بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 278
صفحہ 6 از 14
حدیث نمبر: 19585 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ابْنِ يَزِيدَ ، أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ابْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ : لَقَدْ ذَكَّرَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَاةً صَلَّيْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَسِينَاهَا، وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ تَرَكْنَاهَا عَمْدًا، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ، وَإِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز یاددلادی ہے جو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے جسے ہم بھلاچکے تھے یا عمداً چھوڑ چکے تھے وہ ہر مرتبہ رکوع کرتے وقت، سر اٹھاتے وقت اور سجدے میں جاتے ہوئے اللہ اکبر کہتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19585]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
حدیث نمبر: 19586 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَكِيمِ بْنِ دَيْلَمٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ دَيْلَمٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَتْ اليهود يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ: يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ، فَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ: " يَهْدِيكُمُ اللَّهُ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر چھینکیں مارتے تھے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں جواب میں یہ کہہ دیں کہ اللہ تم پر رحم فرمائے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں چھینک کے جواب میں یوں فرماتے کہ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے احوال کی اصلاح فرمائے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19586]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19587 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، حِجَابُهُ النَّارُ، لَوْ كَشَفَهَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ" ، ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَيْدَةَ: نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة النمل آية 8.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو نیند نہیں آتی اور نہ ہی نیندان کی شایان شان ہے وہ ترازو کو جھکاتے اور اونچا کرتے ہیں اس کا حجاب آگ ہے اگر وہ اپناحجاب اٹھادے تو تاحد نگاہ ہر چیز جل جائے پھر ابوعبیدہ نے یہ آیت تلاوت کی " آواز لگائی گئی کہ آگ اور اس کے اردگردجو کچھ ہے اس سب میں برکت دی گئی ہے اور اللہ رب العالمین ہر عیب سے پاک ہے۔ " [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19587]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2759
الحكم: إسناده صحيح، م: 2759
حدیث نمبر: 19588 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَرَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ، أَوْ: مَا ذَكَرَ مِنْ هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ان کے گھر میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اتنا آنا جانا دیکھا کہ میں انہیں اس گھر کا ایک فرد سمجھتا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19588]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3763، م: 2460
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3763، م: 2460
حدیث نمبر: 19589 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، سَعِيدِ ابْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، يَدْعُونَ لَهُ وَلَدًا، وَيُعَافِيهِمْ، وَيَرْزُقُهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی تکلیف دہ بات کو سن کر اللہ سے زیادہ اس پر صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے لیکن وہ پھر بھی انہیں عافیت اور رزق دیتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19589]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6099، م: 2804
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6099، م: 2804
حدیث نمبر: 19590 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، لِأَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ أَخًا لِأَبِي مُوسَى كَانَ يَتَسَرَّعُ فِي الْفِتْنَةِ، فَجَعَلَ يَنْهَاهُ، وَلَا يَنْتَهِي، فَقَالَ: إِنْ كُنْتُ أَرَى أَنَّهُ سَيَكْفِيكَ مِنِّي الْيَسِيرُ، أَوْ قَالَ: مِنَ الْمَوْعِظَةِ دُونَ مَا أَرَى، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ"، فَقِيلَ: هَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ:" إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خواجہ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی تھا جو بڑھ چڑھ کر فتنے کے کاموں میں حصہ لیتا تھا وہ اسے منع کرتے لیکن وہ باز نہ آتا وہ اس سے فرماتے اگر میں یہ سمجھتا کہ تمہیں سی نصیحت بھی کافی ہوسکتی ہے جو میری رائے میں اس سے کم ہوتی (تب بھی میں تمہیں نصیحت کرتا) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آجاتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19590]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى موسي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى موسي
حدیث نمبر: 19591 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى، فَقَدَّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمَ دَجَاجٍ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ، كَأَنَّهُ مَوْلًى، فَلَمْ يَدْنُ، قَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : ادْنُ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا، فَقَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ أَبَدًا . فَقَالَ: ادْنُ، أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ، إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، وَهُوَ يَقْسِمُ نَعَمًا مِنْ نَعَمْ الصَّدَقَةِ قَالَ أَيُّوبُ: أَحْسِبُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ، مَا أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ، فَانْطَلَقْنَا، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَقَالَ:" أَيْنَ هَؤُلَاءِ الْأَشْعَرِيُّونَ؟" فَأَتَيْنَا، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَانْدَفَعْنَا، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَحَمَلَنَا، فَقُلْتُ: نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، وَاللَّهِ لَئِنْ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، لَا نُفْلِحُ أَبَدًا، ارْجِعُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْنُذَكِّرْهُ يَمِينَهُ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ، فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلْتَنَا، فَعَرَفْنَا، أَوْ: ظَنَنَّا أَنَّكَ نَسِيتَ يَمِينَكَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْطَلِقُوا، فَإِنَّمَا حَمَلَكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَتَحَلَّلْتُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا وہ اس وقت مرغی کھا رہے تھے وہ آدمی ایک طرف کو ہو کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ اسے نہیں کھاؤں گا کیونکہ میں مرغیوں کو گندکھاتے ہوئے دیکھتا ہوں، انہوں نے فرمایا قریب آجاؤ کیونکہ میں تمہیں اس کے متعلق بتاتاہوں۔ ایک مرتبہ میں اشعریین کے ایک گروہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سواری کے لئے جانوروں کی درخواست کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بخدا! میں تمہیں سوار نہیں کرسکوں گا کیونکہ میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے؟ ہم کچھ دیر " جب تک اللہ کو منظور ہوا " رکے رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے لئے روشن پیشانی کے تین اونٹوں کا حکم دے دیا جب ہم واپس جانے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ وہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے واپس چلو تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی قسم یاد دلادیں۔ چناچہ ہم دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم آپ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے اور آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے، پھر آپ نے ہمیں جانور دے دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے بخدا! اگر اللہ کو منظور ہوا تو میں جب بھی کوئی قسم کھاؤں گا اور کسی دوسری چیز میں خیر دیکھوں گا تو اسی کو اختیار کر کے اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19591]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6721 ، م: 1649
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6721 ، م: 1649
حدیث نمبر: 19592 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَقُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ فِيهِ دَجَاجٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19593 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، أَيُّوبُ ، أَبُو قِلَابَةَ ، زَهْدَمٌ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ يُقَالُ لَهُ: زَهْدَمٌ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَأُتِيَ بِلَحْمِ دَجَاجٍ فَذَكَرَهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3133، م: 1649، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 3133، م: 1649، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19594 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، الْقَاسِمِ التميمي ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَعَنْ الْقَاسِمِ التميمي ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ: كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّ إخاء فذكر الحديث ومعناه.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19595 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَنَا، وَسُنَّتَنَا، فَقَالَ: " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، يُجِبْكُمْ اللَّهُ تَعَالَى، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، يَسْمَعْ اللَّهُ لَكُمْ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتِلْكَ بِتِلْكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز اور اس کا طریقہ سکھایا اور فرمایا کہ امام کو تو مقرر ہی اقتداء کے لئے کیا جاتا ہے اس لئے وہ تکبیر جب کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ غیرالمغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو آمین کہو اللہ اسے قبول کرلے گا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو اللہ تمہاری ضرور سنے گا جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور سر اٹھائے گا یہ اس کے بدلے میں ہوجائے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19595]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 408
الحكم: إسناده صحيح، م: 408
حدیث نمبر: 19596 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو ابْنِ مُرَّةَ ، أَبَا وَائِلٍ ، أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ مُرَّةَ ، قَالَ عَفَّانُ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ، فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ بتائیے کہ ایک آدمی مال غنیمت کے لئے لڑتا ہے دوسرا آدمی اپنے آپ کو بہادرثابت کرنے کے لئے لڑتا ہے اور ایک آدمی ریاکاری کے لئے قتال کرتا ہے ان میں سے اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے وہی اللہ کے راستہ میں قتال کرنے والا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19596]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3126، م: 1904
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3126، م: 1904
حدیث نمبر: 19597 مسند احمد
مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي نَفَرٌ مِنْ قَوْمِي، فَقَالَ: " أَبْشِرُوا، وَبَشِّرُوا مَنْ وَرَاءَكُمْ، أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ صَادِقًا بِهَا، دَخَلَ الْجَنَّةَ"، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نُبَشِّرُ النَّاسَ، فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرَجَعَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًَا يَتَّكِلَ النَّاسُ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ساتھ میری قوم کے کچھ لوگ بھی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خوشخبری قبول کرو اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو سنا دو کہ جو شخص صدق دل کے ساتھ لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں سے نکل کر لوگوں کو یہ خوشخبری سنانے لگے اچانک سامنے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگئے وہ ہمیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس طرح تو لوگ اسی بات پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19597]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، مؤمل سييء الحفظ لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، مؤمل سييء الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 19598 مسند احمد
مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، الْأَجْلَحُ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً، فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ؟ قَالَ:" وَمَا هِيَ؟"، قُلْتُ: الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ، فَلَمْ يَدْرِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هُوَ، فَقَالَ:" مَا الْبِتْعُ وَمَا الْمِزْرُ؟"، قَالَ: أَمَّا الْبِتْعُ، فَنَبِيذُ الذُّرَةِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعُودَ بِتْعًا، وَأَمَّا الْمِزْرُ، فَنَبِيذُ الْعَسَلِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَشْرَبَنَّ مُسْكِرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں میں ان میں سے کون سا مشروب پیوں اور کون ساچھوڑوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان مشروبات کے نام پوچھے میں نے بتایا " تبع اور مزر " لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمجھ نہیں پائے کہ یہ کیسے مشروبات ہوتے ہیں اس لئے پوچھا کہ تبع اور مزر کسے کہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ تبع تو جو کی اس نبیذ کو کہتے جسے خوب پکایا جاتا ہے اور مزر شہد کی نبیذ کو کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19598]
حکم دارالسلام
قوله: لا تشربن مسكرا صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مصعب بن سلام. أخطأ الأجلح فى تفسير البتع والمزر
الحكم: قوله: لا تشربن مسكرا صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مصعب بن سلام. أخطأ الأجلح فى تفسير البتع والمزر
حدیث نمبر: 19599 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَجَعَلْنَا لَا نَصْعَدُ شَرَفًا، وَلَا نَعْلُو شَرَفًا، وَلَا نَهْبِطُ فِي وَادٍ، إِلَّا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا بِالتَّكْبِيرِ، قَالَ: فَدَنَا مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ مَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا، إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِهِ، يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَةً مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19599]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
حدیث نمبر: 19600 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ وَهُوَ النَّضْرُ بن إسماعيل يعني القاص ، بُرَيْدٌ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ وَهُوَ النَّضْرُ بن إسماعيل يعني القاص ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، لَمْ يَبْقَ مُؤْمِنٌ إِلَّا أُتِيَ بِيَهُودِيٍّ، أَوْ نَصْرَانِيٍّ، حَتَّى يُدْفَعَ إِلَيْهِ، يُقَالُ لَهُ: هَذَا فِدَاؤُكَ مِنَ النَّارِ" ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَاسْتَحْلَفَنِي عُمَرُ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: أَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يَذْكُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، فَسُرَّ بِذَلِكَ عُمَرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ابوبردہ نے حضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو اپنے والد صاحب کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی یہودی یا عیسائی کو جہنم میں داخل کردیتا ہے، ابوبردہ نے گزشتہ حدیث حضرت عمرعبدالعزیز رحمہ اللہ کو سنائی تو انہوں نے ابوبردہ سے اس اللہ کے نام کی قسم کھانے کے لئے کہا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ حدیث ان کے والد صاحب نے بیان کی ہے اور انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے اور سعید بن ابی بردہ، عوف کی اس بات کی تردید نہیں کرتے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19600]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 2767، وهذا إسناد ضعيف لضعف النضر بن إسماعيل، وللاختلاف فيه على أبى بردة
الحكم: صحيح، م: 2767، وهذا إسناد ضعيف لضعف النضر بن إسماعيل، وللاختلاف فيه على أبى بردة
حدیث نمبر: 19601 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ كَانَ يُنَفِّلُ فِي مَغَازِيهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوات میں انعامات بھی دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19601]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالعزيز بن عبيدالله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالعزيز بن عبيدالله
حدیث نمبر: 19602 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، صَالِحٍ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أُجُورَهُمْ مَرَّتَيْنِ: رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ، فَأَدَّبَهَا، فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، وَعَلَّمَهَا، فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا، وَمَمْلُوكٌ أَعْطَى حَقَّ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ، وَرَجُلٌ آمَنَ بِكِتَابِهِ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ، قَالَ: قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ: خُذْهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ، وَلَوْ سِرْتَ فِيهَا إِلَى كَرْمَانَ، لَكَانَ ذَلِكَ يَسِيرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے لوگوں کو دہرا اجر ملتا ہے وہ آدمی جس کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے عمدہ دلائے بہترین ادب سکھائے، پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا، اسی طرح وہ غلام جو اپنے اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہو اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کرتا ہو یا اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو اپنی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو، اسے بھی دہرا اجرملے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19602]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
الحكم: إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
حدیث نمبر: 19603 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَابَّةٍ، لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَجَعَلَهُ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمی کسی جانور کا جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان میں میں سے کسی کے پاس بھی گواہ نہیں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ان دونوں کے درمیان نصف نصف مشترک قرار دے دیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19603]
حکم دارالسلام
هو حديث معلول مع الاختلاف فى إسناده على قتاده
الحكم: هو حديث معلول مع الاختلاف فى إسناده على قتاده
حدیث نمبر: 19604 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَدْرِي"، أَوْ: " هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19604]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704