حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو عُشَّانَةَ حَيُّ بْنُ يُؤْمِنَ الْمَعَافِرِيُّ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ حَيُّ بْنُ يُؤْمِنَ الْمَعَافِرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَدْنُو الشَّمْسُ مِنَ الْأَرْضِ فَيَعْرَقُ النَّاسُ، فَمِنْ النَّاسِ مَنْ يَبْلُغُ عَرَقُهُ عَقِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْعَجُزَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْخَاصِرَةَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ مَنْكِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ عُنُقَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ وَسَطَ فِيهِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَأَلْجَمَهَا فَاهُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ هَكَذَا وَمِنْهُمْ مَنْ يُغَطِّيهِ عَرَقُهُ" ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِشَارَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سورج زمین کے انتہائی قریب آجائے گا جس کی بناء پر لوگ پسینہ پسینہ ہوجائیں گے چنانچہ کسی کا پسینہ اس کی ایڑیوں تک ہوگا، کسی کا نصف پنڈلی تک، کسی کا گھٹنوں تک، کسی کا سرین تک، کسی کا کوکھ تک، کسی کا کندھوں تک، کسی کا گردن تک اور کسی کا پسینہ منہ کے درمیان تک ہوگا اور لگام کی طرح اس کے منہ میں ہوگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اشارہ کر کے بتاتے ہوئے دیکھا اور کوئی اپنے پسینے میں مکمل ڈوبا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17439]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ