مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، الْأَجْلَحُ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً، فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ؟ قَالَ:" وَمَا هِيَ؟"، قُلْتُ: الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ، فَلَمْ يَدْرِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هُوَ، فَقَالَ:" مَا الْبِتْعُ وَمَا الْمِزْرُ؟"، قَالَ: أَمَّا الْبِتْعُ، فَنَبِيذُ الذُّرَةِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعُودَ بِتْعًا، وَأَمَّا الْمِزْرُ، فَنَبِيذُ الْعَسَلِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَشْرَبَنَّ مُسْكِرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں میں ان میں سے کون سا مشروب پیوں اور کون ساچھوڑوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان مشروبات کے نام پوچھے میں نے بتایا " تبع اور مزر " لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمجھ نہیں پائے کہ یہ کیسے مشروبات ہوتے ہیں اس لئے پوچھا کہ تبع اور مزر کسے کہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ تبع تو جو کی اس نبیذ کو کہتے جسے خوب پکایا جاتا ہے اور مزر شہد کی نبیذ کو کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19598]
حکم دارالسلام
قوله: لا تشربن مسكرا صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مصعب بن سلام. أخطأ الأجلح فى تفسير البتع والمزر
الحكم: قوله: لا تشربن مسكرا صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مصعب بن سلام. أخطأ الأجلح فى تفسير البتع والمزر