بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 225
صفحہ 5 از 12
حدیث نمبر: 23320 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بنُ عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " لَمْ يُصَلِّ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ، وَلَوْ صَلَّى فِيهِ، لَكُتِب عَلَيْكُمْ صَلَاةُ نَبيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی تھی اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں نماز پڑھ لیتے تو تم پر بھی وہ نماز فرض ہوجاتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23320]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23321 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ الزُّبيْرِ ، وَأَبو نُعَيْمٍ ، الْوَلِيدُ يَعْنِي ابنَ جُمَيْعٍ ، أَبي الطُّفَيْلِ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ الزُّبيْرِ ، وَأَبو نُعَيْمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابنَ جُمَيْعٍ ، قَالَ أَبو نُعَيْمٍ: عَنْ أَبي الطُّفَيْلِ مِثْلَ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبو الطُّفَيْلِ، قَالَ: كَانَ بيْنَ حُذَيْفَةَ وَبيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبةِ مَا يَكُونُ بيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ كَمْ كَانَ أَصْحَاب الْعَقَبةِ؟ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: أَخْبرْهُ إِذْ سَأَلَكَ، قَالَ: إِنْ كُنَّا نُخْبرُ أَنَّهُمْ أَرْبعَةَ عَشَرَ، وَقَالَ أَبو نُعَيْمٍ: فَقَالَ الرَّجُلُ: كُنَّا نُخْبرُ أَنَّهُمْ أَرْبعَةَ عَشَرَ، قَالَ: فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ، وَقَالَ أَبو نُعَيْمٍ: فِيهِمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ، وَأَشْهَدُ باللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْب لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ، قَالَ أَبو أَحْمَدَ: الْأَشْهَادُ وَعَدَّنَا ثَلَاثَةً، قَالُوا: مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ، قَالَ أَبو أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ: وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى، فَقَالَ لِلنَّاسِ: " إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ، فَلَا يَسْبقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ"، فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبقُوهُ، فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ معمولی سی تکرار ہوگئی تھی جیسا کہ لوگوں میں ہوجاتی ہے انہوں نے پوچھا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے لوگ کتنے تھے؟ لوگوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جب یہ آپ سے پوچھ رہے ہیں تو آپ انہیں بتا دیجئے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں تو یہی بتایا گیا ہے کہ وہ چودہ آدمی تھے اگر آپ بھی ان میں شامل ہوں تو ان کی تعداد پندرہ ہوجاتی ہے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان میں بارہ آدمی دنیا کی زندگی اور گواہوں کے اٹھنے کے دن اللہ اور اس کے رسول کے لئے جنگ ہیں۔ اور تین لوگوں کی طرف سے عذر بیان کیا جنہوں نے یہ کہا تھا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منادی کا اعلان نہیں سنا تھا اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ لوگ کیا چاہتے ہیں اس کی وضاحت ابو احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ سخت گرمی کے موسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روانہ ہوئے اور لوگوں سے فرما دیا کہ پانی بہت تھوڑا ہے لہٰذا اس مقام پر مجھ سے پہلے کوئی نہ پہنچے لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ان سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں لعنت ملامت کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23321]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2779
الحكم: إسناده قوي، م: 2779
حدیث نمبر: 23322 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ الزُّبيْرِ ، سَعْدُ بنُ أَوْسٍ ، بلَالٍ الْعَبسِيِّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ الزُّبيْرِ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بنُ أَوْسٍ ، عَنْ بلَالٍ الْعَبسِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " مَا أَخْبيَةٌ بعْدَ أَخْبيَةٍ كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ يُدْفَعُ عَنْهَا مِنَ الْمَكْرُوهِ، أَكْثَرَ مِنْ أَخْبيَةٍ وُضِعَتْ فِي هَذِهِ الْبقْعَةِ" . وَقَالَ: " إِنَّكُمْ الْيَوْمَ مَعْشَرَ الْعَرَب لَتَأْتُونَ أُمُورًا إِنَّهَا لَفِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّفَاقُ عَلَى وَجْهِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان خیموں کے بعد کوئی خیمے نہ رہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بدر میں تھے اور جس طرح ان کا دفاع ہوا کسی اور کا دفاع نہ ہوسکا اور جب بھی کوئی قوم ان کے ساتھ برا ارادہ کرتی تو کوئی نہ کوئی چیز انہیں اپنی طرف مشغول کرلیتی تھی۔ اور فرمایا اے گروہ عرب! آج کل لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں جنہیں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں نفاق شمار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23322]
حکم دارالسلام
أثر صحيح، وهذا إسناد منقطع، بلال العبسي لم يسمع من حذيفة
الحكم: أثر صحيح، وهذا إسناد منقطع، بلال العبسي لم يسمع من حذيفة
حدیث نمبر: 23323 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادِ بنِ سَلَمَةَ ، حَمَّادِ بنِ أَبي سُلَيْمَانَ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنْ حَمَّادِ بنِ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادِ بنِ أَبي سُلَيْمَانَ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بعْدَ مَا مَحَشَتْهُمْ النَّارُ، يُقَالُ لَهُمْ: الْجَهَنَّمِيُّونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنم سے ایک قوم اس وقت نکلے گی جب آگ انہیں جھلسا چکی ہوگی انہیں " جہنمی " کہا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23323]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23324 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عُثْمَانَ الْبتِّيِّ ، نُعَيْمٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبتِّيِّ ، عَنْ نُعَيْمٍ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: ابنِ أَبي هِنْدٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: أَسْنَدْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِي، فَقَالَ: " مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ حَسَنٌ: ابتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، خُتِمَ لَهُ بهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ صَامَ يَوْمًا ابتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بهَا، دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ بصَدَقَةٍ ابتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بهَا، دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنا سینہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے تکیہ بنا رکھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص (رضاء الہٰی کے لئے) لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے اور اس کی زندگی اسی اقرار پر ختم ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص رضاء الہٰی کے لئے ایک دن روزہ رکھے اور اسی پر اس کا اختتام ہو تو وہ بھی جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص رضاء الہٰی کے لئے صدقہ کرے اور اسی پر اس کا اختتام ہو تو وہ بھی جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23324]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع بين نعيم بن أبى هند وحذيفة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع بين نعيم بن أبى هند وحذيفة
حدیث نمبر: 23325 مسند احمد
هَاشِمٌ ، مَهْدِيٌّ ، وَاصِلٍ الْأَحْدَب ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَب ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، قَالَ: بلَغَ حُذَيْفَةَ عَنْ رَجُل أنهُ يَنُمُّ الْحَدِيثَ َقَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23325]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
حدیث نمبر: 23326 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، زِرٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبعَةِ أَحْرُفٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23326]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23327 مسند احمد
أَبو سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانُ بنُ بلَالٍ ، عَمْرِو بنِ أَبي عَمْرٍو ، عَبدِ اللَّهِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَبو سَعِيدٍ مَوْلَى بنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ بلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ أَبي عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ أَحَدِ بنِي عَبدِ الْأَشْهَلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ، لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيَبعَثَنَّ عَلَيْكُمْ قَوْمًا، ثُمَّ تَدْعُونَهُ، فَلَا يُسْتَجَاب لَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم لوگ امربالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ اللہ تم پر ایسا عذاب مسلط کر دے گا کہ تم اللہ سے دعائیں کرو گے لیکن تمہاری دعائیں قبول نہ ہوں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23327]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة عبدالله بن عبدالرحمن
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة عبدالله بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 23328 مسند احمد
أَبو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ ، السَّفْرُ بنُ نُسَيْرٍ الْأَزْدِيُّ ، حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا أَبو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا السَّفْرُ بنُ نُسَيْرٍ الْأَزْدِيُّ ، وَغَيْرُهُ , عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي شَرٍّ، فَذَهَب اللَّهُ بذَلِكَ الشَّرِّ، وَجَاءَ بالْخَيْرِ عَلَى يَدَيْكَ، فَهَلْ بعْدَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: مَا هُوَ؟ قَالَ: " فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يَتْبعُ بعْضُهَا بعْضًا، تَأْتِيكُمْ مُشْتَبهَةً كَوُجُوهِ الْبقَرِ، لَا تَدْرُونَ أَيًّا مِنْ أَيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ شر میں تھے اللہ نے آپ کے ذریعے اسے دور فرما دیا اور آپ کے ہاتھوں خیر کا دور دورہ فرما دیا کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! انہوں نے پوچھا کہ وہ کیسا ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تاریک رات کے حصوں کی طرح فتنے رونما ہوں گے جو پے درپے آئیں گے اور تم پر اس طرح اشتباہ ہوجائے گا جیسے گائے کے چہرے ہوتے ہیں اور تم ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ معلوم نہیں کرسکو گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23328]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف السفر بن نسير، ثم هو لم يدرك حذيفة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف السفر بن نسير، ثم هو لم يدرك حذيفة
حدیث نمبر: 23329 مسند احمد
حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، مَيْسَرَةَ بنِ حَبيب ، الْمِنْهَالِ بنِ عَمْرٍو ، زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بنِ حَبيب ، عَنِ الْمِنْهَالِ بنِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَأَلَتْنِي أُمِّي مُنْذُ مَتَى عَهْدُكَ بالنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَنَالَتْ مِنِّي وَسَبتْنِي قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: دَعِينِي، فَإِنِّي آتِي النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّي مَعَهُ الْمَغْرِب، ثُمَّ لَا أَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِب، فَصَلَّى النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبعْتُهُ، فَعَرَضَ لَهُ عَارِضٌ فَنَاجَاهُ، ثُمَّ ذَهَب، فَاتَّبعْتُهُ فَسَمِعَ صَوْتِي، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقُلْتُ: حُذَيْفَةُ، قَالَ:" مَا لَكَ؟"، فَحَدَّثْتُهُ بالْأَمْرِ، فَقَالَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ"، ثُمَّ قَالَ: " أَمَا رَأَيْتَ الْعَارِضَ الَّذِي عَرَضَ لِي قُبيْلُ؟"، قَالَ: قُلْتُ: بلَى، قَالَ:" فَهُوَ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَمْ يَهْبطْ الْأَرْضَ قَبلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، فَاسْتَأْذَنَ رَبهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ، وَيُبشِّرَنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَباب أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کب سے وابستہ ہو؟ میں نے انہیں اس کا اندازہ بتادیا وہ مجھے سخت سست اور برا بھلا کہنے لگیں میں نے ان سے کہا کہ پیچھے ہٹیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں مغرب کی نماز ان کے ساتھ پڑھوں گا اور اس وقت تک انہیں چھوڑوں گا نہیں جب تک وہ میرے اور آپ کے لئے استغفار نہ کریں۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی اور واپس چلے گئے میں بھی پیچھے ہولیا راستے میں کوئی آدمی مل گیا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باتیں کرنے لگے جب وہ چلا گیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چل پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری آواز سن لی اور پوچھا کون ہے؟ میں نے عرض کیا حذیفہ ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے سارا واقعہ بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہیں اور تمہاری والدہ کو معاف فرمائے۔ پھر فرمایا کہ کیا تم نے اس شخص کو کبھی زمین پر دیکھا تھا جو ابھی کچھ دیر پہلے مجھے ملا تھا؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ ایک فرشتہ تھا جو آج رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا تھا اس نے پروردگار سے اس بات کی اجازت لی تھی کہ مجھے سلام کرنے کے لئے حاضر ہوا اور یہ خوشخبری دے کہ حسن اور حسین جو انان جنت کے سردار ہیں اور فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23329]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23330 مسند احمد
أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، ابنِ أَبي السَّفَرِ ، الشَّعْبيِّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ ابنِ أَبي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِب وَالْعِشَاءَ، ثُمَّ تَبعْتُهُ وَهُوَ يُرِيدُ يَدْخُلُ بعْضَ حُجَرِهِ، فَقَامَ وَأَنَا خَلْفَهُ، كَأَنَّهُ يُكَلِّمُ أَحَدًا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" مَنْ هَذَا؟"، قُلْتُ: حُذَيْفَةُ، قَالَ:" أَتَدْرِي مَنْ كَانَ مَعِي؟"، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَإِنَّ جِبرِيلَ جَاءَ يُبشِّرُنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَباب أَهْلِ الْجَنَّةِ"، قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ: فَاسْتَغْفِرْ لِي وَلِأُمِّي، قَالَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا حُذَيْفَةُ، وَلِأُمِّكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ہمراہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی پھر ان کے پیچھے ہولیا راستے میں کوئی آدمی مل گیا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باتیں کرنے لگے جب وہ چلا گیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چل پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری آواز سن لی اور پوچھا کون ہے؟ میں نے عرض کیا حذیفہ ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے سارا واقعہ بتایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہیں اور تمہاری والدہ کو معاف فرمائے۔ پھر فرمایا کہ کیا تم نے اس شخص کو کبھی زمین پر دیکھا تھا جو ابھی کچھ دیر پہلے مجھے ملا تھا؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ ایک فرشتہ تھا جو آج رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا تھا، اس نے پروردگار سے اس بات کی اجازت لی تھی کہ مجھے سلام کرنے کے لئے حاضر ہو اور یہ خوشخبری دے کہ حسن اور حسین جو انان جنت کے سردار ہیں اور فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23330]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، لا يعرف سماع الشعبي من حذيفة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، لا يعرف سماع الشعبي من حذيفة
حدیث نمبر: 23331 مسند احمد
أَبو قَطَنٍ ، شُعْبةُ ، الْحَكَمِ ، إِبرَاهِيمَ ، هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا أَبو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ، قَالُوا: هَذَا مُبلِّغُ الْأُمَرَاءِ، قَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ قَتَّاتٌ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23331]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
حدیث نمبر: 23332 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بنِ بهْدَلَةَ ، زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُتِيتُ بالْبرَاقِ وَهُوَ دَابةٌ أَبيَضُ طَوِيلٌ، يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ، فَلَمْ نُزَايِلْ ظَهْرَهُ أَنَا وَجِبرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام حَتَّى أَتَيْتُ بيْتَ الْمَقْدِسِ، فَفُتِحَتْ لَنَا أَبوَاب السَّمَاءِ وَرَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ" . قَالَ حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ: وَلَمْ يُصَلِّ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ زِرٌّ: فَقُلْتُ لَهُ: بلَى، قَدْ صَلَّى، قَالَ حُذَيْفَةُ: مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ؟ فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ، وَلَا أَعْرِفُ اسْمَكَ؟ فَقُلْتُ: أَنَا زِرُّ بنُ حُبيْشٍ، قَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهُ قَدْ صَلَّى؟ قَالَ: فَقُلْتُ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ سورة الإسراء آية 1، فقَالَ: َهَلْ تَجِدُهُ صَلَّى؟ لَوْ صَلَّى لَصَلَّيْتُمْ فِيهِ كَمَا تُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، قَالَ زِرٌّ: وَرَبطَ الدَّابةَ بالْحَلَقَةِ الَّتِي يَرْبطُ بهَا الْأَنْبيَاءُ عَلَيْهِمْ السَّلَام، فقَالَ حُذَيْفَةُ: أَو َكَانَ يَخَافُ أَنْ تَذْهَب مِنْهُ وَقَدْ آتَاهُ اللَّهُ بهَا؟..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ شب معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کرنے لگے کہ پھر ہم وہاں سے چل کر بیت المقدس پہنچے لیکن بیت المقدس میں داخل نہیں ہوئے " میں نے کہا کہ اس رات تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت المقدس میں داخل بھی ہوئے تھے اور وہاں پر نماز پھی پڑھی تھی یہ سن کر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے گنجے! تمہارا کیا نام ہے؟ میں تمہیں چہرے سے پہچاتا ہوں لیکن نام یاد نہیں ہے میں نے عرض کیا کہ میرا نام زر بن حبیش ہے انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی تھی؟ میں نے کہا کہ قرآن بتاتا ہے انہوں نے فرمایا کہ قرآن سے بات کرنے والا کامیاب ہوتا ہے تم وہ آیت پڑھ کر سناؤ اب جو میں نے " سبحان الذی اسری بعبدہ " پڑھی تو اس میں یہ کہیں نہ ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز بھی پڑھی تھی، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ارے گنجے! کیا تمہیں اس میں نماز پڑھنے کا ذکر ملتا ہے؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا بخدا! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی تھی اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت المقدس میں نماز پڑھ لیتے تو تم پر بھی وہاں نماز پڑھنا فرض ہوجاتا جیسے بیت اللہ میں ہوا بخدا! وہ دونوں براق سے جدا نہیں ہوئے تاآنکہ ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے۔پھر ان دونوں نے جنت اور جہنم کو دیکھا اور آخرت کے سارے وعدہ دیکھے پھر وہ دونوں اسی طرح واپس آگئے جیسے گئے تھے پھر وہ ہنسنے لگے یہاں تک کہ ان کے دندان مبارک میں نے دیکھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے براق کو باندھ دیا تھا تاکہ وہ بھاگ نہ جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو سارا عالم غیب و شہود ان کے تابع کردیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23332]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23333 مسند احمد
حَسَنُ بنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، عَفَّانُ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُتِيتُ بالْبرَاقِ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ: وَرَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وقَالَ عَفَّانُ : وَفُتِحَتْ لَهُمَا أَبوَاب السَّمَاءِ، وَرَأَى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23333]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23334 مسند احمد
يَعْقُوب ، أَبي ، مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بنُ زِيَادٍ ، مُحَمَّدِ بنِ كَعْب الْقُرَظِيِّ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا يَعْقُوب ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ زِيَادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ كَعْب الْقُرَظِيِّ ، قَالَ: قَالَ فَتًى مِنَّا مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ لِحُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ: يَا أَبا عَبدِ اللَّهِ، رَأَيْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَحِبتُمُوهُ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا ابنَ أَخِي، قَالَ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ كُنَّا نَجْهَدُ، قَالَ: وَاللَّهِ لَوْ أَدْرَكْنَاهُ مَا تَرَكْنَاهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ، وَلَجَعَلْنَاهُ عَلَى أَعْنَاقِنَا، قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ : يَا ابنَ أَخِي، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالْخَنْدَقِ، وَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ هَوِيًّا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: " مَنْ رَجُلٌ يَقُومُ فَيَنْظُرَ لَنَا مَا فَعَلَ الْقَوْمُ يَشْتَرِطُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَرْجِعُ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ"، فَمَا قَامَ رَجُلٌ، ثُمَّ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" مَنْ رَجُلٌ يَقُومُ فَيَنْظُرَ لَنَا مَا فَعَلَ الْقَوْمُ، ثُمَّ يَرْجِعُ يَشْرِطُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجْعَةَ، أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ"، فَمَا قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ مَعَ شِدَّةِ الْخَوْفِ وَشِدَّةِ الْجُوعِ وَشِدَّةِ الْبرْدِ، فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ أَحَدٌ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُنْ لِي بدٌّ مِنَ الْقِيَامِ حِينَ دَعَانِي، فَقَالَ:" يَا حُذَيْفَةُ، فَاذْهَب فَادْخُلْ فِي الْقَوْمِ، فَانْظُرْ مَا يَفْعَلُونَ، وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنَا"، قَالَ: فَذَهَبتُ فَدَخَلْتُ فِي الْقَوْمِ، وَالرِّيحُ وَجُنُودُ اللَّهِ تَفْعَلُ مَا تَفْعَلُ، لَا تَقِرُّ لَهُمْ قِدْرٌ وَلَا نَارٌ وَلَا بنَاءٌ، فَقَامَ أَبو سُفْيَانَ بنُ حَرْب، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، لِيَنْظُرْ امْرُؤٌ مَنْ جَلِيسُهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: فَأَخَذْتُ بيَدِ الرَّجُلِ الَّذِي إِلَى جَنْبي، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا فُلَانُ بنُ فُلَانٍ، ثُمَّ قَالَ أَبو سُفْيَانَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّكُمْ وَاللَّهِ مَا أَصْبحْتُمْ بدَارِ مُقَامٍ، لَقَدْ هَلَكَ الْكُرَاعُ، وَأَخْلَفَتْنَا بنُو قُرَيْظَةَ، بلَغَنَا مِنْهُمْ الَّذِي نَكْرَهُ، وَلَقِينَا مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ مَا تَرَوْنَ، وَاللَّهِ مَا تَطْمَئِنُّ لَنَا قِدْرٌ، وَلَا تَقُومُ لَنَا نَارٌ، وَلَا يَسْتَمْسِكُ لَنَا بنَاءٌ، فَارْتَحِلُوا فَإِنِّي مُرْتَحِلٌ، ثُمَّ قَامَ إِلَى جَمَلِهِ وَهُوَ مَعْقُولٌ فَجَلَسَ عَلَيْهِ، ثُمَّ ضَرَبهُ فَوَثَب عَلَى ثَلَاثٍ، فَمَا أَطْلَقَ عِقَالَهُ إِلَّا وَهُوَ قَائِمٌ، وَلَوْلَا عَهْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، وَلَوْ شِئْتُ لَقَتَلْتُهُ بسَهْمٍ، قَالَ حُذَيْفَةُ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي مِرْطٍ لِبعْضِ نِسَائِهِ مُرَحَّلٍ، فَلَمَّا رَآنِي أَدْخَلَنِي إِلَى رَحْلِهِ، وَطَرَحَ عَلَيَّ طَرَفَ الْمِرْطِ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ وَإِنَّهُ لَفِيهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخْبرْتُهُ الْخَبرَ، وَسَمِعَتْ غَطَفَانُ بمَا فَعَلَتْ قُرَيْشٌ، وَانْشَمَرُوا إِلَى بلَادِهِمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن کعب قرظی (رح) سے مروی ہے کہ ہم اہل کوفہ میں سے ایک نوجوان نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابو عبداللہ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت اور شرف صحبت حاصل کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں بھتیجے! سائل نے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ فرمایا ہم اپنے آپ کو مشقت میں ڈال دیتے تھے سائل نے کہا بخدا! اگر ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پالیتے تو انہیں زمین پر نہ چلنے دیتے بلکہ اپنی گردنوں پر بٹھا لیتے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے! بخدا! ہم نے غزوہ خندق کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کی تاریکی میں عشاء کی نماز پڑھائی اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کون آدمی جا کر دشمنوں کے حالات کا جائزہ لے کر آئے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے وعدہ کیا کہ اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا لیکن کوئی کھڑا نہ ہوا رات کا کچھ حصہ گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ نماز پڑھائی پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر وہی اعلان کیا اور اس مرتبہ فرمایا کہ وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا پھر بھی شدت خوف بھوک اور سردی کی شدت سے کوئی بھی کھڑا نہ ہوا۔ جب کوئی بھی کھڑا نہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اس وقت میرے لئے کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور دیکھو کہ دشمن کے کیا حالات ہیں اور واپس ہمارے پاس آنے تک کوئی نیا کام نہ کرنا چناچہ میں چلا گیا اور دشمن کے لشکر میں گھس گیا جہاں ہوائیں اور اللہ کے لشکر اپنے کام کر رہے تھے اور ان کی کوئی ہنڈیا آگ اور خیمہ ٹھہر نہیں پا رہا تھا یہ دیکھ کر ابو سفیان بن حرب کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے گروہ قریش ہر آدمی دیکھ لے کہ اس کے ساتھ کون بیٹھا ہے؟ (کہیں کوئی جاسوس نہ ہو) اس پر میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک آدمی کا ہاتھ پکڑا اور اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے بتایا میں فلاں بن فلاں ہوں پھر ابو سفیان کہنے لگا اے گروہ قریش بخدا! اس جگہ تمہارے لئے مزید ٹھہرنا اب ممکن نہیں رہا مویشی ہلاک ہو رہے ہیں بنوقریظہ نے بھی ہم سے وعدہ خلافی کی ہے اور ہمیں ان کی طرف سے ناپسندیدہ حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس ہوا سے جو حالات پیدا ہوگئے ہیں وہ تم دیکھ ہی رہے ہو کہ کوئی ہانڈی ٹھہر نہیں پا رہی آگ جل نہیں رہی اور خیمے اپنے جگہ کھڑے نہیں رہے پا رہے اس لئے میری رائے تو یہ ہے کہ تم لوگ واپس روانہ ہوجاؤ اور میں تو واپس جا رہا ہو، یہ کہہ کر اپنے گھوڑے کی طرف چل پڑا جو رسی سے باندھا گیا تھا اور اس پر سوار ہو کر ایڑ لگا دی وہ تین مرتبہ اچھلا لیکن جب اس نے رسی چھوڑی تو وہ کھڑا ہوگیا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے وصیت نہ کی ہوتی کہ کوئی نیا کام نہ کرنا جب تک میرے پاس واپس نہ آجاؤ پھر میں چاہتا تو اپنا تیر مار کر اسے قتل کرسکتا تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف واپس روانہ ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت اپنی کسی زوجہ محترمہ کی بالوں سے بنی ہوئی چادر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے مجھے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے خیمے میں ہی بلا لیا اور چادر کا ایک کونا مجھ پر ڈال دیا پھر رکوع اور سجدہ کیا جب کہ میں خیمے ہی میں رہا جب سلام پھیر چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ساری بات بتادی اور بنو غطفان کو جب پتہ چلا کہ قریش نے کیا کیا ہے تو وہ اپنے علاقے میں ہی واپس لوٹ گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23334]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لو لا إرساله، محمد بن كعب لم يدرك حذيفة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لو لا إرساله، محمد بن كعب لم يدرك حذيفة
حدیث نمبر: 23335 مسند احمد
حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، شَيْبانُ ، مَنْصُورٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، رَجُلٌ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي جِنَازَةِ حُذَيْفَةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: سَمِعْتُ هَذَا يَقُولُ: يَعْنِي حُذَيْفَةَ ، يَقُولُ: مَا بي بأْسٌ فيِمَّا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَئِنْ اقْتَتَلْتُمْ لَأَنْظُرَنَّ أَقْصَى بيْتٍ فِي دَارِي فَلَأَدْخُلَنَّهُ، فَلَئِنْ دُخِلَ عَلَيَّ لَأَقُولَنَّ: هَا، بؤْ بإِثْمِي وَإِثْمِكَ، أَوْ ذَنْبي وَذَنْبكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ربعی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے چار پائی پر لیٹے ہوئے اس شخص سے سنا ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے مجھے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا کہ اگر تم لوگ لڑنے لگو گے تو میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں گا اگر کوئی میرے گھر میں بھی آگیا تو میں اسے کہہ دوں گا کہ آؤ اور میرا اور اپنا گناہ لے کر لوٹ جاؤ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23335]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن حذيفة
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن حذيفة
حدیث نمبر: 23336 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابنُ لَهِيعَةَ ، ابنُ هُبيْرَةَ ، أَبا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ ، سَعِيدٌ ، حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابنُ هُبيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ ، يَقُولُ: أَخْبرَنِي سَعِيدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانِ ، يَقُولُ: غَاب عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَنْ يَخْرُجَ، فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَةً، فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبضَتْ فِيهَا، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: " إِنَّ رَبي تَبارَكَ وَتَعَالَى اسْتَشَارَنِي فِي أُمَّتِي مَاذَا أَفْعَلُ بهِمْ؟ فَقُلْتُ: مَا شِئْتَ أَيْ رَب هُمْ خَلْقُكَ وَعِبادُكَ، فَاسْتَشَارَنِي الثَّانِيَةَ، فَقُلْتُ لَهُ كَذَلِكَ، فَقَالَ: لَا أُحْزِنُكَ فِي أُمَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ، وَبشَّرَنِي أَنَّ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبعُونَ أَلْفًا، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبعُونَ أَلْفًا، لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَاب، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: ادْعُ تُجَب، وَسَلْ تُعْطَ، فَقُلْتُ لِرَسُولِهِ: أَوَمُعْطِيَّ رَبي سُؤْلِي؟ فَقَالَ: مَا أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِلَّا لِيُعْطِيَكَ، وَلَقَدْ أَعْطَانِي رَبي عَزَّ وَجَلَّ وَلَا فَخْرَ، وَغَفَرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبي وَمَا تَأَخَّرَ، وَأَنَا أَمْشِي حَيًّا صَحِيحًا، وَأَعْطَانِي أَنْ لَا تَجُوعَ أُمَّتِي وَلَا تُغْلَب، وَأَعْطَانِي الْكَوْثَرَ، فَهُوَ نَهْرٌ مِنَ الْجَنَّةِ يَسِيلُ فِي حَوْضِي، وَأَعْطَانِي الْعِزَّ وَالنَّصْرَ وَالرُّعْب يَسْعَى بيْنَ يَدَيْ أُمَّتِي شَهْرًا، وَأَعْطَانِي أَنِّي أَوَّلُ الْأَنْبيَاءِ أَدْخُلُ الْجَنَّةَ، وَطَيَّب لِي وَلِأُمَّتِي الْغَنِيمَةَ، وَأَحَلَّ لَنَا كَثِيرًا مِمَّا شَدَّدَ عَلَى مَنْ قَبلَنَا، وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں ہی رہے باہر تشریف نہیں لائے اور ہم یہ سمجھنے لگے کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نہیں آئیں گے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر آئے تو اتنا طویل سجدہ کیا کہ ہمیں اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روح ہی پرواز نہ کرگئی ہو جب سر اٹھایا تو فرمانے لگے کہ میرے رب نے میری امت کے متعلق مجھ سے مشورہ کیا کہ میں ان کے ساتھ کیا سلوک کروں؟ میں نے عرض کیا کہ پروردگار! آپ جو چاہیں وہ آپ کی مخلوق اور آپ کے بندے ہیں پھر دوبارہ مشورہ کیا اور اس نے مجھے بشارت دی کہ میرے ساتھ امت میں سب سے پہلے ستر ہزار افراد جنت میں داخل ہوں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار مزید ہوں گے جن کا کوئی حساب کتاب نہ ہوگا۔ پھر میرے پروردگار نے میرے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ دعاء کیجئے آپ کی دعاء قبول کی جائے گی سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا میں نے قاصد سے پوچھا کہ کیا میرا پروردگار میری درخواست پر مجھے عطا کرے گا؟ قاصد نے جواب دیا کہ اس نے مجھے آپ کے پاس دینے کے ارادے ہی سے بھیجا ہے پھر میرے پروردگار نے مجھے عطاء فرمایا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا اس نے میرے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے جبکہ میں زندہ سلامت چل رہا ہوں اس نے میری یہ درخواست قبول کرلی کہ میری امت قحط سالی سے ہلاک نہ ہوگی اور ان پر کوئی غالب نہ آئے گا نیز اس نے مجھے حوض کوثر عطا فرمایا جو کہ جنت کی ایک نہر ہے اور میرے حوض میں آکر گرتی ہے نیز اس نے مجھے عزت، مدد اور رعب عطا فرمایا جو میری امت سے آگے ایک ماہ کی مسافت پر دوڑتا ہے نیز اس نے مجھے یہ سعادت عطا فرمائی کہ جنت میں داخل ہونے والا سب سے پہلا نبی میں ہوں گا میرے اور میری امت کے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا اور بہت سے وہ سخت احکام جو ہم سے پہلے لوگوں پر تھے انہیں ہم پر حلال کردیا اور ہم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23336]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن لهيعة ضعيف، وسعيد الراوي عن حذيفة لم نتبينه
الحكم: إسناده ضعيف، ابن لهيعة ضعيف، وسعيد الراوي عن حذيفة لم نتبينه
حدیث نمبر: 23337 مسند احمد
سُرَيْجُ بنُ النُّعْمَانِ ، هُشَيْمٌ ، الْمُغِيرَةِ ، أَبي وَائِلٍ ، ابنِ مَسْعُودٍ ، وَحُصَيْنٌ ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنِ ابنِ مَسْعُودٍ ، وَحُصَيْنٌ , عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ أَنْظُرُكُمْ، لَيُرْفَعُ لِي رِجَالٌ مِنْكُمْ حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ، اخْتُلِجُوا دُونِي، فَأَقُولُ: رَب أَصْحَابي أَصْحَابي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بعْدَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے کہ میں دیکھوں گا جب وہ میرے سامنے پیش ہوں گے انہیں میرے سامنے سے اچک لیا جائے گا میں عرض کروں گا پروردگار! میرے ساتھی ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23337]
حکم دارالسلام
هذا الحديث له سنادان: الاول: اسناده صحيح، والاسناد الثاني: جعله حصين من حديث حذيفة، والمحفوظ انه من حديث ابن مسعود
الحكم: هذا الحديث له سنادان: الاول: اسناده صحيح، والاسناد الثاني: جعله حصين من حديث حذيفة، والمحفوظ انه من حديث ابن مسعود
حدیث نمبر: 23338 مسند احمد
حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، شَيْبانُ ، مَنْصُورٍ ، رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ أَنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنَا أَعْلَمُ بمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ، إِنَّ مَعَهُ نَارًا تُحْرِقُ، وَقَالَ حُسَيْنٌ مَرَّةً: تَحْرُقُ، وَنَهْرَ مَاءٍ بارِدٍ، فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلَا يَهْلَكَنَّ بهِ، لِيُغْمِضَنَّ عَيْنَيْهِ وَلْيَقَعْ فِي الَّتِي يَرَاهَا نَارًا، فَإِنَّهَا نَهْرُ مَاءٍ بارِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں یہ بات دجال سے بھی زیادہ جانتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی دو نہریں ہوں گی جن میں سے ایک دیکھنے میں سفید پانی کی ہوگی اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوگی اگر تم میں سے کوئی شخص اس دور کو پائے تو اس نہر میں داخل ہوجائے جو اسے آگ نظر آرہی ہو اس میں غوطہ زنی کرے پھر سر جھکا کر اس کا پانی پی لے کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23338]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934
حدیث نمبر: 23339 مسند احمد
حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، سُفْيَانُ يَعْنِي ابنَ عُيَيْنَةَ ، عَبدِ الْمَلِكِ ، رِبعِيٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابنَ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي لَقِيتُ بعْضَ أَهْلِ الْكِتَاب، فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ! فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ كُنْتُ أَكْرَهُهَا مِنْكُمْ، فَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ بعض اہل کتاب سے میری ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ تم ایک بہترین قوم ہوتے اگر تم یوں نہ کہتے کہ جو اللہ نے چاہا اور جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یہ جملہ پہلے کہتے تھے جس سے تمہیں روکتے ہوئے مجھے حیاء مانع ہوجاتی تھی اب یہ کہا کرو کہ جو اللہ نے چاہا پھر جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاہا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23339]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد غير محفوظ، والمحفوظ: عبدالملك، عن ربعي عن الطفيل بن سخبرة أخي عائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد غير محفوظ، والمحفوظ: عبدالملك، عن ربعي عن الطفيل بن سخبرة أخي عائشة