بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 278
صفحہ 1 از 14
حدیث نمبر: 19485 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَمُوتُ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرمایا جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی یہودی یا عیسائی کو جہنم میں داخل کردیتا ہے۔ ابوبردہ نے گزشتہ حدیث حضرت عمرعبدالعزیز رحمہ اللہ کو سنائی تو انہوں نے ابوبردہ سے اس اللہ کے نام کی قسم کھانے کے لئے کہا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ حدیث ان کے والد صاحب نے بیان کی ہے اور انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے اور سعید بن ابی بردہ، عوف کی اس بات کی تردید نہیں کرتے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19485]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2767
الحكم: إسناده صحيح، م: 2767
حدیث نمبر: 19486 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، وَعَوْنِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَبَا بُرْدَةَ ، أَبَاهُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، وَعَوْنِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ ، يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ عَوْنٌ: فَاسْتَحْلَفَهُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ سَعِيدٌ عَلَى عَوْنٍ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2797
الحكم: إسناده صحيح، م: 2797
حدیث نمبر: 19487 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ الْمَعْرُوفَ وَالْمُنْكَرَ خَلِيقَتَانِ يُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَمَّا الْمَعْرُوفُ فَيُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ، وَيُوعِدُهُمْ الْخَيْرَ، وَأَمَّا الْمُنْكَرُ، فَيَقُولُ: إِلَيْكُمْ إِلَيْكُمْ، وَمَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُ إِلَّا لُزُومًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے نیکی اور برائی دو مخلوق ہیں جنہیں قیامت کے دن لوگوں کے سامنے کھڑا کیا جائے گا نیکی اپنے ساتھیوں کو خوشخبری دے گی اور ان سے خیر کا وعدہ کرے گی اور برائی کہے گی کہ مجھ سے دور رہو مجھ سے دور رہو لیکن وہ اس سے چمٹے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19487]
حکم دارالسلام
هذا إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من أبى موسي
الحكم: هذا إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من أبى موسي
حدیث نمبر: 19488 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، لَيْثٌ ، أَبِي بُرْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً، ثُمَّ قَالَ: " عَلَى مَكَانِكُمْ اثْبُتُوا"، ثُمَّ أَتَى الرِّجَالَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَكُمْ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهَ تَعَالَى، وَأَنْ تَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا"، ثُمَّ تَخَلَّلَ إِلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ لَهُنَّ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَكُنَّ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهَ، وَأَنْ تَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا"، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ حَتَّى أَتَى الرِّجَالَ، فَقَالَ:" إِذَا دَخَلْتُمْ مَسَاجِدَ الْمُسْلِمِينَ وَأَسْوَاقَهُمْ وَمَعَكُمْ النَّبْلُ، فَخُذُوا بِنُصُولِهَا، لَا تُصِيبُوا بِهَا أَحَدًا، فَتُؤْذُوهُ أَوْ تَجْرَحُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور نماز کے بعد فرمایا اپنی جگہ پر ہی رکو پھر پہلے مردوں کے پاس آکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اللہ سے ڈرنے اور درست بات کہنے کا حکم دوں، پھر خواتین کے پاس جا کر ان سے بھی یہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اللہ سے ڈرنے اور درست بات کہنے کا حکم دوں، پھر واپس مردوں کے پاس آکر فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو لگ جائے اور تم کسی کو اذیت پہنچاؤ یا زخمی کردو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19488]
حکم دارالسلام
قوله منه:إذا دخلتم مساجد المسلمين إلى آخر الحديث، صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف ليث من أبى سليم
الحكم: قوله منه:إذا دخلتم مساجد المسلمين إلى آخر الحديث، صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف ليث من أبى سليم
حدیث نمبر: 19489 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، حُسَيْنٌ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ ، حُدِّثْتُ ، الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حِدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ لِمَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ دعاء کرتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! میں ان گناہوں سے معافی چاہتا ہوں جو میں نے پہلے کئے یا بعد میں ہوں گے جو چھپ کر کئے یا علانیہ طور پر کئے بیشک آگے اور پیچھے کرنے والے تو آپ ہی ہیں اور آپ ہر چیز پر قادر ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19489]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6398، م: 2719، شيخ ابن بريدة مبهم لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 6398، م: 2719، شيخ ابن بريدة مبهم لكنه متابع
حدیث نمبر: 19490 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عُمَرُ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ فِي وَصِيَّتِهِ: أَنْ لَا يُقَرَّ لِي عَامِلٌ أَكْثَرَ مِنْ سَنَةٍ، وَأَقِرُّوا الْأَشْعَرِيَّ يَعْنِي: أَبَا مُوسَى أَرْبَعَ سِنِينَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ میرے کسی عامل کو ایک سال سے زیادہ دیرتک برقرار نہ رکھا جائے البتہ ابوموسیٰ اشعری کو چار سال تک برقرار رکھنا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19490]
حکم دارالسلام
أثر ضعيف الاسناد لضعف مجالد، وهشيم مدلس، وقد عنعن، والشعبي لم يدرك عمر
الحكم: أثر ضعيف الاسناد لضعف مجالد، وهشيم مدلس، وقد عنعن، والشعبي لم يدرك عمر
حدیث نمبر: 19491 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، لَيْثٌ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ، أَوْ نَصْرَانِيٍّ، أَوْ مُسْلِمٍ، فَقُومُوا لَهَا، فَلَسْتُمْ لَهَا تَقُومُونَ، إِنَّمَا تَقُومُونَ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تمہارے سامنے سے کی یہودی، عیسائی یا مسلمان کا جنازہ گذرے تو تم کھڑے ہوجایا کرو، کیونکہ تم جنازے کی خاطر کھڑے نہیں ہوگے، ان فرشتوں کی وجہ سے کھڑے ہوگے جو جنازے کے ساتھ ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19491]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، واختلف عليه فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، واختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 19492 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنِ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ الْهَرْجَ"، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ"، قَالُوا: أَكْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ؟ إِنَّا لَنَقْتُلُ كُلَّ عَامٍ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا، قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِقَتْلِكُمْ الْمُشْرِكِينَ، وَلَكِنْ قَتْلُ بَعْضِكُمْ بَعْضًا"، قَالُوا: وَمَعَنَا عُقُولُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ:" إِنَّهُ لَتُنْزَعُ عُقُولُ أَهْلِ ذَلِكَ الزَّمَانِ، وَيُخَلَّفُ لَهُ هَبَاءٌ مِنَ النَّاسِ، يَحْسِبُ أَكْثَرُهُمْ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ، وَلَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ" ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ أَبُو مُوسَى: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مِنْهَا مَخْرَجًا إِنْ أَدْرَكَتْنِي وَإِيَّاكُمْ، إِلَّا أَنْ نَخْرُجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلْنَا فِيهَا، لَمْ نُصِبْ مِنْهَا دَمًا وَلَا مَالًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے " ہرج " واقع ہوگا لوگوں نے پوچھا کہ " ہرج " سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قتل، لوگوں نے پوچھا اس تعداد سے بھی زیادہ جتنے ہم قتل کردیتے ہیں؟ ہم تو ہر سال ستر ہزار سے زیادہ لوگ قتل کردیتے تھے! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے لوگوں نے پوچھا کیا اس موقع پر ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی اور ایسے بیوقوف لوگ رہ جائیں گے جو یہ سمجھیں گے وہ کسی دین پر قائم ہیں حالانکہ وہ کسی دین پر نہیں ہوں گے۔ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ زمانہ آگیا تو میں اپنے اور تمہارے لئے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا الاّ یہ کہ ہم اس سے اسی طرح نکل جائیں جیسے داخل ہوئے تھے اور کسی کے قتل یا مال میں ملوث نہ ہوں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19492]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 19493 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، مَنْصُورٌ ، شَقِيقٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اعلاء کلمتہ اللہ کی خاطر قتال کرتا ہے درحقیقت وہی اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19493]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
الحكم: إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
حدیث نمبر: 19494 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى : لَقَدْ ذَكَّرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ صَلَاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِمَّا نَسِينَاهَا، وَإِمَّا تَرَكْنَاهَا عَمْدًا، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ، وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَكُلَّمَا سَجَدَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز یاد دلادی ہے جو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے جسے ہم بھلا چکے تھے یا عمداً چھوڑ چکے تھے وہ ہر مرتبہ رکوع کرتے وقت، سر اٹھاتے وقت اور سجدے میں جاتے ہوئے اللہ اکبر کہتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19494]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
حدیث نمبر: 19495 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا بُرْدَةَ الْأَشْعَرِيَّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، كَانَ يُجَالِسُ جَعْفَرَ بْنَ رَبِيعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ الْأَشْعَرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَلْقَاهُ عَبْدٌ بِهَا بَعْدَ الْكَبَائِرِ الَّتِي نَهَى عَنْهَا، أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ لَا يَدَعُ قَضَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ " ان کبیرہ گناہوں کے بعد جن کی ممانعت کی گئی ہے " یہ ہے کہ انسان اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ مرتے وقت اس پر اتنا قرض ہو جسے ادا کرنے کے لئے اس نے کچھ نہ چھوڑا ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19495]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الجهالة حال أبى عبد الله القرشي
الحكم: إسناده ضعيف الجهالة حال أبى عبد الله القرشي
حدیث نمبر: 19496 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ، وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، فَقَالَ: " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان تک پہنچ نہیں پاتا تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19496]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6170، م: 2641
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6170، م: 2641
حدیث نمبر: 19497 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ، وَأَبُو مُوسَى جَالِسَيْنِ، وَهُمَا يَتَذَاكَرَانِ الْحَدِيثَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامٌ يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ" ، وَالْهَرْجُ: الْقَتْلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے حدیث کا مذاکرہ کررہے تھے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے جو زمانہ آئے گا اس میں علم اٹھالیا جائے گا اور جہالت اترنے لگے گی اور " ہرج " کی کثرت ہوگی جس کا معنی قتل ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19497]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7065، م: 2672
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7065، م: 2672
حدیث نمبر: 19498 مسند احمد
يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ آدَمَ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنِ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: لَقَدْ ذَكَّرَنَا ابْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ بِالْبَصْرَةِ صَلَاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ، وَإِذَا قَامَ، فَلَا أَدْرِي أَنَسِينَاهَا، أَمْ تَرَكْنَاهَا عَمْدًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ہے جو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے جسے ہم بھلاچکے تھے یا عمداً چھوڑ چکے تھے وہ ہر مرتبہ رکوع کرتے وقت، سر اٹھاتے وقت اور سجدے میں جاتے ہوئے اللہ اکبر کہتے تھے۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے " ہرج " واقع ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ زمانہ آگیا تو میں اپنے اور تمہارے لئے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا الاّ یہ کہ ہم اس سے اسی طرح نکل جائیں جیسے داخل ہوئے تھے اور کسی کے قتل یا مال میں ملوث نہ ہوں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19498]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
حدیث نمبر: 19499 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، يُونُسَ ، وَثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، وَحَبِيبٍ ، الْحَسَنِ ، حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
19010 حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ ، وَثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، وَحَبِيبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ" فَذَكَرَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ إِنْ أَدْرَكْتُهُنَّ، إِلَّا أَنْ نَخْرُجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلْنَاهَا، لَمْ نُصِبْ فِيهَا دَمًا وَلَا مَالًا .
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات
حدیث نمبر: 19500 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، لَيْثٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا مَرَرْتُمْ بِالسِّهَامِ فِي أَسْوَاقِ الْمُسْلِمِينَ، أَوْ فِي مَسَاجِدِهِمْ، فَأَمْسِكُوا بِالْأَنْصَالِ، لَا تَجْرَحُوا بِهَا أَحَدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو لگ جائے اور تم کسی کو اذیت پہنچاؤ یا زخمی کردو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19500]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 19501 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِيهِ ، رَجُلٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ لَعِبَ بِالْكِعَابِ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص گوٹیوں کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19501]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد اختلف فيه على سعيد بن أبى هند
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد اختلف فيه على سعيد بن أبى هند
حدیث نمبر: 19502 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِيهِ ، رَجُلٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرِيرًا بِيَمِينِهِ، وَذَهَبًا بِشِمَالِهِ، فَقَالَ: " أُحِلَّ لِإِنَاثِ أُمَّتِي، وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ سونا اور ریشم دونوں میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19502]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد اختلف فيه على عبد الله بن سعيد
الحكم: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد اختلف فيه على عبد الله بن سعيد
حدیث نمبر: 19503 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، رَجُلٍ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُحِلَّ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ لِلْإِنَاثِ مِنْ أُمَّتِي، وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ میں ریشم اور بائیں ہاتھ میں سونا بلند کیا اور فرمایا یہ دونوں میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19503]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد اختلف فيه على نافع
الحكم: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد اختلف فيه على نافع
حدیث نمبر: 19504 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا، فَقَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُمْ، فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ" . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی پھر ایک حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور سنتوں کی وضاحت کرتے ہوئے ہمیں نماز کا طریقہ سکھایا اور فرمایا جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرلیا کرو اور تم میں سے ایک آدمی کو امام بن جانا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19504]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 404
الحكم: إسناده صحيح، م: 404