بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 225
صفحہ 1 از 12
حدیث نمبر: 23240 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، سُلَيْمَانَ يَعْنِي الْأَعْمَشَ ، سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، الْمُسْتَوْرِدِ ، صِلَةَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي الْأَعْمَشَ ، عَنْ سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ ، عَنْ صِلَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: " سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ"، وَفِي سُجُودِهِ:" سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى"، قَالَ: وَمَا مَرَّ بآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ، وَلَا آيَةِ عَذَاب إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے رکوع میں " سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلیٰ کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23240]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 772
الحكم: إسناده صحيح، م: 772
حدیث نمبر: 23241 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: الْأَعْمَشُ أَخْبرَنَا , عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُباطَةَ قَوْمٍ، فَبالَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ دَعَا بمَاءٍ، فَأَتَيْتُهُ فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ وہ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ تشریف لائے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا پھر پانی منگوایا جو میں لے کر حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23241]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 224، م: 273
الحكم: إسناده صحيح، خ: 224، م: 273
حدیث نمبر: 23242 مسند احمد
سُفْيَانُ بنُ عُيَيْنَةَ ، مَنْصُورٍ ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بالسِّوَاكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23242]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 245، م: 255
الحكم: إسناده صحيح، خ: 245، م: 255
حدیث نمبر: 23243 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبي إِسْحَاقَ ، مُسْلِمِ بنِ نُذَيْرٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بنِ نُذَيْرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعَضَلَةِ سَاقِي، أَوْ سَاقِهِ، قَالَ: " هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ، فَإِنْ أَبيْتَ فَأَسْفَلُ، فَإِنْ أَبيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِيمَا دُونَ الْكَعْبيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی پنڈلی کی مچھلی پکڑ کر فرمایا تہبند باندھنے کی جگہ یہاں تک ہے اگر تم نہ مانو تو اس سے کچھ نیچے لٹکا لو اگر یہ بھی نہ مانو تو ٹخنوں سے نیچے تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23243]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23244 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبدِ الْمَلِكِ ، رِبعِيٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كان يعنى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ، وَقَالَ: " رَب قِنِي عَذَابكَ يَوْمَ تَبعَثُ، أَوْ تَجْمَعُ عِبادَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے کہ اے میرے پروردگار! مجھے اس دن کے عذاب سے محفوظ فرما جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھا کر جمع کرے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23244]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23245 مسند احمد
سُفْيَانُ بنُ عُيَيْنَةَ ، زَائِدَةَ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اقْتَدُوا باللَّذَيْنِ مِنْ بعْدِي: أَبي بكْرٍ، وَعُمَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے بعد آنے والے دو آدمیوں یعنی ابوبکر و عمر کی اقتداء کرنا رضی اللہ عنہ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23245]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشواهده ، وإسناده منقطع بين عبدالملك بن عمير وربعي بن حراش
الحكم: حديث حسن بطرقه وشواهده ، وإسناده منقطع بين عبدالملك بن عمير وربعي بن حراش
حدیث نمبر: 23246 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٌ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَتَى سُباطَةَ قَوْمٍ، فَبالَ قَائِمًا، فَذَهَبتُ أَتَباعَدُ عَنْهُ، فَقَدَّمَنِي حَتَّى..." ، قَالَ أَبو عَبد الرَّحْمَنِ: وَسَقَطَتْ عَلَى أَبي كَلِمَةٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ وہ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ تشریف لائے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا میں پیچھے ہٹنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے آگے رہنے کی تلقین کی یہاں تک کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ امام احمد (رح) کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ میرے والد سے ایک کلمہ ساقط ہوگیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23246]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 224، م: 273
الحكم: إسناده صحيح، خ: 224، م: 273
حدیث نمبر: 23247 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبرَاهِيمَ ، هَمَّامٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23247]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
حدیث نمبر: 23248 مسند احمد
جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: بلَغَهُ أَنَّ أَبا مُوسَى كَانَ يَبولُ فِي قَارُورَةٍ، وَيَقُولُ: إِنَّ بنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذَا أَصَاب أَحَدَهُمْ الْبوْلُ قَرَضَ مَكَانَهُ، قَالَ حُذَيْفَةُ : وَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبكُمْ لَا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي نَتَمَاشَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى سُباطَةٍ، فَقَامَ يَبولُ كَمَا يَبولُ أَحَدُكُمْ، فَذَهَبتُ أَتَنَحَّى عَنْهُ، فَقَالَ:" ادْنُهْ"، فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ عَقِبهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ایک شیشی میں پیشاب کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل کے جسم پر اگر پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتے تھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری آرزو ہے کہ تمہارے ساتھی اتنی سختی نہ کریں مجھے یاد ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ چل رہے تھے چلتے چلتے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پر پہنچنے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسی طرح پیشاب کیا جیسے تم میں سے کوئی کرتا ہے میں پیچھے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قریب ہی رہو چناچہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت مبارک کی جانب قریب ہوگیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23248]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 225، م: 273
الحكم: إسناده صحيح، خ: 225، م: 273
حدیث نمبر: 23249 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، خُيثْمَةَ ، أَبي حُذَيْفَةَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خُيثْمَةَ ، عَنْ أَبي حُذَيْفَةَ ، قَالَ أَبو عَبد الرَّحْمَنِ: اسْمُهُ سَلَمَةُ بنُ الْهَيْثَمِ بنِ صُهَيْب مِنْ أَصْحَاب ابنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى طَعَامٍ، لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتَّى يَبدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعَ يَدَهُ، وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ طَعَامًا، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّمَا تُدْفَعُ، فَذَهَبتْ تَضَعُ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيَدِهَا، وَجَاءَ أَعْرَابيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ، فَذَهَب يَضَعُ يَدَهُ فِي الطَّعَامِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ إِذَا لَمْ يُذْكَرْ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ جَاءَ بهَذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بهَا، فَأَخَذْتُ بيَدِهَا، وَجَاءَ بهَذَا الْأَعْرَابيِّ لِيَسْتَحِلَّ بهِ، فَأَخَذْتُ بيَدِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ، إِنَّ يَدَهُ فِي يَدِي مَعَ يَدِهِمَا" ، يَعْنِي الشَّيْطَانَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کھانے میں شریک ہوتے تو اس وقت تک اپنے ہاتھ کھانے میں نہ ڈالتے جب تک ابتداء نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ فرماتے ایک مرتبہ اسی طرح ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کھانے میں شریک تھے اسی اثناء میں ایک باندی آئی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کوئی دھکیل رہا ہے وہ کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالنے لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک دیہاتی آیا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کوئی دھکیل رہا ہے وہ کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا اور فرمایا کہ جب کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو شیطان اسے اپنے لئے حلال سمجھتا ہے چناچہ پہلے وہ اس باندی کے ساتھ آیا تاکہ اپنے لئے کھانے کو حلال بنا لے لیکن میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر وہ اس دیہاتی کے ساتھ آیا تاکہ اس کے ذریعے اپنے کھانے کو حلال بنا لے لیکن میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری حان ہے کہ شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23249]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2017
الحكم: إسناده صحيح، م: 2017
حدیث نمبر: 23250 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، جُفَالُ الشَّعْرِ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اس کے بال اون کی مانند ہوں گے اس کے ساتھ جنت اور جہنم بھی ہوگی لیکن اس کی جہنم، درحقیقت جنت ہوگی اور جنت درحقیقت جہنم ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23250]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ: 3550، م: 2934
الحكم: إسناده صحيح ، خ: 3550، م: 2934
حدیث نمبر: 23251 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " فُضِّلَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ بثَلَاثٍ: جُعِلَتْ لَهَا الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَجُعِلَتْ صُفُوفُهَا عَلَى صُفُوفِ الْمَلَائِكَة، قَالَ: كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَا وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ، لَمْ يُعْطَهَا نَبيٌّ قَبلِي"، قَالَ أَبو مُعَاوِيَةَ: كُلُّهُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً) مروی ہے کہ اس امت کو دیگر امتوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے اس امت کے لئے روئے زمین کو سجدہ گاہ اور باعث طہارت بنایا گیا ہے اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اور اس امت کو سورت بقرہ کی آخری آیتیں عرش الہٰی کے نیچے ایک خزانے سے دی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23251]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 522
الحكم: إسناده صحيح، م: 522
حدیث نمبر: 23252 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَعْرُوفُ كُلُّهُ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23252]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1005
الحكم: إسناده صحيح، م: 1005
حدیث نمبر: 23253 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، أَبي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبلَكُمْ يَعْمَلُ بالْمَعَاصِي، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اطْحَنُونِي، ثُمَّ ذَرُّونِي فِي الْبحْرِ فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ، قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا، قَالَ: فَجَمَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي يَدِهِ، فقَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: خَوْفُكَ! قَالَ: فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جو گناہوں کے کام کرتا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا پھر میری راکھ کو پیس لینا پھر جس دن تیز آندھی چل رہی ہو اس دن میری راکھ کو ہوا میں بکھیر دینا جب وہ مرگیا تو اس کے اہل خانہ نے اسی طرح کیا اللہ نے اسے اپنے قبضہ قدرت میں جمع کرلیا اور اس سے پوچھا کہ تجھے یہ کام کرنے پر کس نے مجبور کیا؟ اس نے کہا تیرے خوف نے اللہ نے فرمایا میں نے تجھے معاف کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23253]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6480
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6480
حدیث نمبر: 23254 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ أَمْرِ النُّبوَّةِ الْأُولَى، إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو پہلے امر نبوت میں سے جو کچھ حاصل ہوا ہے اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب تم حیاء نہ کرو تو جو چاہے کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23254]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح على خلاف صحابيه
الحكم: إسناده صحيح على خلاف صحابيه
حدیث نمبر: 23255 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بنِ وَهْب ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، حَدَّثَنَا: " أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوب الرِّجَالِ، ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ، فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ"، ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْأَمَانَةِ، فَقَالَ:" يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، فَتُقْبضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ، كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ تَرَاهُ مُنْتَبرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ"، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ حَصًى فَدَحْرَجَهُ عَلَى رِجْلِه، قال:" َفَيُصْبحُ النَّاسُ يَتَبايَعُونَ لَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ حَتَّى يُقَالَ: إِنَّ فِي بنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا، حَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ: مَا أَجْلَدَهُ وَأَظْرَفَهُ وَأَعْقَلَهُ! وَمَا فِي قَلْبهِ حَبةٌ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ" ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبالِي أَيَّكُمْ بايَعْتُ، لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ، وَلَئِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا أَوْ يَهُودِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ لِأُبايِعَ مِنْكُمْ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے دو حدیثیں بیان کی ہیں جن میں سے ایک میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امانت کے اٹھ جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک آدمی سوئے گا تو اس کے دل سے امانت کو نکال لیا جائے گا اور وہ صرف ایک نقطے کے برابر اس کے دل میں باقی رہ جائے گی پھر جب دوبارہ سوئے گا تو اس کے دل سے باقی ماندہ امانت بھی نکال لی جائے گی اور وہ ایسے رہ جائے گی جیسے کسی شخص کے پاؤں پر کوئی چھالا پڑگیا ہو اور تم اس پر کوئی انگارہ ڈال دو تو تمہیں پھولا ہوا نظر آئے گا لیکن اس میں کچھ نہیں ہوتا پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کچھ کنکریاں لے کر اسے اپنے پاؤں پر لڑھکا کر دیکھایا۔ اس کے بعد لوگ ایک دوسرے سے خریدوفروخت کریں گے اور کوئی شخص امانت ادا کرنے والا نہیں ہوگا حتیٰ کہ یوں کہا جایا کرے گا کہ بنو فلاں میں ایک امانت دار آدمی رہتا ہے اسی طرح یوں کہا جائے گا کہ وہ کتنا مضبوط ظرف والا اور عقلمند ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا اور مجھ پر ایک زمانہ ایسا گذرا ہے کہ جب میں کسی سے بھی خریدوفروخت کرنے میں کوئی پرواہ نہ کرتا تھا کیونکہ وہ مسلمان ہوتا تو وہ اپنے دین کی بنیاد پر اسے واپس لوٹا دیتا تھا اور اگر وہ عیسائی یا یہودی ہوتا تو وہ اپنے گورنر کی بنیاد پر واپس کردیتا تھا لیکن اب تو میں صرف فلاں فلاں آدمی سے ہی خریدوفروخت کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23255]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 143
الحكم: إسناده صحيح، م: 143
حدیث نمبر: 23256 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بنِ وَهْب ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ، رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23256]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 143
الحكم: إسناده صحيح، م: 143
حدیث نمبر: 23257 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، سُلَيْمَانَ ، زَيْدَ بنَ وَهْب ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بنَ وَهْب يُحَدِّثُ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بحَدِيثَيْنِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 143
الحكم: إسناده صحيح، م: 143
حدیث نمبر: 23258 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بنِ وَهْب ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، قَالَ: دَخَلَ حُذَيْفَةُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي أَبوَاب كِنْدَةَ، فَجَعَلَ لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَلَا السُّجُودَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: مُنْذُ كَمْ هَذِهِ صَلَاتُكَ؟ قَالَ: مُنْذُ أَرْبعِينَ سَنَةً، قَالَ: فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ : مَا صَلَّيْتَ مِنْ أَرْبعِينَ سَنَةً، وَلَوْ مُتَّ وَهَذِهِ صَلَاتُكَ لَمُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فُطِرَ عَلَيْهَا مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، قَالَ: ثُمَّ أَقْبلَ عَلَيْهِ يُعَلِّمُهُ، فَقَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ فِي صَلَاتِهِ وَإِنَّهُ لَيُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ابواب کندہ کے قریب ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے وہ رکوع و سجود کامل نہیں کر رہا تھا جب نماز سے فارغ ہوگیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تم کب سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا چالیس سال سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے چالیس سال سے ایک نماز نہیں پڑھی اور اگر تم اسی نماز پر دنیا سے رخصت ہوجاتے تو تم اس فطرت پر نہ مرتے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عطاء فرمائی گئی تھی پھر وہ اسے نماز سکھانے لگے اور فرمایا انسان نماز ہلکی پڑھے لیکن رکوع و سجود مکمل کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23258]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 791
الحكم: إسناده صحيح، خ: 791
حدیث نمبر: 23259 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحْصُوا لِي كَمْ يَلْفِظُ الْإِسْلَامَ"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بيْنَ السِّتِّ مِائَةِ إِلَى السَّبعِ مِائَةِ؟! قَالَ: فَقَالَ:" إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبتَلَوْا"، قَالَ: فَابتُلِينَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لَا يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسلام کے نام لیوا افراد شمار کر کے ان کی تعداد مجھے بتاؤ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ کو ہمارے متعلق کوئی خطرہ ہے جبکہ ہم تو چھ سے سات سو کے درمیان ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نہیں جانتے ہوسکتا ہے کہ تمہاری آزمائش کی جائے چناچہ ہمارا امتحان ہوا تو ہم میں سے ہر آدمی چھپ کر ہی نماز پڑھ سکتا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23259]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3060، م: 149
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3060، م: 149