بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 225
صفحہ 9 از 12
حدیث نمبر: 23400 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَاصِمِ ، زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، لِحُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ : أَيُّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے؟ انہوں نے فرمایا صبح ہوچکی تھی لیکن سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23400]
حکم دارالسلام
رجالة ثقات لكنه قد خولف عاصم ابن بهدلة
الحكم: رجالة ثقات لكنه قد خولف عاصم ابن بهدلة
حدیث نمبر: 23401 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبةُ ، الْحَكَمِ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، قَالَ: اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ مِنْ دِهْقَانٍ أَوْ عِلْجٍ، فَأَتَاهُ بإِنَاءٍ فِضَّةٍ، فَحَذَفَهُ بهِ، ثُمَّ أَقْبلَ عَلَى الْقَوْمِ اعْتَذَرَ اعْتِذَارًا، وَقَالَ: إِنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ بهِ عَمْدًا، لِأَنِّي كُنْتُ نَهَيْتُهُ قَبلَ هَذِهِ الْمَرَّةِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ لُبسِ الدِّيباجِ وَالْحَرِيرِ، وَآنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ، وَقَالَ: " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَهُوَ لَنَا فِي الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا؟ ہم نے عرض کیا نہیں فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23401]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5633، م: 2067
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5633، م: 2067
حدیث نمبر: 23402 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبي إِسْحَاقَ ، مُسْلِمِ بنِ نُذَيْرٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بنِ نُذَيْرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعَضَلَةِ سَاقِي، فَقَالَ: " هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ، فَإِنْ أَبيْتَ فَأَسْفَلُ مِنْ ذَلِكَ، فَإِنْ أَبيْتَ، فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی پنڈلی کی مچھلی پکڑ کر فرمایا تہبند باندھنے کی جگہ یہاں تک ہے اگر تم نہ مانو تو اس سے کچھ نیچے لٹکا لو اگر یہ بھی نہ مانو تو ٹخنوں سے نیچے تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23402]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23403 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، أَبي قِلَابةَ ، أَبو مَسْعُودٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، قَالَ: قَالَ أَبو عَبدِ اللَّهِ لِأَبي مَسْعُودٍ، أَوْ قَالَ أَبو مَسْعُودٍ لِأَبي عَبدِ اللَّهِ يَعْنِي حُذَيْفَةَ : مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيَّ زَعَمُوا؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " بئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو قلابہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابو مسعود رضی اللہ عنہ میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ آپ نے " لوگ کہتے ہیں " اس جملے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ انسان کی بدترین سواری ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23403]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو قلابة لم يدرك أبا مسعود البدري
الحكم: إسناده ضعيف، أبو قلابة لم يدرك أبا مسعود البدري
حدیث نمبر: 23404 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يُونُسَ ، الْعَيْزَارِ بنِ حُرَيْثٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْعَيْزَارِ بنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: بتُّ عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَقَامَ فَصَلَّى فِي ثَوْب، طَرَفُهُ عَلَيْهِ، وَطَرَفُهُ عَلَى أَهْلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں رات گذارنے کا اتفاق ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے لحاف کا ایک کونا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر تھا اور دوسرا کونا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تھا وہ اس وقت " ایام " سے تھیں یعنی نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23404]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 23405 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا، فَأَخْبرَنَا بمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور قیامت تک پیش آنے والا کوئی واقعہ ایسا نہ چھوڑا جو اسی جگہ کھڑے کھڑے بیان نہ کردیا ہو جس نے اسے یاد رکھا سو یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23405]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2891
الحكم: إسناده صحيح، م: 2891
حدیث نمبر: 23406 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبةُ ، قَتَادَةَ ، أَبي مِجْلَزٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبي مِجْلَزٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَلَسَ وَسْطَ حَلْقَةِ قَوْمٍ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَجْلِسُ وَسْطَ الْحَلْقَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص وسط حلقہ میں بیٹھتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی معلون قرار دے دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23406]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو مجلز لم يسمع من حذيفة
الحكم: إسناده ضعيف، أبو مجلز لم يسمع من حذيفة
حدیث نمبر: 23407 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَبي إِسْحَاقَ ، صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: جَاءَ الْعَاقِب وَالسَّيِّدُ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: أَرْسِلْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَأُرْسِلُ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا أَمِينًا أَمِينًا"، قَالَ: فَجَثَا لَهَا أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّكَب، قَالَ: فَبعَثَ أَبا عُبيْدَةَ بنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران سے ایک مرتبہ عاقب اور سید نامی دو آدمی آئے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہوگا یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23407]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4381، م: 2420
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4381، م: 2420
حدیث نمبر: 23408 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبي إِسْحَاقَ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ ، لِحُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ : أَخْبرْنَا عَنْ أَقْرَب النَّاسِ سَمْتًا برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذْ عَنْه وَنَسْمَعْ مِنْهُ، فَقَالَ: " كَانَ أَشْبهُ النَّاسِ سَمْتًا وَدَلًّا وَهَدْيًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابنَ أُمِّ عَبدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں کسی ایسے آدمی کا پتہ بتائیے جو طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم ان سے یہ طریقے حاصل کریں ان سے حدیث کی سماعت کریں؟ انہوں نے فرمایا سیرت اور طور طریقوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہہ ابن مسعود تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23408]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23409 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَلِيدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ جُمَيْعٍ ، أَبي الطُّفَيْلِ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ وَلِيدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ جُمَيْعٍ ، عَنْ أَبي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَبلَغَهُ عَنِ الْمَاءِ قِلَّةٌ، فَقَالَ: " لَا يَسْبقْنِي إِلَى الْمَاءِ أَحَدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سخت گرمی کے موسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روانہ ہوئے اور لوگوں سے فرما دیا کہ پانی بہت تھوڑا ہے لہٰذا اس مقام پر مجھ سے پہلے کوئی نہ پہنچے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23409]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2779
الحكم: إسناده قوي، م: 2779
حدیث نمبر: 23410 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، إِبرَاهِيمَ بنِ مُهَاجِرٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ لَمْ يَكْذِبنِي، قَالَ: وَكَانَ إِذَا قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ لَمْ يَكْذِبنِي، رَأَيْنَا أَنَّهُ يَعْنِي حُذَيْفَةَ ، قَالَ: لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبرِيلُ بأَحْجَارِ المِرَاءِ، فَقَالَ: " إِنَّ مِنْ أُمَّتِكَ الضَّعِيفَ، فَمَنْ قَرَأَ عَلَى حَرْفٍ، فَلَا يَتَحَوَّلْ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ رَغْبةً عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ " احجارالمراء " نامی جگہ پر میری جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے کہا کہ اے جبرائیل! مجھے ایک امی امت کی طرف بھیجا گیا ہے جس میں مرد و عورت لڑکے اور لڑکیاں اور نہایت بوڑھے لوگ بھی شامل ہیں جو کچھ بھی پڑھنا نہیں جانتے تو انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23410]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهاجر ليس بذاك القوي، ولم يتابع عليه بهذا اللفظ
الحكم: إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهاجر ليس بذاك القوي، ولم يتابع عليه بهذا اللفظ
حدیث نمبر: 23411 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، زَائِدَةُ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، ابنُ أَخِي حُذَيْفَةَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي ابنُ أَخِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِأُصَلِّيَ بصَلَاتِهِ، فَافْتَتَحَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً لَيْسَتْ بالْخَفِيَّةِ، وَلَا بالرَّفِيعَةِ، قِرَاءَةً حَسَنَةً يُرَتِّلُ فِيهَا يُسْمِعُنَا، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ، فَقَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ ذِي الْجَبرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ، وَالْكِبرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ"، حَتَّى فَرَغَ إِلَى الطَّوْلِ وَعَلَيْهِ سَوَادٌ مِنَ اللَّيْلِ" ، قَالَ عَبدُ الْمَلِكِ: هُوَ تَطَوُّعُ اللَّيْلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز میں شریک ہوجاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قرأت شروع کی تو آواز پست تھی اور نہ بہت اونچی بہترین قرأت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر ہمیں آیات الہیہ سناتے رہے پھر قیام کے بقدر رکوع کیا پھر سر اٹھا کر رکوع کے بقدر کھڑے رہے اور " سمع اللہ لمن حمدہ " کہہ کر فرمایا تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو طاقت اور سلطنت والا ہے کبریائی اور عظمت والا ہے یہاں تک کہ اس طویل نماز سے فارغ ہوئے تو رات کی تاریکی کچھ ہی باقی بچی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23411]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن أخي حذيفة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن أخي حذيفة
حدیث نمبر: 23412 مسند احمد
يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٌ ، حُذَيْفَةَ ، وَوَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، حُذَيْفَةَ ، مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ . وَوَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ . وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، وَقَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ؟ قُلْتُ: أَنَا، كَمَا قَالَهُ، قَالَ: إِنَّكَ لَجَرِيءٌ عَلَيْهَا أَوْ عَلَيْهِ، قُلْتُ: " فَتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ، وَمَالِهِ، وَوَلَدِهِ، وَجَارِهِ، يُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ، وَالصَّدَقَةُ، وَالْأَمْرُ بالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ"، قَالَ: لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ، وَلَكِنْ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبحْرِ، قُلْتُ: لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بيْنَكَ وَبيْنَهَا بابا مُغْلَقًا، قَالَ: أَيُكْسَرُ أَوْ يُفْتَحُ؟ قُلْتُ: بلْ يُكْسَرُ، قَالَ: إِذًا لَا يُغْلَقُ أَبدًا، قُلْنَا: أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنْ الْباب؟ قَالَ: نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً ، قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: فَقَالَ مَسْرُوقٌ لِحُذَيْفَةَ: يَا أَبا عَبدِ اللَّهِ، كَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَا حَدَّثَهُ بهِ؟ قُلْنَا: أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنْ الْباب؟ قَالَ: نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بالْأَغَالِيطِ، فَهِبنَا حُذَيْفَةَ أَنْ نَسْأَلَهُ مَنْ الْباب، فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: الْباب عُمَرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ فتنوں سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث تم میں سے کسے یاد ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس طرح ارشاد فرمایا تھا مجھے اسی طرح یاد ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم تو بڑے بہادر ہو میں نے عرض کیا کہ اہل خانہ مال و دولت اور اولاد و پڑوسی کے متعلق انسان پر جو آزمائش آتی ہے اس کا کفارہ نماز زکوٰۃ امربالمعروف اور نہی عن المنکر سے ہوجاتا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھ رہا میں تو اس فتنے کے متعلق پوچھ رہا ہوں جو سمندر کی موجوں کی طرح پھیل جائے گا میں نے عرض کیا امیرالمؤمنین! آپ کو اس سے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ حائل ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ وہ دروازہ توڑاجائے گا یا کھولا جائے گا؟ میں نے عرض کیا کہ اسے توڑ دیا جائے گا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر وہ کبھی بند نہ ہوگا۔ ہم نے پوچھا کہ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ دروازے کو جانتے تھے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں! اسی طرح جیسے وہ جانتے تھے کہ دن کے بعد رات آتی ہے میں نے ان سے حدیث بیان کی تھی پہیلی نہیں بوجھی تھی پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا رعب ہمارے درمیان یہ پوچھنے میں حائل ہوگیا کہ وہ دروازہ " کون تھا چناچہ ہم نے مسروق سے کہا انہوں نے پوچھا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ دروازہ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23412]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 525، م: 144
الحكم: إسناده صحيح، خ: 525، م: 144
حدیث نمبر: 23413 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبةَ ، أَبو إِسْحَاقَ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ ، لِحُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبةَ ، حَدَّثَنَا أَبو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ : أَخْبرْنَا برَجُلٍ قَرِيب الْهَدْيِ وَالسَّمْتِ وَالدَّلِّ برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَأْخُذَ عَنْهُ، قَالَ: " مَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَقْرَب سَمْتًا، وَهَدْيًا، وَدَلًّا برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُوَارِيَهُ جِدَارُ بيْتِهِ مِنَ ابنِ أُمِّ عَبدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں کسی ایسے آدمی کا پتہ بتائیے جو طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم ان سے یہ طریقے حاصل کریں ان سے حدیث کی سماعت کریں؟ انہوں نے فرمایا سیرت اور طور طریقوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہہ ابن مسعود تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23413]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23414 مسند احمد
يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٌ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ فَتَنَحَّى، فَأَتَى سُباطَةَ قَوْمٍ فَتَباعَدْتُ مِنْهُ، فَأَدْنَانِي حَتَّى صِرْتُ قَرِيبا مِنْ عَقِبيْهِ، فَبالَ قَائِمًا وَدَعَا بمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کسی راستے میں تھا چلتے چلتے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پر پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا جسے تم میں سے کوئی کرتا ہے میں پیچھے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قریب ہی رہو چناچہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت کی جانب قریب ہوگیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوایا وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرما لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23414]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 224، م: 273
الحكم: إسناده صحيح، خ: 224، م: 273
حدیث نمبر: 23415 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَعَبدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٍ ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٍ , عَنْ أَبي وَائِلٍ ، قَالَ عَبدُ الرَّحْمَنِ: وَالْأَعْمَشُ، عَنْ أَبي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، وَقَالَ وَكِيعٌ: لِلتَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بالسِّوَاكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23415]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 245، م: 255
الحكم: إسناده صحيح، خ: 245، م: 255
حدیث نمبر: 23416 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يَزِيدُ بنُ إِبرَاهِيمَ ، ابنِ سِيرِينَ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ ابنِ سِيرِينَ ، قَالَ: خَرَجَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيَهُ حُذَيْفَةُ ، فَحَادَ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ:" مَا لَكَ؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنْتُ جُنُبا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان کی ملاقات مدینہ منورہ کے کسی بازار میں ہوئی وہ کھسک گئے اور غسل کر کے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن ناپاک نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23416]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 889، م: 255
الحكم: إسناده صحيح، خ: 889، م: 255
حدیث نمبر: 23417 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، وَاصِلٍ ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ ، حَمَاد ، إِبرَاهيم
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم. وعَنْ حَمَاد ، عَنْ إِبرَاهيم ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ: أَنَّهُ لَقِيَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَادَ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ جَاءَ، قَالَ:" الْمُسْلِمُ لَا يَنْجُسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان کی ملاقات مدینہ منورہ کے کسی بازار میں ہوئی وہ کھسک گئے اور غسل کر کے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن ناپاک نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23417]
حکم دارالسلام
هذا الحديث له اسنادان: الاول: صحيح، والثاني: معضل او مرسل
الحكم: هذا الحديث له اسنادان: الاول: صحيح، والثاني: معضل او مرسل
حدیث نمبر: 23418 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابنِ أَبي لَيْلَى ، هِلَالٌ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ: هِلَالٌ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: وَسَأَلْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى عَنْ مَسْحِ الْحَصَى، فَقَالَ: " وَاحِدَةً أَوْ دَعْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہر چیز کے متعلق سوال پوچھا ہے حتیٰ کہ کنکریوں کو دوران نماز برابر کرنے کا مسئلہ بھی پوچھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اسے برابر کرلو ورنہ چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23418]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لكن من حديث أبى ذر الغفاري، فقد اختلف على محمد بن عبدالرحمن فيه، وهو سيئ الحفظ، وهلال مولي لربعي بن حراش مجهول
الحكم: حديث صحيح لكن من حديث أبى ذر الغفاري، فقد اختلف على محمد بن عبدالرحمن فيه، وهو سيئ الحفظ، وهلال مولي لربعي بن حراش مجهول
حدیث نمبر: 23419 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، مَوْلًى لِرِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِرِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنِّي لَسْتُ أَدْرِي مَا قَدْرُ بقَائِي فِيكُمْ، فَاقْتَدُوا باللَّذَيْنِ مِنْ بعْدِي , وَأَشَارَ إِلَى أَبي بكْرٍ، وَعُمَرَ، قَالَ: وَمَا حَدَّثَكُمْ ابنُ مَسْعُودٍ فَصَدِّقُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کتنا عرصہ رہوں گا اس لئے ان دو آدمیوں کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اور عمار کے طریقے کو مضبوطی سے تھامو اور ابن مسعود تم سے جو بات بیان کریں اس کی تصدیق کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23419]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مولى لربعي بن حراش
الحكم: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مولى لربعي بن حراش