بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 225
صفحہ 2 از 12
حدیث نمبر: 23260 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، حُمَيْدِ بنِ هِلَالٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ هِلَالٍ ، أَوْ عَنْ غَيْرِهِ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ يَكْذِبونَ وَيَظْلِمُونَ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بكَذِبهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنَّا وَلَسْتُ مِنْهُمْ، وَلَا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بكَذِبهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد کچھ ایسے امراء بھی آئیں گے جو دروغ بیانی سے کام لیں گے اور ظلم کریں گے سو جو آدمی ان کے پاس جا کر ان کے جھوٹ کو سچ قرار دے گا اور ظلم پر ان کی مدد کرے گا اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ میرے پاس حوض کوثر پر بھی نہیں آسکے گا اور جو شخص نہ ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور نہ ظلم پر ان کی مدد کرے تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے پاس حوض کوثر پر بھی آئے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23260]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23261 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، مُسْتَوْرِدِ بنِ أَحْنَفَ ، صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنْ مُسْتَوْرِدِ بنِ أَحْنَفَ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَافْتَتَحَ، فَقَرَأَ حَتَّى بلَغَ رَأْسَ الْمِائَةِ، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى بلَغَ الْمِائَتَيْنِ، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى خَتَمَهَا، قَالَ: فَقُلْتُ: يَرْكَعُ، قَالَ: ثُمَّ افْتَتَحَ سُورَةَ عِمْرَانَ خَتَمَهَاَ، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ، قَالَ: ثُمَّ افْتَتَحَ سُورَةَ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ، قَالَ: فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ:" سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ"، قَالَ: وَكَانَ رُكُوعُهُ بمَنْزِلَةِ قِيَامِهِ، ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ سُجُودُهُ مِثْلَ رُكُوعِهِ، وَقَالَ فِي سُجُودِهِ:" سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى"، قَالَ: وَكَانَ إِذَا مَرَّ بآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بآيَةٍ فِيهَا عَذَاب، تَعَوَّذَ، وَإِذَا مَرَّ بآيَةٍ فِيهَا تَنْزِيهٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، سَبحَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کردی جب سو آیات پر پہنچے تو میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ دو سو آیات تک پہنچ گئے میں نے سوچا کہ شاید اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ اسے ختم کرلیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت نساء شروع کرلی اور اسے پڑھ کر رکوع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23261]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 772
الحكم: إسناده صحيح، م: 772
حدیث نمبر: 23262 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بنُ إِبرَاهِيمَ ، لَيْثٍ ، بلَالٍ ، شُتَيْرِ بنِ شَكَلٍ ، صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، سُلَيْكِ بنِ مِسْحَل الغَطَفانِي ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ بلَالٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بنِ شَكَلٍ ، وَعَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، وَعَنْ سُلَيْكِ بنِ مِسْحَل الغَطَفانِي ، قَالُوا: خَرَجَ عَلَيْنَا حُذَيْفَةُ وَنَحْنُ نَتَحَدَّثُ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ لَتَكَلَّمُونَ كَلَامًا إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّفَاقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
متعدد تابعین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم باتیں کر رہے تھے اور فرمانے لگے کہ تم لوگ ایسی باتیں کر رہے ہو جنہیں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں " نفاق '' شمار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23262]
حکم دارالسلام
أثر حسن، وهذا إسناد ضعيف، ليث ضعيف
الحكم: أثر حسن، وهذا إسناد ضعيف، ليث ضعيف
حدیث نمبر: 23263 مسند احمد
يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، شُعْبةَ ، قَتَادَةُ ، أَبي مِجْلَزٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبي مِجْلَزٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ فِي الَّذِي يَقْعُدُ فِي وَسْطِ الْحَلْقَةِ، قَالَ: " مَلْعُونٌ" عَلَى لِسَانِ النَّبيِّ أَوْ لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص وسط حلقہ میں بیٹھتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی معلون قرار دے دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23263]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو مجلز لم يدرك حذيفة
الحكم: إسناده ضعيف، أبو مجلز لم يدرك حذيفة
حدیث نمبر: 23264 مسند احمد
يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، مِسْعَرٍ ، وَاصِلٌ ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنِي وَاصِلٌ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فِي بعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي جُنُب، قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان کی ملاقات مدینہ منورہ کے کسی بازار میں ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی طرف مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا تو میں نے عرض کیا کہ میں اختیاری طور پر ناپاک ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن ناپاک نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23264]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23265 مسند احمد
يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، شُعْبةَ ، مَنْصُورٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ عن النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ، قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہا کرو جو اللہ نے چاہا اور جو فلاں نے چاہا " بلکہ یوں کہا کرو " جو اللہ نے چاہا اس کے بعد فلاں نے چاہا " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23265]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عبدالله بن يسار لم يلق حذيفة، وقد اختلف فيه عليه أيضا
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عبدالله بن يسار لم يلق حذيفة، وقد اختلف فيه عليه أيضا
حدیث نمبر: 23266 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، يُوسُفُ يَعْنِي ابنَ صُهَيْب ، مُوسَى بنِ أَبي الْمُخْتَارِ ، بلَالٍ الْعَبسِيِّ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ يَعْنِي ابنَ صُهَيْب ، عَنْ مُوسَى بنِ أَبي الْمُخْتَارِ ، عَنْ بلَالٍ الْعَبسِيِّ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ : " مَا أَخْبيَةٌ بعْدَ أَخْبيَةٍ كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ببدْرٍ يُدْفَعُ عَنْهُمْ، مَا يُدْفَعُ عَنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَخْبيَةِ، وَلَا يُرِيدُ بهِمْ قَوْمٌ سُوءًا إِلَّا أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ عَنْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان خیموں کے بعد کوئی خیمے نہ رہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بدر میں تھے اور جس طرح ان کا دفاع ہوا کسی اور کا دفاع نہ ہوسکا اور جب بھی کوئی قوم ان کے ساتھ برا ارادہ کرتی تو کوئی نہ کوئی چیز انہیں اپنی طرف مشغول کرلیتی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23266]
حکم دارالسلام
أثر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة موسي بن أبى المختار، وقد توبع، وفي سماع بلال العبسي من حذيفة كلام
الحكم: أثر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة موسي بن أبى المختار، وقد توبع، وفي سماع بلال العبسي من حذيفة كلام
حدیث نمبر: 23267 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبي بكْرِ بنِ أَبي الْجَهْمِ ، عُبيْدِ اللَّهِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُتْبةَ ، ابنِ عَباسٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ أَبي الْجَهْمِ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُتْبةَ ، عَنِ ابنِ عَباسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بذِي قَرَدٍ أَرْضٍ مِنْ أَرْضِ بنِي سُلَيْمٍ، فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، صَفًّا يُوَازِي الْعَدُوَّ، وَصَفًّا خَلْفَهُ، فَصَلَّى بالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً، ثُمَّ نَكَصَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، وَهَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، فَصَلَّى بهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقے میں جس کا نام "" ذی قرد "" تھا نماز خوف پڑھائی لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنالیں ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23267]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23268 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَشْعَثَ بنِ أَبي الشَّعْثَاءِ ، الْأَسْوَدِ بنِ هِلَالٍ ، ثَعْلَبةَ بنِ زَهْدَمٍ الْحَنْظَلِيِّ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ بنِ أَبي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بنِ هِلَالٍ ، عَنْ ثَعْلَبةَ بنِ زَهْدَمٍ الْحَنْظَلِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بنِ الْعَاصِ، بطَبرِسْتَانَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا، فَقَالَ سُفْيَانُ: فَوَصَفَ مِثْلَ حَدِيثِ ابنِ عَباسٍ، وَزَيْدِ بنِ ثَابتٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ طبرستان میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ صلوۃ الخوف کس نے پڑھی ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے پھر انہوں نے بعینہ وہی طریقہ بیان کیا جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23268]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23269 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبةُ ، الْحَكَمِ ، عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيباجِ، وَآنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ، وَقَالَ: " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ریشم و دیبا پہننے سے اور سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23269]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5632، م: 2067
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5632، م: 2067
حدیث نمبر: 23270 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَبيب بنِ سُلَيْمٍ الْعَبسِيِّ ، بلَالِ بنِ يَحْيَى الْعَبسِيِّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَبيب بنِ سُلَيْمٍ الْعَبسِيِّ ، عَنْ بلَالِ بنِ يَحْيَى الْعَبسِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّعْيِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کے مرنے کا چیخ و پکار کے ساتھ اعلان کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23270]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، بلال بن يحيى لم يسمع من حذيفة، وحبيب ابن سليم مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، بلال بن يحيى لم يسمع من حذيفة، وحبيب ابن سليم مجهول
حدیث نمبر: 23271 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: " باسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا"، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23271]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6312
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6312
حدیث نمبر: 23272 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَبي إِسْحَاقَ ، صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: جَاءَ السَّيِّدُ، وَالْعَاقِب إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابعَثْ مَعَنَا أَمِينَكَ، وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: أَمِينًا، قَالَ: " سَأَبعَثُ مَعَكُمْ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ"، قَالَ: فَتَشَرَّفَ لَهَا النَّاسُ، فَبعَثَ أَبا عُبيْدَةَ بنَ الْجَرَّاحِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران سے ایک مرتبہ عاقب اور سید نامی دو آدمی آئے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہوگا یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23272]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4381، م: 2420
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4381، م: 2420
حدیث نمبر: 23273 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، إِبرَاهِيمَ بنِ مُهَاجِر ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ ، ابنُ مَهْدِيٍّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ مُهَاجِر ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ لَمْ يَكْذِبنِي يَعْنِي حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " لَقِيَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ، فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبعَةِ أَحْرُفٍ، فَمَنْ قَرَأَ مِنْهُمْ عَلَى حَرْفٍ، فَلْيَقْرَأْ كَمَا عَلِمَ وَلَا يَرْجِعْ عَنْهُ" ، قَالَ أَبي: وَقَالَ ابنُ مَهْدِيٍّ : إِنَّ مِنْ أُمَّتِكَ الضَّعِيفَ، فَمَنْ قَرَأَ عَلَى حَرْفٍ فَلَا يَتَحَوَّلْ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ رَغْبةً عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل امین نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کے لئے آئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احجارالمراء نامی جگہ میں تھے اور عرض کیا کہ آپ کی امت کے لوگ قرآن کریم کو سات حروف پر پڑھ سکتے ہیں ان میں سے جو شخص کسی خاص قرأت کے مطابق اسے پڑھنا چاہے تو اسی طرح پڑھے جیسے اسے سکھایا گیا ہو اور اس سے رجوع نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23273]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهاجر ليس بذاك القوي. ولم يتابع عليه بهذا اللفظ
الحكم: إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهاجر ليس بذاك القوي. ولم يتابع عليه بهذا اللفظ
حدیث نمبر: 23274 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا، فَمَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ بيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ إِلَّا ذَكَرَهُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ" ، قَالَ حُذَيْفَةُ: فَإِنِّي لَأَرَى أَشْيَاءَ قَدْ كُنْتُ نُسِّيتُهَا فَأَعْرِفُهَا كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ، قَدْ كَانَ غَائِبا عَنْهُ، يَرَاهُ فَيَعْرِفُهُ. وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: فَرَآهُ فَعَرَفَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور قیامت تک پیش آنے والا کوئی واقعہ ایسا نہ چھوڑا جو اسی جگہ کھڑے کھڑے بیان نہ کردیا ہو جس نے اسے یاد رکھا سو یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا اور میں بہت سی ایسی چیزیں دیکھتا ہوں جو میں بھول چکا ہوتا ہوں لیکن پھر انہیں دیکھ کر پہچان لیتا ہوں جیسے کوئی آدمی غائب ہو اور دوسرا آدمی اسے دیکھ کر اسے اس کے چہرے سے ہی پہچان لیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23274]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2891
الحكم: إسناده صحيح، م: 2891
حدیث نمبر: 23275 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابنِ أَبي لَيْلَى ، هِلَالٌ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ: هِلَالٌ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى عَنْ مَسْحِ الْحَصَى، فَقَالَ: " وَاحِدَةً أَوْ دَعْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہر چیز کے متعلق سوال پوچھا ہے حتیٰ کہ کنکریوں کو دوران نماز برابر کرنے کا مسئلہ بھی پوچھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اسے برابر کرلو ورنہ چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23275]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لكن من حديث أبى ذر الغفاري، فقد اختلف على محمد بن عبدالرحمن ابن أبى ليلى فيه، وهو سيئ الحفظ، و هلال مجهول
الحكم: حديث صحيح لكن من حديث أبى ذر الغفاري، فقد اختلف على محمد بن عبدالرحمن ابن أبى ليلى فيه، وهو سيئ الحفظ، و هلال مجهول
حدیث نمبر: 23276 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، مَوْلًى لِرِبعِيٍّ ، رِبعِيٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِرِبعِيٍّ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا، فَقَالَ: " إِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ بقَائِي فِيكُمْ، فَاقْتَدُوا باللَّذَيْنِ مِنْ بعْدِي، وَأَشَارَ إِلَى أَبي بكْرٍ، وَعُمَرَ، وَتَمَسَّكُوا بعَهْدِ عَمَّارٍ، وَمَا حَدَّثَكُمْ ابنُ مَسْعُودٍ، فَصَدِّقُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کتنا عرصہ رہوں گا اس لئے ان دو آدمیوں کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اور عمار کے طریقے کو مضبوطی سے تھامو اور ابن مسعود تم سے جو بات بیان کریں اس کی تصدیق کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23276]
حکم دارالسلام
حسن بطرقه وشواهده دون قوله: "تمسكوا بعهد عمار"، وهذا اسناد ضعيف لجهالة مولي ربعي، لكنه توبع
الحكم: حسن بطرقه وشواهده دون قوله: "تمسكوا بعهد عمار"، وهذا اسناد ضعيف لجهالة مولي ربعي، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23277 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبو الْعُمَيْسِ ، أَبي بكْرِ بنِ عَمْرِو بنِ عُتْبةَ ، ابنٍ لِحُذَيْفَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبو الْعُمَيْسِ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ عَمْرِو بنِ عُتْبةَ ، عَنِ ابنٍ لِحُذَيْفَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا دَعَا لِرَجُلٍ، أَصَابتْهُ وَأَصَابتْ وَلَدَهُ وَوَلَدَ وَلَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی شخص کے لئے دعا فرماتے تھے تو اس دعاء کے اثرات اسے اس کی اولاد کو اور اس کے پوتوں تک کو پہنچتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23277]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال أبى بكر بن عمرو
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال أبى بكر بن عمرو
حدیث نمبر: 23278 مسند احمد
وَكِيعٌ ، رَزِينُ بنُ حَبيب الْجُهَنِيُّ ، أَبي الرُّقَادِ الْعَبسِيِّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا رَزِينُ بنُ حَبيب الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبي الرُّقَادِ الْعَبسِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ بهَا مُنَافِقًا، وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ الْيَوْمَ فِي الْمَجْلِسِ عَشْرَ مَرَّاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں بعض اوقات انسان کوئی جملہ بولتا تھا اور اس کی وجہ سے منافق ہوجاتا تھا اور اب ایک ایک مجلس میں اس طرح کے دسیوں کلمات میں روزانہ سنتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23278]
حکم دارالسلام
أثر حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى الرقاد العبسي
الحكم: أثر حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى الرقاد العبسي
حدیث نمبر: 23279 مسند احمد
يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ سَعْدُ بنُ طَارِقٍ ، رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، أَخْبرَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ سَعْدُ بنُ طَارِقٍ , حَدَّثَنَا رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنَا أَعْلَمُ بمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنَ الدِّجَّالِ، مَعَهُ نَهْرَانِ يَجْرِيَانِ: أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَاءٌ أَبيَضُ، وَالْآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ، فَإِنْ أَدْرَكَنَّ وَاحِد مِنْكُمْ، فَلْيَأْتِ النَّهَرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا، فَلْيُغْمِضْ ثُمَّ لِيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ فَلْيَشْرَب، فَإِنَّهُ مَاءٌ بارِدٌ، وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ، مَكْتُوب بيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِب وَغَيْرُ كَاتِب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں یہ بات دجال سے بھی زیادہ جانتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی دو نہریں ہوں گی جن میں سے ایک دیکھنے میں سفید پانی کی ہوگی اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوگی اگر تم میں سے کوئی شخص اس دور کو پائے تو اس نہر میں داخل ہوجائے جو اسے آگ نظر آرہی ہو اس میں غوطہ زنی کرے پھر سر جھکا کر اس کا پانی پی لے کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور دجال کی بائیں آنکھ کسی نے پونچھ دی ہوگی اس پر ایک موٹا ناخنہ ہوگا اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا جسے ہر کاتب وغیرکاتب مسلمان پڑھ لے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23279]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934