بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 278
صفحہ 9 از 14
حدیث نمبر: 19645 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَن عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُحِلَّ لُبْسُ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ لِنِسَاءِ أُمَّتِي، وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ریشم اور سونا یہ دونوں میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19645]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد منقطع، سعيد بن أبى هند لم يلق أبا موسي
الحكم: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد منقطع، سعيد بن أبى هند لم يلق أبا موسي
حدیث نمبر: 19646 مسند احمد
يَحْيَى ، ثَابِتٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَارَةَ ، غُنَيْمُ بْنُ قَيْسٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا غُنَيْمُ بْنُ قَيْسٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر آنکھ بدکاری کرتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19646]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 19647 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قُرَّةُ ، سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّ لِأَهْلِ الْيَمَنِ شَرَابَيْنِ، أَوْ أَشْرِبَةً، هَذَا الْبِتْعُ مِنَ الْعَسَلِ، وَالْمِزْرُ مِنَ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ، فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهِمَا؟ قَالَ: " أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (مجھے یمن کی طرف بھیجا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں ایک تو تبع جو شہد سے بنتی ہے اور ایک مزر ہے اور وہ جو سے بنتی ہے آپ مجھے اس کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19647]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19648 مسند احمد
يَحْيَى ، التَّيْمِيِّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَن التَّيْمِيِّ ، عَن أَبِي عُثْمَانَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: أَخَذَ الْقَوْمُ فِي عُقْبَةٍ أَوْ ثَنِيَّةٍ، فَكُلَّمَا عَلَا رَجُلٌ عَلَيْهَا، نَادَى: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ يَعْرِضُهَا فِي الْخَيْلِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا" . ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا مُوسَى أَوْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19648]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
حدیث نمبر: 19649 مسند احمد
مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْجُعَيْدُ ، يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، حُمَيْدِ بْنِ بَشِيرٍ بْنِ الْمُحَرَّرِ ، مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ ، عَن يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ بَشِيرٍ بْنِ الْمُحَرَّرِ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يُقَلِّبُ كَعَبَاتِهَا أَحَدٌ يَنْتَظِرُ مَا تَأْتِي بِهِ، إِلَّا عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص گوٹیوں کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19649]
حکم دارالسلام
حديث حسن، حميد بن بشير لا بأس به فى الشواهد
الحكم: حديث حسن، حميد بن بشير لا بأس به فى الشواهد
حدیث نمبر: 19650 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَن مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا يَأْتِي بِيَهُودِيٍّ، أَوْ نَصْرَانِيٍّ، يَقُولُ: هَذَا فِدَايَ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر مسلمان ایک یہودی یا عیسائی کو لے کر آئے گا اور کہے گا کہ یہ جہنم سے بچاؤ کے لئے میری طرف سے فدیہ ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19650]
حکم دارالسلام
صحيح بغير هذه السياقة ، م: 2767، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى معشر ومصعب بن ثابت
الحكم: صحيح بغير هذه السياقة ، م: 2767، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى معشر ومصعب بن ثابت
حدیث نمبر: 19651 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَن عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَن أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ أَسْمَاءً، مِنْهَا مَا حَفِظْنَا، قَالَ:" أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، والْمُقَفِّي، وَالْحَاشِرُ، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ، والْمَلْحَمَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اپنے کچھ نام بتائے جو ہمیں پہلے سے یاد اور معلوم نہ تھے چناچہ فرمایا کہ میں محمد ہوں، احمد، مقفی، حاشر اور نبی التوبہ اور نبی الملحمہ ہوں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19651]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، 2355، المسعودي اختلط، لكن رواه قبل اختلاطه
الحكم: حديث صحيح، 2355، المسعودي اختلط، لكن رواه قبل اختلاطه
حدیث نمبر: 19652 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو هِلَالٍ ، قَتَادَةَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى : يَا بُنَيَّ، كَيْفَ لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرِيحُنَا رِيحُ الضَّأْنِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے ابوبردہ سے کہا کہ بیٹا! اگر تم نے وہ وقت دیکھا ہوتا تو کیسا لگتا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے اور ہمارے اندر سے بھیڑ بکریوں جیسی مہک آرہی ہوتی تھی، (موٹے کپڑوں پر بارش کا پانی پڑنے کی وجہ سے) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19652]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو هلال ضعيف، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، أبو هلال ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 19653 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، أَبُو الزِّنَادِ ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ نَافِعٍ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ ، أَبَا مُوسَى
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَ أَبُو الزِّنَادِ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ نَافِعٍ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا مُوسَى أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي حَائِطٍ بِالْمَدِينَةِ، عَلَى قُفِّ الْبِئْرِ مُدَلِّيًا رِجْلَيْهِ، فَدَقَّ الْبَابَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، فَفَعَلَ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَدَلَّى رِجْلَيْهِ، ثُمَّ دَقَّ الْبَابَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، فَفَعَلَ، ثُمَّ دَقَّ الْبَابَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، وَسَيَلْقَى بَلَاءً" فَفَعَلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی باغ میں تھا ایک آدمی آیا اور اس نے سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جاؤ اسے اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنادو میں گیا تو وہ حضرت ابوبکرصدق رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر دوسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم نے فرمایا اسے بھی اجازت اور خوشخبری دے دو میں گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر تیسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے بھی اجازت دے دو اور ایک امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری سنادو میں گیا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے چناچہ ایسا ہی ہوا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19653]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3674، م: 2403، عبدالرحمن بن نافع مجهول لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 3674، م: 2403، عبدالرحمن بن نافع مجهول لكنه توبع
حدیث نمبر: 19654 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عُمَارَةَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَن عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَن عُمَارَةَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَإِذَا بَدَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ، مَثَّلَ لِكُلِّ قَوْمٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، فَيَتْبَعُونَهُمْ حَتَّى يُقْحِمُونَهُمْ النَّارَ، ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ، وَنَحْنُ عَلَى مَكَانٍ رَفِيعٍ، فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَنَقُولُ: نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ، فَيَقُولُ: مَا تَنْتَظِرُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ:" فَيَقُولُ: وَهَلْ تَعْرِفُونَهُ إِنْ رَأَيْتُمُوهُ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيَقُولُ: كَيْفَ تَعْرِفُونَهُ وَلَمْ تَرَوْهُ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، إِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ، فَيَتَجَلَّى لَنَا ضَاحِكًا، يَقُولُ: أَبْشِرُوا أَيُّهَا الْمُسْلِمُونَ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا جَعَلْتُ مَكَانَهُ فِي النَّارِ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ساری امتوں کو ایک ٹیلے پر جمع فرمائے گا جب اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق کا امتحان شروع کرے گا تو ہر قدم کے سامنے اس چیز کی تصویر آجائے جس کی وہ عبادت کرتے تھے وہ ان کے پیچھے چلنے لگیں گے اور اس طرح جہنم میں گرجائیں گے پھر ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا ہم اس وقت ایک بلند جگہ پر ہوں گے وہ پوچھے گا کہ تم کون ہو؟ ہم کہیں گے کہ ہم مسلمان ہیں وہ کہے گا کہ تم کس کا انتظار کررہے ہو؟ ہم کہیں گے کہ اپنے رب کا انتظار کررہے ہیں وہ پوچھے گا کہ اگر تم اسے دیکھو تو پہچان لو گے ہم کہیں گے جی ہاں وہ کہے گا کہ جب تم نے اسے دیکھا ہی نہیں ہے تو کیسے پہچانو گے؟ ہم کہیں گے کہ ہاں! اس کی کوئی مثال نہیں ہے پھر وہ مسکراتا ہوا اپنی تجلی ہمارے سامنے ظاہر کرے گا اور فرمایا مسلمانو! خوش ہوجاؤ تم میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کی جگہ پر میں نے کسی یہودی یا عیسائی کو جہنم میں نہ ڈال دیاہو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن اس کے آغاز میں یہ ہے کہ عمارہ قرشی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک وفد لے کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس گئے جس میں ابوبردہ رحمہ اللہ بھی شامل تھے، انہوں نے ہماری ضرورت پوری کردی ہم وہاں سے نکل آئے لیکن حضرت ابوبردہ رحمہ اللہ دوبارہ ان کے پاس چلے گئے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے پوچھا شیخ کو کوئی اور بات یاد آگئی ہے؟ اب کیا چیز آپ کو واپس لائی؟ کیا آپ کی ضرورت پوری نہیں ہوئی؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ایک حدیث ہے جو میرے والدنے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے سنائی تھی پھر انہوں نے مذکورہ حدیث سنائی عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے پوچھا کیا واقعی آپ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! میں نے اپنے والد کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19654]
حکم دارالسلام
قوله: وليس منكم أحد إلا جعلت مكانه فى النار يهوديا أو نصرانيا صحيح، م: 2767، وهذا أسناد ضعيف لضعف على بن زيد وجهالة عمارة
الحكم: قوله: وليس منكم أحد إلا جعلت مكانه فى النار يهوديا أو نصرانيا صحيح، م: 2767، وهذا أسناد ضعيف لضعف على بن زيد وجهالة عمارة
حدیث نمبر: 19655 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عُمَارَةَ الْقُرَشِيِّ ، أَبُو بُرْدَةَ ، أَبِي
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَن عُمَارَةَ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ: وَفَدْنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَفِينَا أَبُو بُرْدَةَ، فَقَضَى حَاجَتَنَا، فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بُرْدَةَ، رَجَعَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: أَذْكُرُ الشَّيْخَ، قَالَ: مَا رَدَّكَ؟ أَلَمْ أَقْضِ حَوَائِجَكَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ : إِلَّا حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ أَبِي ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي بُرْدَةَ: آللَّهِ لَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يُحَدِّثُ بِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، لَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حکم دارالسلام
راجع ما قبله
الحكم: راجع ما قبله
حدیث نمبر: 19656 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَن أَبِي حَصِينٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا بِمَهْرٍ جَدِيدٍ، كَانَ لَهُ أَجْرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے آزاد کر کے اس سے نئے مہر کے ساتھ نکاح کرلے تو اسے دہرا اجرملے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19656]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
الحكم: إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
حدیث نمبر: 19657 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِيهِ ، رَفَعَهُ قَالَ: " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ، وَإِنْ أَبَتْ، فَلَا تُزَوَّجْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کی اجازت لی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے تو گویا اس نے اجازت دے دی اور اگر وہ انکار کردے تو اسے اس رشتے پر مجبور نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19657]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19658 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، رَبِيعٌ يَعْنِي أَبَا سَعِيدٍ النَّصْرِيَّ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، أَبُو بُرْدَةَ ، أَبِي
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا رَبِيعٌ يَعْنِي أَبَا سَعِيدٍ النَّصْرِيَّ ، عَن مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ. قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ مَرْحُومَةٌ، جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَذَابَهَا بَيْنَهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، دُفِعَ إِلَى كُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْأَدْيَانِ، فَيُقَالُ: هَذَا يَكُونُ فِدَاءَكَ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ امت، امت مرحومہ ہے اللہ نے اس کا عذاب ان کے درمیان ہی رکھ دیا ہے، جب قیامت کا دن آئے گا تو ان میں سے ہر ایک کو دوسرے ادیان و مذاہب کا ایک ایک آدمی دے کر کہا جائے گا کہ یہ شخص جہنم سے بچاؤ کا تمہارے لئے فدیہ ہے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19658]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ربيع أبو سعيد النصري مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، ربيع أبو سعيد النصري مجهول
حدیث نمبر: 19659 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ ، عَن حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُقَالُ لَهُ: حَمَمَةُ، مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أَصْبَهَانَ غَازِيًا فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ إِنَّ حَمَمَةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَكَ، فَإِنْ كَانَ حَمَمَةُ صَادِقًا، فَاعْزِمْ لَهُ بِصِدْقِهِ، وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا، فَاعْزِمْ عَلَيْهِ، وَإِنْ كَرِهَ، اللَّهُمَّ لَا تَرُدَّ حَمَمَةَ مِنْ سَفَرِهِ هَذَا، قَالَ: فَأَخَذَهُ الْمَوْتُ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: الْبَطْنُ فَمَاتَ بأَصْبَهَانَ، قَالَ: فَقَامَ أَبُو مُوسَى ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّا وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا فِيمَا سَمِعْنَا مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا بَلَغَ عِلْمَنَا، إِلَّا أَنَّ: حَمَمَةَ شَهِيدٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک آدمی تھا جس کا نام " حممہ " تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے تھا وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جہاد کے لئے اصفہان کی طرف روانہ ہوا اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ! حممہ کا یہ خیال ہے کہ وہ تجھ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اگر حممہ سچا ہے تو اس کی سچائی اور عزم کو پورا فرما اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اسے اس کا عزم عطاء فرما اگرچہ اسے ناپسند ہی ہو اے اللہ! حممہ کو اس سفر سے واپس نہ لوٹا، چناچہ اسے موت نے آلیا اور وہ اصفہان میں ہی فوت ہوگیا حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لوگو! ہم نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو کچھ سنا اور جہاں تک ہمارا علم پہنچتا ہے وہ یہی ہے کہ حممہ شہید ہوا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19659]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إن ثبت سماع حميد بن عبدالرحمن لهذه القصة من أبى موسي
الحكم: إسناده صحيح إن ثبت سماع حميد بن عبدالرحمن لهذه القصة من أبى موسي
حدیث نمبر: 19660 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، أَبِي كَبْشَةَ ، أَبَا مُوسَى
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَن أَبِي كَبْشَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، كَمَثَلِ الْعَطَّارِ، إِنْ لَا يُحْذِكَ يَعْبَقُ بِكَ مِنْ رِيحِهِ، وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السَّوْءِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْكِيرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اچھے ہم نشین کی مثال عطار کی سی ہے کہ اگر وہ اپنے عطر کی شیشی تمہارے قریب بھی نہ لائے تو اس کی مہک تم تک پہنچے گی اور برے ہم نشین کی مثال بھٹی کی سی ہے کہ اگر وہ تمہیں نہ بھی جلائے تب بھی اس کی گرمی اور شعلے تو تم تک پہنچیں گے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19660]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى كبشة، وقد اختلف فيه على عاصم الأحول
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى كبشة، وقد اختلف فيه على عاصم الأحول
حدیث نمبر: 19661 مسند احمد
قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا سُمِّيَ الْقَلْبُ مِنْ تَقَلُّبِهِ، إِنَّمَا مَثَلُ الْقَلْبِ كَمَثَلِ رِيشَةٍ مُعَلَّقَةٍ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ، يُقَلِّبُهَا الرِّيحُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قلب کو قلب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ پلٹتا رہتا ہے اور دل کی مثال تو اس پر کی سی ہے جو کسی درخت کی جڑ میں پڑا ہو اور ہوا اسے الٹ پلٹ کرتی رہتی ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19661]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى كبشة، وقد اختلف فيه على عاصم الأحول
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى كبشة، وقد اختلف فيه على عاصم الأحول
حدیث نمبر: 19662 مسند احمد
قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فِتَنًا، كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا، وَيُصْبِحُ كَافِرًا، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي"، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ:" كُونُوا أَحْلَاسَ بُيُوتِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے آگے تاریک رات کے حصوں کی طرح فتنے آرہے ہیں اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مسلمان اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مسلمان اور صبح کو کافر ہوگا، اس زمانے میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے، کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھر کا ٹاٹ بن جانا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19662]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 19663 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، عَن الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ، وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ" يَعْنِي فِي الْفِتْنَةِ" وَالْزَمُوا أَجْوَافَ الْبُيُوتِ، وَكُونُوا فِيهَا كَالْخَيِّرِ مِنَ ابَنِي آدَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فتنوں کے زمانے میں اپنی کمانیں توڑ دینا تانتیں کاٹ دینا اپنے گھروں کے ساتھ چمٹ جانا اور حضرت آدم کے بہترین بیٹے (ہابیل) کی طرح ہوجانا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19663]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19664 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن قَتَادَةَ ، عَن أَنَسٍ ، عَن أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ، طَيِّبٌ رِيحُهَا، وَلَا طَعْمَ لَهَا"، وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً:" طَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْحَنْظَلَةِ، لَا رِيحَ لَهَا، وَطَعْمُهَا خَبِيثٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس مسلمان کی مثال جو قرآن کریم پڑھتا ہے اترج کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی عمدہ ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی عمدہ ہوتی ہے، اس مسلمان کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی سی ہے جس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس کی مہک نہیں ہوتی، اس گنہگار کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی سی ہے جس کا ذائقہ تو کڑوا ہوتا ہے لیکن مہک عمدہ ہوتی ہے۔ اور اس فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19664]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5059، م: 797
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5059، م: 797