بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 171
صفحہ 8 از 9
حدیث نمبر: 17431 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، هِشَامَ بْنَ أَبِي رُقَيَّةَ ، عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَأَظُنُّ أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ أَبِي رُقَيَّةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مُخَلَّدٍ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَمَا لَكُمْ فِي الْعَصَبِ وَالْكَتَّانِ مَا يَكْفِيكُمْ عَنِ الْحَرِيرِ، وَهَذَا رَجُلٌ فِيكُمْ يُخْبِرُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُمْ يَا عُقْبَةُ، فَقَامَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَذِبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" . وَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ، وَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا، حُرِمَهُ أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہشام بن ابی رقیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھے خطبہ دے رہے تھے اور میں بھی سن رہا تھا، انہوں نے فرمایا لوگو! کیا ریشم سے عصب اور کتان تمہاری کفایت نہیں کرتے؟ یہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ تم میں موجود ہیں جو تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بتائیں گے، عقبہ! کھڑے ہوجائیے، چنانچہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے، وہ اپنے لئے جہنم میں ٹھکانہ بنالے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے اور آخرت میں اسے پہننے سے محروم رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17431]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17432 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَسُرَيْجٌ ، ابْنُ وَهْبٍ ، سُرَيْجٌ ، عَمْرٍو ، هَارُونُ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَاهُ ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ سُرَيْجٌ : عَنْ عَمْرٍو ، وقَالَ هَارُونُ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ سورة الأنفال آية 60، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برسر منبر اس آیت " واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ " کی تلاوت کر کے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یاد رکھو! قوت سے مراد تیر اندازی ہے، یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17432]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1918
الحكم: إسناده صحيح، م: 1918
حدیث نمبر: 17433 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وسُرَيجٌ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَبِي عَلِيٍّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وسُرَيجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ أَرَضُونَ وَيَكْفِيكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَا يُعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ" ، قَالَ سُرَيْجٌ: ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب تمہارے سامنے بہت سی سر زمینیں مفتوح ہوجائیں گی اور اللہ تعالیٰ تمہاری کفایت فرمائے گا، لہذا کسی شخص کو اپنے تیروں میں مشغول ہونے سے عاجز نہیں آنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17433]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1918
الحكم: إسناده صحيح، م: 1918
حدیث نمبر: 17434 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، واَهْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا واَهْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَيِّتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ذات الجنب نامی بیماری میں مرنے والا شخص شہید ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17434]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17435 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أُجْرِيَ عَلَيْهِ أَجْرُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کے راستہ میں اسلامی سرحدوں کی حفاطت کرتا ہے، اس کے نامہ اعمال میں مسلسل ثواب لکھا جاتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17435]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا الحديث قد رواه عن ابن لهيعة عبدالله المقرئ وقتيبه وروايتهما عنه صالحة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا الحديث قد رواه عن ابن لهيعة عبدالله المقرئ وقتيبه وروايتهما عنه صالحة
حدیث نمبر: 17436 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ قَالَ يَحْيَى: فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُجْرَى عَلَيْهِ أَجْرُ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر میت کے نامہ عمل پر مہر لگا دی جاتی ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستہ میں اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے کہ اس کے نامہ اعمال میں دوبارہ زندہ ہونے تک ثواب لکھا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17436]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، راجع ما قبله
الحكم: صحيح لغيره، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 17437 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْمُقْرِئَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ غُلَامًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَتَرَكَتْ حُلِيًّا، أَفَأَتَصَدَّقُ بِهِ عَنْهَا؟ قَالَ:" أُمُّكَ أَمَرَتْكَ بِذَلِكَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَأَمْسِكْ عَلَيْكَ حُلِيَّ أُمِّكَ" ، حَدَّثَنَاه أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْمُقْرِئَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور انہوں نے کچھ زیورات چھوڑے ہیں، کیا میں انہیں صدقہ کر دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا انہوں نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا؟ اس نے جواب دیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر اپنی والدہ کے زیورات سنبھال کر رکھو۔ گزشتہ حدیث میں اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17437]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ومتنه منكر، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف ومتنه منكر، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17438 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَالْحَسَنُ بْنُ ثَوْبَانَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَالْحَسَنُ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِحُلِيٍّ كَانَ لِأُمِّهِ عَنْ أُمِّهِ بَعْدَ مَوْتِهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَتْكَ بِذَلِكَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَلَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور انہوں نے کچھ زیورات چھوڑے ہیں، کیا میں انہیں صدقہ کر دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا انہوں نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا؟ اس نے جواب دیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر اپنی والدہ کے زیورات سنبھال کر رکھو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17438]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، رشدين بن سعد ضعيف سيئ الحفظ، وكان يخلط فى الحديث، وله مناكير، وهذا الحديث محفوظ من حديث ابن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف، رشدين بن سعد ضعيف سيئ الحفظ، وكان يخلط فى الحديث، وله مناكير، وهذا الحديث محفوظ من حديث ابن لهيعة
حدیث نمبر: 17439 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو عُشَّانَةَ حَيُّ بْنُ يُؤْمِنَ الْمَعَافِرِيُّ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ حَيُّ بْنُ يُؤْمِنَ الْمَعَافِرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَدْنُو الشَّمْسُ مِنَ الْأَرْضِ فَيَعْرَقُ النَّاسُ، فَمِنْ النَّاسِ مَنْ يَبْلُغُ عَرَقُهُ عَقِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْعَجُزَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْخَاصِرَةَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ مَنْكِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ عُنُقَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ وَسَطَ فِيهِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَأَلْجَمَهَا فَاهُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ هَكَذَا وَمِنْهُمْ مَنْ يُغَطِّيهِ عَرَقُهُ" ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِشَارَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سورج زمین کے انتہائی قریب آجائے گا جس کی بناء پر لوگ پسینہ پسینہ ہوجائیں گے چنانچہ کسی کا پسینہ اس کی ایڑیوں تک ہوگا، کسی کا نصف پنڈلی تک، کسی کا گھٹنوں تک، کسی کا سرین تک، کسی کا کوکھ تک، کسی کا کندھوں تک، کسی کا گردن تک اور کسی کا پسینہ منہ کے درمیان تک ہوگا اور لگام کی طرح اس کے منہ میں ہوگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اشارہ کر کے بتاتے ہوئے دیکھا اور کوئی اپنے پسینے میں مکمل ڈوبا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17439]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17440 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو عُشَّانَةَ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ يَرْعَى الصَّلَاةَ، كَتَبَ لَهُ كَاتِبَاهُ، أَوْ كَاتِبُهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَالْقَاعِدُ يَرْعَى الصَّلَاةَ كَالْقَانِتِ، وَيُكْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّينَ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب انسان وضو کر کے نماز کے خیال سے مسجد آتا ہے تو ہر وہ قدم جو وہ مسجد کی طرف اٹھاتا ہے، فرشتہ اس کے لئے ہر قدم کے عوض دس نیکیاں لکھتا جاتا ہے اور بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے والا نماز پڑھنے والے کی طرح ہوتا ہے اور اسے نمازیوں میں لکھا جاتا ہے جب سے وہ گھر سے نکلا اور جب تک گھر واپس آئے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17440]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17441 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، عَمَّنْ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، عَمَّنْ ، سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا، فَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ آكُلَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَذِنَ لِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا، میں نے زکوٰۃ کے جانوروں میں سے کھانے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17441]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عقبة بن عامر، وابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عقبة بن عامر، وابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17442 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو عُشَّانَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَعْجَبُ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ الشَّظِيَّةِ لِلْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا، يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ، يَخَافُ شَيْئًا، قَدْ غَفَرْتُ لَهُ وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارا رب اس شخص سے بہت خوش ہوتا ہے جو کسی ویرانے میں بکریاں چراتا ہے اور نماز کا وقت آنے پر اذان دیتا ہے اور اقامت کہتا ہے، اسے صرف میرا خوف ہے، میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17442]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ابن لهيعة توبع
الحكم: حديث صحيح، ابن لهيعة توبع
حدیث نمبر: 17443 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَعْجَبُ رَبُّكَ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" يَخَافُ مِنِّي؟! قَدْ غَفَرْتُ لَهُ، فَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17443]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17444 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور آہستہ آواز سے قرآن پڑھنے والا خفیہ طور پر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17444]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17445 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: " اقْرَءُوا هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ اللَّتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَاهُنَّ أَوْ أَعْطَانِيهِنَّ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھا کرو، کیونکہ مجھے یہ دونوں آیتیں عرش کے نیچے سے دی گئی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17445]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا الحديث رواه عن ابن لهيعة قتيبة بن سعيد، وروايته عنه صالحة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا الحديث رواه عن ابن لهيعة قتيبة بن سعيد، وروايته عنه صالحة
حدیث نمبر: 17446 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَنْسَابَكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِمَسَبَّةٍ عَلَى أَحَدٍ، كُلُّكُمْ بَنُو آدَمَ، طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَملَئُوه، لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِدِينٍ أَوْ تَقْوَى، وَكَفَى بِالرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ بَذِيًّا بَخِيلًا فَاحِشًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے یہ نسب نامے کسی کے لئے عیب اور طعنہ نہیں ہیں تم سب آدم کی اولاد ہو اور ایک دوسرے کے قریب ہو، دین یا عمل صالح کے علاوہ کسی وجہ سے کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، انسان کے فحش گو ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ بیہودہ گو ہو، بخیل اور بزدل ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17446]
حکم دارالسلام
حديث حسن، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواه عنه ابن وهب و قتيبة، وروايتهما عنه صالحة
الحكم: حديث حسن، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواه عنه ابن وهب و قتيبة، وروايتهما عنه صالحة
حدیث نمبر: 17447 مسند احمد
يحيي بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، مَوْلًى ، عُقْبَةُ
حَدَّثَنَا يحيي بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، قَالَ: اسْتُرْ عَلَيْهِمْ، قَالَ: مَا أَسْتُرُ عَلَيْهِمْ! أُرِيدُ أَنْ أَذْهَبَ أَجِيءَ بِالشُّرَطِ عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عُقْبَةُ : وَيْحَكَ، مَهْلًا عَلَيْهِمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا، كَانَ كَمَنْ اسْتَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
دخین جو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کا کاتب تھا، سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمارے پڑوسی شراب پیتے ہیں، میں پولیس کو بلانے جا رہا ہوں تاکہ وہ آکر انہیں پکڑ لے، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کرو، بلکہ انہیں سمجھاؤ اور ڈراؤ،۔ کاتب نے ایسا ہی کیا لیکن وہ باز نہ آئے، چنانچہ دخین دوبارہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئے اور اب تو میں پولیس کو بلا کر رہوں گا، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا افسوس! ایسا مت کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے، گویا وہ کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو بچا لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17447]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، ولجهالة مولي عقبة بن عامر
الحكم: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، ولجهالة مولي عقبة بن عامر
حدیث نمبر: 17448 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، رَجِلٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ رَجِلٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى غَيْرَ سَاهٍ وَلَا لَاهٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" ، وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً:" غُفِرَ مَا كَانَ قَبْلَهَا مِنْ سَيِّئَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر اس طرح نماز پڑھے کہ اس میں بھولے اور نہ ہی غفلت برتے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17448]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الذى روى عنه بكر بن سوادة، ولجهالة ربيعة بن قيس، وابن لهيعة متابع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الذى روى عنه بكر بن سوادة، ولجهالة ربيعة بن قيس، وابن لهيعة متابع
حدیث نمبر: 17449 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، بْنُ لَهِيعَةَ ، بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، رَجُلًا ، رَبِيعَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أخْبَرَنَا بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً غَيْرَ سَاهٍ وَلَا لَاهٍ، كُفِّرَ عَنْهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا مِنْ شَيْءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر اس طرح نماز پڑھے کہ اس میں بھولے اور نہ ہی غفلت برتے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17449]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 17450 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السِّيْلَحِينِيُّ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، رُزَيْقٍ الثَّقَفِيِّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، رُزَيْقٍ الثَّقَفِيِّ ، ابْنِ شِمَاسَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السِّيْلَحِينِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ رُزَيْقٍ الثَّقَفِيِّ . وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ رُزَيْقٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَمْ يَقْبَلْ رُخْصَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الذُّنُوبِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی رخصت کو قبول نہیں کرتا اسے عرفات کے پہاڑوں کے برابر گناہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17450]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة رزيق الثقفي، وابن لهيعة سيئ الحفظ ، وقد اضطرب فى إسناده
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة رزيق الثقفي، وابن لهيعة سيئ الحفظ ، وقد اضطرب فى إسناده