بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 19497
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 19497
حدیث نمبر: 19497 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ، وَأَبُو مُوسَى جَالِسَيْنِ، وَهُمَا يَتَذَاكَرَانِ الْحَدِيثَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامٌ يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ" ، وَالْهَرْجُ: الْقَتْلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے حدیث کا مذاکرہ کررہے تھے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے جو زمانہ آئے گا اس میں علم اٹھالیا جائے گا اور جہالت اترنے لگے گی اور " ہرج " کی کثرت ہوگی جس کا معنی قتل ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19497]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7065، م: 2672
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7065، م: 2672
← پچھلی حدیث (19496) باب پر واپس اگلی حدیث (19498) →