بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 278
صفحہ 13 از 14
حدیث نمبر: 19725 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ يَعْنِي السَّالَحِينِيَّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي سِنَانٍ ، أَبُو طَلْحَةَ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ يَعْنِي السَّالَحِينِيَّ ، قال: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَن أَبِي سِنَانٍ ، قَالَ: دَفَنْتُ ابْنًا لِي، وَإِنِّي لَفِي الْقَبْرِ، إِذْ أَخَذَ بِيَدَيَّ أَبُو طَلْحَةَ ، فَأَخْرَجَنِي، فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ؟ قال: قُلْتُ: بَلَى، قال: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: يَا مَلَكَ الْمَوْتِ، قَبَضْتَ وَلَدَ عَبْدِي، قَبَضْتَ قُرَّةَ عَيْنِهِ، وَثَمَرَةَ فُؤَادِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا قَالَ؟ قَالَ: حَمِدَكَ، وَاسْتَرْجَعَ، قَالَ: ابْنُوا لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسنان کہتے ہیں کہ میں اپنے بیٹے کو دفن کرنے کے بعد ابھی قبر میں ہی تھا کہ ابوطلحہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے باہر نکالا اور کہا کہ میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں؟ میں نے کہا کیوں نہیں انہوں نے اپنی سند سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرشتے سے فرماتا ہے اے ملک الموت! کیا تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کرلی؟ کیا تم اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور جگر کے ٹکڑے کو لے آئے؟ وہ کہتے ہیں جی ہاں! اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ پھر میرے بندے نے کیا کہا؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ اس نے آپ کی تعریف بیان کی اور اناللہ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت میں اس شخص کے لئے گھر بنادو اور " بیت الحمد " اس کا نام رکھو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19725]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو سنان ضعيف، والضحاك لم يسمع من أبى موسى الأشعري
الحكم: إسناده ضعيف، أبو سنان ضعيف، والضحاك لم يسمع من أبى موسى الأشعري
حدیث نمبر: 19726 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قال: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَبُو طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيُّ، وَقَالَ: الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو سنان ضعيف، والضحاك لم يسمع من أبى موسى الأشعري
الحكم: إسناده ضعيف، أبو سنان ضعيف، والضحاك لم يسمع من أبى موسى الأشعري
حدیث نمبر: 19727 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، مُطَرِّفٍ ، عَامِرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَن مُطَرِّفٍ ، عَن عَامِرٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الَّذِي يُعْتِقُ جَارِيَةً، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا:" لَهُ أَجْرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19727]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
الحكم: إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
حدیث نمبر: 19728 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ ، طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قال: أَخْبَرَنَا حَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ ، قال: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19728]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حريش بن سليم مقبول لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، حريش بن سليم مقبول لكنه توبع
حدیث نمبر: 19729 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، دَاوُدُ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي ، قال: حَدَّثَنَا دَاوُدُ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ ، قال: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَن صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قال: قال أَبُو مُوسَى : إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ اللَّهُ مِنْهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِمَّنْ حَلَقَ، وَسَلَقَ، وَخَرَقَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو لوگ رونے لگے جب انہیں افاقہ ہوا تو فرمایا میں اس شخص سے بری ہوں جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بری ہیں لوگ ان کی بیوی سے اس کی تفصیل پوچھنے لگے انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19729]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 104
الحكم: إسناده صحيح، م: 104
حدیث نمبر: 19730 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، عَن هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا، وَيُصْبِحُ كَافِرًا، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، فَاكْسِرُوا قِسِيَّكُمْ، وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ، وَاضْرِبُوا بِسُيُوفِكُمْ الْحِجَارَةَ، فَإِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدِكُمْ بَيْتَهُ، فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے آگے تاریک رات کے حصوں کی طرح فتنے آرہے ہیں اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مسلمان اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مسلمان اور صبح کو کافر ہوگا، اس زمانے میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے، کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ تم اپنی کمانیں توڑ دینا تانتیں کاٹ دینا اپنے گھروں کے ساتھ چمٹ جانا اور اگر کوئی تمہارے گھر میں آئے تو حضرت آدم (علیہ السلام) کے بہترین بیٹے (ہابیل) کی طرح ہوجانا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19730]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19731 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبُو قُدَامَةَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ الْإِيَادِيُّ ، أَبُو عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ قَيْسٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ الْإِيَادِيُّ ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ ، عَن أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ قَيْسٍ ، عَن أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جِنَانُ الْفِرْدَوْسِ أَرْبَعٌ ثِنْتَانِ مِنْ ذَهَبٍ، حِلْيَتُهُمَا وَآنِيَتُهُمَا، وَمَا فِيهِمَا، وَثِنْتَانِ مِنْ فِضَّةٍ، آنِيَتُهُمَا وَحِلْيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَلَيْسَ بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ، وَهَذِهِ الْأَنْهَارُ تَشْخَبُ مِنْ جَنَّةِ عَدْنٍ، ثُمَّ تَصْدَعُ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْهَارًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت الفردوس کے چار درجے ہیں ان میں سے دو جنتیں (باغ) چاندی کی ہوں گی ان کے برتن اور ہر چیز چاندی کی ہوگی دو جنتیں سونے کی ہوں گی اور ان کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہوگی اور جنت عدن میں اپنے پروردگار کی زیارت میں لوگوں کے درمیان صرف کبریائی کی چادر ہی حائل ہوگی جو اس کے رخ تاباں پر ہے اور یہ نہریں جنت عدن سے پھوٹتی ہیں اور نہروں کی شکل میں جاری ہوجاتی ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19731]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف أبى قدامة
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف أبى قدامة
حدیث نمبر: 19732 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبُو دَارِسٍ ، أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَارِسٍ صَاحِبُ الْجَوْرِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19732]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه أبو دارس، تكلم فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه أبو دارس، تكلم فيه
حدیث نمبر: 19733 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قال: حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ مَوْلًى لِآلِ عُثْمَانَ قال: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَأَتَاهُ سَائِلٌ يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَقَامَ بِالْفَجْرِ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ، وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: انْتَصَفَ النَّهَارُ، أَوْ: لَمْ يَنْتَصِفْ، وَكَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتْ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ بِالْعِشَاءِ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: طَلَعَتْ الشَّمْسُ، أَوْ: كَادَتْ، وَأَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: احْمَرَّتْ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، وَأَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، فَدَعَا السَّائِلَ، فَقَالَ:" الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اوقات نماز کے حوالے سے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جب طلوع فجر ہوگئی اور لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتے تھے پھر انہیں حکم دیا انہوں نے ظہر کی اقامت اس وقت کہی جب زوال شمس ہوگیا اور کوئی کہتا تھا کہ آدھا دن ہوگیا کوئی کہتا تھا نہیں ہوا لیکن وہ زیادہ جانتے تھے پھر انہیں حکم دیا انہوں نے عصر کی اقامت اس وقت کہی جب سورج روشن تھا پھر انہیں حکم دیا انہوں نے مغرب کی اقامت اس وقت کہی جب سورج غروب ہوگیا پھر انہیں حکم دیا انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب شفق غروب ہوگئی پھر اگلے دن فجر کو اتنا مؤخر کیا کہ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ کہنے لگے کہ سورج طلوع ہونے ہی والا ہے ظہر کو اتنا مؤخر کیا کہ وہ گزشتہ دن کی عصر کے قریب ہوگئی عصر کو اتنا مؤخر کیا کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد لوگ کہنے لگے کہ سورج سرخ ہوگیا ہے مغرب کو سقوط شفق تک مؤخر کردیا اور عشاء کو رات کی پہلی تہائی تک مؤخر کردیا پھر سائل کو بلا کر فرمایا کہ نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19733]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 6014
الحكم: إسناده صحيح، م: 6014
حدیث نمبر: 19734 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ابْنُ ثَوْبَانَ ، أَبِيهِ ، مَكْحُولٍ ، أَبُو عَائِشَةَ ، أَبُو مُوسَى ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن مَكْحُولٍ ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو عَائِشَةَ ، وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ دَعَا أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَقَالَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى : كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًَا، تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ ، وَصَدَّقَهُ حُذَيْفَةُ ، فَقَالَ أَبُو عَائِشَةَ: فَمَا نَسِيتُ بَعْدُ قَوْلَهُ تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ، وَأَبُو عَائِشَةَ حَاضِرٌ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو عائشہ رحمہ اللہ " جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشین تھے " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سعید بن عاص نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحی میں کتنی تکبیرات کہتے تھے؟ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس طرح جنازے پر چار تکبیرات کہتے تھے عیدین میں بھی چار تکبیرات کہتے تھے، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تصدیق کی ابوعائشہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اب تک ان کی ہی بات نہیں بھولا کہ " نماز جنازہ کی تکبیرات کی طرح " یاد رہے کہ ابو عائشہ رحمہ اللہ اس وقت سعید بن عاص کے پاس موجود تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19734]
حکم دارالسلام
حديث حسن موقوفاً، وهذا إسناد ضعيف الجهالة حال أبى عائشة، وقد أنكر على ابن ثوبان أحاديث يرويها عن أبيه، عن مكحول
الحكم: حديث حسن موقوفاً، وهذا إسناد ضعيف الجهالة حال أبى عائشة، وقد أنكر على ابن ثوبان أحاديث يرويها عن أبيه، عن مكحول
حدیث نمبر: 19735 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا: بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ، وَلَمْ تُحَلَّ لِمَنْ كَانَ قَبْلِي، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ سَأَلَ شَفَاعَةً، وَإِنِّي اخْتَبَأَتْ شَفَاعَتِي، ثُمَّ جَعَلْتُهَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي، لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطاء فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، میرے لئے ساری زمین کو باعث طہارت قرار دے دیا گیا اور مسجد بنادیا گیا ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے جو کہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا، ایک مہینے کی مسافت رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے کوئی نبی ایسا نہیں ہے جس نے خود سے شفاعت کا سوال نہ کیا ہو میں نے اپنا حق شفاعت محفوظ کر رکھا ہے اور ہر اس امتی کے لئے رکھ چھوڑا ہے جو اس حال میں مرے کہ اللہ ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19735]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على إسرائيل فى وصله وإرساله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على إسرائيل فى وصله وإرساله
حدیث نمبر: 19736 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي بُرْدَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ ، قال: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَلَمْ يُسْنِدْهُ.
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على إسرائيل فى وصله وإرساله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على إسرائيل فى وصله وإرساله
حدیث نمبر: 19737 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَسْتَاكُ، وَهُوَ وَاضِعٌ طَرَفَ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ، يَسْتَنُّ إِلَى فَوْقَ ، فَوَصَفَ حَمَّادٌ كَأَنَّهُ يَرْفَعُ سِوَاكَهُ، قَالَ حَمَّادٌ وَوَصَفَهُ لَنَا غَيْلَانُ، قَالَ: كَانَ يَسْتَنُّ طُولًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ اس وقت مسواک کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسواک کا کنارہ زبان پر رکھا ہوا تھا اور زبان کے کنارے پر مسواک کر رہے تھے راوی کہتے ہیں کہ وہ طولاً مسواک کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19737]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 244
الحكم: إسناده صحيح، خ: 244
حدیث نمبر: 19738 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَدِّي وَهَزْلِي، وَخَطَئِي وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعائیں مانگا کرتے تھے اے اللہ! میرے گناہوں اور نادانیوں کو معاف فرما، حد سے زیادہ آگے بڑھنے کو اور ان کو بھی جو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے اے اللہ! سنجیدگی، مذاق، غلطی اور جان بوجھ کر ہونے والے میرے سارے گناہوں کو معاف فرما، یہ سب میری ہی طرف سے ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19738]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6398، م: 2719، شريك سيئ الحفظ لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 6398، م: 2719، شريك سيئ الحفظ لكنه متابع
حدیث نمبر: 19739 مسند احمد
زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ ، مَنْصُورٌ ، شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَن شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنَكِّسٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى؟ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ غَضَبًا، فَلَهُ أَجْرٌ؟ قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ، وَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا، مَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بتائیے کہ آدمی اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کے لئے لڑتا ہے ایک آدمی قومی غیرت کے جذبے سے قتال کرتا ہے اور ایک آدمی ریاکاری کے لئے قتال کرتا ہے ان میں سے اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر جھکا رکھا تھا اس کا سوال سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھایا اگر وہ کھڑا ہوا نہ ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سر اٹھا کر اسے نہ دیکھتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے وہی اللہ کے راستہ میں قتال کرنے والا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19739]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
الحكم: إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
حدیث نمبر: 19740 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَن أَبِي وَائِلٍ ، قال: قال أَبُو مُوسَى : سَأَلَ رَجُلٌ، أَوْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ مُنَكِّسٌ رَأْسَهُ، فَقَالَ: مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَغَضَبًا، فَلَهُ أَجْرٌ؟ قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ، وَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا، أَوْ كَانَ قَاعِدًا الشَّكُّ مِنْ زُهَيْرٍ مَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بتائیے کہ آدمی اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کے لئے لڑتا ہے ایک آدمی قومی غیرت کے جذبے سے قتال کرتا ہے اور ایک آدمی ریاکاری کے لئے قتال کرتا ہے ان میں سے اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سرجھکا رکھا تھا اس کا سوال سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھایا اگر وہ کھڑا ہوا نہ ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سر اٹھا کر اسے نہ دیکھتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے وہی اللہ کے راستہ میں قتال کرنے والا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19740]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
الحكم: إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
حدیث نمبر: 19741 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ ، أَبُو عُمَيْسٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قال: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: أَتَانِي نَاسٌ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، فَقَالُوا: اذْهَبْ مَعَنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ لَنَا حَاجَةً، قَالَ: فَقُمْتُ مَعَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعِنْ بِنَا فِي عَمَلِكَ، فَاعْتَذَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا قَالُوا، وَقُلْتُ: لَمْ أَدْرِ مَا حَاجَتُهُمْ، فَصَدَّقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَذَرَنِي، وَقَالَ: " إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ فِي عَمَلِنَا مَنْ سَأَلَنَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے پاس کچھ اشعری لوگ آئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلو، ہمیں ان سے کوئی کام ہے میں ان کے ساتھ چلا گیا، وہاں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی عہدہ مانگا میں نے ان کی بات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے معذرت کی اور عرض کیا کہ مجھے ان کی اس ضرورت کے بارے کچھ پتہ نہیں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری تصدیق فرمائی اور میرا عذر قبول کرلیا اور فرمایا ہم کسی ایسے شخص کو کوئی عہدہ نہیں دیتے جو ہم سے اس کا مطالبہ کرتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19741]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2261، م: 1733
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2261، م: 1733
حدیث نمبر: 19742 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن جَدِّهِ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُمَا:" يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا"، قَالَ أَبُو مُوسَى: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ، يُقَالُ لَهُ: الْبِتْعُ، وَشَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ، يُقَالُ لَهُ: الْمِزْرُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایا خوشخبری دینا، نفرت مت پھیلانا، آسانی پیدا کرنا، مشکلات میں نہ ڈالنا، ایک دوسرے کی بات ماننا اور آپس میں اختلاف نہ کرنا، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں، مثلاً جو کی نبیذ ہے جسے مزر کہا جاتا ہے اور شہد کی نبیذ ہے جسے " تبع " کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19742]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6124، م: 1733
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6124، م: 1733
حدیث نمبر: 19743 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، رَجُلٌ ، أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قال: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي، قال شُعْبَةُ: قَدْ كُنْتُ أَحْفَظُ اسْمَهُ، قَالَ: كُنَّا عَلَى بَابِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، نَنْتَظِرُ الْإِذْنَ عَلَيْهِ، فَسَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ"، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَمَا الطَّاعُونُ؟ قَالَ:" طَعْنُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ، فِي كُلٍّ شَهَادَةٌ" ، قَالَ زِيَادٌ: فَلَمْ أَرْضَ بِقَوْلِهِ، فَسَأَلْتُ سَيِّدَ الْحَيِّ، وَكَانَ مَعَهُمْ، فَقَالَ: صَدَقَ، حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُوسَى..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت " طعن اور طاعون " سے فناء ہوگی کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طعن کا معنی تو ہم نے سمجھ لیا (کہ نیزوں سے مارنا) طاعون سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے دشمن جنات کے کچوکے اور دونوں صورتوں میں شہادت ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19743]
حکم دارالسلام
وهذا إسناد اختلف فيه على زياد ابن علاقة
الحكم: وهذا إسناد اختلف فيه على زياد ابن علاقة
حدیث نمبر: 19744 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، بِأَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، قال: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، عَن أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ، فَإِذَا نَحْنُ بِأَبِي مُوسَى ، فَإِذَا هُوَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْ فَنَاءَ أُمَّتِي فِي الطَّاعُونِ"، فَذَكَرَهُ.
حکم دارالسلام
وهذا إسناد اختلف فيه على زياد بن علاقة
الحكم: وهذا إسناد اختلف فيه على زياد بن علاقة