مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، أَبِي حَرِيزٍ ، أَبَا بُرْدَةَ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، فِي حَدِيثِ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَوْصَى أَبُو مُوسَى حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ، فَقَالَ: إِذَا انْطَلَقْتُمْ بِجِنَازَتِي، فَأَسْرِعُوا الْمَشْيَ، وَلَا يَتَّبِعُنِي مُجَمَّرٌ، وَلَا تَجْعَلُوا فِي لَحْدِي شَيْئًا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ التُّرَابِ، وَلَا تَجْعَلُوا عَلَى قَبْرِي بِنَاءً، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ حَالِقَةٍ، أَوْ سَالِقَةٍ، أَوْ خَارِقَةٍ، قَالُوا: أَوَسَمِعْتَ فِيهِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبردہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اپنے مرض الوفات میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے وصیت کرتے ہوئے فرمایا جب تم لوگ میرے جنازے کو لے روانہ ہو تو تیزی سے چلنا، انگیٹھی ساتھ لے کر نہ جانامیری قبر میں کوئی ایسی چیز نہ رکھنا جو میرے اور مٹی کے درمیان حائل ہو، میری قبر پر کچھ تعمیر نہ کرنا اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں ہر اس شخص سے بری ہوں جو بال نوچے، واویلا کرے اور گریبان چاک کرے لوگوں نے پوچھا کیا آپ نے اس حوالے سے کچھ سن رکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19547]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 104
الحكم: إسناده حسن، م: 104