عَبدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، خَيْثَمَةَ ، أَبي حُذَيْفَةَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بطَعَامٍ، فَجَاءَ أَعْرَابيٌّ كَأَنَّمَا يُطْرَدُ فَذَهَب يَتَنَاوَلُ، فَأَخَذَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيَدِهِ، وَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُطْرَدُ فَأَهْوَتْ، فَأَخَذَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيَدِهَا، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَمَّا أَعْيَيْتُمُوهُ، جَاءَ بالْأَعْرَابيِّ وَالْجَارِيَةِ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ إِذَا لَمْ يُذْكَرْ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، بسْمِ اللَّهِ، كُلُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کھانے میں شریک تھے اسی اثناء میں ایک باندی آئی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کوئی دھکیل رہا ہے وہ کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالنے لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک دیہاتی آیا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کوئی دھکیل رہا ہے وہ کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا اور فرمایا کہ جب کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو شیطان اسے اپنے لئے حلال سمجھتا ہے چناچہ پہلے وہ اس باندی کے ساتھ آیا تاکہ اپنے لئے کھانے کو حلال بنا لے لیکن میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر وہ اس دیہاتی کے ساتھ آیا تاکہ اس کے ذریعے اپنے کھانے کو حلال بنا لے لیکن میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا اس لئے بسم اللہ پڑھ کر کھایا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23373]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2017
الحكم: إسناده صحيح، م: 2017