكم: إسناده صحيح، م: 1005