بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 278
صفحہ 14 از 14
حدیث نمبر: 19745 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قال: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَن أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، قَالَ: فََهَبَطْنَا فِي وَهْدَةً مِنَ الْأَرْضِ، قَالَ: فَرَفَعَ النَّاسُ أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّكْبِيرِ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ، وَلَا غَائِبًا، إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا"، قَالَ: ثُمَّ دَعَانِي، وَكُنْتُ مِنْهُ قَرِيبًا، فَقَالَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ؟"، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا " لاحول ولاقوۃ الاباللہ " (جنت کا ایک خزانہ ہے) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19745]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
حدیث نمبر: 19746 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، يُونُسُ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19746]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد محفوظ
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد محفوظ
حدیث نمبر: 19747 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَن غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَوْحٌ: قَالَ: سَمِعْتُ غُنَيْمًا، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ، ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْقَوْمِ، لِيَجِدُوا رِيحَهَا، فَهِيَ زَانِيَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی عورت عطر لگا کر کچھ لوگوں کے پاس سے گذرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی ایسی ہے (بدکا رہے) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19747]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 19748 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ ، وَرَوْحٌ ، ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَن غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَوْحٌ: سَمِعْتُ غُنَيْمًا، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر آنکھ بدکاری کرتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19748]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 19749 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، أَبِي السَّلِيلِ ، زَهْدَمٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قال: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَن أَبِي السَّلِيلِ ، عَن زَهْدَمٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ:" لَا وَاللَّهِ، لَا أَحْمِلُكُمْ"، فَلَمَّا رَجَعْنَا، أَرْسَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ ذَوْدٍ بُقْعِ الذُّرَى، قَالَ: فَقُلْتُ: حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا، فَأَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، فَحَمَلْتَنَا! فَقَالَ: " لَمْ أَحْمِلْكُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَاللَّهِ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُهُ" . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِي: أَبُو السَّلِيلِ: ضُرَيْبُ بْنُ نُقَيْرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سواری کے لئے جانوروں کی درخواست کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بخدا! میں تمہیں سوار نہیں کرسکوں گا کیونکہ میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے؟ ہم کچھ دیر " جب تک اللہ کو منظور ہوا " رکے رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے لئے روشن پیشانی کے تین اونٹوں کا حکم دے دیا جب ہم واپس جانے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ وہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے واپس چلو تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی قسم یاد دلا دیں۔ چناچہ ہم دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم آپ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے اور آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے، پھر آپ نے ہمیں جانور دے دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے بخدا! اگر اللہ کو منظور ہوا تو میں جب بھی کوئی قسم کھاؤں گا اور کسی دوسری چیز میں خیر دیکھوں گا تو اسی کو اختیار کر کے اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19749]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19750 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ ، دَاوُدُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ ، قال: أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَن أَبِي نَضْرَةَ ، عَن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، فَرَجَعَ، فَلَقِيَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ رَجَعْتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، فَلْيَرْجِعْ"، فَقَالَ: لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذِهِ بِبَيِّنَةٍ، أَوْ: لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ، فَأَتَى مَجْلِسَ قَوْمِهِ، فَنَاشَدَهُمْ اللَّهَ تَعَالَى، فَقُلْتُ: أَنَا مَعَكَ، فَشَهِدُوا لَهُ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ سلام کیا، انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی تو پوچھا کہ تم واپس کیوں چلے گئے انہوں نے فرمایا کہ میں نے تین مرتبہ اجازت لی تھی، جب مجھے اجازت نہیں ملی تو میں واپس چلا گیا ہمیں اسی کا حکم دیا جاتا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں پہنچے وہ لوگ کہنے لگے کہ اس بات کی شہادت تو ہم میں سب سے چھوٹا بھی دے سکتا ہے چناچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ چلے گئے اور اس کی شہادت دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19750]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2062، م: 2153
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2062، م: 2153
حدیث نمبر: 19751 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن الْحَسَنِ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا الْمُسْلِمَانِ تَوَاجَهَا بِسَيْفَيْهِمَا، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَهُمَا فِي النَّارِ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ:" إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آجاتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19751]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من أبى موسى، وسماع يزيد من سعيد بن أبى عروبة بعد الاختلاط، لكنه توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من أبى موسى، وسماع يزيد من سعيد بن أبى عروبة بعد الاختلاط، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19752 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال: أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، عَن جَدِّهِ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ، لَيْسَ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ، إِنَّمَا عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا: الْقَتْلُ، وَالْبَلاَبِلُ، وَالزَّلَازِلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت، امت مرحومہ ہے، آخرت میں اس پر کوئی عذاب نہیں ہوگا اس کا عذاب دنیا ہی میں قتل و غارت، پریشانیاں اور زلزلے ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19752]
حکم دارالسلام
ضعيف، يزيد بن هارون روي عن المسعودي بعد الاختلاط، وقد اختلف فيه على أبى بردة
الحكم: ضعيف، يزيد بن هارون روي عن المسعودي بعد الاختلاط، وقد اختلف فيه على أبى بردة
حدیث نمبر: 19753 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ ، الْعَوَّامُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيُّ ، أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى ، أَبَا مُوسَى
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ ، قال: أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ . وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، المعنى، قال: حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ، قال: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيُّ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَقُولُ لِيَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ، وَاصْطَحَبَا فِي سَفَرٍ، فَكَانَ يَزِيدُ يَصُومُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى مِرَارًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ إِذَا مَرِضَ، أَوْ سَافَرَ، كُتِبَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ كَمَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا" ، قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ:" كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بوبردہ اور یزید بن ابی کبثہ ایک مرتبہ سفر میں اکٹھے تھے یزید دوران سفر روزہ رکھتے تھے ابوبردہ نے ان سے کہا کہ میں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو کئی مرتبہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص بیمار ہوجاتا ہے یا سفر پر چلا جاتا ہے تو اس کے لئے اتنا ہی اجر لکھا جاتا ہے جتنا مقیم اور تندرست ہونے کی حالت میں اعمال پر ملتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19753]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2996
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2996
حدیث نمبر: 19754 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَن ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِسُوقٍ، أَوْ مَجْلِسٍ، أَوْ مَسْجِدٍ، وَمَعَهُ نَبْلٌ، فَلْيَقْبِضْ عَلَى نِصَالِهَا، فَلْيَقْبِضْ عَلَى نِصَالِهَا"، ثَلَاثًا ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَمَا زَالَ بِنَا الْبَلَاءُ حَتَّى سَدَّدَ بِهَا بَعْضُنَا فِي وُجُوهِ بَعْضٍ!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19754]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2615
الحكم: إسناده صحيح، م: 2615
حدیث نمبر: 19755 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال: أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَن أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَسْرَعْنَا الْأَوْبَةَ، وَأَحْسَنَّا الْغَنِيمَةَ، فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى الرُّزْدَاقِ، جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يُكَبِّرُ، قَالَ: حَسِبْتُهُ قَالَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّهَا النَّاسُ"، وَجَعَل يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَوَصَفَ يَزِيدُ كَأَنَّهُ يُشِيرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَا تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّ الَّذِي تُنَادُونَ دُونَ رُؤُوسِ رَوَاحِلِكُمْ" . ثُمَّ قَالَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، أَوْ: يَا أَبَا مُوسَى، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟"، قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" قُلْ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا " لاحول ولاقوۃ الاباللہ " (جنت کا ایک خزانہ ہے) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19755]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2992، م: 2704، روي يزيد عن الجريري بعد الاختلاط، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2992، م: 2704، روي يزيد عن الجريري بعد الاختلاط، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19756 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، مَنْ ، حِطَّانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَن ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قال: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ حِطَّانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قال: قُلْتُ لِرَجُلٍ: هَلُمَّ، فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ هَذَا، فَخَطَبَ، فَقَالَ: " وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: هَلُمَّ، فَلَنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" ، فَمَا زَالَ يَقُولُهَا، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ سَاخَتْ بِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ! آج کا دن اللہ کے لئے وقف کردیتے ہیں مجھے ایسا لگا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے سامنے موجود ہیں اور فرما رہے ہیں کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ آؤ آج کا دن اللہ کے لئے وقف کردیتے ہیں اور انہوں نے یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی ہے کہ میں تمنا کرنے لگا کہ میں زمین میں اتر جاؤں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19756]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام من روى عنه ثابت
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام من روى عنه ثابت
حدیث نمبر: 19757 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال: أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَن غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ هَذَا الْقَلْبَ كَرِيشَةٍ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، يُقِيمُهَا الرِّيحُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ" ، قَالَ أَبِي: وَلَمْ يَرْفَعْهُ إِسْمَاعِيلُ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قلب کو قلب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ پلٹتا رہتا ہے اور دل کی مثال تو اس پر کی سی ہے جو کسی درخت کی جڑ میں پڑا ہو اور ہوا اسے الٹ پلٹ کرتی رہتی ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19757]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وقد اختلف فى رفعه ووقفه، ووقفه أرجح يزيد بن سمع من الجريري بعد الاختلاط
الحكم: إسناده ضعيف، وقد اختلف فى رفعه ووقفه، ووقفه أرجح يزيد بن سمع من الجريري بعد الاختلاط
حدیث نمبر: 19758 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَن قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَن أَبِيهِ، قال: قال أَبِي : لَوْ شَهِدْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ، حَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ، إِنَّمَا لِبَاسُنَا الصُّوفُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے ابوبردہ سے کہا کہ بیٹا! اگر تم نے وہ وقت دیکھا ہوتا تو کیسا لگتا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے اور ہمارے اندر سے بھیڑ بکریوں جیسی مہک آرہی ہوتی تھی، (موٹے کپڑوں پر بارش کا پانی پڑنے کی وجہ سے) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19758]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقول قتادة: حدث أبو بردة مشعر بالانقطاع لأنه مدلس
الحكم: حديث صحيح، وقول قتادة: حدث أبو بردة مشعر بالانقطاع لأنه مدلس
حدیث نمبر: 19759 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، قال: قال لِي أَبُو مُوسَى : يَا بُنَيَّ، لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصَابَنَا الْمَطَرُ، وَجَدْتَ مِنَّا رِيحَ الضَّأْنِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے ابوبردہ سے کہا کہ بیٹا! اگر تم نے وہ وقت دیکھا ہوتا تو کیسا لگتا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے اور ہمارے اندر سے بھیڑ بکریوں جیسی مہک آرہی ہوتی تھی، (موٹے کپڑوں پر بارش کا پانی پڑنے کی وجہ سے) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19759]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19760 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَابِتٌ ، عَاصِمٌ ، أَبِي مِجْلَزٍ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قال: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَن أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ: صَلَّى أَبُو مُوسَى بِأَصْحَابِهِ وَهُوَ مُرْتَحِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ، فَقَرَأَ مِئَةَ آيَةٍ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ فِي رَكْعَةٍ، فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمَيَّ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَمَهُ، وَأَنْ أَصْنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومجلز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جا رہے تھے تو راستے میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، انہوں نے عشاء کی دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا، پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت میں سورت نساء کی سو آیات پڑھ ڈالیں اس پر کسی نے نکیر کی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس چیز میں کوئی کمی نہیں کی جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قدم رکھا ہو، میں بھی وہیں قدم رکھوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس طرح کیا ہے میں بھی اسی طرح کروں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19760]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات غير أن فى سماع أبى مجلز من أبى موسي نظرا
الحكم: رجاله ثقات غير أن فى سماع أبى مجلز من أبى موسي نظرا
حدیث نمبر: 19761 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَفَّانُ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ. وَقال عَفَّانُ : عَن أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَخْبَرَهُ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَيْمَةُ دُرَّةٌ مُجَوَّفَةٌ، طُولُهَا فِي السَّمَاءِ سِتُّونَ مِيلًا، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ لِلْمُؤْمِنِ، لَا يَرَاهُمْ الْآخَرُونَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت کا ایک خیمہ ایک جوف دار موتی سے بنا ہوگا آسمان میں جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی اور اس کے ہر کونے میں ایک مسلمان کے جو اہل خانہ ہوں گے، دوسرے کونے والے انہیں دیکھ نہ سکیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19761]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3243، م: 2838
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3243، م: 2838
حدیث نمبر: 19762 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قتادة
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قال: حَدَّثَنَا قتادة ، وذكر نحوه.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ولا يدري هل كانت رواية قتادة هذه محفوظة أم لا ؟
الحكم: حديث صحيح، ولا يدري هل كانت رواية قتادة هذه محفوظة أم لا ؟