عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، زَائِدَةُ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، ابنُ أَخِي حُذَيْفَةَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي ابنُ أَخِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِأُصَلِّيَ بصَلَاتِهِ، فَافْتَتَحَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً لَيْسَتْ بالْخَفِيَّةِ، وَلَا بالرَّفِيعَةِ، قِرَاءَةً حَسَنَةً يُرَتِّلُ فِيهَا يُسْمِعُنَا، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ، فَقَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ ذِي الْجَبرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ، وَالْكِبرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ"، حَتَّى فَرَغَ إِلَى الطَّوْلِ وَعَلَيْهِ سَوَادٌ مِنَ اللَّيْلِ" ، قَالَ عَبدُ الْمَلِكِ: هُوَ تَطَوُّعُ اللَّيْلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز میں شریک ہوجاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قرأت شروع کی تو آواز پست تھی اور نہ بہت اونچی بہترین قرأت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر ہمیں آیات الہیہ سناتے رہے پھر قیام کے بقدر رکوع کیا پھر سر اٹھا کر رکوع کے بقدر کھڑے رہے اور " سمع اللہ لمن حمدہ " کہہ کر فرمایا تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو طاقت اور سلطنت والا ہے کبریائی اور عظمت والا ہے یہاں تک کہ اس طویل نماز سے فارغ ہوئے تو رات کی تاریکی کچھ ہی باقی بچی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23411]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن أخي حذيفة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن أخي حذيفة