بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 225
صفحہ 12 از 12
حدیث نمبر: 23460 مسند احمد
أَبو الْيَمَانِ ، شُعَيْب ، الزُّهْرِيِّ ، أَبو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بنُ عَبدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ، حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانٍِ
حَدَّثَنَا أَبو الْيَمَانِ ، قَالَ: وَأَخبرنَا شُعَيْب ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ أَبو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بنُ عَبدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانٍِ ، يَقُولُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ بكُلِّ فِتْنَةٍ وَهِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ، وَمَا بي أَنْ يَكُونَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَّ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يُحَدِّثْ غَيْرِي بهِ، وَلَكِنْ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِمْ عَنِ الْفِتَنِ، قَالَ وَهُوَ يَعُدُّهَا: " مِنْهُنَّ ثَلَاثٌ لَا يَكَدْنَ يَذَرْنَ شَيْئًا، وَمِنْهُنَّ فِتَنٌ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ، مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا كِبارٌ" ، قَالَ حُذَيْفَةُ: فَذَهَب أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا! میں اب سے لے کر قیامت تک ہونے والے تمام فتنوں کے متعلق تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں ایسا تو نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ کوئی بات مجھے بتائی ہو جو میرے علاوہ کسی اور کو نہ بتائی ہو البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس مجلس میں یہ باتیں بیان فرمائی تھیں میں اس میں موجود تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فتنوں کے متعلق سوالات پوچھے جا رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں شمار کروا رہے تھے ان میں تین فتنے ایسے ہیں جو کسی چیز کو نہیں چھوڑیں گے ان میں سے کچھ گرمیوں کی ہواؤں جیسے ہوں گے کچھ چھوٹے ہوں گے اور کچھ بڑے حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ اس مجلس کے تمام شرکاء دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23460]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2891
الحكم: إسناده صحيح، م: 2891
حدیث نمبر: 23461 مسند احمد
عُبيْدَةُ بنُ حُمَيْدٍ ، مَنْصُورٌ ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عُبيْدَةُ بنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بالسِّوَاكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23461]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 245، م: 255
الحكم: إسناده صحيح، خ: 245، م: 255
حدیث نمبر: 23462 مسند احمد
مُصْعَب بنُ سَلَّامٍ ، الْأَجْلَحُ ، قَيْسِ بنِ أَبي مُسْلِمٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُصْعَب بنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ قَيْسِ بنِ أَبي مُسْلِمٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ يَقُولُ: ضَرَب لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْثَالًا وَاحِدًا وَثَلَاثَةً وَخَمْسَةً وَسَبعَةً وَتِسْعَةً وَأَحَدَ عَشَرَ، قَالَ: فَضَرَب لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا مَثَلًا وَتَرَكَ سَائِرَهَا، قَالَ: " إِنَّ قَوْمًا كَانُوا أَهْلَ ضَعْفٍ وَمَسْكَنَةٍ قَاتَلَهُمْ أَهْلُ تَجَبرٍ وَعَدَاءٍ، فَأَظْهَرَ اللَّهُ أَهْلَ الضَّعْفِ عَلَيْهِمْ، فَعَمَدُوا إِلَى عَدُوِّهِمْ فَاسْتَعْمَلُوهُمْ وَسَلَّطُوهُمْ، فَأَسْخَطُوا اللَّهَ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک، تین، پانچ، سات، نو اور گیارہ ضرب الامثال بیان فرمائی ہیں، جن میں سے کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت بیان فرما دیں اور باقی چھوڑ دیں اور فرمایا کہ ایک قوم تھی جس کے لوگ کمزور اور مسکین تھے ان سے ایک طاقتور اور کثیر تعداد والی قوم نے قتال کیا تو اللہ نے ان کمزوروں کو غلبہ عطا فرما دیا اور وہ لوگ اپنے دشمن کی طرف بڑھے ان پر اپنے حکمران مقرر کئے اور ان پر تسلط جمایا اور ان پر اللہ کی ناراضگی کا سبب بن گئے تاآنکہ وہ اللہ سے جاملے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23462]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، مصعب بن سلام ضعيف يعتبر به، وقد توبع، والأجلح ضعيف، وقيس بن أبى مسلم مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، مصعب بن سلام ضعيف يعتبر به، وقد توبع، والأجلح ضعيف، وقيس بن أبى مسلم مجهول
حدیث نمبر: 23463 مسند احمد
مُصْعَب بنُ سَلَّامٍ ، الْأَجْلَحُ ، نُعَيْمِ بنِ أَبي هِنْدٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَبي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُصْعَب بنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ نُعَيْمِ بنِ أَبي هِنْدٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ وَإِلَى أَبي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: حَدِّثْ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا، بلْ حَدِّثْ أَنْتَ، فَحَدَّثَ أَحَدُهُمَا صَاحِبهُ، وَصَدَّقَهُ الْآخَرُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُؤْتَى برَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ اللَّهُ: انْظُرُوا فِي عَمَلِهِ، فَيَقُولُ: رَب مَا كُنْتُ أَعْمَلُ خَيْرًا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لِي مَالٌ وَكُنْتُ أُخَالِطُ النَّاسَ، فَمَنْ كَانَ مُوسِرًا يَسَّرْتُ عَلَيْهِ، وَمَنْ كَانَ مُعْسِرًا أَنْظَرْتُهُ إِلَى مَيْسَرَةٍ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا أَحَقُّ مَنْ يَسَّرَ، فَغَفَرَ لَهُ"، فَقَالَ: صَدَقْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا . ثُمَّ قَالَ: ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ برَجُلٍ قَدْ قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ، فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اطْحَنُونِي، ثُمَّ اسْتَقْبلُوا بي رِيحًا عَاصِفًا، فَاذْرُونِي، فَيَجْمَعُهُ اللَّهُ تَبارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ لَهُ: لِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ، قَالَ: فَيَغْفِرُ لَهُ"، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو حدیثیں سن رکھی ہیں وہ ہمیں بھی سنائیے چناچہ ان میں سے ایک نے یہ حدیث سنائی اور دوسرے نے ان کی تصدیق کی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کے اعمال دیکھو وہ کہے گا کہ پروردگار! میں کوئی نیک کام نہیں کرتا تھا البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرے پاس مال تھا اور میں لوگوں سے مل کر تجارت کرتا تھا جس کے پاس کشادگی ہوتی میں اس پر آسانی کردیتا اور جو تنگدست ہوتا میں اسے سہولت تک مہلت دے دیتا تھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا سہولت دینے کا میں زیادہ حق دار ہوں چناچہ اس کی بخشش ہوگئی دوسرے صحابی نے ان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔ پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا جس نے مرتے وقت اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا پھر میری راکھ کو پیس لینا پھر جس دن تیز آندھی چل رہی ہو اس دن میری راکھ کو ہوا میں بکھیر دیناجب وہ مرگیا تو اس کے اہل خانہ نے اسی طرح کیا اللہ نے اسے اپنے قبضہ قدرت میں جمع کرلیا اور اس سے پوچھا کہ تجھے یہ کام کرنے پر کس نے مجبور کیا؟ اس نے کہا تیرے خوف نے اللہ نے فرمایا میں نے تجھے معاف کردیا، دوسرے صحابی نے اس پر بھی ان کی تائید کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23463]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3452، م: 1560، وهذا إسناد حسن فى المتابعات من أجل مصعب والأجلح
الحكم: حديث صحيح، خ: 3452، م: 1560، وهذا إسناد حسن فى المتابعات من أجل مصعب والأجلح
حدیث نمبر: 23464 مسند احمد
عَلِيُّ بنُ عَاصِمٍ ، يَزِيدُ بنُ أَبى زِيَادٍ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ أَبى زِيَادٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ بالْمَدَائِنِ، فَاسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بإِنَاءٍ، فَرَمَاهُ بهِ مَا يَأْلُو أَنْ يُصِيب بهِ وَجْهَهُ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي تَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، لَمْ أَفْعَلْ به هَذَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَشْرَب فِي آنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ، وَأَنْ نَلْبسَ الْحَرِيرَ وَالدِّيباجَ، قَالَ: " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ" ، هَذَا آخِرُ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا؟ ہم نے عرض کیا نہیں فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23464]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5632، م: 2067، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم ويزيد بن أبى زياد، وقد توبعا
الحكم: حديث صحيح، خ: 5632، م: 2067، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم ويزيد بن أبى زياد، وقد توبعا