بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 171
صفحہ 6 از 9
حدیث نمبر: 17391 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبَا سَعْيدٍ الْأَعْمَى ، عُقْبَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعْيدٍ الْأَعْمَى ، يُحَدِّثُ عَطَاءً، قَالَ: رَحَلَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، فَأَتَى مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: دُلُّونِي، فَأَتَى عُقْبَةَ ، فَقَالَ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَتَرَ عَلَى مُؤْمِنٍ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، فَأَتَى رَاحِلَتَهُ فَرَكِبَ وَرَجَعَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سفر کر کے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، لیکن وہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ مجھے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کا پتہ بتادو، چنانچہ وہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ ہمیں وہ حدیث سنائیے جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خود سنی ہے اور اب کوئی شخص اس کی سماعت کرنے والا باقی نہیں رہا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں اپنے بھائی کے کسی عیب کو چھپالے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈال دے گا؟ یہ حدیث سن کر وہ اپنی سواری کے پاس آئے، اس پر سوار ہوئے اور واپس چلے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17391]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى سعيد
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى سعيد
حدیث نمبر: 17392 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، الْقَاسِمِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتَهُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا؟" قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" فَلَمَّا نَزَلَ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ، قَالَ:" كَيْفَ تَرَى يَا عُقْبَةُ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری کے آگے آگے چل رہا تھا، اچانک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا م ہیں تمہیں ایسی دو سورتیں نہ سکھا دوں، جن کی مثل نہ ہو؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھ گئے اور نماز فجر میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر میرے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا اے عقبہ! تم کیا سمجھے؟ (یہ دونوں سورتیں سوتے وقت بھی پڑھا کرو اور بیدار ہو کر بھی پڑھا کرو)۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17392]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 814
الحكم: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17393 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، رَبِيعَةَ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَبُو عُثْمَانَ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . قَالَ: وحَدَّثَهُ أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الْإِبِلِ، فَجَاءَتْ نَوْبَتِي فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مُقْبِلًا عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ"، فَقُلْتُ: مَا أَجْوَدَ هَذِهِ؟ فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدَيَّ يَقُولُ: الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ مِنْهَا، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ جِئْتَ آنِفًا، قَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ، فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ اپنے کام خود کرتے تھے اور آپس میں اونٹوں کو چرانے کی باری مقرر کرلیتے تھے، ایک دن جب میری باری آئی اور میں انہیں دوپہر کے وقت لے کر چلا، تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر بیان کرتے ہوئے دیکھا، میں نے اس موقع پر جو کچھ پایا، وہ یہ تھا کہ تم میں سے جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر کھڑا ہو کردو رکعتیں پڑھے جن میں وہ اپنے دل اور چہرے کے ساتھ متوجہ رہے تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور اس کے سارے گناہ معاف ہوگئے۔ میں نے کہا کہ یہ کتنی عمدہ بات ہے، اس پر مجھ سے آگے والے آدمی نے کہا کہ عقبہ! اس سے پہلے والی بات اس سے بھی عمدہ تھی، میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، میں نے پوچھا اے ابو حفص! وہ کیا بات ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے آنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تم میں سے جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر یوں کہے اشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ۔ تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے، داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17393]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 234
الحكم: حديث صحيح، م: 234
حدیث نمبر: 17394 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، لَيْثٌ ، قَبَاثُ بْنُ رَزِينٍ ، عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا قَبَاثُ بْنُ رَزِينٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَدَارَسُ الْقُرْآنَ، قَالَ: " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْتَنُوهُ"، قَالَ قَبَاثٌ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ:" وَتَغَنُّوا بِهِ، فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْمَخَاضِ فِي عُقُلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، ہم نے جواب دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کتاب اللہ کا علم حاصل کیا کرو، اسے مضبوطی سے تھامو اور ترنم کے ساتھ اسے پڑھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، یہ قرآن باڑے میں بندھے ہوئے اونٹوں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17394]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد جيد
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 17395 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ الْخَوْلَانِيِّ ، كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، دُخَيْنٍ ، عُقْبَةُ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ دُخَيْنٍ كَاتِبِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعُقْبَةَ: إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَأَنَا دَاعٍ لَهُمْ الشُّرَطَ فَيَأْخُذُونَهُمْ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ، وَلَكِنْ عِظْهُمْ وَتَهَدَّدْهُمْ، قَالَ: فَفَعَلَ فَلَمْ يَنْتَهُوا، قَالَ: فَجَاءَهُ دُخَيْنٌ، فَقَالَ: إِنِّي نَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا، وَأَنَا دَاعٍ لَهُمْ الشُّرَطَ، فَقَالَ عُقْبَةُ : وَيْحَكَ، لَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُؤْمِنٍ، فَكَأَنَّمَا اسْتَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
دخین جو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کا کاتب تھا، سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمارے پڑوسی شراب پیتے ہیں، میں پولیس کو بلانے جا رہا ہوں تاکہ وہ آکر انہیں پکڑ لے، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کرو، بلکہ انہیں سمجھاؤ اور ڈراؤ،۔ کاتب نے ایسا ہی کیا لیکن وہ باز نہ آئے، چنانچہ دخین دوبارہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئے اور اب تو میں پولیس کو بلا کر رہوں گا، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا افسوس! ایسا مت کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے، گویا وہ کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو بچا لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17395]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطراب فى إسناده، ولجهالة أبى الهيثم
الحكم: إسناده ضعيف لاضطراب فى إسناده، ولجهالة أبى الهيثم
حدیث نمبر: 17396 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ:" الْحَمْوُ الْمَوْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے پاس جانے سے اپنے آپ کو بچاؤ ایک انصاری نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دیور کا کیا حکم ہے؟ فرمایا دیور تو موت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17396]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5232، م: 2172
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5232، م: 2172
حدیث نمبر: 17397 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکلے اور اہل احد کی قبروں پر پہنچ کر نماز جنازہ پڑھی، پھر واپس آکر منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا میں تمہارا انتظار کروں گا اور میں تمہارے لئے گواہی دوں گا، واللہ میں اس وقت بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، یاد رکھو! مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں، بخدا! مجھے تمہارے متعلق یہ اندیشہ نہیں ہے کہ میرے پیچھے تم شرک کرنے لگو گے، بلکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا میں منہمک ہو کر ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگو گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17397]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1344، م: 2296
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1344، م: 2296
حدیث نمبر: 17398 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَيْرَتَانِ: إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ، وَمَخِيلَتَانِ: إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ، الْغَيْرَةُ فِي الرَّمْيَةِ يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِهِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ، وَالْمَخِيلَةُ إِذَا تَصَدَّقَ الرَّجُلُ يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَالْمَخِيلَةُ فِي الْكِبْرِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا غیر کی دو قسمیں ہیں جن میں سے ایک اللہ تعالیٰ کو پسند اور دوسری ناپسند ہے اور فخر کی بھی دو قسمیں ہیں جن میں سے ایک اللہ تعالیٰ کو پسند اور دوسری ناپسند ہے، شک کے موقع پر غیرت اللہ کو پسند ہے، غیر اللہ کے معاملے غیرت اللہ کو ناپسند ہے، صدقہ کرنے والے آدمی کا فخر اللہ کو پسند ہے اور تکبر کا فخر اللہ کو ناپسند ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17398]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن زيد، ووهم معمر فى هذا الإسناد، فقال: زيد بن سلام، والصواب: أبو سلام
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن زيد، ووهم معمر فى هذا الإسناد، فقال: زيد بن سلام، والصواب: أبو سلام
حدیث نمبر: 17399 مسند احمد
وَقَالَ: " ثَلَاثٌ مُسْتَجَابٌ لَهُمْ دَعْوَتُهُمْ الْمُسَافِرُ، وَالْوَالِدُ، وَالْمَظْلُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا تین قسم کے لوگ مستجاب الدعوات ہوتے ہیں، مسافر، والد اور مظلوم۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17399]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وإسناده ضعيف كسابقه
الحكم: حسن لغيره، وإسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 17400 مسند احمد
وَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّةَ ثَلَاثَةً صَانِعَهُ، وَالْمُمِدَّ بِهِ، وَالرَّامِيَ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا ایک تو اسے بنانے والا دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17400]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 17401 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْفَرَجُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ ، أَبِي عَلِيٍّ الْمِصْرِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْمِصْرِيِّ ، قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، فَحَضَرَتْنَا الصَّلَاةُ، فَأَرَدْنَا أَنْ يَتَقَدَّمَنَا، قَالَ: قُلْنَا: أَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَتَقَدَّمُنَا! قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَمَّ قَوْمًا، فَإِنْ أَتَمَّ فَلَهُ التَّمَامُ وَلَهُمْ التَّمَامُ، وَإِنْ لَمْ يُتِمَّ، فَلَهُمْ التَّمَامُ وَعَلَيْهِ الْإِثْمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو علی ہمدانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سفر پر روانہ ہوا، ہمارے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر ہوں، آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہیں، لہذا آپ ہماری امامت کیجئے، انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص لوگوں کی امامت کرے، بروقت اور مکمل نماز پڑھائے تو اسے بھی ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی اور جو شخص اس میں کوتاہی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، مقتدیوں پر نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17401]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف فرج بن فضالة، وعبدالله بن عامر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف فرج بن فضالة، وعبدالله بن عامر
حدیث نمبر: 17402 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطُكُمْ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمْ الْحَوْضُ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَلَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا أَوْ قَالَ: تَكْفُرُوا وَلَكِنْ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکلے اور اہل احد کی قبروں پر پہنچ کر نماز جنازہ پڑھی، پھر واپس آکر منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا میں تمہارا انتظار کروں گا اور میں تمہارے لئے گواہی دوں گا، واللہ میں اس وقت بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، یاد رکھو! مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں، بخدا! مجھے تمہارے متعلق یہ اندیشہ نہیں ہے کہ میرے پیچھے تم شرک کرنے لگو گے، بلکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا میں منہمک ہو کر ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگو گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17402]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4042، م: 2296
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4042، م: 2296
حدیث نمبر: 17403 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، أَبُو عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيُّ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَانَتْ وَقَالَ مَرَّةً: مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ، فَأَطْعَمَهُنَّ وَسَقَاهُنَّ وَكَسَاهُنَّ مِنْ جِدَّتِهِ، كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی تین بچیاں ہوں اور وہ ثابت قدمی کے ساتھ انہیں محنت کر کے کھلائے پلائے اور پہنائے تو وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17403]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17404 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَيْوَةُ ، خَالِدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيمَةً، فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ تَعَلَّقَ وَدَعَةً، فَلَا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تمیمہ (تعویذ) لٹکائے، اللہ اس کے ارادے کو تام (مکمل) نہ فرمائے اور جو ودعہ (سمندر پار سے لائی جانے والی سفید چیز جو نظر بد کے اندیشے سے بچوں کے گلے میں لٹکائی جاتی ہے) لٹکائے، اللہ اسے سکون عطاء نہ فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17404]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن عبيد، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن عبيد، وقد توبع
حدیث نمبر: 17405 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَيْوَةُ ، بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنَّ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْ كَانَ مِنْ بَعْدِي نَبِيٌّ، لَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17405]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17406 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَيْوَةُ ، بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنَّ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَهْلُ الْيَمَنِ أَرَقُّ قُلُوبًا، وَأَلْيَنُ أَفْئِدَةً، وَأَنْجَعُ طَاعَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل یمن رقیق القلب، نرم دل اور خوب اطاعت گذار ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17406]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: «وأنجع طاعة» ، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: «وأنجع طاعة» ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17407 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَيْوَةُ ، بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، شُعَيْبَ بْنَ زُرْعَةَ ، عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ زُرْعَةَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ: " لَا تُخِيفُوا أَنْفُسَكُمْ أَوْ قَالَ: الْأَنْفُسَ" فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا نُخِيفُ أَنْفُسَنَا؟ قَالَ:" الدَّيْنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے آپ کو پرامن ہونے کے بعد خطرے میں مبتلا نہ کیا کرو، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کیسے؟ فرمایا قرض لے کر۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17407]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17408 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ ، أَبِي ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ أَوْ الْعَقِيقِ، فَيَأْتِيَ كُلَّ يَوْمٍ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ، فَيَأْخُذَهُمَا فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟" قَالَ: قُلْنَا: كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ يُحِبُّ ذَلِكَ، قَالَ: " فَلَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ صفہ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وہاں تشریف لے آئے اور فرمایا کہ تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ مقام بطھان یا عقیق جائے اور روزانہ دو بڑے کوہانوں اور روشن پیشانیوں والی اونٹنیاں بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے اپنے ساتھ لے آئے؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم میں سے ہر شخص اسے پسند کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص مسجد میں آکر کتاب اللہ کی دو آیتیں سیکھ لے، وہ اس کے لئے مذکورہ دو اونٹنیوں سے بہتر ہے، تین آیتوں کا سیکھنا تین اونٹنیوں سے اور چار آیات کا سیکھنا چار اونٹنیوں سے بہتر ہے، اسی طرح درجہ بدرجہ آیات اور اونٹنیوں کی تعداد بڑھاتے جاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17408]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 803
الحكم: إسناده صحيح، م: 803
حدیث نمبر: 17409 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ أَبُو الْمُصْعَبِ الْمَعَافِرِيُّ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ أَبُو الْمُصْعَبِ الْمَعَافِرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْ أَنَّ الْقُرْآنَ فِي إِهَابٍ، ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، مَا احْتَرَقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر قرآن کریم کو کسی چمڑے میں لپیٹ کر بھی آگ میں ڈال دیا جائے تو آگ اسے جلائے گی نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17409]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وهو لم يرفع هذا الحديث إلا فى آخر عمره، وذلك حين اختلط، أحاديث مشرح بن هاعان عن عقبة مناكير
الحكم: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وهو لم يرفع هذا الحديث إلا فى آخر عمره، وذلك حين اختلط، أحاديث مشرح بن هاعان عن عقبة مناكير
حدیث نمبر: 17410 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الْمُصْعَبِ ، عُقْبَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُصْعَبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَكْثَرُ مُنَافِقِي هَذِهِ الْأُمَّةِ قُرَّاؤُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے اکثر منافقین قراء ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17410]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد، أبو عبدالرحمن سمع من ابن لهيعة قبل احتراق كتبه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد، أبو عبدالرحمن سمع من ابن لهيعة قبل احتراق كتبه