مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبةُ ، أَبي إِسْحَاقَ ، مُسْلِمِ بنِ نُذَيْرٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بنِ نُذَيْرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَخَذَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعَضَلَةِ سَاقِي، أَوْ بعَضَلَةِ سَاقِهِ، فَقَالَ: " حَقُّ الْإِزَارِ هَا هُنَا، فَإِنْ أَبيْتَ فَهَا هُنَا، فَإِنْ أَبيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبيْنِ" ، أَوْ" لَا حَقَّ لِلْكَعْبيْنِ فِي الْإِزَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی پنڈلی کی مچھلی پکڑ کر فرمایا تہبند باندھنے کی جگہ یہاں تک ہے اگر تم نہ مانو تو اس سے کچھ نیچے لٹکا لو اگر یہ بھی نہ مانو تو ٹخنوں سے نیچے تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23378]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد قوي