بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 278
صفحہ 5 از 14
حدیث نمبر: 19565 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، الْمُطَّلِبِ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً، فَسُرَّ بِهَا، وَعَمِلَ سَيِّئَةً، فَسَاءَتْهُ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کوئی نیکی کرے اور اس پر اسے خوشی ہو اور کوئی گناہ ہونے پر غم ہو تو وہ مؤمن ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19565]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب لا يعرف له سماع من الصحابة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب لا يعرف له سماع من الصحابة
حدیث نمبر: 19566 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى بْنِ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى بْنِ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ، قَالَ: فَانْتَظَرْنَا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا؟"، قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْنَا: نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ، قَالَ:" أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ" ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ: وَكَانَ كَثِيرًا مِمَّا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: " النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ، فَإِذَا ذَهَبَتْ النُّجُومُ، أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبْتُ، أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي، أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نماز مغرب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ ادا کی پھر سوچا کہ تھوڑی دیر انتظار کرلیتے ہیں اور عشاء کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پڑھیں گے چناچہ ہم انتظار کرتے رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تشریف لائے تو پوچھا کہ تم اس وقت یہیں پر ہو؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں! یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم نے سوچا کہ عشاء کی نماز آپ کے ساتھ ہی پڑھیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بہت خوب پھر آسمان کی طرف سر اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکثر آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھتے ہی تھے اور فرمایا ستارے آسمان میں امن کے علامت ہیں جب ستارے ختم ہوجائیں گے تو آسمان پر وہ قیامت آجائے گی جس کا وعدہ کیا گیا ہے اور میں اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے لئے امن کی علامت ہوں جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ رضی اللہ عنہ پر وہ آفت آجائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میری امت کے لئے امن کی علامت ہیں جو وہ بھی ختم ہوجائیں گے تو میری امت پر وہ آزمائش آجائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19566]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2531
الحكم: إسناده صحيح، م: 2531
حدیث نمبر: 19567 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأُرْدُنِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُعَيْمٍ الْقَيْنِيِّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ الْأَشْعَرِيُّ ، أَبَا مُوسَى
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأُرْدُنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُعَيْمٍ الْقَيْنِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ الْأَشْعَرِيُّ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى حَدَّثَهُمْ، قَالَ: لَمَّا هَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَوَازِنَ بِحُنَيْنٍ، عَقَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ عَلَى خَيْلِ الطَّلَبِ، فَطَلَبَ، فَكُنْتُ فِيمَنْ طَلَبَهُمْ، فَأَسْرَعَ بِهِ فَرَسُهُ، فَأَدْرَكَ ابْنَ دُرَيْدِ بْنِ الصِّمَّةِ، فَقَتَلَ أَبَا عَامِرٍ، وَأَخَذَ اللِّوَاءَ، وَشَدَدْتُ عَلَى ابْنِ دُرَيْدٍ، فَقَتَلْتُهُ، وَأَخَذْتُ اللِّوَاءَ، وَانْصَرَفْتُ بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْمِلُ اللِّوَاءَ، قَالَ:" يَا أَبَا مُوسَى، قُتِلَ أَبُو عَامِرٍ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ عُبَيْدَكَ عُبَيْدًا أَبَا عَامِرٍ، اجْعَلْهُ مِنَ الْأَكْثَرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حنین میں بنو ہوازن کو شکست سے ہمکنار کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا پیچھا کرنے کے لئے سواروں کا ایک دستہ ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ کی زیرقیادت جھنڈے کے ساتھ روانہ کیا وہ روانہ ہوگئے ان کے ساتھ جانے والوں میں میں بھی شامل تھا انہوں نے اپنا گھوڑا برق رفتاری سے دوڑانا شروع کردیا راستے میں ابن ورید بن صمہ سے آمنا سامنا ہوا تو اس نے حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا اور جھنڈے کو اپنے قبضے میں کرلیا یہ دیکھ کر میں نے ابن ورید پر انتہائی سخت حملہ کیا اور اسے قتل کرکے جھنڈا حاصل کرلیا اور لوگوں کے ساتھ واپس آگیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19567]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بغير هذه السياقة، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن نعيم، ولا نقطاعه، رواية الضحاك عن أبى موسى مرسلة الوليد بن مسلم يدلس ويسوي لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح بغير هذه السياقة، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن نعيم، ولا نقطاعه، رواية الضحاك عن أبى موسى مرسلة الوليد بن مسلم يدلس ويسوي لكنه توبع
حدیث نمبر: 19568 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، أَبُو التَّيَّاحِ ، شَيْخٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ شَيْخٍ لَهُمْ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى دَمْثٍ إِلَى جَنْبِ حَائِطٍ، فَبَالَ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِأَبِى التَّيَّاحِ: جَالِسًا؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمْ الْبَوْلُ، قَرَضُوهُ بِالْمِقْرَاضَيْنِ، فَإِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ جارہے تھے کہ ایک باغ کے پہلو میں نرم زمین کے قریب پہنچ کر پیشاب کیا اور فرمایا بنی اسرائیل میں جب کوئی شخص پیشاب کرتا اور اس کے جسم پر معمولی سا پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتا تھا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کا ارادہ کرے تو اس کے لئے نرم زمین تلاش کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19568]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: إذا أراد أحدكم أن يبول فليرتد لبوله، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الراوي عنه أبوالتياح
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: إذا أراد أحدكم أن يبول فليرتد لبوله، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الراوي عنه أبوالتياح
حدیث نمبر: 19569 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، أَبِي حَرِيزٍ ، أَبَا بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَقَاطِعُ رَحِمٍ، وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ، وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ، سَقَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ نَهْرِ الْغُوطَةِ"، قِيلَ: وَمَا نَهْرُ الْغُوطَةِ؟ قَالَ:" نَهْرٌ يَجْرِي مِنْ فُرُوجِ الْمُومِسَاتِ، يُؤْذِي أَهْلَ النَّارِ رِيحُ فُرُوجِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہ ہوسکیں گے عادی شرابی، قطع رحمی کرنے والا اور جادو کی تصدق کرنے والا اور جو شخص عادی شرابی ہونے کی حالت میں مرجائے، اللہ اسے " نہر غوطہ " کا پانی پلائے گا! کسی نے پوچھا نہر غوطہ سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ نہر جو فاحشہ عورتوں کی شرمگاہوں سے جاری ہوگی اور ان کی شرمگاہوں کی بدبو تمام اہل جہنم کو اذیت پہنچائے گی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19569]
حکم دارالسلام
قوله منه :ثلالثة…ومصدق بالسحر،حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جرير
الحكم: قوله منه :ثلالثة…ومصدق بالسحر،حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جرير
حدیث نمبر: 19570 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: وُلِدَ لِي غُلَامٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ، وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " ابراہیم " اس کا نام رکھا اور کھجور سے اسے گھٹی دی [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19570]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5467، م: 2154
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5467، م: 2154
حدیث نمبر: 19571 مسند احمد
وَقَالَ: احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ عَلَى أَهْلِهِ، فَحُدِّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَأْنِهِمْ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هَذِهِ النَّارُ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُمْ، فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی گھر میں آگ لگ گئی اور تمام اہل خانہ جل گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب یہ بات بتائی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ آگ تمہاری دشمن ہے جب تم سویا کرو تو اسے بجھادیا کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19571]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6294، م: 2016
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6294، م: 2016
حدیث نمبر: 19572 مسند احمد
قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ، قَالَ: " بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی اپنے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو کسی کام کے حوالے سے کہیں بھیجتے تو فرماتے خوشخبری دیا کرو نفرت نہ پھیلایا کرو، آسانیاں پیدا کیا کرو، مشکلات پیدانہ کیا کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19572]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6124، م: 1732
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6124، م: 1732
حدیث نمبر: 19573 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ، كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ الْأَرْضَ، فَكَانَتْ مِنْهُ طَائِفَةٌ قَبِلَتْ، فَأَنْبَتَتْ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ، وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتْ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا نَاسًا، فَشَرِبُوا، فَرَعَوْا، وَسَقَوْا وَزَرَعُوا وَأَسْقَوْا، وَأَصَابَتْ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً، وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَنَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا بَعَثَنِي بِهِ، وَنَفَعَ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت اور علم دے کر بھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی سی ہے جو زمین پر بر سے اب زمین کا کچھ حصہ تو اسے قبول کرلیتا ہے اور اس سے گھاس اور چارہ کثیر مقدار میں اگتا ہے کچھ حصہ قحط زدہ ہوتا ہے جو پانی کو روک لیتا ہے اور جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے چناچہ لوگ اسے پیتے ہیں اور سیراب ہوتے ہیں جانوروں کو پلاتے ہیں کھیتی باڑی میں استعمال کرتے ہیں اور دوسروں کو پلاتے ہیں اور کچھ حصہ بالکل چٹیل میدان ہوتا ہے جو پانی کو روکتا ہے اور نہ ہی چارہ اگاتا ہے یہی مثال ہے اس شخص کی جو اللہ کے دین کی سمجھ حاصل کرتا ہے اور اللہ اس کو اس سے فائدہ پہنچاتا ہے جو اس نے مجھے دے کر بھیجا ہے لوگوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچتا ہے اور وہ علم حاصل کرتا اور اسے پھیلاتا ہے اور یہی مثال ہے اس شخص کی جو اس کے لئے سرتک نہیں اٹھاتا اور اللہ کی اس ہدایت کو قبول نہیں کرتا جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19573]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 79، م: 2282
الحكم: إسناده صحيح، خ: 79، م: 2282
حدیث نمبر: 19574 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ ، أَبِي مِجْلَزٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَتَوَضَّأَ، وَصَلَّى، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي، وَوَسِّعْ عَلَيَّ فِي ذَاتِي، وَبَارِكْ لِي فِي رِزْقِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لے کر آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور دعاء پڑھتے ہوئے فرمایا اے اللہ! میرے دین کی اصلاح فرما، مجھ پر کشادگی فرما اور میرے رزق میں برکت عطاء فرما۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19574]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، فى إسناده نظر، سماع أبى مجلز من أبى موسى فيه نظر، وهو يرسل عمن لم يلقه
الحكم: حسن لغيره، فى إسناده نظر، سماع أبى مجلز من أبى موسى فيه نظر، وهو يرسل عمن لم يلقه
حدیث نمبر: 19575 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَالْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَالْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19575]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19576 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْخَيْمَةُ دُرَّةٌ مُجَوَّفَةٌ، طُولُهَا فِي السَّمَاءِ سِتُّونَ مِيلًا، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا لِلْمُؤْمِنِ أَهْلٌ لَا يَرَاهُمْ الْآخَرُونَ" ، وَرُبَّمَا قَالَ عَفَّانُ:" لِكُلِّ زَاوِيَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت کا ایک خیمہ ایک جوف دارموتی سے بنا ہوگا آسمان میں جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی اور اس کے ہر کونے میں ایک مسلمان کے جو اہل خانہ ہوں گے، دوسرے کونے والے انہیں دیکھ نہ سکیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19576]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3243، م: 2838
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3243، م: 2838
حدیث نمبر: 19577 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدٍ، أَوْ سُوقٍ، أَوْ مَجْلِسٍ، وَبِيَدِهِ نِبَالٌ، فَلْيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا" . قَالَ أَبُو مُوسَى: فَوَاللَّهِ مَا مِتْنَا حَتَّى سَدَّدَهَا بَعْضُنَا فِي وُجُوهِ بَعْضٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو لگ جائے اور تم کسی کو اذیت پہنچاؤ یا زخمی کردو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19577]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2615
الحكم: إسناده صحيح، م: 2615
حدیث نمبر: 19578 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ثَابِتٍ يَعْنِي ابْنَ عُمَارَةَ ، غُنَيْمٍ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ يَعْنِي ابْنَ عُمَارَةَ ، عَنْ غُنَيْمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَعْطَرَتْ الْمَرْأَةُ، فَخَرَجَتْ عَلَى الْقَوْمِ لِيَجِدُوا رِيحَهَا، فَهِيَ كَذَا وَكَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی عورت عطر لگا کر کچھ لوگوں کے پاس سے گذرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی ایسی ہے (بدکا رہے) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19578]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 19579 مسند احمد
يَحْيَى ، عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبُو عُثْمَانَ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ"، أَو" مَا تَدْرِي مَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے) [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19579]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
حدیث نمبر: 19580 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، مُحَمَّدُ ابْنُ عُبَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ . وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص نردشیر (بارہ ٹانی) کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19580]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد منقطع، سعيد بن أبى هند لم يلق أبا موسى الأشعري
الحكم: حسن، وهذا إسناد منقطع، سعيد بن أبى هند لم يلق أبا موسى الأشعري
حدیث نمبر: 19581 مسند احمد
يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبَا مُوسَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ، فَرَجَعَ، فَقَالَ: أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ آنِفًا؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَاطْلُبُوهُ، قَالَ: فَطَلَبُوهُ، فَدُعِيَ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَرَجَعْتُ، كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، فَقَالَ: لَتَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ بِالْبَيِّنَةِ، أَوْ لَأَفْعَلَنَّ، قَالَ: فَأَتَى مَسْجِدًا، أَوْ مَجْلِسًا لِلْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: لَا يَشْهَدُ لَكَ إِلَّا أَصْغَرُنَا، فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَشَهِدَ لَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَفِيَ هَذَا عَلَيَّ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبید بن عمیررحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ سلام کیا، انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے تھوڑی دیر بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابھی میں نے عبداللہ بن قیس کی آواز نہیں سنی تھی؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے قاصد کو بھیجا کہ واپس کیوں چلے گئے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے تین مرتبہ اجازت لی تھی جب مجھے اجازت نہیں ملی تو میں واپس چلا گیا ہمیں اسی کا حکم دیا جاتا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزادوں گا، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں پہنچے وہ لوگ کہنے لگے کہ اس بات کی شہادت تو ہم میں سب سے چھوٹا بھی دے سکتا ہے چناچہ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ چلے گئے اور اس کی شہادت دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ حکم مجھ پر مخفی رہا مجھے بازاروں کے معاملات نے اس سے غفلت میں رکھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19581]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7353، م: 2153
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7353، م: 2153
حدیث نمبر: 19582 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ، فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ، جَاءَ مِنْهُمْ الْأَبْيَضُ، وَالْأَحْمَرُ، وَالْأَسْوَدُ، وَبَيْنَ ذَلِكَ، وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ، وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ، وَبَيْنَ ذَلِكَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا تھا جو اس نے ساری زمین سے اکٹھی کی تھی یہی وجہ سے کہ بنو آدم زمین ہی کی طرح ہیں چناچہ کچھ سفید ہیں، کچھ سرخ ہیں کچھ سیاہ فام ہیں اور کچھ اس کے درمیان، اسی طرح کچھ گندے ہیں اور کچھ عمدہ، کچھ نرم ہیں اور کچھ غمگین وغیرہ۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19582]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19583 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَوْفٌ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَشْعَرِيَّ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19584 مسند احمد
وَكِيعٌ ، بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّهُ سَأَلَهُ سَائِلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا أَحَبَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی نے کچھ مانگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اس کی سفارش کرو، تمہیں اجر ملے گا اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر وہی فیصلہ جاری فرمائے گا جو اسے محبوب ہوگا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19584]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6028
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6028