بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 225
صفحہ 11 از 12
حدیث نمبر: 23440 مسند احمد
يَزِيدُ ، أَبو مَالِكٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا أَبو مَالِكٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ يَسْأَلُ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ؟ قَالُوا: نَحْنُ سَمِعْنَاهُ، قَالَ: لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ؟ قَالُوا: أَجَلْ، قَالَ: لَسْتُ عَنْ تِلْكَ أَسْأَلُ، تِلْكَ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ، وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبحْرِ؟ قَالَ: فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ إِيَّايَ يُرِيدُ، قَالَ: قُلْتُ: أَنَا ذَاكَ، قَالَ: أَنْتَ لِلَّهِ أَبوكَ! قَالَ: قُلْتُ: " تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوب عَرْضَ الْحَصِيرِ، فَأَيُّ قَلْب أَنْكَرَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ بيْضَاءُ، وَأَيُّ قَلْب أَبشَرَ بهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، حَتَّى تَصِيرَ الْقُلُوب عَلَى قَلْبيْنِ أَبيَضُ مِثْلُ الصَّفَا، لَا يَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتْ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَالْآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبدٌّ كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا وَأَمَالَ كَفَّهُ لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أُشْرِب مِنْ هَوَاهُ"، وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ بيْنَهُ وَبيْنَهَا بابا مُغْلَقًا، يُوشِكُ أَنْ يُكْسَرَ كَسْرًا، قَالَ عُمَرُ: كَسْرًا لَا أَبا لَكَ! قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَوْ أَنَّهُ فُتِحَ كَانَ لَعَلَّهُ أَنْ يُعَادَ فَيُغْلَقَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا بلْ كَسْرًا، قَالَ: وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ ذَلِكَ الْباب رَجُلٌ يُقْتَلُ أَوْ يَمُوتُ، حَدِيثًا لَيْسَ بالْأَغَالِيطِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے آئے ان کا کہنا ہے کل گذشتہ جب ہم ان کے پاس بیٹھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سے کس نے فتنوں کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد سنا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ ہم سب ہی نے سنا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا شاید تم وہ فتنہ سمجھ رہے ہو جو آدمی کے اہل خانہ اور مال سے متعلق ہوتا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم سے اس کے متعلق نہیں پوچھ رہا اس کا کفارہ تو نماز روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں ان فتنوں کے بارے تم میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد سنا ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح پھیل جائیں گے؟ اس پر لوگ خاموش ہوگئے اور میں سمجھ گیا کہ اس کا جواب وہ مجھ سے معلوم کرنا چاہتے ہیں چناچہ میں نے عرض کیا کہ میں نے وہ ارشاد سنا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا یقینا تم نے ہی سنا ہوگا میں نے عرض کیا کہ دلوں کے سامنے فتنوں کو اس طرح پیش کیا جائے گا جیسے چٹائی کو پیش کیا جائے جو دل ان سے نامانوس ہوگا اس پر ایک سفید نقطہ پڑجائے گا اور جو دل اس کی طرف مائل ہوجائے گا اس پر ایک کالا دھبہ پڑجائے گا حتیٰ کہ دلوں کی دو صورتیں ہوجائیں گی ایک تو ایسا سفید جیسے چاندی اسے کوئی فتنہ " جب تک آسمان و زمین رہیں گے " نقصان نہ پہنچا سکے گا اور دوسرا ایسا کالا سیاہ جیسے کوئی شخص کٹورے کو اوندھا دے اور ہتھیلی پھیلا دے ایسا شخص کسی نیکی کو نیکی اور کسی گناہ کو گناہ نہیں سمجھے گا سوائے اسی چیز کے جس کی طرف اس کی خواہش کا میلان ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23440]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1435، م: 144
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1435، م: 144
حدیث نمبر: 23441 مسند احمد
يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، أَبو مَالِكٍ ، رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، أَخْبرَنَا أَبو مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَعْرُوفُ كُلُّهُ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ آخِرَ مَا تَعَلَّقَ بهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ كَلَامِ النُّبوَّةِ: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔ اور لوگوں کو پہلے امر نبوت میں سے جو کچھ حاصل ہوا ہے اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب تم حیاء نہ کرو تو جو چاہے کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23441]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1005
الحكم: إسناده صحيح، م: 1005
حدیث نمبر: 23442 مسند احمد
يَزِيدُ ، شَرِيكُ بنُ عَبدِ اللَّهِ ، عَاصِمِ بنِ أَبي النَّجُودِ ، زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، لِحُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا شَرِيكُ بنُ عَبدِ اللَّهِ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ أَبي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، قَالَ: قُلْتُ يَعْنِي لِحُذَيْفَةَ : يَا أَبا عَبدِ اللَّهِ، تَسَحَّرْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَكَانَ الرَّجُلُ يُبصِرُ مَوَاقِعَ نَبلِهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کس وقت سحری کھائی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے ان سے پوچھا کیا اس وقت آدمی اپنا تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اس وقت تو دن ہوتا تھا البتہ سورج طلوع نہیں ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23442]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك، وقد توبع، وعاصم بن أبى النجود خولف
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك، وقد توبع، وعاصم بن أبى النجود خولف
حدیث نمبر: 23443 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بنِ بهْدَلَةَ ، زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ: " أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَالْحَاشِرُ، وَالْمُقَفَّى، وَنَبيُّ الرَّحْمَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدینہ منورہ کی ایک گلی میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں محمد ہوں ' احمد ہوں ' حاشر ' مقفی اور نبی الرحمۃ ہوں۔ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23443]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23444 مسند احمد
عَمْرُو بنُ عَاصِمٍ ، حَمَّادِ بنِ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بنِ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، جُنْدُب ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حَمَّادِ بنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ جُنْدُب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَنْبغِي لِمُسْلِمٍ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ"، قِيلَ: وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ؟ قَالَ:" يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کے لئے اپنے آپ کو ذلیل کرنا جائز نہیں ہے کسی نے پوچھا کہ اپنے آپ کو ذلیل سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو ایسی آزمائشوں کے لئے پیش کرے جن کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23444]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل على بن زيد، وقد خولف، والحسن البصري مدلس وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف من أجل على بن زيد، وقد خولف، والحسن البصري مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 23445 مسند احمد
أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، أَبو بكْرٍ ، عَاصِمٍ ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبو بكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ : بيْنَمَا أَنَا أَمْشِي فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَنَبيُّ الرَّحْمَةِ، وَنَبيُّ التَّوْبةِ، وَالْحَاشِرُ، وَالْمُقَفَّى، وَنَبيُّ الْمَلَاحِمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدینہ منورہ کی ایک گلی میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں محمد ہوں، احمد ہوں، حاشر، مقفی اور نبی الرحمۃ ہوں۔ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23445]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا الإسناد قد اختلف فيه على أبى بكر بن عياش
الحكم: صحيح لغيره، وهذا الإسناد قد اختلف فيه على أبى بكر بن عياش
حدیث نمبر: 23446 مسند احمد
أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، الْحَكَمِ بنِ عُتَيْبةَ ، الْمُغِيرَةُ بنُ حَذْفٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، أَخْبرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْحَكَمِ بنِ عُتَيْبةَ ، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بنُ حَذْفٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَشْرَكَ بيْنَ الْمُسْلِمِينَ الْبقَرَةَ عَنْ سَبعَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سات مسلمانوں کو ایک گائے میں شریک کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23446]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 23447 مسند احمد
عَبدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّ جِبرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حِجَارَةِ الْمِرَاءِ، فَقَالَ:" يَا جِبرِيلُ، إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ: إِلَى الشَّيْخِ، وَالْعَجُوزِ، وَالْغُلَامِ، وَالْجَارِيَةِ، وَالشَّيْخِ الَّذِي لَمْ يَقْرَأْ كِتَابا قَطُّ، فَقَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبعَةِ أَحْرُفٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ " احجارالمراء " نامی جگہ پر میری جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے کہا کہ اے جبرائیل! مجھے ایک امی امت کی طرف بھیجا گیا ہے جس میں مرد و عورت لڑکے اور لڑکیاں اور نہایت بوڑھے لوگ بھی شامل ہیں جو کچھ بھی پڑھنا نہیں جانتے تو انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23447]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23448 مسند احمد
عَبدُ الصَّمَدِ ، عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ مُسْلِمٍ ، يَحْيَى بنُ عَبدِ اللَّهِ الْجَابرُ ، حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ عَبدِ اللَّهِ الْجَابرُ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عِيسَى مَوْلًى لِحُذَيْفَةَ بالْمَدَائِنِ عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: مَا وَهِمْتُ وَلَا نَسِيتُ، وَلَكِنْ كَبرْتُ كَمَا كَبرَ مَوْلَايَ وَوَلِيُّ نِعْمَتِي حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ ، صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَكَبرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: مَا نَسِيتُ وَلَا وَهِمْتُ، وَلَكِنْ كَبرْتُ كَمَا" كَبرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبرَ خَمْسًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے شہر مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عیسیٰ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہیں پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں بھولا ہوں اور نہ ہی مجھے وہم ہوا ہے میں نے اسی طرح تکبیریں کہی ہیں جیسے میرے آقا اور ولی نعمت حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23448]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يحيي بن عبدالله مختلف فيه، ولم يتابع على حديثه هذا، وعيسي موئي حذيفة ضعيف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يحيي بن عبدالله مختلف فيه، ولم يتابع على حديثه هذا، وعيسي موئي حذيفة ضعيف
حدیث نمبر: 23449 مسند احمد
عَبدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، عَلِيُّ بنُ زَيْدٍ ، الْيَشْكُرِيِّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبلَهُ شَرٌّ؟ قَالَ:" يَا حُذَيْفَةُ، اقْرَأْ كِتَاب اللَّهِ وَاعْمَلْ بمَا فِيهِ"، فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ إِنْ كَانَ خَيْرًا اتَّبعْتُهُ، وَإِنْ كَانَ شَرًّا اجْتَنَبتُهُ، فَقُلْتُ: هَلْ بعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ عَمَّاءُ صَمَّاءُ، وَدُعَاةُ ضَلَالَةٍ عَلَى أَبوَاب جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابهُمْ قَذَفُوهُ فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حذیفہ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو (تین مرتبہ فرمایا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فتنہ اور شر ہوگا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پر وی کرو میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دھوئیں پر صلح قائم ہوگی اور گندگی پر اتفاق ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دھوئیں پر صلح قائم ہونے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ اس صلح پر دل سے راضی نہیں ہوں گے۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے جو شخص ان کی دعوت کو قبول کرلے گا وہ اسے جہنم میں گرا دیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23449]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل على بن زيد، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل على بن زيد، وقد توبع
حدیث نمبر: 23450 مسند احمد
عَبدُ الصَّمَدِ ، مَهْدِيٍّ ، وَاصِلٍ ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، عَنْ مَهْدِيٍّ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ بلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا يَنُمُّ الْحَدِيثَ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23450]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
حدیث نمبر: 23451 مسند احمد
وَهْب بنُ جَرِيرٍ ، أَبي ، عَاصِمًا ، زِرٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَهْب بنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبي ، قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمًا ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " إِنَّ حَوْضَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَرَابهُ أَشَدُّ بيَاضًا مِنَ اللَّبنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَبرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَب رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ، وَإِنَّ آنِيَتَهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کے برتن آسمانوں کے ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ مہک والا ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23451]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23452 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ بكْرٍ ، كَثِيرُ بنُ أَبي كَثِيرٍ ، رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ بكْرٍ ، أَخْبرَنَا كَثِيرُ بنُ أَبي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ أَتَاهُ بالْمَدَائِنِ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: مَا فَعَلَ قَوْمُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: عَنْ أَيِّ بالِهِمْ تَسْأَلُ؟ قَالَ: مَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ يَعْنِي عُثْمَانَ؟ قَالَ: قُلْتُ: فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ، وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا وَجْهَ لَهُ عِنْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ربعی بن حراش (رح) کہتے ہیں کہ جس دور میں فتنہ پرور لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑے تھے مدائن میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا انہوں نے مجھ سے پوچھا اے ربعی! تمہاری قوم کا کیا بنا؟ میں نے پوچھا کہ آپ ان کے متعلق کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف کون کون روانہ ہوئے ہیں؟ میں نے انہیں ان میں سے چند لوگوں کے نام بتا دیئے وہ کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جماعت کو چھوڑ دیتا ہے اور اپنے امیر کو ذلیل کرتا ہے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہاں اس کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23452]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23453 مسند احمد
يَحْيَى بنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، الْحَكَمُ بنُ عُتَيْبةَ ، الْمُغِيرَةِ بنِ حَذْفٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بنُ عُتَيْبةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بنِ حَذْفٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " شَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ بيْنَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْبقَرَةِ عَنْ سَبعَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سات مسلمانوں کو ایک گائے میں شریک کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23453]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 23454 مسند احمد
يَحْيَى بنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبي إِسْحَاقَ ، سُلَيْمِ بنِ عَبدٍ السَّلُولِيِّ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمِ بنِ عَبدٍ السَّلُولِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعْيدِ بنِ الْعَاصِ بطَبرِسْتَانَ، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا، " فَأْمُرْ أَصْحَابكَ يَقُومُونَ طَائِفَتَيْنِ، طَائِفَةٌ خَلْفَكَ، وَطَائِفَةٌ بإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَتُكَبرُ وَيُكَبرُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْكَعُ فَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَيَرْفَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ وَيَسْجُدُ مَعَكَ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَالطَّائِفَةُ الَّتِي بإِزَاءِ الْعَدُوِّ قِيَامٌ بإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ يَسْجُدُونَ، ثُمَّ يَتَأَخَّرُ هَؤُلَاءِ وَيَتَقَدَّمُ الْآخَرُونَ، فَقَامُوا فِي مَصَافِّهِمْ، فَتَرْكَعُ فَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى قَائِمَةٌ بإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ سَجَدُوا، ثُمَّ سَلَّمْتَ وَسَلَّمَ بعْضُهُمْ عَلَى بعْضٍ، وَتَأْمُرُ أَصْحَابكَ إِنْ هَاجَهُمْ هَيْجٌ مِنَ الْعَدُوِّ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ الْقِتَالُ وَالْكَلَامُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سلیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان میں تھے ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ بھی تھے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھنے کا طریقہ آپ لوگوں میں سے کسے یاد ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے یاد ہے تم اپنے ساتھیوں کو دو گرہوں میں کھڑے ہونے کا حکم دو، جن میں سے ایک تمہارے پیچھے کھڑا ہو اور ایک دشمن کے سامنے پھر تم تکبیر کہو اور وہ سب بھی تکبیر کہیں پھر تم رکوع کرو وہ سب بھی رکوع کریں پھر تم سر اٹھاؤ اور وہ سب بھی سر اٹھائیں، پھر تم سجدہ کرو اور تمہارے قریب والی صف بھی سجدہ کرے اور دشمن کے سامنے والی صف کے لوگ کھڑے رہیں جب تم سجدے سے سر اٹھا لو تو وہ بھی سجدہ کرلیں پھر پہلی صف والے پیچھے اور پیچھے والے آگے آجائیں اور ان کی جگہ کھڑے ہوجائیں اور دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح پڑھ کر سب سلام پھیر دیں اور اپنے ساتھیوں سے کہہ دو کہ اگر دشمن نماز کے دوران حملہ کر دے تو ان کے لئے قتال اور بات چیت حلال ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23454]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال سليم بن عبد السلولي، وسلف الحديث من طريق أخرى صحيحة عن حذيفة بغير هذا السياق
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال سليم بن عبد السلولي، وسلف الحديث من طريق أخرى صحيحة عن حذيفة بغير هذا السياق
حدیث نمبر: 23455 مسند احمد
يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَبيب بنُ سُلَيْمٍ الْعَبسِيُّ ، بلَالٍ الْعَبسِيِّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَبيب بنُ سُلَيْمٍ الْعَبسِيُّ ، عَنْ بلَالٍ الْعَبسِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَاتَ لَهُ مَيِّتٌ قَالَ: لَا تُؤْذِنُوا بهِ أَحَدًا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی مرگ ہوجاتی تو وہ کہتے کہ کسی کو اس کی اطلاع نہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ " نعی " میں شمار نہ ہو جس سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو منع فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23455]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، بلال العبسي لم يسمع من حذيفة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، بلال العبسي لم يسمع من حذيفة
حدیث نمبر: 23456 مسند احمد
أَبو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، عُمَرَ بنِ مُحَمَّدٍ ، عُمَرَ ، رَجُلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَرَ بنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسًا، وَمَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّذِينَ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ، فَمَنْ مَرِضَ مِنْهُمْ، فَلَا تَعُودُوهُ، وَمَنْ مَاتَ مِنْهُمْ، فَلَا تَشْهَدُوهُ، وَهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ، حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُلْحِقَهُمْ بهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر امت کے مجوسی ہوتے ہیں اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہوں گے جو یہ کہتے ہوں گے کہ تقدیر کچھ نہیں ہے سوائے ایسے لوگوں میں اگر کوئی شخص بیمار ہوجائے تو تم اس کی بیمار پرسی نہ کرو کوئی مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک نہ ہو اور یہ دجال کا گروہ ہے اللہ پر حق ہے کہ انہیں دجال کے ساتھ ملا دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23456]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عمر مولي غفرة ضعيف، وقد أضطرب فى إسناده، وفيه رجل مبهم
الحكم: إسناده ضعيف، عمر مولي غفرة ضعيف، وقد أضطرب فى إسناده، وفيه رجل مبهم
حدیث نمبر: 23457 مسند احمد
مُوسَى بنُ دَاوُدَ ، مُحَمَّدُ بنُ جَابرٍ ، عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، أَبي الْبخْتَرِيِّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَابرٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبي الْبخْتَرِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبرِ، قَعَدَ عَلَى شَفَتِهِ، فَجَعَلَ يَرُدُّ بصَرَهُ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " يُضْغَطُ الْمُؤْمِنُ فِيهِ ضَغْطَةً تَزُولُ مِنْهَا حَمَائِلُهُ، وَيُمْلَأُ عَلَى الْكَافِرِ نَارًا . ثُمَّ ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبرُكُمْ بشَرِّ عِبادِ اللَّهِ؟ الْفَظُّ الْمُسْتَكْبرُ، أَلَا أُخْبرُكُمْ بخَيْرِ عِبادِ اللَّهِ؟ الضَّعِيفُ الْمُسْتَضْعَفُ ذُو الطِّمْرَيْنِ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبرَّ اللَّهُ قَسَمَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کسی جنازے میں تھے جب ہم قبر کے قریب پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے کنارے بیٹھ کر بار بار اس میں دیکھنے لگے پھر فرمایا کہ مسلمان کو قبر میں ایک مرتبہ بھینچا جاتا ہے جس سے اس کے سارے بوجھ دور ہوجاتے ہیں اور کافر پر آگ کو بھر دیا جاتا ہے پھر فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اللہ کا بدترین بندہ کون ہے؟ ہر تندخو اور متکبر۔ کیا میں تمہیں اللہ کے بہترین بندوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ کمزور آدمی جسے دبایا جاتا ہو، پرانی چادروں والا ہو، لیکن ہو ایسا کہ اگر اللہ کے نام پر کسی کام کی قسم کھالے تو وہ اللہ اس کی قسم کو ضرور پورا کر دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23457]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف محمد بن جابر ، ولانقطاعه ، فإن أبا البختري لم يدرك حذيفة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن جابر ، ولانقطاعه ، فإن أبا البختري لم يدرك حذيفة
حدیث نمبر: 23458 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، حُصَيْنٍ ، أَبا وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا وَائِلٍ يُحَدِّثُ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ إِلَى التَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بالسِّوَاكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23458]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 245، م: 255
الحكم: إسناده صحيح، خ: 245، م: 255
حدیث نمبر: 23459 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ: " باسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا"، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23459]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6312
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6312