عَبْدُ الصَّمَدِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ الْمَعْرُوفَ وَالْمُنْكَرَ خَلِيقَتَانِ يُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَمَّا الْمَعْرُوفُ فَيُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ، وَيُوعِدُهُمْ الْخَيْرَ، وَأَمَّا الْمُنْكَرُ، فَيَقُولُ: إِلَيْكُمْ إِلَيْكُمْ، وَمَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُ إِلَّا لُزُومًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے نیکی اور برائی دو مخلوق ہیں جنہیں قیامت کے دن لوگوں کے سامنے کھڑا کیا جائے گا نیکی اپنے ساتھیوں کو خوشخبری دے گی اور ان سے خیر کا وعدہ کرے گی اور برائی کہے گی کہ مجھ سے دور رہو مجھ سے دور رہو لیکن وہ اس سے چمٹے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19487]
حکم دارالسلام
هذا إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من أبى موسي
الحكم: هذا إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من أبى موسي