بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 278
صفحہ 8 از 14
حدیث نمبر: 19625 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، بُرَيْدٍ ، جَدِّهِ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَن بُرَيْدٍ ، عَن جَدِّهِ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہوتا ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19625]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2585
الحكم: إسناده صحيح، م: 2585
حدیث نمبر: 19626 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، سَهْمِ ابْنِ مِنْجَابٍ ، الْقَرْثَعِ ، أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَن إِبْرَاهِيمَ ، عَن سَهْمِ ابْنِ مِنْجَابٍ ، عَن الْقَرْثَعِ ، قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ صَاحَتْ امْرَأَتُهُ، فَقَالَ لَهَا: أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلَى، ثُمَّ سَكَتَتْ، فَلَمَّا مَاتَ، قِيل لَهَا: أَيُّ شَيْءٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ مَنْ حَلَقَ، أَوْ خَرَقَ، أَوْ سَلَقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان کی بیوی رونے لگی جب انہیں افاقہ ہوا تو فرمایا میں کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا کیوں نہیں پھر وہ خاموش ہوگئی ان کے انتقال کے بعد کسی نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے اس پر لعنت ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19626]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 104، تكلم فى القرثع الضبي، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 104، تكلم فى القرثع الضبي، وقد توبع
حدیث نمبر: 19627 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَن حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَنَا وَسُنَّتَنَا، فَقَالَ: " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ، فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، يُجِبْكُمْ اللَّهُ تَعَالَى، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، يَسْمَعْ اللَّهُ لَكُمْ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تِلْكَ بِتِلْكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز اور اس کا طریقہ سکھایا اور فرمایا کہ امام کو تو مقررہیاقتداء کے لئے کیا جاتا ہے اس لئے جب وہ تکبیرک ہے تو تم بھی تکبیرکہو اور جب وہ غیرالمغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو آمین کہو اللہ اسے قبول کرلے گا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو اللہ تمہاری ضرور سنے گا جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور سر اٹھائے گا یہ اس کے بدلے میں ہوجائے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19627]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 404
الحكم: إسناده صحيح، م: 404
حدیث نمبر: 19628 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، أَبِي مُوسَى ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، أَبِي مُوسَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَن الْأَعْمَشِ ، عَن شَقِيقٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا، وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" . وَكَذَا حَدَّثَنَاهُ وَكِيعٌ ، عَن سُفْيَانَ ، عَن الْأَعْمَشِ ، عَن شَقِيقٍ ، عَن أَبِي مُوسَى . وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَيْضًا، عَن أَبِي مُوسَى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان تک پہنچ نہیں پاتا تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19628]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6170، م: 1641
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6170، م: 1641
حدیث نمبر: 19629 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن سُلَيْمَانَ ، عَن أَبِي وَائِلٍ ، عَن عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19629]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6170، م: 1641
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6170، م: 1641
حدیث نمبر: 19630 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَن الْأَعْمَشِ ، عَن شَقِيقٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا، يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے حدیث کا مذاکرہ کررہے تھے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے جو زمانہ آئے گا اس میں علم اٹھالیا جائے گا اور جہالت اترنے لگے گی اور " ہرج " کی کثرت ہوگی جس کا معنی قتل ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19630]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7065، م: 2672
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7065، م: 2672
حدیث نمبر: 19631 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَن شَقِيقٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيَقْتُلُ رِيَاءً، فَأَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ آدمی اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کے لئے لڑتا ہے ایک آدمی قومی غیرت کے جذبے سے قتال کرتا ہے اور ایک آدمی ریاکاری کے لئے قتال کرتا ہے ان میں سے اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے وہی اللہ کے راستہ میں قتال کرنے والا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19631]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
الحكم: إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
حدیث نمبر: 19632 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَن عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَن أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، وَلَكِنَّهُ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ، لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور پانچ باتیں بیان فرمائیں اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو نیند نہیں آتی اور نہ ہی نیند ان کی شایان شان ہے وہ ترازو کو جھکاتے اور اونچا کرتے ہیں رات کے اعمال دن کے وقت اور دن کے اعمال رات کے وقت ان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، اس کا حجاب نور ہے جو اگر وہ ہٹادے تو تاحد نگاہ ساری مخلوق جل جائے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19632]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 179
الحكم: إسناده صحيح، م: 179
حدیث نمبر: 19633 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَن سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَن أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ، وَيُجْعَلُ لَهُ وَلَدٌ، وَهُوَ يُعَافِيهِمْ، وَيَدْفَعُ عَنْهُمْ، وَيَرْزُقُهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی تکلیف دہ بات کو سن کر اللہ سے زیادہ اس پر صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے لیکن وہ پھر بھی انہیں عافیت اور رزق دیتا ہے، اس کی مصیبتیں دور کرتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19633]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7378، م: 2804
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7378، م: 2804
حدیث نمبر: 19634 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، فِرَاسٍ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَن فِرَاسٍ ، عَن الشَّعْبِيِّ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: رَجُلٌ آمَنَ بِالْكِتَابِ الْأَوَّلِ وَالْكِتَابِ الْآخِرِ، وَرَجُلٌ لَهُ أَمَةٌ فَأَدَّبَهَا، فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ، وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ" ، أَوْ كَمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے لوگوں کو دہرا اجر ملتا ہے وہ آدمی جس کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے عمدہ دلائے بہترین ادب سکھائے، پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا، اسی طرح وہ غلام جو اپنے اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہو اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کرتا ہو یا اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو اپنی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو، اسے بھی دہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19634]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
الحكم: إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
حدیث نمبر: 19635 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَن بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن جَدِّهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ قَوْمِي، بَعْدَ مَا فَتَحَ خَيْبَرَ بِثَلَاثٍ، فَأَسْهَمَ لَنَا، وَلَمْ يَقْسِمْ لِأَحَدٍ لَمْ يَشْهَدْ الْفَتْحَ غَيْرِنَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا تھا جب فتح خیبر کو ابھی صرف تین دن گذرے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بھی اس میں سے حصہ دیا اور ہمارے علاوہ کسی ایسے آدمی کو مال غنیمت میں سے حصہ نہیں دیا جو اس غزوے میں شریک نہیں ہوا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19635]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3136، م: 2502
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3136، م: 2502
حدیث نمبر: 19636 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، أَسِيدَ بْنَ الْمُتَشَمِّسِ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَن يُونُسَ ، عَن الْحَسَنِ ، أَنَّ أَسِيدَ بْنَ الْمُتَشَمِّسِ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى مِنْ أَصْبَهَانَ، فَتَعَجَّلْنَا، وَجَاءَتْ عُقَيْلَةُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَلَا فَتًى يُنْزِلُ كَنَّتَهُ؟ قَالَ: يَعْنِي: أَمَةٌ الْأَشْعَرِيَّ، فَقُلْتُ: بَلَى، فَأَدْنَيْتُهَا مِنْ شَجَرَةٍ، فَأَنْزَلْتُهَا، ثُمَّ جِئْتُ، فَقَعَدْتُ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَاهُ، فَقُلْنَا: بَلَى، يَرْحَمُكَ اللَّهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا: " أَنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ الْهَرْجَ"، قِيلَ: وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْكَذِبُ وَالْقَتْلُ"، قَالُوا: أَكْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ الْآنَ؟ قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِقَتْلِكُمْ الْكُفَّارَ، وَلَكِنَّهُ قَتْلُ بَعْضِكُمْ بَعْضًا، حَتَّى يَقْتُلَ الرَّجُلُ جَارَهُ، وَيَقْتُلَ أَخَاهُ، وَيَقْتُلَ عَمَّهُ، وَيَقْتُلَ ابْنَ عَمِّهِ"، قَالُوا: سُبْحَانَ اللَّهِ! وَمَعَنَا عُقُولُنَا؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنَّهُ يَنْزِعُ عُقُولَ أَهْلِ ذَاكُمِ الزَّمَانِ حَتَّى يَحْسَبَ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ عَلَى شَيْءٍ، وَلَيْسَ عَلَى شَيْءٍ". وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تُدْرِكَنِي وَإِيَّاكُمْ تِلْكَ الْأُمُورُ، وَمَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مِنْهَا مَخْرَجًا، فِيمَا عَهِدَ إِلَيْنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا أَنْ نَخْرُجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلْنَاهَا، لَمْ نُحْدِثْ فِيهَا شَيْئًا ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم اصفہان سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ہم تیز رفتاری سفر کر رہے تھے کہ " عقیلہ " آگئی حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کوئی نوجوان ہے جوان کی باندی کو سواری سے اتارے میں نے کہا کیوں نہیں چناچہ میں نے اس کی سواری کو درخت کے قریب لے جا کر اسے اتارا پھر آکر لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں سناتے تھے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں اللہ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں بتاتے تھے کہ قامت سے پہلے " ہرج " واقع ہوگا لوگوں نے پوچھا کہ " ہرج " سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قتل، لوگوں نے پوچھا اس تعداد سے بھی زیادہ جتنے ہم قتل کردیتے ہیں؟ ہم تو ہر سال ستر ہزار سے زیادہ لوگ قتل کردیتے تھے! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے حتیٰ کہ آدمی اپنے پڑوسی، چچا، بھائی اور چچازاد بھائی کو قتل کردے گا لوگوں نے پوچھا کیا اس موقع پر ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی اور ایسے بیوقوف لوگ رہ جائیں گے جو یہ سمجھیں گے وہ کسی دین پر قائم ہیں حالانکہ وہ کسی دین پر نہیں ہوں گے۔ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ زمانہ آگیا تو میں اپنے اور تمہارے لئے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا الاّ یہ کہ ہم اس سے اسی طرح نکل جائیں جیسے داخل ہوئے تھے اور کسی کے قتل یا مال میں ملوث نہ ہوں [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19636]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19637 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَن الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَن زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَقَدَّمَ طَعَامَهُ... فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زَهْدَمٍ..
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19638 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، أَيُّوبُ ، الْقَاسِمُ الْكَلْبِيُّ ، زَهْدَمٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَن أَيُّوبَ ، عَن أَبِي قِلَابَةَ ، عَن زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ أَيُّوبُ : وَحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ الْكَلْبِيُّ ، عَن زَهْدَمٍ قَالَ: فَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى، فَقَدَّمَ طَعَامَهُ... فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ زَهْدَمٍ..
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19639 مسند احمد
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَن أَيُّوبَ، عَن أَبِي قِلَابَةَ، عَن زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ أَيُّوبُ وَحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ الْكَلْبِيُّ، عَن زَهْدَمٍ، قَالَ: فَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى، فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ، فَجِيءَ بِهَا وَعَلَيْهَا لَحْمُ دَجَاجٍ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19640 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، لَيْثٌ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنَازَةٌ، تُمْخَضُ مَخْضَ الزِّقِّ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ الْقَصْدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ تیزی سے لے کر گذرے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سکون کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19640]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ليث
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 19641 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٌ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَن سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَن أَبِي وَائِلٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فُكُّوا الْعَانِيَ، وَأَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بھوکے کو کھانا کھلایا کرو، قیدیوں کو چھڑایا کرو اور بیماروں کی عیادت کیا کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19641]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5174
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5174
حدیث نمبر: 19642 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَوْفٌ ، قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ، أَبِي مُوسَى ، هَوْذَةُ ، عَوْفٌ ، قَسَامَةَ ، الْأَشْعَرِيَّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنَا قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وحَدَّثَنَاه هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَن قَسَامَةَ ، قَالَ سَمِعْتُ الْأَشْعَرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ، فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ، جَعَلَ مِنْهُمْ الْأَحْمَرَ، وَالْأَبْيَضَ، وَالْأَسْوَدَ، وَبَيْنَ ذَلِكَ، وَالسَّهْلَ وَالْحَزْنَ، وَبَيْنَ ذَلِكَ، وَالْخَبِيثَ وَالطَّيِّبَ، وَبَيْنَ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا تھا جو اس نے ساری زمین سے اکٹھی کی تھی یہی وجہ سے کہ بنو آدم زمین ہی کی طرح ہیں چناچہ کچھ سفید ہیں، کچھ سرخ ہیں کچھ سیاہ فام ہیں اور کچھ اس کے درمیان، اسی طرح کچھ گندے ہیں اور کچھ عمدہ، کچھ نرم ہیں اور کچھ غمگین وغیرہ۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19642]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19643 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبُو عُثْمَانَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَن عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَن أَبِي مُوسَى : أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ، وَبِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودٌ يَضْرِبُ بِهِ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِحُ، فَقَالَ: " افْتَحْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فَفَتَحْتُ لَهُ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِحُ، فَقَالَ:" افْتَحْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَفَتَحْتُ لَهُ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ، فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ:" افْتَحْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ، أَوْ بَلْوَى تَكُونُ"، قَالَ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَفَتَحْتُ لَهُ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، وَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی باغ میں تھا ایک آدمی آیا اور اس نے سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جاؤ اسے اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنادو میں گیا تو وہ حضرت ابوبکرصدق رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر دوسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم نے فرمایا اسے بھی اجازت اور خوشخبری دے دو میں گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر تیسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے بھی اجازت دے دو اور ایک امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری سنا دو میں گیا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور ایک سخت امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ یہ کہتے ہوئے کہ " اے اللہ! ثابت قدم رکھنا " آکر بیٹھ گئے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19643]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3674، م: 2403
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3674، م: 2403
حدیث نمبر: 19644 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَن أَبِي عُثْمَانَ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَى، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ، اللَّهُمَّ صَبْرًا، وَعَلَى اللَّهِ التُّكْلَانُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3674، م: 2403
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3674، م: 2403