بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 278
صفحہ 3 از 14
حدیث نمبر: 19525 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِيِّ ، وَيَزِيدُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ . وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ أَسْمَاءً، مِنْهَا مَا حَفِظْنَا، فَقَالَ:: " أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَالْمُقَفِّي، وَالْحَاشِرُ، وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ" ، قَالَ يَزِيدُ:" وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ، وَنَبِيُّ الْمَلْحَمَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اپنے کچھ نام بتائے جو ہمیں پہلے سے یاد اور معلوم نہ تھے چناچہ فرمایا کہ میں محمد ہوں، احمد، مقفی، حاشر اور نبی الرحمۃ ہوں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19525]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2355
الحكم: إسناده صحيح، م: 2355
حدیث نمبر: 19526 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ: رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ؟ قَالَ: " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان تک پہنچ نہیں پاتا تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19526]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6170، م: 2641
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6170، م: 2641
حدیث نمبر: 19527 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ وَهُوَ يَرْزُقُهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی تکلیف دہ بات کو سن کر اللہ سے زیادہ اس پر صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے لیکن وہ پھر بھی انہیں رزق دیتا ہے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19527]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7378، م: 2804
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7378، م: 2804
حدیث نمبر: 19528 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، رَجُلٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ"، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَمَا الطَّاعُونُ؟ قَالَ:" وَخْزُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ، وَفِي كُلٍّ شُهَدَاءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت " طعن اور طاعون " سے فناء ہوگی کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! طعن کا معنی تو ہم نے سمجھ لیا (کہ نیزوں سے مارنا) طاعون سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے دشمن جنات کے کچوکے اور دونوں صورتوں میں شہادت ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19528]
حکم دارالسلام
وهذا إسناد اختلف فيه على زياد بن علا قة
الحكم: وهذا إسناد اختلف فيه على زياد بن علا قة
حدیث نمبر: 19529 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَابْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ، وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کرلے اور دن میں اپنے ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کرلے یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوجاتا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19529]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2759
الحكم: إسناده صحيح، م: 2759
حدیث نمبر: 19530 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعٍ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ، وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ بِالنَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ بِاللَّيْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور چارباتیں بیان فرمائیں اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو نیند نہیں آتی اور نہ ہی نیند ان کی شایان شان ہے وہ ترازو کو جھکاتے اور اونچا کرتے ہیں رات کے اعمال دن کے وقت اور دن کے اعمال رات کے وقت ان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19530]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 179
الحكم: إسناده صحيح، م: 179
حدیث نمبر: 19531 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ:" يَعْمَلُ بِيَدِهِ، فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ، وَيَتَصَدَّقُ"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَفْعَلَ؟ قَالَ:" يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ"، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ:" يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ، أَوْ: بِالْعَدْلِ"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَفْعَلَ؟ قَالَ:" يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ کرنا واجب ہے کسی نے پوچھا یہ بتائیے کہ اگر کسی کے پاس کچھ نہ ہو تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے ہاتھ سے محنت کرے، اپنا بھی فائدہ کرے اور صدقہ بھی کرے، سائل نے پوچھا یہ بتائیے کہ اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت مند، فریادی کی مدد کر دے سائل نے پوچھا اگر کوئی شخص یہ بھی نہ کرسکے تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خیر یا عدل کا حکم دے سائل نے پوچھا اگر یہ بھی نہ کرسکے تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر کسی کو تکلیف پہنچانے سے اپنے آپ کو روک کر رکھے اس کے لئے یہی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19531]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1445، م: 1008
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1445، م: 1008
حدیث نمبر: 19532 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، صَالِحٍ الثَّوْرِيِّ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ صَالِحٍ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَعَلَّمَهَا، فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، وَأَدَّبَهَا، فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، وَأَعْتَقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ، وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِمَا جَاءَ بِهِ عِيسَى، وَمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَهُ أَجْرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے عمدہ تعلیم دلائے بہترین ادب سکھائے پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا، اسی طرح وہ غلام جو اپنے اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہو اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کرتا ہو یا اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو حضرت عیسیٰ کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اسے بھی دہرا اجرملے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19532]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
الحكم: إسناده صحيح، خ: 97، م: 154
حدیث نمبر: 19533 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19533]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6170، م: 2641
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6170، م: 2641
حدیث نمبر: 19534 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْأَبْطَحِ، فَقَالَ لِي:" أَحَجَجْتَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَبِمَ أَهْلَلْتَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَدْ أَحْسَنْتَ"، قَالَ: " طُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحِلَّ"، قَالَ: فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ، فَفَلَّتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ، قَالَ: فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ، حَتَّى كَانَ خِلَافَةُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا مُوسَى، أَوْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ بَعْدَكَ، قَالَ: فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا، فَلْيَتَّئِدْ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ، فَبِهِ فَأْتَمُّوا، قَالَ: فَقَدِمَ عُمَرُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ، حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اپنی قوم کے علاقے میں بھیج دیا، جب حج کاموسم قریب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حج کے لئے تشریف لے گئے میں نے بھی حج کی سعادت حاصل کی، میں جب حاضر خدمت میں ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے مجھ سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس! تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ میں نے عرض کیا " لبیک بحج باہلال کا ھلال النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہہ کر، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بہت اچھایہ بتاؤ کہ کیا اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جا کر بیت اللہ کا طواف کرو، صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور حلال ہوجاؤ۔ چناچہ میں چلا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کے مطابق کرلیا پھر اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا، اس نے " خطمی " سے میرا سر دھویا اور میرے سر کی جوئیں دیکھیں، پھر میں نے آٹھ دی الحج کو حج کا احرام باندھ لیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال تک لوگوں کو یہی فتویٰ دیتا رہا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی یہی صورت حال رہی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ایک دن میں حجر اسود کے قریب کھڑا ہوا تھا اور لوگوں کو یہی مسئلہ بتارہا تھا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور سرگوشی میں مجھ سے کہنے لگا کہ یہ فتویٰ دینے میں جلدی سے کام مت لیجئے کیونکہ امیرالمؤمنین نے مناسک حج کے حوالے سے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! جسے ہم نے مناسک حج کے حوالے سے کوئی فتویٰ دیا ہو وہ انتظار کرے کیونکہ امیرالمؤمنین آنے والے ہیں آپ ان ہی کی اقتداء کریں، پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے ان سے پوچھا اے امیرالمؤمنین! کیا مناسک حج کے حوالے سے آپ نے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اگر ہم کتاب اللہ کو لیتے ہیں تو وہ ہمیں اتمام کا حکم دیتی ہے اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کو لیتے ہیں تو انہوں نے قربانی کرنے تک احرام نہیں کھولا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19534]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1565، م: 1221
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1565، م: 1221
حدیث نمبر: 19535 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَبَكَتْ عَلَيْهِ أُمُّ وَلَدِهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ لَهَا: أَمَا بَلَغَكِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: قَالَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ سَلَقَ، وَحَلَقَ، وَخَرَقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان کی ام ولدہ رونے لگی جب انہیں افاقہ ہوا تو اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے پوچھا کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19535]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 104، يزيد بن أوس مجهول لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 104، يزيد بن أوس مجهول لكنه توبع
حدیث نمبر: 19536 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ سَمِعَ بِي مِنْ أُمَّتِي، أَوْ: يَهُودِيٌّ، أَوْ: نَصْرَانِيٌّ، فَلَمْ يُؤْمِنْ بِي، لَمْ يَدْخُلْ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے متعلق سنے خواہ میرا امتی ہو، یہودی ہو یا عیسائی ہو اور مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19536]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سعيد بن جبير لم يسمع أبا موسى الأشعري
الحكم: صحيح لغيره وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سعيد بن جبير لم يسمع أبا موسى الأشعري
حدیث نمبر: 19537 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، رَجُلٌ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ أَسْوَدُ طَوِيلٌ، قَالَ: جَعَلَ أَبُو التَّيَّاحِ يَنْعَتُهُ، أَنَّهُ قَدِمَ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ، فَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو مُوسَى ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْشِي، فَمَالَ إِلَى دَمْثٍ فِي جَنْبِ حَائِطٍ، فَبَالَ، ثُمَّ قَالَ:" كَانَ بَنَو إِسْرَائِيلَ إِذَا بَالَ أَحَدُهُمْ، فَأَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ بَوْلِهِ، يَتْبَعُهُ، فَقَرَضَهُ بِالْمِقْرَاضَيْنِ"، وَقَالَ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ، فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالتیاح کے طویل سیاہ فام آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ آیا انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب میں لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ جارہے تھے کہ ایک باغ کے پہلو میں نرم زمین کے قریب پہنچ کر پیشاب کیا اور فرمایا بنی اسرائیل میں جب کوئی شخص پیشاب کرتا اور اس کے جسم پر معمولی سا پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتا تھا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کا ارادہ کرے تو اس کے لئے نرم زمین تلاش کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19537]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: إذا أراد أحدكم أن يبول فليرتد لبوله، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الراوي عنه أبو التياح
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: إذا أراد أحدكم أن يبول فليرتد لبوله، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الراوي عنه أبو التياح
حدیث نمبر: 19538 مسند احمد
بَهْزٌ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ " إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ"، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ رَثُّ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُوسَى، آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ السَّلَامَ، ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ، فَأَلْقَاهُ، ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ، فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکربن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دشمن کے لشکرکے سامنے میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے میں ہیں یہ سن کر ایک پراگندہ ہیئت آدمی لوگوں میں سے کھڑا ہو اور کہنے لگا اے ابوموسیٰ! کیا یہ حدیث آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس پہنچا اور انہیں آخری مرتبہ سلام کیا اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینکی اور تلوار لے کر چل پڑا اور اس شدت کے ساتھ لڑا کہ بالآخر شہید ہوگیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19538]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1902
الحكم: إسناده صحيح، م: 1902
حدیث نمبر: 19539 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، فَبَكَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوا عَنْ ذَلِكَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَتْ: مَنْ حَلَقَ، أَوْ خَرَقَ، أَوْ سَلَقَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان کی ام ولدہ رونے لگی جب انہیں افاقہ ہوا تو اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے پوچھا کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19539]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 106، يزيد بن أوس مجهول لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 106، يزيد بن أوس مجهول لكنه توبع
حدیث نمبر: 19540 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَوْفٍ ، خَالِدٍ الْأَحْدَبِ ، صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، فَبَكَوْا عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِمَّنْ حَلَقَ، أَوْ خَرَقَ، أَوْ سَلَقَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان کی ام ولدہ رونے لگی جب انہیں افاقہ ہوا تو اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے پوچھا کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19540]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 104
الحكم: إسناده صحيح، م: 104
حدیث نمبر: 19541 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، وَحَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، أَبِي كِنَانَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ . وَحَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي عَوْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ وَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْ الْبَابِ، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ؟"، قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَيْرُ فُلَانٍ ابْنِ أُخْتِنَا، فَقَالَ: " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا دَامُوا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا، وَإِذَا قَسَمُوا أَقْسَطُوا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گھرکے دروازے پر پہنچے جہاں کچھ قریشی جمع تھے اور دروازے کے دونوں کواڑ پکڑ کر پوچھا کہ کیا اس گھر میں قریشیوں کے علاوہ بھی کوئی ہے؟ کسی نے جواب دیا ہمارا فلاں بھانجا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے پھر فرمایا حکومت قریش ہی میں رہے گی جب تک ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کرتے رہیں فیصلہ کریں تو انصاف کریں تقسیم کریں تو عدل سے کام لیں جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19541]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: فمن لم يفعل ذلك منهم….. إلى آخر الحديث، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى كنانة
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: فمن لم يفعل ذلك منهم….. إلى آخر الحديث، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى كنانة
حدیث نمبر: 19542 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مُوسَى، وَعَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَلَمْ تَسْمَعْ لِقَوْلِ عَمَّارٍ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدْ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ مَسَحَ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِصَاحِبَتِهَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ" ، لَمْ يُجِزْ الْأَعْمَشُ الْكَفَّيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کیا آپ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں سنی کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا مجھ پر دوران سفر غسل واجب ہوگیا مجھے پانی نہیں ملا تو میں اسی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا جیسے چوپائے ہوتے ہیں پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس واقعے کا بھی ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے تو صرف یہی کافی تھا یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین پر اپنا ہاتھ مارا پھر دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر ملا اور چہرے پر مسح کرلیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19542]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 347، م: 368
الحكم: إسناده صحيح، خ: 347، م: 368
حدیث نمبر: 19543 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، فَأَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ آدمی اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کے لئے لڑتا ہے ایک آدمی قومی غیرت کے جذبے سے قتال کرتا ہے اور ایک آدمی ریاکاری کے لئے قتال کرتا ہے ان میں سے اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے وہی اللہ کے راستہ میں قتال کرنے والا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19543]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
الحكم: إسناده صحيح، خ: 123، م: 1904
حدیث نمبر: 19544 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، أَبُو بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا، وَأَبَا مُوسَى إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور انہیں حکم کہ لوگوں کو قرآن سکھائیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19544]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن