بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 225
صفحہ 6 از 12
حدیث نمبر: 23340 مسند احمد
أَبو أَحْمَدَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبي إِسْحَاقَ ، أَبي الْمُغِيرَةِ ، حُذَيْفَةَ ، لِأَبي برْدَةَ بنِ أَبي مُوسَى ، أَبي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبي الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَب عَلَى أَهْلِي لَمْ أَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ يَا حُذَيْفَةُ، إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَأَتُوب إِلَيْهِ" ، قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِأَبي برْدَةَ بنِ أَبي مُوسَى فَحَدَّثَنِي , عَنْ أَبي مُوسَى ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَأَتُوب إِلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسروں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حذیفہ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23340]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قصة ذرابة اللسان، وله إستادان: الأول إلى حذيفة ، وهو ضعيف لجهالة أبى المغيرة. والاسناد الثاني الي ابي موسي الاشعري: وقد خولف ابو احمد محمد بن عبدالله الزبيري فيه
الحكم: صحيح لغيره دون قصة ذرابة اللسان، وله إستادان: الأول إلى حذيفة ، وهو ضعيف لجهالة أبى المغيرة. والاسناد الثاني الي ابي موسي الاشعري: وقد خولف ابو احمد محمد بن عبدالله الزبيري فيه
حدیث نمبر: 23341 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ : " إِنَّ أَشْبهَ النَّاسِ هَدْيًا وَدَلًّا، وَسَمْتًا بمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبدُ اللَّهِ بنُ مَسْعُودٍ، مِنْ حِينِ يَخْرُجُ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ، لَا أَدْرِي مَا يَصْنَعُ فِي بيْتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں روزانہ سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23341]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2097
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2097
حدیث نمبر: 23342 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ حُذَيْفَةَ فَأَقْبلَ عَبدُ اللَّهِ بنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ :" إِنَّ أَشْبهَ النَّاسِ هَدْيًا وَدَلًّا برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ، فَلَا أَدْرِي مَا يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ كَعَبدِ اللَّهِ بنِ مَسْعُودٍ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَبدَ اللَّهِ مِنْ أَقْرَبهِمْ عِنْدَ اللَّهِ وَسِيلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے گھر سے نکلنے سے لے کر واپس آنے تک میں نہیں جانتا کہ وہ گھر میں کیا کرتے تھے۔ شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں کسی ایسے آدمی کا پتہ بتائیے جو طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم ان سے یہ طریقے اخذ کرسکیں اور ان کی باتیں سن سکیں انہوں نے فرمایا کہ طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے یہاں تک کہ وہ مجھ سے چھپ کر اپنے گھر میں بیٹھ گئے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محفوظ صحابہ جانتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23342]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2097
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2097
حدیث نمبر: 23343 مسند احمد
حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، أَخْبرَنَا عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بالْبرَاقِ، وَهُوَ دَابةٌ أَبيَضُ طَوِيلٌ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ، قَالَ: فَلَمْ يُزَايِلْ ظَهْرَهُ هُوَ وَجِبرِيلُ، حَتَّى أَتَيَا بيْتَ الْمَقْدِسِ، وَفُتِحَتْ لَهُمَا أَبوَاب السَّمَاءِ، وَرَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، قَالَ: وَقَالَ حُذَيْفَةُ: وَلَمْ يُصَلِّ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ زِرٌّ: فَقُلْتُ: بلَى، قَدْ صَلَّى، قَالَ حُذَيْفَةُ: مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ؟ فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ، وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُكَ، قَالَ: قُلْتُ: أَنَا زِرُّ بنُ حُبيْشٍ، قَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ وَهَلْ تَجِدُهُ صَلَّى؟ قَالَ: قُلْتُ: لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ سورة الإسراء آية 1 قَالَ: وَهَلْ تَجِدُهُ صَلَّى؟ لَوْ صَلَّى فِيهِ صَلَّيْنَا فِيهِ كَمَا نُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَقِيلَ لِحُذَيْفَةَ: رَبطَ الدَّابةَ بالْحَلَقَةِ الَّتِي رَبطَ بهَا الْأَنْبيَاءُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَوَ كَانَ يَخَافُ أَنْ تَذْهَب وَقَدْ آتَاهُ اللَّهُ بهَا؟! .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ شب معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کرنے لگے کہ پھر ہم وہاں سے چل کر بیت المقدس پہنچے لیکن بیت المقدس میں داخل نہیں ہوئے " میں نے کہا کہ اس رات تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت المقدس میں داخل بھی ہوئے تھے اور وہاں پر نماز پھی پڑھی تھی یہ سن کر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے گنجے! تمہارا کیا نام ہے؟ میں تمہیں چہرے سے پہچانتا ہوں لیکن نام یاد نہیں ہے میں نے عرض کیا کہ میرا نام زر بن حبیش ہے انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی تھی؟ میں نے کہا کہ قرآن بتاتا ہے انہوں نے فرمایا کہ قرآن سے بات کرنے والا کامیاب ہوتا ہے تم وہ آیت پڑھ کر سناؤ اب جو میں نے " سبحان الذی اسری بعبدہ " پڑھی تو اس میں یہ کہیں نہ ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز بھی پڑھی تھی، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ارے گنجے! کیا تمہیں اس میں نماز پڑھنے کا ذکر ملتا ہے؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا بخدا! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی تھی اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت المقدس میں نماز پڑھ لیتے تو تم پر بھی وہاں نماز پڑھنا فرض ہوجاتا جیسے بیت اللہ میں ہوا بخدا! وہ دونوں براق سے جدا نہیں ہوئے تاآنکہ ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے۔ پھر ان دونوں نے جنت اور جہنم کو دیکھا اور آخرت کے سارے وعدہ دیکھے پھر وہ دونوں اسی طرح واپس آگئے جیسے گئے تھے پھر وہ ہنسنے لگے یہاں تک کہ ان کے دندان مبارک میں نے دیکھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے براق کو باندھ دیا تھا تاکہ وہ بھاگ نہ جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو سارا عالم غیب وشہود ان کے تابع کردیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23343]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23344 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبةُ ، سُلَيْمَانَ ، سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، الْمُسْتَوْرِدِ ، صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ فَحَدَّثَنِي , عَنْ سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: " سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ"، وَفِي سُجُودِهِ:" سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى"، وَمَا مَرَّ بآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ، وَلَا بآيَةِ عَذَاب إِلَّا تَعَوَّذَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے رکوع میں " سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلیٰ کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23344]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 772
الحكم: إسناده صحيح، م: 772
حدیث نمبر: 23345 مسند احمد
أَبو نُعَيْمٍ ، يُونُسُ يَعْنِي ابنَ أَبي إِسْحَاقَ ، أَبي إِسْحَاقَ ، نَهِيكٍ السَّلُولِيِّ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابنَ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ نَهِيكٍ السَّلُولِيِّ ، حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى سُباطَةَ قَوْمٍ فَبالَ قَائِمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ وہ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ تشریف لائے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23345]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة نهيك بن عبدالله، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة نهيك بن عبدالله، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23346 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا بيْنَ طَرَفَيْ حَوْضِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا بيْنَ أَيْلَةَ وَمُضَرَ، آنِيَتُهُ أَكْثَرُ، أَوْ مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَاؤُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَشَدُّ بيَاضًا مِنَ اللَّبنِ، وَأَبرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَب رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ، مَنْ شَرِب مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بعْدَهُ أَبدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کی مسافت اتنی ہے جتنی ایلہ اور مضر کے درمیان ہے اس کے برتن آسمانوں کے ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ مہک والا ہوگا جو شخص ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23346]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23347 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبةُ ، مَنْصُورٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ، وَلَكِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہا کرو " جو اللہ نے چاہا اور جو فلاں نے چاہا " بلکہ یوں کہا کرو " جو اللہ نے چاہا اس کے بعد فلاں نے چاہا " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23347]
حکم دارالسلام
.......
الحكم: .......
حدیث نمبر: 23348 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، أَبي الْبخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ، أَبي ثَوْرٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبي الْبخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبي ثَوْرٍ ، قَالَ: بعَثَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ بسَعِيدِ بنِ الْعَاصِ، قَالَ: فَخَرَجُوا إِلَيْهِ فَرَدُّوهُ، قَالَ: فَكُنْتُ قَاعِدًا مَعَ أَبي مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةَ، فَقَالَ أَبو مَسْعُودٍ: مَا كُنْتُ أَرَى أَنْ يَرْجِعَ ولَمْ يُهْرِقْ فِيهِ دَمًا، قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ : وَلَكِنْ قَدْ عَلِمْتُ لَتَرْجِعَنَّ عَلَى عُقَيْبهَا لَمْ يُهْرِقْ فِيهَا مَحْجَمَةَ دَمٍ، وَمَا عَلِمْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا شَيْئًَا عَلِمْتُهُ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: " حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصْبحُ مُؤْمِنًا، ثُمَّ يُمْسِي مَا مَعَهُ مِنْهُ شَيْءٌ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا، وَيُصْبحُ مَا مَعَهُ مِنْهُ شَيْءٌ، يُقَاتِلُ فِئَتَهُ الْيَوْمَ وَيَقْتُلُهُ اللَّهُ غَدًا، يَنْكُسُ قَلْبهُ، تَعْلُوهُ اسْتُهُ" ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَسْفَلُهُ؟ قَالَ: اسْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو ثور کہتے ہیں کہ ایک ہموار ریتلے علاقے کی طرف حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو بھیجا، اس علاقے کے لوگ باہر نکلے اور انہوں نے حضرت سعید رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج دیا وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے میرا خیال نہیں ہے کہ یہ آدمی اس طرح واپس آئے گا کہ اس میں خون ریزی نہ کرلے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن میں جانتا ہوں کہ جب آپ واپس پہنچیں گے تو وہاں ایک سینگی کے برابر بھی خون نہیں بہا ہوگا مجھے یہ بات اسی وقت معلوم ہوگئی تھی جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابھی حیات تھے البتہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان صبح کو مومن ہوگا اور شام تک اس کے پاس کچھ بھی ایمان نہ ہوگا یا شام کو مومن ہوگا اور صبح تک اس کے پاس کچھ بھی نہ ہوگا آج اس کی جماعت قتال کرے گی اور کل اللہ تعالیٰ اسے قتل کروا دے گا اس کا دل الٹا ہوجائے گا اس کے سرین اوپر ہوجائیں گے راوی نے پوچھا کہ یہ لفظ نچلا حصہ ہے تو انہوں نے فرمایا یہ لفظ " سرین " ہی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23348]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عبدالله بن يسار لم يلق حذيفة، وقد اختلف فيه عليه أيضا
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عبدالله بن يسار لم يلق حذيفة، وقد اختلف فيه عليه أيضا
حدیث نمبر: 23349 مسند احمد
ابنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ ثَرْوَانَ ، عَمْرِو بنِ حَنْظَلَةَ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ ثَرْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بنِ حَنْظَلَةَ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ : " وَاللَّهِ لَا تَدَعُ مُضَرُ عَبدًا لِلَّهِ مُؤْمِنًا إِلَّا فَتَنُوهُ، أَوْ قَتَلُوهُ، أَوْ يَضْرِبهُمْ اللَّهُ وَالْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ، حَتَّى لَا يَمْنَعُوا ذَنَب تَلْعَةٍ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَقُولُ هَذَا يَا عَبدَ اللَّهِ وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنْ مُضَرَ؟ قَالَ: لَا أَقُولُ إِلَّا مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ مضر زمین پر اللہ کا کوئی نیک بندہ ایسا نہیں چھوڑے گا جسے وہ فتنے میں نہ ڈال دے اور اسے ہلاک نہ کر دے حتی کہ اللہ اس پر اپنا ایک لشکر مسلط کر دے گا جو اسے ذلیل کر دے گا اور اسے کسی ٹیلے کا دامن بھی نہ بچا سکے گا، ایک آدمی نے ان سے کہا بندہ خدا! آپ یہ بات کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ تو خود قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو وہی بات کہہ رہا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23349]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن ثروان، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن ثروان، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23350 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبةُ ، أَبو إِسْحَاقَ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ ، لِحُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: أَبو إِسْحَاقَ أَخْبرَنِي , عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ : أَخْبرْنَا برَجُلٍ قَرِيب السَّمْتِ وَالْهَدْيِ برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَأْخُذَ عَنْهُ، قَالَ: " مَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَقْرَب سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُوَارِيَهُ جِدَارُ بيْتِهِ مِنَ ابنِ أُمِّ عَبدٍ، وَلَمْ نَسْمَعْ هَذَا مِنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ: لَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابنَ أُمِّ عَبدٍ مِنْ أَقْرَبهِمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسِيلَةً" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں کسی ایسے آدمی کا پتہ بتائیے جو طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم ان سے یہ طریقے اخذ کرسکیں اور ان کی باتیں سن سکیں انہوں نے فرمایا کہ طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے یہاں تک کہ وہ مجھ سے چھپ کر اپنے گھر میں بیٹھ گئے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محفوظ صحابہ جانتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23350]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3762
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3762
حدیث نمبر: 23351 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبةُ ، وَلِيدِ بنِ الْعَيْزَارِ ، أَبي عَمْرٍو الشَّيْبانِيِّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ وَلِيدِ بنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ أَبي عَمْرٍو الشَّيْبانِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، بهَذَا كُلِّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23351]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3762
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3762
حدیث نمبر: 23352 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبدُ الْوَاحِدِ بنُ زِيَادٍ ، أَبو رَوْقٍ عَطِيَّةُ بنُ الْحَارِثِ ، مُخْمِلُ بنُ دِمَاثٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْوَاحِدِ بنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا أَبو رَوْقٍ عَطِيَّةُ بنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُخْمِلُ بنُ دِمَاثٍ ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ سَعِيدِ بنِ الْعَاصِ، قَالَ: فَسَأَلَ النَّاسَ: مَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا، " صَلَّى بطَائِفَةٍ مِنَ الْقَوْمِ رَكْعَةً، وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ ذَهَب هَؤُلَاءِ فَقَامُوا مَقَامَ أَصْحَابهِمْ مُوَاجِهُو الْعَدُوِّ، وَجَاءَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى، فَصَلَّى بهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ طبرستان میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ صلوۃ الخوف کس نے پڑھی ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اور وہ اس طرح کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنالیں ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے آکر کر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیر دیا اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دو رکعتیں ہوگئیں اور ان کے پیچھے ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23352]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مخمل بن دماث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مخمل بن دماث
حدیث نمبر: 23353 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبو عَوَانَةَ ، عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عُمَيْرٍ ، رِبعِيٍّ ، لِحُذَيْفَةَ ، حُذَيْفَةُ ، عُقْبةُ بنُ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، قَالَ: قَالَ عُقْبةُ بنُ عَمْرٍو لِحُذَيْفَةَ : أَلَا تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ مَعَ الدَّجَّالِ إِذَا خَرَجَ مَاءً وَنَارًا، الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهَا نَارٌ فَمَاءٌ بارِدٌ، وَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ مَاءٌ فَنَارٌ تُحْرِقُ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ، فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَى أَنَّهَا نَارٌ، فَإِنَّهَا مَاءٌ عَذْب بارِدٌ" . قَالَ حُذَيْفَةُ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبلَكُمْ أَتَاهُ مَلَكٌ لِيَقْبضَ نَفْسَهُ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ؟ فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ، قِيلَ لَهُ: انْظُرْ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُبايِعُ النَّاسَ وَأُجَازِفُهُمْ، فَأُنْظِرُ الْمُوسِرِ، وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعسرِ، فَأَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ" . قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ رَجُلًا حَضَرَهُ الْمَوْتُ، فَلَمَّا أَيِسَ مِنَ الْحَيَاةِ أَوْصَى أَهْلَهُ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَاجْمَعُوا لِي حَطَبا كَثِيرًا جَزْلًا، ثُمَّ أَوْقِدُوا فِيهِ نَارًا، حَتَّى إِذَا أَكَلَتْ لَحْمِي وَخَلَصَ إِلَى عَظْمِي فَامْتَحَشَتْ، فَخُذُوهَا فَاذْرُوهَا فِي الْيَمِّ، فَفَعَلُوا، فَجَمَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ، وَقَالَ لَهُ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ! قَالَ: فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ" ، قَالَ عُقْبةُ بنُ عَمْرٍو : أَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ، وَكَانَ نَباشًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ربعی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عقبہ بن عمرو نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث کیوں نہیں سناتے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دجال جس وقت خروج کرے گا اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی جو چیز لوگوں کو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگی اور جو چیز پانی نظر آئے گا وہ جلا دینے والی آگ ہوگی تم میں سے جو شخص اسے پائے اسے چاہئے کہ آگ دینے والی چیز میں غوطہ لگائے کیونکہ وہ میٹھا اور ٹھنڈا پانی ہوگا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پہلے زمانے میں ایک آدمی کے پاس ملک الموت روح قبض کرنے کے لئے آئے تو اس سے پوچھا کہ تو نے کبھی کوئی نیکی بھی کی ہے؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں اس نے کہا غور کرلو اس نے کہا کہ اور تو مجھے کوئی نیکی معلوم نہیں البتہ میں لوگوں کے ساتھ تجارت کرتا تھا اس میں تنگدست کو مہلت دے دیتا تھا اور اس سے درگذر کرلیتا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل کر دیا۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آیک آدمی کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا پھر میری راکھ کو پیس لینا پھر جس دن تیز آندھی چل رہی ہو اس دن میری راکھ کو ہوا میں بکھیر دیناجب وہ مرگیا تو اس کے اہل خانہ نے اسی طرح کیا اللہ نے اسے اپنے قبضہ قدرت میں جمع کرلیا اور اس سے پوچھا کہ تجھے یہ کام کرنے پر کس نے مجبور کیا؟ اس نے کہا تیرے خوف نے اللہ نے فرمایا میں نے تجھے معاف کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23353]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934
حدیث نمبر: 23354 مسند احمد
عَبدُ اللَّهِ بنُ مُحَمَّدٍ ، أَبو أُسَامَةَ ، الْوَلِيدِ بنِ جُمَيعٍ ، أَبو الطُّفَيْلِ ، حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ محمد بن أَبي شَيْبةَ، حَدَّثَنَا أَبو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بنِ جُمَيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبو الطُّفَيْلِ، حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ ، قَالَ: مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبي حُسِيْلٍ، فَأَخَذَنَا كُفَّارُ قُرَيْشٍ، فَقَالُوا: إِنَّكُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا؟ قُلْنَا: مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ، فَأَخَذُوا مِنَّا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبرْنَاهُ الْخَبرَ، فَقَالَ: " انْصَرِفَا، نَفِي بعَهْدِهِمْ، وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر میں شرکت سے مجھے کوئی چیز مانع نہیں تھی بلکہ میں اپنے والد حسیل کے ساتھ نکلا تھا لیکن راستے میں ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا رہے ہو؟ ہم نے کہا کہ ہمارا ارادہ تو صرف مدینہ منورہ جانے کا ہے انہوں نے ہم سے یہ وعدہ اور مضبوط عہد لیا کہ ہم مدینہ جا کر لڑائی میں ان کا ساتھ نہیں دیں گے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور ساری بات بتادی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم دونوں واپس چلے جاؤ ہم ان کا وعدہ وفا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23354]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23355 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، الْحَجَّاجُ بنُ فَرَافِصَةَ ، رَجُلٌ ، حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانٍِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بنُ فَرَافِصَةَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانٍِ أَنَّهُ أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ سَمِعْتُ مُتَكَلِّمًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ، بيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ، إِلَيْكَ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ، عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ، فَأَهْلٌ أَنْ تُحْمَدَ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَمِيعَ مَا مَضَى مِنْ ذَنْبي، وَاعْصِمْنِي فِيمَا بقِيَ مِنْ عُمْرِي، وَارْزُقْنِي عَمَلًا زَاكِيًا تَرْضَى بهِ عَنِّي، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَاكَ مَلَكٌ أَتَاكَ يُعَلِّمُكَ تَحْمِيدَ رَبكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اچانک میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں تمام حکومتیں تیرے لئے ہیں ہر طرح کی خیر تیرے ہاتھ میں ہے سارے معاملات تیری ہی طرف لوٹتے ہیں خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ تو ہی اس قابل ہے کہ تیری تعریف کی جائے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے اے اللہ! مجھ سے جتنے گناہ بھی سرزد ہوئے ہیں سب کو معاف فرما دے اور زندگی کا جتناحصہ باقی بچا ہے اس میں گناہوں سے بچا لے اور ایسے نیک اعمال کی توفیق عطا فرما دے جس سے تو راضی ہوجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ ایک فرشتہ تھا جو تمہیں تمہارے رب کی حمد سکھانے کے لئے آیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23355]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لابهام الراوي عن حذيفة
الحكم: إسناده ضعيف لابهام الراوي عن حذيفة
حدیث نمبر: 23356 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبةُ ، أَبي إِسْحَاقَ ، مُسْلِمَ بنَ نُذَيْرٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بنَ نُذَيْرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعَضَلَةِ سَاقِي، أَوْ بعَضَلَةِ سَاقِهِ، قَالَ: فَقَالَ: " الْإِزَارُ هَاهُنَا فَإِنْ أَبيْتَ فَهَهُنَا، فَإِنْ أَبيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبيْنِ" ، أَوْ" لَا حَقَّ لِلْكَعْبيْنِ فِي الْإِزَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ میری یا اپنی پنڈلی کی مچھلی پکڑ کر فرمایا تہبند باندھنے کی جگہ یہاں تک ہے اگر تم نہ مانو تو اس سے کچھ نیچے لٹکالو اگر یہ بھی نہ مانو تو ٹخنوں سے نیچے تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23356]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23357 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبةُ ، الْحَكَمُ ، ابنَ أَبي لَيْلَى ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابنَ أَبي لَيْلَى ، أَنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ بالْمَدَائِنِ فَجَاءَهُ دِهْقَانُ بقَدَحٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَأَخَذَهُ فَرَمَاهُ بهِ، وَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَفْعَلْ هَذَا إِلَّا أَنِّي قَدْ نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي نَهَانِي عَنِ الشُّرْب فِي آنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ، وَالْحَرِيرِ وَالدِّيباجِ، وَقَالَ: " هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا؟ ہم نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23357]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5632، م: 2067
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5632، م: 2067
حدیث نمبر: 23358 مسند احمد
عَلَيُّ بنُ عَبدِ اللَّهِ ، مُعَاذٌ يَعْنِي ابنَ هِشَامٍ ، قَتَادَةَ ، أَبي مَعْشَرٍ ، إِبرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، هَمَّامٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَلَيُّ بنُ عَبدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابنَ هِشَامٍ ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَاب أَبي بخَطِّ يَدِهِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ , عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّ نَبيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي أُمَّتِي كَذَّابونَ وَدَجَّالُونَ سَبعَةٌ وَعِشْرُونَ، مِنْهُمْ أَرْبعُ نِسْوَةٍ، وَإِنِّي خَاتَمُ النَّبيِّينَ، لَا نَبيَّ بعْدِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت میں ستائیس کذاب اور دجال آئیں گے جن میں چار عورتیں بھی شامل ہوں گی حالانکہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23358]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23359 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيٌّ ، وَاصِلٌ الْأَحْدَب ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَب ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ بلَغَهُ عَنْ رَجُلٍ يَنُمُّ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23359]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105