بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 225
صفحہ 10 از 12
حدیث نمبر: 23420 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، إِبرَاهِيمَ ، هَمَّامٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23420]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6053، م: 105
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6053، م: 105
حدیث نمبر: 23421 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبي إِسْحَاقَ ، عُبيْدِ بنِ الْمُغِيرَةِ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبيْدِ بنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَب عَلَى أَهْلِي، وَكَانَ ذَلِكَ لَا يَعْدُوهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ يَا حُذَيْفَةُ؟ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسروں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حذیفہ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23421]
حکم دارالسلام
قوله: "اني لاستغفر الله فى اليوم مائة مرة " صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبيد أبى المغيرة
الحكم: قوله: "اني لاستغفر الله فى اليوم مائة مرة " صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبيد أبى المغيرة
حدیث نمبر: 23422 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، مَنْصُورٍ ، أَبا وَائِلٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا وَائِلٍ يُحَدِّثُ , أَنَّ أَبا مُوسَى كَانَ يُشَدِّدُ فِي الْبوْلِ، قَالَ: كَانَ بنُو إِسْرَائِيلَ إِذَا أَصَاب أَحَدَهُمْ الْبوْلُ يُتْبعُهُ بالْمِقْرَاضَيْنِ، قَالَ حُذَيْفَةُ : وَدِدْتُ أَنَّهُ لَا يُشَدِّدُ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى، أَوْ قَالَ: مَشَى إِلَى سُباطَةِ قَوْمٍ، فَبالَ وَهُوَ قَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ایک شیشی میں پیشاب کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل کے جسم پر اگر پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتے تھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری آرزو ہے کہ تمہارے ساتھی اتنی سختی نہ کریں مجھے یاد ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ چل رہے تھے چلتے چلتے کوڑا کر کٹ پھینکنے کی جگہ پر پہنچنے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23422]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 226، م: 273
الحكم: إسناده صحيح، خ: 226، م: 273
حدیث نمبر: 23423 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبةُ ، حَمَّادٍ ، رِبعِيٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ شُعْبةُ: رَفَعَهُ مَرَّةً إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُخْرِجُ اللَّهُ قَوْمًا مُنْتِنِينَ قَدْ مَحَشَتْهُمْ النَّارُ بشَفَاعَةِ الشَّافِعِينَ، فَيُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ، فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيُّونَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنم سے ایک قوم اس وقت نکلے گی جب آگ انہیں جھلسا چکی ہوگی انہیں " جہنمی " کہا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23423]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23424 مسند احمد
أَبو النَّضْرِ ، شُعْبةُ ، حَمَّادٍ ، رِبعِيَّ بنَ حِرَاشٍ
قَالَ حَجَّاجٌ: الْجَهَنَّمِيِّينَ. حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رِبعِيَّ بنَ حِرَاشٍ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23424]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا الإسناد وإن كان مرسلا جاء موصولا
الحكم: حديث صحيح، وهذا الإسناد وإن كان مرسلا جاء موصولا
حدیث نمبر: 23425 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبي التَّيَّاحِ ، صَخْرًا ، سُبيْعٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَخْرًا يُحَدِّثُ , عَنْ سُبيْعٍ ، قَالَ: أَرْسَلُونِي مِنْ مَاءٍ إِلَى الْكُوفَةِ أَشْتَرِي الدَّوَاب، فَأَتَيْنَا الْكُنَاسَةَ، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ جَمْعٌ، قَالَ: فَأَمَّا صَاحِبي، فَانْطَلَقَ إِلَى الدَّوَاب، وَأَمَّا أَنَا فَأَتَيْتُهُ، فَإِذَا هُوَ حُذَيْفَةُ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: كَانَ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الْخَيْرِ وَأَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبلَهُ شَرٌّ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ؟ قَالَ: " السَّيْفُ"، أَحْسَب أَبو التَّيَّاحِ، يَقُولُ: السَّيْفُ أَحْسَب قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ تَكُونُ هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ تَكُونُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ، فَإِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ فَالْزَمْهُ، وَإِنْ نَهَكَ جِسْمَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ، فَإِنْ لَمْ تَرَهُ فَاهْرَب فِي الْأَرْضِ، وَلَوْ أَنْ تَمُوتَ وَأَنْتَ عَاضٌّ بجِذْلِ شَجَرَةٍ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ"، قَالَ: قُلْتُ: فِبمَ يَجِيءُ بهِ مَعَهُ؟ قَالَ:" بنَهَرٍ، أَوْ قَالَ: مَاءٍ وَنَارٍ، فَمَنْ دَخَلَ نَهْرَهُ حُطَّ أَجْرُهُ وَوَجَب وِزْرُهُ، وَمَنْ دَخَلَ نَارَهُ وَجَب أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" لَوْ أَنْتَجْتَ فَرَسًا لَمْ تَرْكَب فَلُوَّهَا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سبیع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے مجھے جانور خریدنے کے لئے بھیج دیا ہم ایک حلقے میں پہنچے جہاں بہت سے لوگ ایک شخص کے پاس جمع تھے میرا ساتھی تو جانوروں کی طرف چلا گیا جبکہ میں اس آدمی کی طرف، وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں میں ان کے قریب گیا تو انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں شر کے متعلق کیونکہ میں جانتا تھا کہ خیر مجھے چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتی ایک دن میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حذیفہ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو (تین مرتبہ فرمایا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فتنہ اور شر ہوگا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پر وی کرو میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دھوئیں پر صلح قائم ہوگی اور گندگی پر اتفاق ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دھوئیں پر صلح قائم ہونے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ اس صلح پر دل سے راضی نہیں ہوں گے۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ! اگر تم اس حال میں مرو کہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا پھر دجال کا خروج ہوگا میں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا چیز ہوگی؟ فرمایا اس کے ساتھ نہر یا پانی اور آگ ہوگی جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوجائے گا اس کا اجر ضائع اور وبال پختہ ہوجائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوگا اس کا اجر پختہ اور گناہ معاف ہوجائیں گے میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا اگر تمہارے گھوڑے نے بچہ دیا تو اس کے بچے پر سوار ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ! اگر تم اس حال میں مرو کہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا پھر دجال کا خروج ہوگا میں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا چیز ہوگی؟ فرمایا اس کے ساتھ نہر یا پانی اور آگ ہوگی جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوجائے گا اس کا اجر ضائع اور وبال پختہ ہوجائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوگا اس کا اجر پختہ اور گناہ معاف ہوجائیں گے میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا اگر تمہارے گھوڑے نے بچہ دیا تو اس کے بچے پر سوار ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23425]
حکم دارالسلام
حديث حسن دون قوله: لو أنتجت فرسا لم تركب فلوها حتى تقوم الساعة، وهذا إسناد ضعيف لجهالة صخر ، وقد توبع
الحكم: حديث حسن دون قوله: لو أنتجت فرسا لم تركب فلوها حتى تقوم الساعة، وهذا إسناد ضعيف لجهالة صخر ، وقد توبع
حدیث نمبر: 23426 مسند احمد
شُعْبةُ ، أَبو بشْرٍ ، حُذَيْفَةَ
قَالَ شُعْبةُ : وَحَدَّثَنِي أَبو بشْرٍ فِي إِسْنَادٍ لَهُ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ؟ قَالَ:" قُلُوب لَا تَعُودُ عَلَى مَا كَانَتْ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23426]
حکم دارالسلام
لم يبين شعبة اسناده
الحكم: لم يبين شعبة اسناده
حدیث نمبر: 23427 مسند احمد
عَبدُ الصَّمَدِ ، أَبي ، أَبو التَّيَّاحِ ، صَخْرُ بنُ بدْرٍ الْعِجْلِيُّ ، سُبيْعِ بنِ خَالِدٍ الضُّبعِيِّ
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبي، حَدَّثَنِي أَبو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنِي صَخْرُ بنُ بدْرٍ الْعِجْلِيُّ ، عَنْ سُبيْعِ بنِ خَالِدٍ الضُّبعِيِّ ، فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَاهُ، وَقَالَ:" وَحُطَّ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ"، قَالَ:" وَإِنْ نَهَكَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ"..
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة صخر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة صخر
حدیث نمبر: 23428 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ ، أَبي التَّيَّاحِ ، صَخْرٍ ، سُبيْعِ بنِ خَالِدٍ الضُّبعِيِّ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبي التَّيَّاحِ ، عَنْ صَخْرٍ ، عَنْ سُبيْعِ بنِ خَالِدٍ الضُّبعِيِّ ، فَذَكَرَهُ، وَقَالَ:" وَإِنْ نَهَكَ ظَهْرَكَ وَأَكَلَ مَالَكَ"، وَقَالَ:" وَحُطَّ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ".
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الجهالة صخر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الجهالة صخر
حدیث نمبر: 23429 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، نَصْرِ بنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ ، خَالِدِ بنِ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيِّ ، حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ نَصْرِ بنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ خَالِدِ بنِ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ زَمَانَ فُتِحَتْ تُسْتَرُ حَتَّى قَدِمْتُ الْكُوفَةَ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَنَا بحَلْقَةٍ فِيهَا رَجُلٌ صَدَعٌ مِنَ الرِّجَالِ، حَسَنُ الثَّغْرِ، يُعْرَفُ فِيهِ أَنَّهُ مِنْ رِجَالِ أَهْلِ الْحِجَازِ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَنْ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ الْقَوْمُ: أَوَ مَا تَعْرِفُهُ؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالُوا: هَذَا حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ صَاحِب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَعَدْتُ وَحَدَّثَ الْقَوْمَ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنِّي سَأُخْبرُكُمْ بمَا أَنْكَرْتُمْ مِنْ ذَلِكَ، جَاءَ الْإِسْلَامُ حِينَ جَاءَ، فَجَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ كَأَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَكُنْتُ قَدْ أُعْطِيتُ فِي الْقُرْآنِ فَهْمًا، فَكَانَ رِجَالٌ يَجِيئُونَ فَيَسْأَلُونَ عَنِ الْخَيْرِ، فَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَكُونُ بعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبلَهُ شَرٌّ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " السَّيْفُ"، قَالَ: قُلْتُ: وَهَلْ بعْدَ هَذَا السَّيْفِ بقِيَّةٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ، تَكُونَ إِمَارَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ، وَهُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ تَنْشَأُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ، فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ يَوْمَئِذٍ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ جَلَدَ ظَهْرَكَ، وَأَخَذَ مَالَكَ، فَالْزَمْهُ، وَإِلَّا فَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلِ شَجَرَةٍ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثِمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ بعْدَ ذَلِكَ مَعَهُ نَهَرٌ وَنَارٌ، مَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ وَجَب أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ، وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهَرِهِ وَجَب وِزْرُهُ وَحُطَّ أَجْرُهُ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ يُنْتَجُ الْمُهْرُ فَلَا يُرْكَب حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" ، الصَّدْعُ مِنَ الرِّجَالِ: الضَّرْب، وَقَوْلُهُ:" فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ؟" قَالَ: السَّيْفُ، كَانَ قَتَادَةُ يَضَعُهُ عَلَى الرِّدَّةِ الَّتِي كَانَتْ فِي زَمَنِ أَبي بكْرٍ، وَقَوْلُهُ:" إِمَارَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ" يقول: علي قذى ," وَهُدْنَةٌ" يَقُولُ: صُلْحٌ، وَقَوْلُهُ:" عَلَى دَخَنٍ" يَقُولُ: عَلَى ضَغَائِنَ، قِيلَ لِعَبدِ الرَّزَّاقِ: مِمَّنْ التَّفْسِيرُ؟ قَالَ: منْ قَتَادَةَ , زعَمَ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خالد بن خالد یشکری کہتے ہیں کہ تستر جس زمانے میں فتح ہوا میں وہاں سے نکل کر کوفہ پہنچا میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک حلقہ لگا ہوا تھا یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے سر کاٹ دیئے گئے ہیں وہ ایک آدمی کی حدیث کو بڑی توجہ سے سن رہے تھے میں ان کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا اسی دوران ایک اور آدمی آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہوگیا میں نے اس سے پوچھا کہ یہ صاحب کون ہیں؟ اس نے مجھ سے پوچھا کیا آپ بصرہ کے رہنے والے ہیں میں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا کہ میں پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ اگر آپ کوفی ہوتے تو ان صاحب کے متعلق سوال نہ کرتے یہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں ان کے قریب گیا تو انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں شر کے متعلق کیونکہ میں جانتا تھا کہ خیر مجھے چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتی ایک دن میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حذیفہ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو (تین مرتبہ فرمایا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فتنہ اور شر ہوگا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دھوئیں پر صلح قائم ہوگی اور گندگی پر اتفاق ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دھوئیں پر صلح قائم ہونے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ اس صلح پر دل سے راضی نہیں ہوں گے۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ! اگر تم اس حال میں مرو کہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا پھر دجال کا خروج ہوگا میں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا چیز ہوگی؟ فرمایا اس کے ساتھ نہر یا پانی اور آگ ہوگی جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوجائے گا اس کا اجر ضائع اور وبال پختہ ہوجائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوگا اس کا اجر پختہ اور گناہ معاف ہوجائیں گے میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا؟ فرمایا اگر تمہارے گھوڑے نے بچہ دیا تو اس کے بچے پر سوار ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23429]
حکم دارالسلام
حديث حسن دون قوله: ثم ينتج المهر فلا يركب حتى تقوم الساعة ، وهذا مخالف لحديث أبى هريرة وعائشة: من أن السيد المسيح يمكث فى الأرض أربعين سنة بعد قتله للمسيح الدجال
الحكم: حديث حسن دون قوله: ثم ينتج المهر فلا يركب حتى تقوم الساعة ، وهذا مخالف لحديث أبى هريرة وعائشة: من أن السيد المسيح يمكث فى الأرض أربعين سنة بعد قتله للمسيح الدجال
حدیث نمبر: 23430 مسند احمد
بهْزٌ ، أَبو عَوَانَة ، قَتَادَة ، نَصر بن عَاصم ، سُبيع بنَ خَالد
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَثَنَا أَبو عَوَانَة ، حَدَثَنَا قَتَادَة ، عَنْ نَصر بن عَاصم ، عَن سُبيع بنَ خَالد ، قَالَ: قَدَمتُ الْكُوفَةَ زَمَنَ فُتِحتْ تُسَتَرُ، فَذكَرَ مثل مَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ، وقَالَ:" حُطَّ وِزْرُهُ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23430]
حکم دارالسلام
حديث حسن، سبيع بن خالد توبع
الحكم: حديث حسن، سبيع بن خالد توبع
حدیث نمبر: 23431 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، سُلَيْمَانَ ، زَيْدَ بنَ وَهْب ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بنَ وَهْب يُحَدِّثُ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بحَدِيثَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا، وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23431]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 143
الحكم: إسناده صحيح، م: 143
حدیث نمبر: 23432 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، بكَّارٌ ، خَلَّادُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، أَبا الطُّفَيْلِ ، حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانٍِ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا بكَّارٌ ، حَدَّثَنِي خَلَّادُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانٍِ ، يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا تَسْأَلُونِي؟ فَإِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، إِنَّ اللَّهَ بعَثَ نَبيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، فَدَعَا النَّاسَ مِنَ الْكُفْرِ إِلَى الْإِيمَانِ، وَمِنْ الضَّلَالَةِ إِلَى الْهُدَى، فَاسْتَجَاب لَه مَنْ اسْتَجَاب، فَحَيَّ مِنَ الْحَقِّ مَا كَانَ مَيْتًا، وَمَاتَ مِنَ الْباطِلِ مَا كَانَ حَيًّا، ثُمَّ ذَهَبتْ النُّبوَّةُ، فَكَانَتْ الْخِلَافَةُ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبوَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے فرمایا اے لوگو! تم مجھ سے پوچھتے کیوں نہیں ہو؟ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے اور میں شر کے متعلق پوچھتا تھا بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث فرمایا انہوں نے لوگوں کو کفر سے ایمان کی دعوت دی گمراہی سے ہدایت کی طرف بلایا جس نے ان کی بات ماننی تھی سو اس نے یہ دعوت قبول کرلی اور حق کی برکت سے مردہ چیزیں زندہ ہوگئیں اور باطل کی نحوست سے زندہ چیزیں بھی مردہ ہوگئیں پھر نبوت کا دور ختم ہوا تو خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23432]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23433 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبي إِسْحَاقَ ، مَنْ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَنْ كَانَ مَعَ سَعِيدِ بنِ الْعَاصِ فِي غَزْوَةٍ يُقَالُ لَهَا: غَزْوَةُ الْخَشَب، وَمَعَهُ حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَيُّكُمْ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا، قَالَ: فَأَمَرَهُمْ حُذَيْفَةُ فَلَبسُوا السِّلَاحَ، ثُمَّ قَالَ: إِنْ هَاجَكُمْ هَيْجٌ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ الْقِتَالُ، قَالَ: " فَصَلَّى بإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلَاءِ، فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ طبرستان میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ صلوۃ الخوف کس نے پڑھی ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے پھر انہوں نے لوگوں کو حکم دیا چناچہ انہوں نے اسلحہ پہن لیا پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر دشمن اچانک تم پر حملہ کر دے تو تمہارے لئے لڑنا جائز ہے پھر انہوں نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی۔ ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23433]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف للرجل المبهم، لكن له طريق صحيحة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف للرجل المبهم، لكن له طريق صحيحة
حدیث نمبر: 23434 مسند احمد
سُفْيَانُ بنُ عُيَيْنَةَ ، مَنْصُورٍ ، إِبرَاهِيمَ ، هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ فَمَرَّ رَجُلٌ، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا يُبلِّغُ الْأُمَرَاءَ الْأَحَادِيثَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23434]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
حدیث نمبر: 23435 مسند احمد
أَبو أَحْمَدَ ، عَبدُ الْجَبارِ بنُ الْعَباسِ الشَّامِيُّ ، أَبي قَيْسٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا أَبو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْجَبارِ بنُ الْعَباسِ الشَّامِيُّ ، عَنْ أَبي قَيْسٍ ، قَالَ عَبدُ الْجَبارِ: أُرَاهُ عَنْ هُزَيْلٍ، قَالَ: قَامَ حُذَيْفَةُ خَطِيبا فِي دَارِ عَامِرِ بنِ حَنْظَلَةَ، فِيهَا التَّمِيمِيُّ، وَالْمُضَرِيُّ، فَقَالَ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى مُضَرَ يَوْمٌ لَا يَدَعُونَ لِلَّهِ عَبدًا يَعْبدُهُ إِلَّا قَتَلُوهُ، أَوْ لَيُضْرَبنَّ ضَرْبا لَا يَمْنَعُونَ ذَنَب تَلْعَةٍ"، أَوْ" أَسْفَلَ تَلْعَةٍ"، فَقِيلَ: يَا أَبا عَبدِ اللَّهِ، تَقُولُ هَذَا لِقَوْمِكَ، أَوْ لِقَوْمٍ أَنْتَ يَعْنِي مِنْهُمْ؟! قَالَ: لَا أَقُولُ يَعْنِي إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ مضر زمین پر اللہ کا کوئی نیک بندہ ایسا نہیں چھوڑے گا جسے وہ فتنے میں نہ ڈال دے اور اسے ہلاک نہ کر دے حتی کہ اللہ اس پر اپنا ایک لشکر مسلط کر دے گا جو اسے ذلیل کر دے گا اور اسے کسی ٹیلے کا دامن بھی نہ بچا سکے گا، ایک آدمی نے ان سے کہا بندہ خدا! آپ یہ بات کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ تو خود قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو وہی بات کہہ رہا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23435]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23436 مسند احمد
زَيْدُ بنُ الْحُباب ، إِسْرَائِيلُ ، مَيْسَرَةُ بنُ حَبيب ، الْمِنْهَالِ ، زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، أَخْبرَنَا إِسْرَائِيلُ ، أَخْبرَنِي مَيْسَرَةُ بنُ حَبيب ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ قَالَتْ لِي أُمِّي: مَتَى عَهْدُكَ بالنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: مَا لِي بهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَهَمَّتْ بي، فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ، دَعِينِي حَتَّى أَذْهَب إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَغْفِرَ لِي وَيَسْتَغْفِرَ لَكِ، قَالَ: فَجِئْتُهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِب،" فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ يُصَلِّي، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ خَرَجَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کب سے وابستہ ہو؟ میں نے انہیں اس کا اندازہ بتادیا وہ مجھے سخت سست اور برا بھلا کہنے لگیں میں نے ان سے کہا کہ پیچھے ہٹیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں مغرب کی نماز ان کے ساتھ پڑھوں گا اور اس وقت تک انہیں چھوڑوں گا نہیں جب تک وہ میرے اور آپ کے لئے استغفار نہ کریں۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی اور واپس چلے گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23436]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23437 مسند احمد
عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ عَبدِ الصَّمَدِ ، مَنْصُورٌ ، مُجَاهِدٍ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ عَبدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْرَب فِي آنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ، وَأَنْ نَأْكُلَ فِيهَا، وَأَنْ نَلْبسَ الْحَرِيرَ وَالدِّيباجَ، وَقَالَ: " هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ریشم و دیبا پہننے سے اور سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23437]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5632، م: 2067
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5632، م: 2067
حدیث نمبر: 23438 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَجَّاجٌ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَابسٍ ، أَبيهٍِ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَابسٍ ، عَنْ أَبيهٍِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ شَرَطَ لِأَخِيهِ شَرْطًا لَا يُرِيدُ أَنْ يَفِيَ لَهُ بهِ، فَهُوَ كَالْمُدْلِي جَارَهُ إِلَى غَيْرِ مَنَعَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنے بھائی سے کوئی وعدہ کرے جسے پورا نہ کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہ ہو تو یہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص اپنے پڑوسی کو ایک ایسے شخص کے حوالے کر دے جس کی کوئی اہمیت نہ ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23438]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حجاج و عنعنته، وتفرده بهذا الحديث
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حجاج و عنعنته، وتفرده بهذا الحديث
حدیث نمبر: 23439 مسند احمد
يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، أَبو مَالِكٍ سَعِيدُ بنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ ، رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ سَعِيدُ بنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ ، حَدَّثَنِي رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنَا أَعْلَمُ بمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنَ الدَّجَّالِ، مَعَهُ نَهَرَانِ يَجْرِيَانِ: أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَاءٌ أَبيَضُ، وَالْآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ، فَإِمَّا أَدْرَكَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ، فَلْيَأْتِ النَّهَرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا، وَلْيُغْمِضْ ثُمَّ لِيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ فَلْيَشْرَب، فَإِنَّهُ مَاءٌ بارِدٌ، وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ، وَفِيهِ مَكْتُوب بيْنَ عَيْنَيْهِ: كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِب وَغَيْرُ كَاتِب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں یہ بات دجال سے بھی زیادہ جانتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی دو نہریں ہوں گی جن میں سے ایک دیکھنے میں سفید پانی کی ہوگی اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوگی اگر تم میں سے کوئی شخص اس دور کو پائے تو اس نہر میں داخل ہوجائے جو اسے آگ نظر آرہی ہو اس میں غوطہ زنی کرے پھر سر جھکا کر اس کا پانی پی لے کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور دجال کی بائیں آنکھ کسی نے پونچھ دی ہوگی اس پر ایک موٹا ناخنہ ہوگا اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا جسے ہر کاتب وغیر کاتب مسلمان پڑھ لے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23439]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934