بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 19590
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 19590
حدیث نمبر: 19590 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، لِأَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ أَخًا لِأَبِي مُوسَى كَانَ يَتَسَرَّعُ فِي الْفِتْنَةِ، فَجَعَلَ يَنْهَاهُ، وَلَا يَنْتَهِي، فَقَالَ: إِنْ كُنْتُ أَرَى أَنَّهُ سَيَكْفِيكَ مِنِّي الْيَسِيرُ، أَوْ قَالَ: مِنَ الْمَوْعِظَةِ دُونَ مَا أَرَى، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ"، فَقِيلَ: هَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ:" إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خواجہ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی تھا جو بڑھ چڑھ کر فتنے کے کاموں میں حصہ لیتا تھا وہ اسے منع کرتے لیکن وہ باز نہ آتا وہ اس سے فرماتے اگر میں یہ سمجھتا کہ تمہیں سی نصیحت بھی کافی ہوسکتی ہے جو میری رائے میں اس سے کم ہوتی (تب بھی میں تمہیں نصیحت کرتا) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آجاتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19590]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى موسي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى موسي
← پچھلی حدیث (19589) باب پر واپس اگلی حدیث (19591) →