بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 278
صفحہ 11 از 14
حدیث نمبر: 19685 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، بُرَيْدٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَن بُرَيْدٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنْ قُلُوبِ الرِّجَالِ مِنَ الْإِبِلِ مِنْ عُقُلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ اپنی رسی چھڑا کر بھاگ جانے والے اونٹ سے زیادہ تم میں سے کسی کے سینے سے جلدی نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19685]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5033، م: 791
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5033، م: 791
حدیث نمبر: 19686 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ"، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ:" يَعْتَمِلُ بِيَدَيْهِ، فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ"، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، أَوْ: يَسْتَطِعْ؟ قَالَ:" يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ"، قَالَوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، أَوْ: لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ:" يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ"، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَوْ يَفْعَلْ؟ قَالَ:" يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ کرنا واجب ہے کسی نے پوچھا یہ بتائیے کہ اگر کسی کے پاس کچھ نہ ہو تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے ہاتھ سے محنت کرے، اپنا بھی فائدہ کرے اور صدقہ بھی کرے، سائل نے پوچھا یہ بتائیے کہ اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت مند، فریادی کی مدد کر دے سائل نے پوچھا اگر کوئی شخص یہ بھی نہ کرسکے تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خیریا عدل کا حکم دے سائل نے پوچھا اگر یہ بھی نہ کرسکے تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر کسی کو تکلیف پہنچانے سے اپنے آپ کو روک کر رکھے اس کے لئے یہی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19686]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1445، م: 1008
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1445، م: 1008
حدیث نمبر: 19687 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، أَخِيهِ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَن إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَن أَخِيهِ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَعَلَا يُعَرِّضَانِ بِالْعَمَلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدِي مَنْ يَطْلُبُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ساتھ میری قوم کے دو آدمی بھی آئے تھے ان دونوں نے دوران گفتگو کوئی عہدہ طلب کیا جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا میرے نزدیک تم میں سب سے بڑا خائن وہ ہے جو کسی عہدے کا طلب گار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19687]
حکم دارالسلام
إسناده ضيعف الإبهام أخي إسماعيل بن أبى خالد
الحكم: إسناده ضيعف الإبهام أخي إسماعيل بن أبى خالد
حدیث نمبر: 19688 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، يُونُسُ ، أَبُو بُرْدَةَ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ، وَإِنْ أَنْكَرَتْ لَمْ تُكْرَهْ" ، قُلْتُ لِيُونُسَ: سَمِعْتَهُ مِنْهُ أَوْ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي بُرْدَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کی اجازت لی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے تو گویا اس نے اجازت دے دی اور اگر وہ انکار کردے تو اسے اس رشتے پر مجبور نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19688]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 19689 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَن أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَبْشِرُوا وَبَشِّرُوا النَّاسَ، مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، صَادِقًا بِهَا، دَخَلَ الْجَنَّةَ" ، فَخَرَجُوا يُبَشِّرُونَ النَّاسَ، فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَبَشَّرُوهُ، فَرَدَّهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَدَّكُمْ؟"، قَالُوا: عُمَرُ، قَالَ:" لِمَ رَدَدْتَهُمْ يَا عُمَرُ؟" قَالَ: إِذًَا يَتَّكِلَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ساتھ میری قوم کے کچھ لوگ بھی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خوشخبری قبول کرو اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو سنا دو کہ جو شخص صدق دل کے ساتھ لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں سے نکل کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہونے پر ان کو یہ خوشخبری سنانے لگے وہ ہمیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! اس طرح تو لوگ اسی بات پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19689]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19690 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَن يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ، وَخَرَقَ، وَسَلَقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19690]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 104، وهذا إسناد ضعيف، شريك ويزيد بن أبى زياد ضيعفان
الحكم: حديث صحيح، م: 104، وهذا إسناد ضعيف، شريك ويزيد بن أبى زياد ضيعفان
حدیث نمبر: 19691 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْأَسْوَدِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى : لَقَدْ ذَكَّرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِمَّا نَسِينَاهَا، وَإِمَّا تَرَكْنَاهَا عَمْدًا، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ، وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَكُلَّمَا سَجَدَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ہے جو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے جسے ہم بھلاچکے تھے یا عمداً چھوڑ چکے تھے وہ ہر مرتبہ رکوع کرتے وقت، سر اٹھاتے وقت اور سجدے میں جاتے ہوئے اللہ اکبر کہتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19691]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
حدیث نمبر: 19692 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، بُرَيْدٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا، مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَن بُرَيْدٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ، وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ، فَقَالَ: " لَقَدْ أَهْلَكْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی شخص کو کسی کی تعریف (اس کے منہ پر) کرتے ہوئے اور اس میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے دیکھا تو فرمایا تم نے اس کی کمر توڑ ڈالی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19692]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2663، م: 3001
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2663، م: 3001
حدیث نمبر: 19693 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَاصِمٌ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَن أَبِي وَائِلٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ عُبَيْدًا أَبَا عَامِرٍ فَوْقَ أَكْثَرِ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، قَالَ: فَقُتِلَ عُبَيْدٌ يَوْمَ أَوْطَاسٍ، وَقَتَلَ أَبُو مُوسَى قَاتِلَ عُبَيْدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ: أَرْجُو أَنْ لَا يَجْمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ قَاتِلِ عُبَيْدٍ، وَبَيْنَ أَبِي مُوسَى فِي النَّارِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! عبید ابوعامر کو قیامت کے دن بہت سے لوگوں پر فوقیت عطاء فرما عبید رضی اللہ عنہ غزوہ اوطاس کے موقع پر شہید ہوگئے تھے اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کے قاتل کو قتل کردیا تھا۔ ابو وائل کہتے ہیں مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عبید کے قاتل اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو جہنم میں جمع نہیں کرے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19693]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل
حدیث نمبر: 19694 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: لَقِيَ عُمَرُ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ، لَوْلَا أَنَّكُمْ سَبَقْتُمْ بِالْهِجْرَةِ، وَنَحْنُ أَفْضَلُ مِنْكُمْ، قَالَتْ: كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ جَاهِلَكُمْ، وَيَحْمِلُ رَاجِلَكُمْ، وَفَرَرْنَا بِدِينِنَا، فَقَالَتْ: لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَتْ، فَذَكَرَتْ مَا قَالَ لَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ لَكُمْ الْهِجْرَةُ مَرَّتَيْنِ: هِجْرَتُكُمْ إِلَى الْحَبَشَةِ، وَهِجْرَتُكُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت اسماء رضی اللہ عنہ حبشہ سے واپس آئیں تو مدینہ منورہ کے کسی راستے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا آمنا سامنا ہوگیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا حبشہ جانے والی ہو؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ بہترین قوم تھے اگر تم سے ہجرت مدینہ نہ چھوٹتی انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے وہ تمہارے پیدل چلنے والوں کو سواری دیتے تمہارے جاہل کو علم سکھاتے اور ہم لوگ اس وقت اپنے دین کو بچانے کے لئے نکلے تھے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات ذکر کئے بغیر اپنے گھر واپس نہ جاؤں گی چناچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ساری بات بتادی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری دو ہجرتیں ہوئیں ایک مدینہ منورہ کی طرف اور دوسری ہجرت حبشہ کی جانب۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19694]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4230، م: 2503، المسعودي اختلط
الحكم: حديث صحيح، خ: 4230، م: 2503، المسعودي اختلط
حدیث نمبر: 19695 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، أَبَا بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ زَمَنَ الْحَجَّاجِ، يُحَدِّثُ عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ رَأَى جِنَازَةً يُسْرِعُونَ بِهَا، فَقَالَ: " لِتَكُنْ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ تیزی سے لے کر گذرے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سکون کے ساتھ چلنا چاہئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19695]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ليث
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 19696 مسند احمد
الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو جَعْفَرٍ ، عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى فِي بَيْتِ ابْنَةِ أُمِّ الْفَضْلِ، فَعَطَسْتُ وَلَمْ يُشَمِّتْنِي، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي، فَأَخْبَرْتُهَا، فَلَمَّا جَاءَهَا، قَالَتْ: عَطَسَ ابْنِي عِنْدَكَ، فَلَمْ تُشَمِّتْهُ، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا! فَقَالَ: إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ، فَلَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ تَعَالَى، فَلَمْ أُشَمِّتْهُ، وَإِنَّهَا عَطَسَتْ، فَحَمَدَتْ اللَّهَ تَعَالَى، فَشَمَّتُّهَا، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ، فَحَمِدَ اللَّهَ، فَشَمِّتُوهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَا تُشَمِّتُوهُ" ، فَقَالَتْ: أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بنت ام الفضل کے گھر میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ موجود تھے میں بھی وہاں چلا گیا مجھے چھینک آئی تو انہوں نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور خاتون کو چھینک آئی تو انہوں نے جواب دیا، میں نے اپنی والدہ کے پاس آکر انہیں یہ بات بتائی جب والد صاحب آئے تو انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو آپ کے سامنے چھینک آئی تو آپ نے جواب نہیں دیا اور اس خاتون کو چھینک آئی تو جواب دے دیا؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے صاحبزادے کو جب چھینک آئی تو اس نے الحمدللہ نہیں کہا تھا لہٰذا میں نے اسے جواب نہیں دیا اور اسے چھینک آئی تو اس نے الحمدللہ کہا تھا لہٰذا میں نے اسے جواب بھی دے دیا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص چھینکنے کے بعد الحمدللہ کہے تو اسے جواب دو اور اگر وہ الحمدللہ نہ کہے تو اسے جواب بھی مت دو اس پر والدہ نے کہا آپ نے خوب کیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19696]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19697 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَمْرٌو ، الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَن الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ، أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ، أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا کو پسند کرتا ہے اس کی آخرت کا نقصان ہوجاتا ہے اور جو شخص آخرت کو پسند کرتا ہے اس کی دنیا کا نقصان ہوجاتا ہے تم باقی رہنے والی چیز کو فناء ہوجانے والی چیز پر ترجیح دو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19697]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب ابن عبدالله لا يعرف له سماع من الصحابة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب ابن عبدالله لا يعرف له سماع من الصحابة
حدیث نمبر: 19698 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، الْمُطَّلِبِ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَن عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَن الْمُطَّلِبِ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ، أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ، أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا کو پسند کرتا ہے اس کی آخرت کا نقصان ہوجاتا ہے اور جو شخص آخرت کو پسند کرتا ہے اس کی دنیا کا نقصان ہوجاتا ہے تم باقی رہنے والی چیز کو فناء ہوجانے والی چیز پر ترجیح دو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19698]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب بن عبدالله لا يعرف له سماع من الصحابة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب بن عبدالله لا يعرف له سماع من الصحابة
حدیث نمبر: 19699 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا، وَأَبَا مُوسَى، إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: " بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا" ، قَالَ: فَكَانَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فُسْطَاطًا يَكُونُ فِيهِ، يَزُورُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَظُنُّهُ عَن أَبِي مُوسَى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایا خوشخبری دینا، نفرت مت پھیلانا، آسانی پیدا کرنا، مشکلات میں نہ ڈالنا، ایک دوسرے کی بات ماننا اور آپس میں اختلاف نہ کرنا، چناچہ ان دونوں میں سے ہر ایک کا خیمہ تھا جس میں وہ ایک دوسرے سے ملنے کے لئے آتے رہتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19699]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6124، م: 1733، رجاله ثقات
الحكم: حديث صحيح، خ: 6124، م: 1733، رجاله ثقات
حدیث نمبر: 19700 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَن زَائِدَةَ ، عَن عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ" ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیمار ہوئے اور بیماری بڑھتی ہی چلی گئی تو فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھادیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابوبکر بڑے رقیق القلب آدمی ہیں جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھا سکیں گے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھادیں، تم تو یوسف والیاں ہو چناچہ قاصد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات طبیبہ ہی میں انہوں نے نماز پڑھائی۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19700]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 678، م: 420
الحكم: إسناده صحيح، خ: 678، م: 420
حدیث نمبر: 19701 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَذَكَرَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 678، م: 420
الحكم: إسناده صحيح، خ: 678، م: 420
حدیث نمبر: 19702 مسند احمد
أَبُو عَاصِمٍ ، يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ ، أَبُو بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ عَلَى ظَهْرِ الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ اشارہ سے سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ سفر میں جانور کی پشت پر اس طرح نماز پڑھنی چاہئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19702]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الضعف يونس بن الحارث
الحكم: إسناده ضعيف، الضعف يونس بن الحارث
حدیث نمبر: 19703 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، لَيْثٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَن لَيْثٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" مَكَانَكُمْ"، فَاسْتَقْبَلَ الرِّجَالَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَكُمْ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهَ، وَأَنْ تَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا"، ثُمَّ تَخَطَّى الرِّجَالَ، فَأَتَى النِّسَاءَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَكُنَّ أَنْ تَتَّقِينَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنْ تَقُلْنَ قَوْلًا سَدِيدًا"، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرِّجَالِ، فَقَالَ:" إِذَا دَخَلْتُمْ مَسَاجِدَ الْمُسْلِمِينَ وَأَسْوَاقَهُمْ أَوْ: أَسْوَاقَ الْمُسْلِمِينَ وَمَسَاجِدَهُمْ وَمَعَكُمْ مِنْ هَذِهِ النَّبْلِ شَيْءٌ، فَأَمْسِكُوا بِنُصُولِهَا، لَا تُصِيبُوا أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَتُؤْذُوهُ، أَوْ: تَجْرَحُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور نماز کے بعد فرمایا اپنی جگہ پر ہی رکو پھر پہلے مردوں کے پاس آکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اللہ سے ڈرنے اور درست بات کہنے کا حکم دوں، پھر خواتین کے پاس جا کر ان سے بھی یہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اللہ سے ڈرنے اور درست بات کہنے کا حکم دوں، پھر واپس مردوں کے پاس آکر فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو لگ جائے اور تم کسی کو اذیت پہنچاؤ یا زخمی کردو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19703]
حکم دارالسلام
قوله منه : إذا دخلتم مساجد المسلمين وأسواقهم ... إلى آخر الحديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
الحكم: قوله منه : إذا دخلتم مساجد المسلمين وأسواقهم ... إلى آخر الحديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 19704 مسند احمد
أَبو أَحْمَدَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبو أَحْمَدَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ لَوْنَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس چیز کا رنگ آگ نے بدل ڈالا ہو اسے کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19704]
حکم دارالسلام
إسناده فيه ضعف وانقطاع، المبارك بن فضالة يدلس ويسوي، وقد عنعن، والحسن لم يسمع من أبى موسى
الحكم: إسناده فيه ضعف وانقطاع، المبارك بن فضالة يدلس ويسوي، وقد عنعن، والحسن لم يسمع من أبى موسى