بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 278
صفحہ 4 از 14
حدیث نمبر: 19545 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِالنَّبْلِ فِي مَسَاجِدِنَا، أَوْ أَسْوَاقِنَا، فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ عَلَى مَشَاقِصِهَا، لَا يَعْقِرْ أَحَدًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو لگ جائے اور تم کسی کو اذیت پہنچاؤ یا زخمی کردو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19545]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 452، م: 2615
الحكم: إسناده صحيح، خ: 452، م: 2615
حدیث نمبر: 19546 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ:" تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنْ أَحَدِكُمْ مِنَ الْإِبِلِ مِنْ عُقُلِهِ . قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: قُلْتُ لِبُرَيْدٍ: هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي حَدَّثْتَنِي عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ لَا أَقُولُ لَكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ اپنی رسی چھڑا کر بھاگ جانے والے اونٹ سے زیادہ تم میں سے کسی کے سینے سے جلدی نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19546]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5033، م: 791
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5033، م: 791
حدیث نمبر: 19547 مسند احمد
مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، أَبِي حَرِيزٍ ، أَبَا بُرْدَةَ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، فِي حَدِيثِ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَوْصَى أَبُو مُوسَى حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ، فَقَالَ: إِذَا انْطَلَقْتُمْ بِجِنَازَتِي، فَأَسْرِعُوا الْمَشْيَ، وَلَا يَتَّبِعُنِي مُجَمَّرٌ، وَلَا تَجْعَلُوا فِي لَحْدِي شَيْئًا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ التُّرَابِ، وَلَا تَجْعَلُوا عَلَى قَبْرِي بِنَاءً، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ حَالِقَةٍ، أَوْ سَالِقَةٍ، أَوْ خَارِقَةٍ، قَالُوا: أَوَسَمِعْتَ فِيهِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبردہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اپنے مرض الوفات میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے وصیت کرتے ہوئے فرمایا جب تم لوگ میرے جنازے کو لے روانہ ہو تو تیزی سے چلنا، انگیٹھی ساتھ لے کر نہ جانامیری قبر میں کوئی ایسی چیز نہ رکھنا جو میرے اور مٹی کے درمیان حائل ہو، میری قبر پر کچھ تعمیر نہ کرنا اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں ہر اس شخص سے بری ہوں جو بال نوچے، واویلا کرے اور گریبان چاک کرے لوگوں نے پوچھا کیا آپ نے اس حوالے سے کچھ سن رکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19547]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 104
الحكم: إسناده حسن، م: 104
حدیث نمبر: 19548 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ:" بِمَ أَهْلَلْتَ؟"، فَقُلْتُ: بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ سُقْتَ مِنْ هَدْيٍ؟"، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " طُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حِلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جب حاضرخدمت میں ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے مجھ سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس! تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ میں نے عرض کیا " لبیک بحج باہلال کأہلال النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہہ کر، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا یہ بتاؤ کہ کیا اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جا کر بیت اللہ کا طواف کرو، صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور حلال ہوجاؤ۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19548]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1559، م: 1221
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1559، م: 1221
حدیث نمبر: 19549 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ، مُرٌّ طَعْمُهَا، وَطَيِّبٌ رِيحُهَا، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، مُرٌّ طَعْمُهَا، وَلَا رِيحَ لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس مسلمان کی مثال جو قرآن کریم پڑھتا ہے اترج کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی عمدہ ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی عمدہ ہوتی ہے، اس مسلمان کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی سی ہے جس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس کی مہک نہیں ہوتی، اس گنہگار کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی سی ہے جس کا ذائقہ تو کڑوا ہوتا ہے لیکن مہک عمدہ ہوتی ہے۔ اور اس فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19549]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5427، م: 797
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5427، م: 797
حدیث نمبر: 19550 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، غَالِبٍ التَّمَّارِ ، أَوْسَ بْنَ مَسْرُوقٍ ، أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَسْرُوقَ بْنَ أَوْسٍ، أَوْ: أَوْسَ بْنَ مَسْرُوقٍ ، رَجُلًا مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ" ، فَقُلْتُ لِغَالِبٍ: عَشْرٌ عَشْرٌ؟ فَقَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمام انگلیاں برابر ہوتی ہیں (دیت کے حوالے سے) یعنی ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19550]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسروق بن أوس، وقد اختلف فيه على غالب التمار
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسروق بن أوس، وقد اختلف فيه على غالب التمار
حدیث نمبر: 19551 مسند احمد
أَبُو نُوحٍ ، مَالِكٌ ، مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص نردشیر (بارہ ٹانی) کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19551]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، سعيد بن أبى هند لم يلق أبا موسي الأشعري
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، سعيد بن أبى هند لم يلق أبا موسي الأشعري
حدیث نمبر: 19552 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ لَوْنَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس چیز کا رنگ آگ نے بدل ڈالا ہو اسے کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19552]
حکم دارالسلام
إسناده فيه ضعف وانقطاع، المبارك بن فضالة يدلس ويسوي، وقد عنعن، والحسن لم يسمع من أبى موسى
الحكم: إسناده فيه ضعف وانقطاع، المبارك بن فضالة يدلس ويسوي، وقد عنعن، والحسن لم يسمع من أبى موسى
حدیث نمبر: 19553 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ ابْن سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ . وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْن سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ . قَالَ عَفَّانُ: أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کی نگہداشت کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مکمل حدیث ذکر کی [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19553]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: بعضه صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19554 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، زَهْدَمٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُ جَاءَ رَجُلٌ وَهُوَ يَأْكُلُ دَجَاجًا، فَتَنَحَّى، فَقَالَ: إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا آكُلَهُ، إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا قَذِرًا، فَقَالَ: ادْنُهُ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا وہ اس وقت مرغی کھا رہے تھے وہ آدمی ایک طرف کو ہو کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ اسے نہیں کھاؤں گا کیونکہ میں مرغیوں کو گند کھاتے ہوئے دیکھتا ہوں، انہوں نے فرمایا قریب آجاؤ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسے تناول فرماتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19554]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3133، م: 1649
حدیث نمبر: 19555 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ، وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ؟ قَالَ: " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان تک پہنچ نہیں پاتا تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19555]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6170، م: 2641
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6170، م: 2641
حدیث نمبر: 19556 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لِيَسْتَأْذِنْ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا، فَإِنْ أُذِنَ لَهُ، وَإِلَّا فَلْيَرْجِعْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تمہیں تین مرتبہ اجازت مانگنی چاہئے مل جائے تو بہت اچھا اور اگر تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ اجازت طلب کرچکے اور اسے جواب نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19556]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2026، م: 2153
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2026، م: 2153
حدیث نمبر: 19557 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شُعْبَةُ ، غَالِبٍ ، أَوْسِ ابْنِ مَسْرُوقٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَالِبٍ ، عَنْ أَوْسِ ابْنِ مَسْرُوقٍ ، أَوْ: مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ الْيَرْبُوعِيِّ، مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ" ، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لَهُ: عَشْرًا عَشْرًا؟ قَالَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمام انگلیاں برابر ہوتی ہیں (دیت کے حوالے سے) یعنی ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19557]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسروق بن أوس، وقد اختلف فيه على غالب التمار
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسروق بن أوس، وقد اختلف فيه على غالب التمار
حدیث نمبر: 19558 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ:" لَا، وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ"، فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا، قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ارْجِعُوا بِنَا، أَيْ: حَتَّى نُذَكِّرَهُ، قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ، فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلْتَنَا! فَقَالَ: " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ، بَلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي"، أَوْ قَالَ:" إِلَّا كَفَّرْتُ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اشعریین کے ایک گروہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سواری کے لئے جانوروں کی درخواست کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بخدا! میں تمہیں سوار نہیں کرسکوں گا کیونکہ میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے؟ ہم کچھ دیر " جب تک اللہ کو منظور ہوا " رکے رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے لئے روشن پیشانی کے تین اونٹوں کا حکم دے دیا جب ہم واپس جانے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ وہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے واپس چلو تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی قسم یاد دلادیں۔ چناچہ ہم دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم آپ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے اور آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے، پھر آپ نے ہمیں جانور دے دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے بخدا! اگر اللہ کو منظور ہوا تو میں جب بھی کوئی قسم کھاؤں گا اور کسی دوسری چیز میں خیر دیکھوں گا تو اسی کو اختیار کر کے اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19558]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6623، م: 1649
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6623، م: 1649
حدیث نمبر: 19559 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، رَجُلٍ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ فُقْمَيْهِ وَفَرْجَهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اس چیز کی حفاظت کرلے جو اس کے منہ میں ہے (زبان) اور شرمگاہ تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19559]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن محمد ولاضطرابه فيه ولابهام شيخه فى الإسناد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن محمد ولاضطرابه فيه ولابهام شيخه فى الإسناد
حدیث نمبر: 19560 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عَوْنًا ، وَسَعِيد بن أبي بردةَ ، أَبَا بُرْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ عَوْنًا ، وَسَعِيد بن أبي بردةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَمُوتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا" ، قَالَ: فَاسْتَحْلَفَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: فَحَلَفَ لَهُ، قَالَ: فَلَمْ يُحَدِّثْنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ، وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَى عَوْنٍ قَوْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ابوبردہ نے حضرت عمربن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ کو اپنے والد صاحب کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی یہودی یا عیسائی کو جہنم میں داخل کردیتا ہے، ابوبردہ نے گزشتہ حدیث حضرت عمرعبدالعزیز رحمہ اللہ کو سنائی تو انہوں نے ابوبردہ سے اس اللہ کے نام کی قسم کھانے کے لئے کہا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ حدیث ان کے والد صاحب نے بیان کی ہے اور انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے اور سعید بن ابی بردہ، عوف کی اس بات کی تردید نہیں کرتے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19560]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2767
الحكم: إسناده صحيح، م: 2767
حدیث نمبر: 19561 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، غَالِبٍ التَّمَّارِ ، أَوْسَ بْنَ مَسْرُوقٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ مَسْرُوقٍ رَجُلًا مِنَّا، كَانَ أَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَغَزَا فِي خِلَافَتِهِ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ" ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ: عَشْرٌ عَشْرٌ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمام انگلیاں برابر ہوتی ہیں (دیت کے حوالے سے) یعنی ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19561]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أوس بن مسروق، وقد اختلف فيه على غالب التمار
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أوس بن مسروق، وقد اختلف فيه على غالب التمار
حدیث نمبر: 19562 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بِشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ سَمِعَ بِي مِنْ أُمَّتِي، أَوْ: يَهُودِيٌّ، أَوْ: نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ لَمْ يُؤْمِنْ بِي، دَخَلَ النَّارَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے متعلق سنے خواہ میرا امتی ہو، یہودی ہو یا عیسائی ہو اور مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19562]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سعيد بن جبير لم يسمع أبا موسى الأشعري
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سعيد بن جبير لم يسمع أبا موسى الأشعري
حدیث نمبر: 19563 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، رَجُلٌ ، أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبَاهُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُكْثِرُ زِيَارَةَ الْأَنْصَارِ خَاصَّةً وَعَامَّةً، فَكَانَ إِذَا زَارَ خَاصَّةً، أَتَى الرَّجُلَ فِي مَنْزِلِهِ، وَإِذَا زَارَ عَامَّةً، أَتَى الْمَسْجِدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خصوصیت اور عمومیت دونوں طریقوں پر انصار کے ساتھ کثرت سے ملاقات فرماتے تھے اگر خصوصیت کے ساتھ ملنا ہوتا تو متعلقہ آدمی کے گھر تشریف لے جاتے اور عمومی طور پر ملنا ہوتا تو مسجد میں تشریف لے جاتے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19563]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن أبى بكر بن أبى موسى
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن أبى بكر بن أبى موسى
حدیث نمبر: 19564 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَبُو زُبَيْدٍ ، مُطَرِّفٍ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ، فَأَعْتَقَهَا، وَتَزَوَّجَهَا، كَانَ لَهُ أَجْرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19564]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
الحكم: إسناده صحيح، خ: 97، م: 154