بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 225
صفحہ 8 از 12
حدیث نمبر: 23380 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، مَنْصُورٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، امْرَأَتِهِ ، أُخْتِ حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ امْرَأَتِهِ ، عَنْ أُخْتِ حُذَيْفَةَ ، قَالَتْ: خَطَبنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ؟ أَمَا إِنَّهُ مَا مِنْكُنَّ مِنَ امْرَأَةٍ تَلْبسُ ذَهَبا تُظْهِرُهُ، إِلَّا عُذِّبتْ بهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے گروہ خواتین! کیا تمہارے لئے چاندی کے زیورات کافی نہیں ہوسکتے؟ یاد رکھو! تم میں سے جو عورت نمائش کے لئے سونا پہنے گی اسے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23380]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الجهالة امرأة ربعي بن حراش
الحكم: إسناده ضعيف الجهالة امرأة ربعي بن حراش
حدیث نمبر: 23381 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبةُ ، مَنْصُورٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ، وَلَكِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہا کرو "" جو اللہ نے چاہا اور جو فلاں نے چاہا "" بلکہ یوں کہا کرو "" جو اللہ نے چاہا اس کے بعد فلاں نے چاہا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23381]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين عبدالله بن يسار وحذيفة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين عبدالله بن يسار وحذيفة
حدیث نمبر: 23382 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، الطُّفَيْلِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ الطُّفَيْلِ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا: أَنَّ يَهُودِيًّا رَأَى فِي مَنَامِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23382]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23383 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ ، أَبو مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الدَّجَّالِ: " إِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنَارًا، فَنَارُهُ مَاءٌ بارِدٌ، وَمَاؤُهُ نَارٌ، فَلَا تَهْلِكُوا" ، قَالَ أَبو مَسْعُودٍ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دجال جس وقت خروج کرے گا اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی جو چیز لوگوں کو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگی اور جو چیز پانی نظر آئے گی وہ جلا دینے والی آگ ہوگی، لہٰذا تم ہلاک نہ ہوجانا یہ حدیث سن کر حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23383]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2935
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2935
حدیث نمبر: 23384 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ ، أَبو مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ رَجُلًا مَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا كُنْتَ تَعْمَلُ؟ قَالَ: فَإِمَّا ذَكَرَ وَإِمَّا ذُكِّرَ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أُبايِعُ النَّاسَ، فَكُنْتُ أُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، وَأَتَجَوَّزُ فِي السِّكَّةِ، أَوْ فِي النَّقْدِ، فَغُفِرَ لَهُ" . فَقَالَ أَبو مَسْعُودٍ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پہلے زمانے میں ایک آدمی کے پاس ملک الموت روح قبض کرنے کے لئے آئے تو اس سے پوچھا کہ تو نے کبھی کوئی نیکی بھی کی ہے؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں اس نے کہا غور کرلو اس نے کہا کہ اور تو مجھے کوئی نیکی معلوم نہیں البتہ میں لوگوں کے ساتھ تجارت کرتا تھا اس میں تنگدست کو مہلت دے دیتا تھا اور اس سے درگذر کرلیتا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے اس پر بھی ان کی تائید کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23384]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2391، م: 1560
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2391، م: 1560
حدیث نمبر: 23385 مسند احمد
عَبدُ اللَّهِ بنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، بكْرُ بنُ عَمْرٍو ، أَبا عَبدِ الْمَلِكِ عَلِيَّ بنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي بكْرُ بنُ عَمْرٍو ، أَنَّ أَبا عَبدِ الْمَلِكِ عَلِيَّ بنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ بلَغَهُ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ فَضْلَ الدَّارِ الْقَرِيبةِ يَعْنِي مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَى الدَّارِ الْبعِيدَةِ، كَفَضْلِ الْغَازِي عَلَى الْقَاعِدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دور والے گھر پر مسجد کے قریب والے گھر کی فضیلت ایسے ہے جیسے نمازی کی فضیلت جہاد کے انتظار میں بیٹھنے والے پر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23385]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
الحكم: إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 23386 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، سَالِمٌ الْمُرَادِيُّ ، عَمْرِو بنِ هَرِمٍ الْأَزْدِيِّ ، أَبي عَبدِ اللَّهِ ، ورِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْمُرَادِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بنِ هَرِمٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ أَبي عَبدِ اللَّهِ ، ورِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: بيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ أَدْرِي مَا قَدْرُ بقَائِي فِيكُمْ، فَاقْتَدُوا باللَّذَيْنِ مِنْ بعْدِي يُشِيرُ إِلَى أَبي بكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَاهْدُوا هَدْيَ عَمَّارٍ وَعَهْدَ ابنِ أُمِّ عَبدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کتنا عرصہ رہوں گا اس لئے ان دو آدمیوں کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرمایا اور عمار کے طریقے کو مضبوطی سے تھامو اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ تم سے جو بات بیان کریں اس کی تصدیق کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23386]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد لين من أجل سالم المرادي
الحكم: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد لين من أجل سالم المرادي
حدیث نمبر: 23387 مسند احمد
حَمَّادُ بنُ خَالِدٍ ، مَهْدِيٍّ ، وَاصِلٍ الْأَحْدَب ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ خَالِدٍ ، عَنْ مَهْدِيٍّ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَب ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، قَالَ: قِيلَ لِحُذَيْفَةَ: إِنَّ رَجُلًا يَنُمُّ الْحَدِيثَ، قَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23387]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
حدیث نمبر: 23388 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ عَدِيٍّ ، ابنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، جُنْدُب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عَدِيٍّ ، عَنْ ابنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ جُنْدُب : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَرَعَةِ، وَثَمَّ رَجُلٌ قَالَ: فَقَلتَُ: وَاللَّهِ لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ دِمَاءٌ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: كَلَّا وَاللَّهِ، قَالَ: قُلْتَ: بلَى وَاللَّهِ، قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ، قَالَ: قُلتُ: بلَى والله، قَالَ: كَلاَّ والله، إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُرَاكَ جَلِيسَ سَوْءٍ مُنْذُ الْيَوْمِ تَسْمَعُنِي أَحْلِفُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَنْهَانِي؟ قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: مَالِي وَلِلْغَضَب، قَالَ: فَتَرَكْتُ الْغَضَب، وَأَقْبلْتُ أَسْأَلُهُ، قَالَ: وَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
جندب کہتے ہیں کہ " یوم الجرعہ " کے موقع پر ایک آدمی موجود تھا وہ کہنے لگا کہ واللہ آج خون ریزی ہوگی دوسرے آدمی نے قسم کھا کر کہا ہرگز نہیں پہلے نے کہا کہ تم نے یہ کیوں نہ کہا " ضرور ''؟ اس نے کا ایسا ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ یہ ایک حدیث ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے بیان فرمائی ہے پہلے آدمی کا کہنا ہے کہ میں نے اس سے کہا واللہ میں تمہیں برا ہم نشین سمجھتا ہوں تم مجھے قسم کھاتے ہوئے سن رہے ہو اور پھر بھی مجھے منع نہیں کر رہے حالانکہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس حوالے سے کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ پھر میں نے سوچا کہ غصہ کرنے کا کیا فائدہ؟ سو میں نے غصہ تھوک دیا اور اس کے پاس آکر سوالات پوچھنے لگا بعد میں پتہ چلا کہ وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23388]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2893
الحكم: إسناده صحيح، م: 2893
حدیث نمبر: 23389 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، الْأَشْعَثِ ، الْأَسْوَدِ بنِ هِلَالٍ ، ثَعْلَبةَ بنِ زَهْدَمٍ الْيَرْبوعِيِّ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بنِ هِلَالٍ ، عَنْ ثَعْلَبةَ بنِ زَهْدَمٍ الْيَرْبوعِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بنِ الْعَاصِ بطَبرِسْتَانَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : " أَمَّنَا، فَقُمْنَا صَفًّا خَلْفَهُ، وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ذَهَبوا إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ طبرستان میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ صلوۃ الخوف کس نے پڑھی ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اور وہ اس طرح کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنالیں ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23389]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23390 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَطَاءِ بنِ السَّائِب ، أَبي الْبخْتَرِيِّ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ السَّائِب ، عَنْ أَبي الْبخْتَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ : كَانَ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، قِيلَ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: " مَنْ اتَّقَى الشَّرَّ، وَقَعَ فِي الْخَيْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ ان سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں ان سے شر کے متعلق پوچھتا تھا کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا جو شخص شر سے بچ جاتا ہے وہ خیر ہی کے کام کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23390]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد منقطع، رواية أبى البختري عن حذيفة مرسلة، لكنه توبع
الحكم: صحيح، وهذا إسناد منقطع، رواية أبى البختري عن حذيفة مرسلة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23391 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بنُ حَيَّانَ ، سُفْيَانُ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ حَيَّانَ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ، قَالَ: " اللَّهُمَّ باسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ"، وَإِذَا قَامَ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بعْدَمَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23391]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6312، وهذا إسناد قد اختلف فيه على سليمان بن حيان، وهو صدوق، لكن فى حفظه شيء
الحكم: حديث صحيح، خ: 6312، وهذا إسناد قد اختلف فيه على سليمان بن حيان، وهو صدوق، لكن فى حفظه شيء
حدیث نمبر: 23392 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " كَانَ بلَالٌ يَأْتِي النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ، وَإِنِّي لَأُبصِرُ مَوَاقِعَ نَبلِي، قُلْتُ: أَبعْدَ الصُّبحِ؟ قَالَ: بعْدَ الصُّبحِ، إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سحری کھا رہے ہوتے تھے اور میں اس وقت اپنا تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا میں نے پوچھا کہ صبح صادق کے بعد؟ انہوں نے فرمایا ہاں! صبح ہوچکی تھی لیکن سورج طلوع نہیں ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23392]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، لكن قد خولف عاصم بن ابي النجود
الحكم: رجاله ثقات، لكن قد خولف عاصم بن ابي النجود
حدیث نمبر: 23393 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، عَبدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابنَ مُسْلِمٍ ، حُصَيْنٌ ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَقْوَامٌ، فَإِذَا رَأَيْتُهُمْ اخْتُلِجُوا دُونِي، فَأَقُولُ: أَيْ رَب، أَصْحَابي أَصْحَابي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بعْدَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے کہ میں دیکھوں گا جب وہ میرے سامنے پیش ہوں گے انہیں میرے سامنے سے اچک لیا جائے گا میں عرض کروں گا پروردگار! میرے ساتھی ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23393]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لكن من حديث ابن مسعود، وهذا إسناد ضعيف من أجل مؤمل
الحكم: حديث صحيح لكن من حديث ابن مسعود، وهذا إسناد ضعيف من أجل مؤمل
حدیث نمبر: 23394 مسند احمد
أَبو نُعَيْمٍ ، مِسْعَرٌ ، أَبي بكْرِ بنِ عَمْرِو بنِ عُتْبةَ ، ابنِ حُذَيْفَةَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ عَمْرِو بنِ عُتْبةَ ، عَنْ ابنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ مِسْعَرٌ: وَقَدْ ذَكَرَهُ مَرَّةً عَنْ حُذَيْفَةَ : " أَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُدْرِكُ الرَّجُلَ وَوَلَدَهُ وَوَلَدَ وَلَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی شخص کے لئے دعا فرماتے تھے تو اس دعاء کے اثرات اسے اس کی اولاد کو اور اس کے پوتوں تک کو پہنچتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23394]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال أبى بكر بن عمرو
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال أبى بكر بن عمرو
حدیث نمبر: 23395 مسند احمد
أَبو نُعَيْمٍ ، الْوَلِيدُ يَعْنِي ابنَ جُمَيْعٍ ، أَبو الطُّفَيْلِ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابنَ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبو الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَزْوَةِ تَبوكَ، قَالَ: فَبلَغَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً الَّذِي يَرِدُهُ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ: " أَنْ لَا يَسْبقَنِي إِلَى الْمَاءِ أَحَدٌ"، فَأَتَى الْمَاءَ، وَقَدْ سَبقَهُ قَوْمٌ، فَلَعَنَهُمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روانہ ہوئے انہیں پانی کی قلت کا پتہ چلا تو منادی کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ پانی بہت تھوڑا ہے لہٰذا اس مقام پر مجھ سے پہلے کوئی نہ پہنچے لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ان سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں لعنت ملامت کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23395]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2779
الحكم: إسناده قوي، م: 2779
حدیث نمبر: 23396 مسند احمد
أَبو نُعَيْمٍ ، يُونُسُ ، الْوَلِيدِ بنِ الْعَيْزَارِ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الْوَلِيدِ بنِ الْعَيْزَارِ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ :" بتُّ بآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ طَرَفُ اللِّحَافِ، وَعَلَى عَائِشَةَ طَرَفُهُ، وَهِيَ حَائِضٌ لَا تُصَلِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں رات گذارنے کا اتفاق ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے لحاف کا ایک کونا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر تھا اور دوسرا کونا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تھا وہ اس وقت " ایام " سے تھیں یعنی نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23396]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، فقد اضطرب فيه يونس
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، فقد اضطرب فيه يونس
حدیث نمبر: 23397 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبةُ ، أَبو إِسْحَاقَ ، صِلَةَ بنَ زُفَرَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: أَبو إِسْحَاقَ أَخْبرَنَا، قَالَ: سَمِعْتُ صِلَةَ بنَ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ: " لَأَبعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ"، قَالَهَا أَكْثَرَ مِنْ مَرَّتَيْنِ، فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ، فَبعَثَ أَبا عُبيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل نجران سے دو سے زائد مرتبہ فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہوگا یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23397]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4381، م: 2420
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4381، م: 2420
حدیث نمبر: 23398 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَقِيتُ جِبرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ، فَقَالَ: يَا جِبرِيلُ، إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ: الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالشَّيْخُ الْفَانِي الَّذِي لَمْ يَقْرَأُ كِتَابا قَط، قَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى سَبعَةِ أَحْرُفٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ " احجارالمراء " نامی جگہ پر میری جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے کہا کہ اے جبرائیل! مجھے ایک امی امت کی طرف بھیجا گیا ہے جس میں مرد و عورت لڑکے اور لڑکیاں اور نہایت بوڑھے لوگ بھی شامل ہیں جو کچھ بھی پڑھنا نہیں جانتے تو انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23398]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23399 مسند احمد
خَلَفُ بنُ الْوَلِيدِ ، يَحْيَى بنُ زَكَرِيَّا ، الْعَلَاءُ بنُ الْمُسَيَّب ، عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، طَلْحَةَ بنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بنُ الْمُسَيَّب ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَلَمَّا كَبرَ قَالَ: " اللَّهُ أَكْبرُ، ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبرُوتِ، وَالْكِبرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ"، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ، ثُمَّ عِمْرَانَ، لَا يَمُرُّ بآيَةِ تَخْوِيفٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا، ثُمَّ رَكَعَ يَقُولُ:" سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبنَا لَكَ الْحَمْدُ"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ سَجَدَ، يَقُولُ:" سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" رَب اغْفِرْ لِي"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ سَجَدَ يَقُولُ:" سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ فَمَا صَلَّى إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى جَاءَ بلَالٌ فَآذَنَهُ بالصَّلَاةِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کردی جب سو آیات پر پہنچے تو میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ دو سو آیات تک پہنچ گئے میں نے سوچا کہ شاید اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ اسے ختم کرلیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت نساء شروع کرلی اور اسے پڑھ کر رکوع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23399]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة طلحة بن يزيد، ولم يسمع هذا الحديث من حذيفة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة طلحة بن يزيد، ولم يسمع هذا الحديث من حذيفة