بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 171
صفحہ 3 از 9
حدیث نمبر: 17331 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، أَبِي كَثِيرٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا، كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، وہ ایسے ہے جیسے اس نے کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو نئی زندگی عطا کردی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17331]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهعية ولجهالة مولي عقبة بن عامر، وقد انقلب اسمه على ابن لهيعة فسماه أبا كثير، وإنما هو: كثير أبو الهيثم
الحكم: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهعية ولجهالة مولي عقبة بن عامر، وقد انقلب اسمه على ابن لهيعة فسماه أبا كثير، وإنما هو: كثير أبو الهيثم
حدیث نمبر: 17332 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، أَبُو كَثِيرٌ ، عُقْبَةُ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ يُقَالُ لَهُ: أَبُو كَثِيرٌ ، قَالَ: لَقِيتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، قَالَ: دَعْهُمْ، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَلَا أَدْعُو عَلَيْهِمْ الشُّرَطُ؟ فَقَالَ عُقْبَةُ: وَيْحَكَ، دَعْهُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مِنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا، كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ کے آزاد کردہ غلام ابو کثیر کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو، کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں ان کے لئے پولیس کو نہ بلوا لوں، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ارے بھئی! انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، وہ ایسے ہے جیسے اس نے کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو نئی زندگی عطاء کردی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17332]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 17333 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبَا الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ" أَوْ قَالَ:" يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ"، قَالَ يَزِيدُ: وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُخْطِئُهُ يَوْمٌ إِلَّا تَصَدَّقَ فِيهِ بِشَيْءٍ وَلَوْ كَعْكَةً، أَوْ بَصَلَةً، أَوْ كَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان حساب کتاب اور فیصلہ شروع ہوجائے، راوی ابو الخیر کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ کوئی دن ایسا نہیں جانے دیتے تھے جس میں کوئی چیز خواہ میٹھی روٹی یا پیاز ہی ہو، صدقہ نہ کرتے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17333]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17334 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، عُقْبَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَابْتَدَأْتُهُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَجَاةُ المُؤمِن؟ قَالَ:" يَا عُقْبَةُ، احْرُسْ لِسَانَكَ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ" . قَالَ: ثُمَّ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَابْتَدَأَنِي فَأَخَذَ بِيَدِي، قَالَ: ثُمَّ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَابْتَدَأَنِي فَأَخَذَ بِيَدِي، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ ثَلَاثِ سُوَرٍ أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ، وَالْإِنْجِيلِ، وَالزَّبُورِ، وَالْفُرْقَانِ الْعَظِيمِ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ، قَالَ: فَأَقْرَأَنِي قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَةُ، لَا تَنْسَاهُنَّ، وَلَا تَبِيتَ لَيْلَةً حَتَّى تَقْرَأَهُنَّ"، قَالَ: فَمَا نَسِيتُهُنَّ مِنْ مُنْذُ قَالَ:" لَا تَنْسَاهُنَّ" وَمَا بِتُّ لَيْلَةً قَطُّ حَتَّى أَقْرَأَهُنَّ . قَالَ عُقْبَةُ : ثُمَّ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَابْتَدَأْتُهُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِفَوَاضِلِ الْأَعْمَالِ، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ، صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَأَعْرِضْ عَمَّنْ ظَلَمَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری ملاقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہوئی تو میں نے آگے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک تھام لیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مومن کی نجات کس طرح ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عقبہ! اپنی زبان کی حفاظت کرو اپنے گھر کو اپنے لئے کافی سمجھو اور اپنے گناہوں پر آہ وبکاء کرو۔ کچھ عرصہ بعد دوبارہ ملاقات ہوئی، اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آگے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا اے عقبہ بن عامر! کیا میں تمہیں تورات، زبور، انجیل اور قرآن کی تین سب سے بہتر سورتیں نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ مجھے آپ پر نثار کرے، کیوں نہیں! چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سورت اخلاص، سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں اور فرمایا عقبہ! انہیں مت بھلانا اور کوئی رات ایسی نہ گذارنا جس میں یہ سورتیں نہ پڑھو، چنانچہ میں اس وقت سے انہیں کبھی بھولنے نہیں دیا اور کوئی رات انہیں پڑھے بغیر نہیں گذاری۔ کچھ عرصے بعد پھر ملاقات ہوئی تو میں نے آگے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک تھام لیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے سب سے افضل اعمال کے بارے میں بتائیے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عقبہ! رشتہ توڑنے والے سے رشتہ جوڑو، محروم رکھنے والے کو عطاء کرو اور ظالم سے درگذر اور اعراض کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17334]
حکم دارالسلام
حديث حسن، م: 814، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد الألهاني، ومعان بن رفاعة حسن الحديث إلا عند المخالفة
الحكم: حديث حسن، م: 814، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد الألهاني، ومعان بن رفاعة حسن الحديث إلا عند المخالفة
حدیث نمبر: 17335 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَبِي سَلَّامٍ ، خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ وَكَانَ رَجُلًا يُحِبُّ الرَّمْيَ، إِذَا خَرَجَ خَرَجَ بِي مَعَهُ فَدَعَانِي يَوْمًا، فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: تَعَالَ أَقُولُ لَكَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا حَدَّثَنِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ الْمُحْتَسِبَ فِي صَنَعْتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنْبِلَهُ" . وَقَالَ: " ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَلَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَلَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ إِلَّا ثَلَاثٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ، فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ تَرَكَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خالد بن زید کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ میرے یہاں تشریف لاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمارے ساتھ چلو، تیر اندازی کی مشق کرتے ہیں ایک دن میری طبیعت بوجھل تھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان کے، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17335]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد
الحكم: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد
حدیث نمبر: 17336 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ابْنِ جَابِرٍ ، أَبِي سَلَّامٍ ، خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ عُلِّمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ، فَهِيَ نِعْمَةٌ كَفَرَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اس نعمت کے سکھانے والے کی ناشکری کی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17336]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد
الحكم: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد
حدیث نمبر: 17337 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ ، عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ ، قَالَ: كَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ يَخْرُجُ فَيَرْمِي كُلَّ يَوْمٍ، وَكَانَ يَسْتَتْبِعُهُ، فَكَأَنَّهُ كَادَ أَنْ يَمَلَّ، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ: صَاحِبَهُ الَّذِي يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالَّذِي يُجَهِّزُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالَّذِي يَرْمِي بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خالد بن زید کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ میرے یہاں تشریف لاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمارے ساتھ چلو، تیر اندازی کی مشق کرتے ہیں ایک دن میری طبیعت بوجھل تھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان کے، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17337]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد الأزرق، وقد وهم فيه معمر، فقال: عن زيد بن سلام، والصواب: عن أبى سلام
الحكم: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد الأزرق، وقد وهم فيه معمر، فقال: عن زيد بن سلام، والصواب: عن أبى سلام
حدیث نمبر: 17338 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَّامٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَزْرَقِ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
وَقَالَ: " ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَإِنْ تَرْمُوا خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا" . وَقَالَ: " كُلُّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ ابْنُ آدَمَ فَهُوَ بَاطِلٌ، إِلَّا ثَلَاثًا: رَمْيَهُ عَنْ قَوْسِهِ، وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهُ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ" ، قَالَ: فَتُوُفِّيَ عُقْبَةُ وَلَهُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ أَوْ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ قَوْسًا، مَعَ كُلِّ قَوْسٍ قَرْنٌ وَنَبْلٌ، وَأَوْصَى بِهِنَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَزْرَقِ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 17339 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ، عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ، رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، قَالَ: انْطَلَقَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، لِيُصَلِّيَ فِيهِ، فَاتَّبَعَهُ نَاسٌ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالُوا: صُحْبَتُكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْبَبْنَا أَنْ نَسِيرَ مَعَكَ وَنُسَلِّمَ عَلَيْكَ، قَالَ: انْزِلُوا فَصَلُّوا، فَنَزَلُوا فَصَلَّى وَصَلَّوْا مَعَهُ، فَقَالَ حِينَ سَلَّمَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ، إِلَّا دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عائذ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کے لئے روانہ ہوئے تو کچھ لوگ ان کے پیچھے ہو لئے، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ساتھ چلنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آپ نے چونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہمنشینی کا شرف پایا ہے، اس لئے ہم آپ کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں اور آپ کو سلام کرنے کے لئے آئے ہیں حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہیں پر اترو اور نماز پڑھو، چنانچہ سب نے اتر کر نماز پڑھی، سلام پھیرنے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اور اپنے ہاتھوں کو کسی کے خون سے رنگین کئے ہوئے نہ ہو، اسے اجازت ہوگی کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے، اس میں داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17339]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إن كان عبدالرحمن بن عائذ سمعه من عقبة بن عامر
الحكم: إسناده صحيح إن كان عبدالرحمن بن عائذ سمعه من عقبة بن عامر
حدیث نمبر: 17340 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ ، أَبَا الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ ، يَقُولُ: أَتَيْنَا أَبَا الْخَيْرِ فَقَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّمَا النَّذْرُ يَمِينٌ، كَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ الْيَمِينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نذر کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17340]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، لكن بلفظ: «كفارة النذر كفارة اليمين» ، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، لكن بلفظ: «كفارة النذر كفارة اليمين» ، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17341 مسند احمد
هَاشْمٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا هَاشْمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: اتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ، فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى قَدَمِه، فَقُلْتُ: أَقْرِئْنِي مِنْ سُورَةِ يُوسُفَ، فَقَالَ: " لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چلا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوار تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک قدموں پر ہاتھ رکھ کر عرض کیا کہ مجھے سورت یوسف پڑھا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک تم سورت فلق سے زیادہ بلیغ کوئی سورت نہ پڑھو گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17341]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 814
الحكم: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17342 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ بَغْلَةٌ شَهْبَاءُ، فَرَكِبَهَا، فَأَخَذَ عُقْبَةُ يَقُودُهَا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُقْبَةَ:" اقْرَأْ"، فَقَالَ: وَمَا أَقْرَأُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ حَتَّى قَرَأَهَا، فَعَرَفَ أَنِّي لَمْ أَفْرَحْ بِهَا جِدًّا، فَقَالَ: " لَعَلَّكَ تَهَاوَنْتَ بِهَا! فَمَا قُمْتَ تُصَلِّي بِشَيْءٍ مِثْلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے سفید رنگ کا ایک خچر ہدیہ میں آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اسے ہانکنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا پڑھو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا پڑھوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سورت علق پڑھو، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اسے پڑھ دیا، تاہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمجھ گئے کہ میں اس سے بہت زیادہ خوش نہیں ہوا، چنانچہ فرمایا شاید یہ تمہیں کم معلوم ہو رہی ہو؟ تم سورت فلق سے زیادہ بلیغ کوئی سورت نماز میں نہ پڑھو گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17342]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 814، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بقية بن الوليد
الحكم: حديث صحيح، م: 814، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بقية بن الوليد
حدیث نمبر: 17343 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وهَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وهَاشِمٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ، فَلَبِسَهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَنَزَعَهُ نَزْعًا عَنِيفًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: " لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ایک ریشمی جوڑا ہدیہ میں آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو پہن کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بےچینی سے اتارا اور فرمایا متقیوں کے لئے یہ لباس شایان شان نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17343]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 375، م: 2075
الحكم: إسناده صحيح، خ: 375، م: 2075
حدیث نمبر: 17344 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَإِنِّي شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى الْحَوْضِ، أَلَا وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکلے اور اہل احد کی قبروں پر پہنچ کر نماز جنازہ پڑھی، پھر واپس آکر منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا میں تمہارا انتظار کروں گا اور میں تمہارے لئے گواہی دوں گا، واللہ میں اس وقت بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، یاد رکھو! مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں، بخدا! مجھے تمہارے متعلق یہ اندیشہ نہیں ہے کہ میرے پیچھے تم شرک کرنے لگو گے، بلکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا میں منہمک ہو کر ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگو گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17344]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1344، م: 2296
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1344، م: 2296
حدیث نمبر: 17345 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ تَبْعَثُنَا، فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا يَقْرُونَا، فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ، فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ، فَاقْبَلُوا، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا، فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ بعض اوقات آپ ہمیں کہیں بھیجتے ہیں، ہم ایسی قوم کے پاس پہنچتے ہیں جو ہماری مہمان نوازی نہیں کرتی تو اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم کسی قوم میں مہمان بن کر جاؤ اور وہ لوگ اس چیز کا حکم دے دیں جو ایک مہمان کے لئے مناسب حال ہوتی ہے تو اسے قبول کرلو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو تم خود ان سے مہمان کا مناسب حق وصول کرسکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17345]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2461، م: 1727
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2461، م: 1727
حدیث نمبر: 17346 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا، فَقَسَمَهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ مِنْهَا، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ضَحِّ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کئے تو میرے حصے میں چھ ماہ کا ایک بچہ آیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق قربانی کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17346]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2300، م: 1965
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2300، م: 1965
حدیث نمبر: 17347 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ:" الْحَمْوُ الْمَوْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے پاس جانے سے اپنے آپ کو بچاؤ ایک انصاری نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دیور کا کیا حکم ہے؟ فرمایا دیور تو موت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17347]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5232، م: 2172
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5232، م: 2172
حدیث نمبر: 17348 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ الضَّمْرِيِّ ، أَبَا سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيَّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ الضَّمْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُقْبَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مُرْ أُخْتَكَ فَلْتَرْكَبْ وَلْتَخْتَمِرْ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مالک رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے پیدا چل کر دوپٹہ اوڑھے بغیر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سختی کا کیا کرے گا؟ اسے حکم دو کہ وہ دوپٹہ اوڑھ کر سوار ہو کر جائے اور تین روزے رکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17348]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: «ولتصم ثلاثة أيام» وهذا إسناد فيه ضعف، عبيدالله بن زحر مختلف فيه، والأكثر على تضعيفه
الحكم: صحيح دون قوله: «ولتصم ثلاثة أيام» وهذا إسناد فيه ضعف، عبيدالله بن زحر مختلف فيه، والأكثر على تضعيفه
حدیث نمبر: 17349 مسند احمد
سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، وَيُونُسُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَإِذَا بَاعَ مِنْ رَجُلَيْنِ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا" ، وَقَالَ يُونُسُ:" وَإِذَا بَاعَ الرَّجُلُ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کسی لڑکی کے دو ولی ہوں اور دونوں مختلف جگہوں پر اس کا نکاح کردیں، تو ان میں سے جس نے پہلے نکاح کیا ہوگا، وہ صحیح ہوگا اور جب کوئی شخص دو آدمیوں سے چیز خریدے تو ان میں سے پہلے بیچنے والے کی وہ چیز ملکیت تصور ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17349]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، لم يسمع الحسن من عقبة شيئا
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، لم يسمع الحسن من عقبة شيئا
حدیث نمبر: 17350 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ، قَالَ: فَقَالَ لِي: " أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ لَمْ يُقْرَأْ بِمِثْلِهِمَا؟" قُلْتُ: بَلَى، فَعَلَّمَنِي: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، فَلَمْ يَرَنِي أُعْجِبْتُ بِهِمَا، فَلَمَّا نَزَلَ الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِهِمَا، ثُمَّ قَالَ لِي:" كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقْبَةُ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری کے آگے آگے چل رہا تھا، اچانک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا م ہیں تمہیں ایسی دو سورتیں نہ سکھا دوں، جن کی مثل نہ ہو؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھ گئے اور نماز فجر میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر میرے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا اے عقبہ! تم کیا سمجھے؟ (یہ دونوں سورتیں سوتے وقت بھی پڑھا کرو اور بیدار ہو کر بھی پڑھا کرو)۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17350]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 814
الحكم: إسناده صحيح، م: 814