مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " كَانَ بلَالٌ يَأْتِي النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ، وَإِنِّي لَأُبصِرُ مَوَاقِعَ نَبلِي، قُلْتُ: أَبعْدَ الصُّبحِ؟ قَالَ: بعْدَ الصُّبحِ، إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سحری کھا رہے ہوتے تھے اور میں اس وقت اپنا تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا میں نے پوچھا کہ صبح صادق کے بعد؟ انہوں نے فرمایا ہاں! صبح ہوچکی تھی لیکن سورج طلوع نہیں ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23392]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، لكن قد خولف عاصم بن ابي النجود
الحكم: رجاله ثقات، لكن قد خولف عاصم بن ابي النجود