مُعَاوِيَةُ بنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ حُذَيْفَةَ فَأَقْبلَ عَبدُ اللَّهِ بنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ :" إِنَّ أَشْبهَ النَّاسِ هَدْيًا وَدَلًّا برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ، فَلَا أَدْرِي مَا يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ كَعَبدِ اللَّهِ بنِ مَسْعُودٍ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَبدَ اللَّهِ مِنْ أَقْرَبهِمْ عِنْدَ اللَّهِ وَسِيلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے گھر سے نکلنے سے لے کر واپس آنے تک میں نہیں جانتا کہ وہ گھر میں کیا کرتے تھے۔ شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں کسی ایسے آدمی کا پتہ بتائیے جو طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم ان سے یہ طریقے اخذ کرسکیں اور ان کی باتیں سن سکیں انہوں نے فرمایا کہ طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے یہاں تک کہ وہ مجھ سے چھپ کر اپنے گھر میں بیٹھ گئے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محفوظ صحابہ جانتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23342]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2097
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2097