بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 171
صفحہ 2 از 9
حدیث نمبر: 17311 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ أَبُو الْحَجَّاجِ الْمَهْرِيُّ ، حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ أَبُو الْحَجَّاجِ الْمَهْرِيُّ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ اللَّهَ يُعْطِي الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى مَعَاصِيهِ مَا يُحِبُّ، فَإِنَّمَا هُوَ اسْتِدْرَاجٌ"، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ سورة الأنعام آية 44 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی نافرمانیوں کے باوجود دنیا میں اسے وہ کچھ عطاء فرما رہا ہے جو وہ چاہتا ہے تو یہ استدراج ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ جب انہوں نے ان چیزوں کو فراموش کردیا جن کے ذریعے انہیں نصیحت کی گئی تھی، تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے، حتی کہ جب وہ خود کو ملنے والی نعمتوں پر اترانے لگے تو ہم نے اچانک انہیں پکڑ لیا اور وہ ناامید ہو کر رہ گئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17311]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين بن سعد
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين بن سعد
حدیث نمبر: 17312 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي عُشَّانَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَعْجَبُ رَبُّكُمْ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي شَظِيَّةٍ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُقِيمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا رب اس شخص سے بہت خوش ہوتا ہے جو کسی ویرانے میں بکریاں چراتا ہے اور نماز کا وقت آنے پر اذان دیتا اور اقامت کہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17312]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17313 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَنْسَابَكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِسِبَابٍ عَلَى أَحَدٍ، وَإِنَّمَا أَنْتُمْ وَلَدُ آدَمَ، طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَمْلَئُوهُ، لَيْسَ لِأَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِالدِّينِ أَوْ عَمَلٍ صَالِحٍ، حَسْبُ الرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ فَاحِشًا بَذِيًّا، بَخِيلًا جَبَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے یہ نسب نامے کسی کے لئے عیب اور طعنہ نہیں ہیں، تم سب آدم کی اولاد ہو اور ایک دوسرے کے قریب ہو، دین یا عمل صالح کے علاوہ کسی وجہ سے کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، انسان کے فحش گو ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ بےہودہ گو ہو، بخیل اور بزدل ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17313]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17314 مسند احمد
أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، لَيْثٌ ، مُعَاوِيَةَ ، أَبِي عُثْمَانَ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، وَرَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ بُخْتٍ ، اللَّيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ الْجُهَنِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ . وَرَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ بُخْتٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ الْجُهَنِيِّ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ عُقْبَةُ: كُنَّا نَخْدُمُ أَنْفُسَنَا، وَكُنَّا نَتَدَاوَلُ رَعِيَّةَ الْإِبِلِ بَيْنَنَا، فَأَصَابَنِي رَعِيَّةُ الْإِبِلِ فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ حَدِيثِهِ وَهُوَ يَقُولُ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَغُفِرَ لَهُ"، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا أَجْوَدَ هَذَا! قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ بَيْنَ يَدِي: الَّتِي كَانَ قَبْلَهَا يَا عُقْبَةُ أَجْوَدُ مِنْهَا، فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَمَا هِيَ يَا أَبَا حَفْصٍ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ، فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ، لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ اپنے کام خود کرتے تھے اور آپس میں اونٹوں کو چرانے کی باری مقرر کرلیتے تھے، ایک دن جب میری باری آئی اور میں انہیں دوپہر کے وقت لے کر چلا، تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر بیان کرتے ہوئے دیکھا، میں نے اس موقع پر جو کچھ پایا، وہ یہ تھا کہ تم میں سے جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر کھڑا ہو کردو رکعتیں پڑھے جن میں وہ اپنے دل اور چہرے کے ساتھ متوجہ رہے تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور اس کے سارے گناہ معاف ہوگئے۔ میں نے کہا کہ یہ کتنی عمدہ بات ہے، اس پر مجھ سے آگے والے آدمی نے کہا کہ عقبہ! اس سے پہلے والی بات اس سے بھی عمدہ تھی، میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، میں نے پوچھا اے ابو حفص! وہ کیا بات ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے آنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تم میں سے جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر یوں کہے اشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ و رسولہ۔ تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے، داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17314]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناداه الأول والثاني قويان، وأما الإسناد الثالث، ففيه ليث ابن سليم، وهو مجهول
الحكم: حديث صحيح، وإسناداه الأول والثاني قويان، وأما الإسناد الثالث، ففيه ليث ابن سليم، وهو مجهول
حدیث نمبر: 17315 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ: فَفِي شَرْطَةِ مُحْجِمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ كَيَّةٍ تُصِيبُ أَلَمًا، وَأَنَا أَكْرَهُ الْكَيَّ وَلَا أُحِبُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کسی چیز میں شفاء ہوسکتی ہے تو وہ تین چیزیں ہیں، سینگی لگانے والے کا آلہ، شہد کا ایک گھونٹ اور زخم کو داغنا جس سے تکلیف پہنچے، لیکن مجھے داغنا پسند نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17315]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا سند حسن فى المتابعات والشواهد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا سند حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 17316 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ ، أَبَا الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَيْسَ مِنْ عَمَلِ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يُخْتَمُ عَلَيْهِ، فَإِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ، قَالَتْ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبَّنَا، عَبْدُكَ فُلَانٌ قَدْ حَبَسْتَهُ، فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: اخْتِمُوا لَهُ عَلَى مِثْلِ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دن بھر کا کوئی عمل ایسا نہیں ہے جس پر مہر نہ لگائی جاتی ہو، چنانچہ جب مسلمان بیمار ہوتا ہے تو فرشتے بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں کہ پروردگار! تو نے فلاں بندے کو روک دیا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے تندرست ہونے تک جیسے اعمال وہ کرتا ہے، ان کی مہر لگاتے جاؤ یا یہ کہ وہ فوت ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17316]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17317 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ عَبْدُ اللَّهِ ، مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، أَبِي ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللَّهِ، وَتَعَاهَدُوهُ، وَتَغَنُّوا بِهِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْمَخَاضِ فِي الْعُقُلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کتاب اللہ کا علم حاصل کیا کرو، اسے مضبوطی سے تھامو اور ترنم کے ساتھ اسے پڑھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ قرآن باڑے میں بندھے ہوئے اونٹوں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17317]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17318 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو قَبِيلٍ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْكِتَابَ وَاللَّبَنَ"، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بَالُ الْكِتَابِ؟ قَالَ:" يَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ ثُمَّ يُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا"، فَقِيلَ: وَمَا بَالُ اللَّبَنِ؟ قَالَ:" أُنَاسٌ يُحِبُّونَ اللَّبَنَ، فَيَخْرُجُونَ مِنَ الْجَمَاعَاتِ وَيَتْرُكُونَ الْجُمُعَاتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اپنی امت کے متعلق کتاب اور دودھ سے خطرہ ہے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کتاب سے خطرے کا کیا مطلب؟ فرمایا کہ اسے منافقین سیکھیں گے اور اہل ایمان سے جھگڑا کریں گے، پھر کسی نے پوچھا کہ دودھ سے خطرے کا کیا مطلب؟ فرمایا کہ کچھ لوگ دودھ کو پسند کرتے ہوں گے اور اس کی وجہ سے جماعت سے نکل جائیں گے اور جمعہ کی نمازیں چھوڑ دیا کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17318]
حکم دارالسلام
حديث حسن، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن روى عنه هذا الحديث ابن المقريء، وراويته عنه صالحة، وهو متابع أيضا
الحكم: حديث حسن، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن روى عنه هذا الحديث ابن المقريء، وراويته عنه صالحة، وهو متابع أيضا
حدیث نمبر: 17319 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نذر کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17319]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، أبن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح ، أبن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17320 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، شُعَيْبُ بْنُ زُرْعَةَ الْمَعَافِرِيُّ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ زُرْعَةَ الْمَعَافِرِيُّ ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تُخِيفُوا أَنْفُسَكُمْ بَعْدَ أَمْنِهَا"، قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الدَّيْنُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے آپ کو پرامن ہونے کے بعد خطرے میں مبتلا نہ کیا کرو، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کیسے؟ فرمایا قرض لے کر۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17320]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين، لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17321 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبَا سَلَّامٍ ، خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ ، عُقْبَةُ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: كَانَ عُقْبَةُ يَأْتِينِي، فَيَقُولُ: اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي، فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ، أَوْ تَثَاقَلْتُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ الْمُحْتَسِبَ فِيهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنْبِلَهُ، فَارْمُوا وَارْكَبُوا، وَلَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مَنْ أَنْ تَرْكَبُوا . وَلَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ إِلَّا ثَلَاثٌ: مُلَاعَبَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ، وَتَأْدِيبُهُ فَرَسَهُ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ، وَمَنْ عَلَّمَهُ اللَّهُ الرَّمْيَ فَتَرَكَهُ رَغْبَةً عَنْهُ، فَنِعْمَةً كَفَرَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خالد بن زید کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ میرے یہاں تشریف لاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمارے ساتھ چلو، تیر اندازی کی مشق کرتے ہیں ایک دن میری طبیعت بوجھل تھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان کے، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17321]
حکم دارالسلام
حديث حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد
الحكم: حديث حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد
حدیث نمبر: 17322 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ، فَإِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَ بِمِثْلِهِمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا معوذتین پڑھا کرو کیونکہ تم ان جیسی کوئی سورت نہیں پڑھو گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17322]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 814، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، ومشرح بن هاعان مختلف فيه
الحكم: حديث صحيح، م: 814، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، ومشرح بن هاعان مختلف فيه
حدیث نمبر: 17323 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، عَطَّافٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، رَجُلٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَّافٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ مِنْ بَعْدِي، فَإِنْ صَلَّوْا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَأَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَهِيَ لَكُمْ وَلَهُمْ، وَإِنْ لَمْ يُصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَلَمْ يُتِمُّوا رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا، فَهِيَ لَكُمْ وَعَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میرے بعد تم پر کچھ حکمران آئیں گے، اگر وہ بروقت نماز پڑھیں اور رکوع و سجود مکمل کریں تو وہ تمہارے اور ان کے لئے باعث ثواب ہے اور اگر وہ بروقت نماز نہ پڑھیں اور رکوع و سجود مکمل نہ کریں تو تمہیں اس کا ثواب مل جائے گا اور وہ ان پر وبال ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17323]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17324 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَإِنِّي أُعْطِيتُهُمَا مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھا کرو، کیونکہ مجھے یہ دونوں آیتیں عرش کے نیچے سے دی گئی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17324]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، محمد بن إسحاق مدلس وعنعنه، لكنه توبع، سلمة بن الفضل مختلف فيه، وقد توبع
الحكم: صحيح لغيره، محمد بن إسحاق مدلس وعنعنه، لكنه توبع، سلمة بن الفضل مختلف فيه، وقد توبع
حدیث نمبر: 17325 مسند احمد
عَتَّابٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نذر کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17325]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17326 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخِفَافُ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، قَيْسًا الْجُذَامِيَّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخِفَافُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: ذَكَرَ أَنَّ قَيْسًا الْجُذَامِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَهِيَ فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرتا ہے، وہ اس کے لئے جہنم سے آزادی کا ذریعہ بن جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17326]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يلق قيساً الجذامي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يلق قيساً الجذامي
حدیث نمبر: 17327 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ التُّجِيبِيِّ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ التُّجِيبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ وَهُوَ عَلَى مِنْبَرِ مِصْرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مصر کے منبر سے ارشاد فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی شخص کے لئے اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرنا حلال نہیں ہے، الاّ یہ کہ وہ چھوڑ دے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17327]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17328 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ التُّجِيبِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ، وَلَا يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی شخص کے لئے اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیجنا حلال نہیں ہے تاآنکہ وہ اسے چھوڑ دے، اسی طرح اس کی بیع پر بیع کرنا حلال نہیں ہے الاّ یہ کہ وہ چھوڑ دے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17328]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 17329 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ وَيَزَنُ: بَطْنٌ مِنْ حِمْيَرَ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْرَ غَازِيًا وَكَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَبْسٍ الْجُهَنِيُّ أَمَّرَهُ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: فَحَبَسَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ بِالْمَغْرِبِ، فَلَمَّا صَلَّى قَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عُقْبَةُ، أَهَكَذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ، أَمَا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ" ؟ قَالَ: فَقَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: شُغِلْتُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مرثد بن عبداللہ یزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے یہ ان مصر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ جہاد کے سلسلے میں تشریف لائے، اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارا امیر حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ہوا تھا، ایک دن حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کو نماز مغرب میں تاخیر ہوگئی، نماز سے فراغت کے بعد حضرت حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور فرمایا اے عقبہ! کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز مغرب اسی طرح پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کے نکلنے تک مؤخر نہیں کرے گی؟ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کیوں نہیں، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو پھر آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں مصروف تھا حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا! میرا تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن لوگ یہ سمجھیں گے کہ شاید آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17329]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17330 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ جُعْثُلٍ الْقِتْبَانِيِّ ، أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ جُعْثُلٍ الْقِتْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ نَذَرَتْ فِي ابْنٍ لَهَا لَتَحُجَّنَّ حَافِيَةً بِغَيْرِ خِمَارٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " تَحُجُّ رَاكِبَةً مُخْتَمِرَةً، وَلْتَصُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے پیدا چل کر دوپٹہ اوڑھے بغیر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سختی کا کیا کرے گا؟ اسے حکم دو کہ وہ دوپٹہ اوڑھ کر سوار ہو کر جائے اور تین روزے رکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17330]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: «فى ابن لها» ودون قوله: «ولتصم» ، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح دون قوله: «فى ابن لها» ودون قوله: «ولتصم» ، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة