عَفَّانُ ، مَهْدِيٌّ ، وَاصِلٌ الْأَحْدَب ، أَبي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَب ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعًا وَلَا سُجُودًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ دَعَاهُ حُذَيْفَةُ، فَقَالَ لَهُ: مُنْذُ كَمْ صَلَّيْتَ هَذِهِ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتُهَا مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: مَا صَلَّيْتَ، أَوْ قَالَ: مَا صَلَّيْتَ لِلَّهِ صَلَاةً، شَكَّ مَهْدِيٌّ وَأَحْسِبهُ قَالَ: وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ سُنَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ابواب کندہ کے قریب ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے وہ رکوع و سجود کامل نہیں کر رہا تھا جب نماز سے فارغ ہوگیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تم کب سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا چالیس سال سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے چالیس سال سے ایک نماز نہیں پڑھی اور اگر تم اسی نماز پر دنیا سے رخصت ہوجاتے تو تم اس فطرت پر نہ مرتے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عطاء فرمائی گئی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23360]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 389
الحكم: إسناده صحيح، خ: 389