مُؤَمَّلٌ ، عَبدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابنَ مُسْلِمٍ ، حُصَيْنٌ ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَقْوَامٌ، فَإِذَا رَأَيْتُهُمْ اخْتُلِجُوا دُونِي، فَأَقُولُ: أَيْ رَب، أَصْحَابي أَصْحَابي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بعْدَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے کہ میں دیکھوں گا جب وہ میرے سامنے پیش ہوں گے انہیں میرے سامنے سے اچک لیا جائے گا میں عرض کروں گا پروردگار! میرے ساتھی ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23393]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لكن من حديث ابن مسعود، وهذا إسناد ضعيف من أجل مؤمل
الحكم: حديث صحيح لكن من حديث ابن مسعود، وهذا إسناد ضعيف من أجل مؤمل