بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 171
صفحہ 1 از 9
حدیث نمبر: 17291 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عُقْبَةُ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، فَسَأَلَ عُقْبَةُ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ"، فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْ عَنْهُ، فَلَمَّا خَلَا مَنْ كَانَ عِنْدَهُ عَادَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ تَعْذِيبِ أُخْتِكَ نَفْسَهَا لَغَنِيٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مالک رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ سوار ہو کر جائے، عقبہ رضی اللہ عنہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بات کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکے، اس لئے ایک مرتبہ پھر خلوت ہونے کے بعد اپنا سوال دہرایا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حسب سابق وہی حکم دیا اور فرمایا کہ تمہاری ہمشیرہ کے اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرنے سے اللہ غنی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17291]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبيدالله بن زحر مختلف فيه ، والأكثر على تضعيفه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبيدالله بن زحر مختلف فيه ، والأكثر على تضعيفه
حدیث نمبر: 17292 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عُهْدَةَ بَعْدَ أَرْبَعٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا چار دن کے بعد بائع (بچنے والا) کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17292]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع عقبة بن عامر، ثم هو مضطرب
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع عقبة بن عامر، ثم هو مضطرب
حدیث نمبر: 17293 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَعَلَيْهِ فَرُّوجُ مِن حَرِيرٍ وَهُوَ الْقَبَاءُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ نَزَعَهُ نَزْعًا عَنِيفًا، وَقَالَ: " إِنَّ هَذَا لَا يَنْبَغِي لِلْمُتَّقِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ریشمی قبا پہن رکھی تھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بےچینی سے اتارا اور فرمایا متقیوں کے لئے یہ لباس شایان شان نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17293]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، خ: 375، م: 2075، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح ، خ: 375، م: 2075، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، وقد توبع
حدیث نمبر: 17294 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ التُّجِيبِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ" يَعْنِي: الْعَشَّارَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ٹیکس وصول کرنے میں ظلم کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17294]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد ابن إسحاق مدلس، وعنعنه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد ابن إسحاق مدلس، وعنعنه
حدیث نمبر: 17295 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي بَصْرَةَ ، أَبُو عَاصِمٍ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى يَهُودَ، فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ" ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ أَبِي: خَالَفَهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا: عَنْ أَبِي بَصْرَةَ . حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ أَبُو بَصْرَةَ: يَعْنِي فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہذا تم انہیں ابتداء میں سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف وعلیکم کہنا۔ عبدالحمید بن جعر اور ابن لہیعہ نے مذکورہ حدیث میں ابوعبدالرحمن کی بجائے ابوبصرہ کا نام لیا ہے۔ گزشتہ حدیث ابوعاصم سے بھی مروی ہے، امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ مراد اس سے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17295]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، لكن من حديث أبى بصرة الغفاري، وهذا الإسناد قد أخطأ فيه ابن إسحاق، فجعله من مسند أبى عبدالرحمن الجهني
الحكم: حديث صحيح، لكن من حديث أبى بصرة الغفاري، وهذا الإسناد قد أخطأ فيه ابن إسحاق، فجعله من مسند أبى عبدالرحمن الجهني
حدیث نمبر: 17296 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ابْنُ جَابِرٍ ، الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ، إِذْ قَالَ لِي:" يَا عُقْبَُ، أَلَا تَرْكَبُ؟" قَالَ: فَأَجْلَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْكَبَ مَرْكَبَهُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَُ، أَلَا تَرْكَبُ؟" قَالَ: فَأَشْفَقْتُ أَنْ تَكُونَ مَعْصِيَةً، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْتُ هُنَيَّةً، ثُمَّ رَكِبَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ؟ قَالَ: قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَقْرَأَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ بِهِمَا، ثُمَّ مَرَّ بِي، قَالَ:" كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقْبَُ؟ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَكُلَّمَا قُمْتَ" ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هُوَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَابِسٍ، وَيُقَالَ: ابْنُ عَبْسٍ الْجُهَنِيُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری کے آگے آگے چل رہا تھا، اچانک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عقبہ! تم سوار کیوں نہیں ہوتے؟ لیکن مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کا خیال آیا کہ ان کی سواری پر میں سوار ہوں، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا اے عقبہ! تم سوار کیوں نہٰ ہوتے، اس مرتبہ مجھے اندیشہ ہو کہ کہیں یہ نافرمانی کے زمرے میں نہ آئے، چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اترے تو میں سوار ہوگیا اور تھوڑی ہی دور چل کر اتر گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوبارہ سوار ہوئے تو فرمایا اے عقبہ! کیا میں تمہیں ایسی دو سورتیں نہ سکھا دوں جو ان تمام سورتوں سے بہتر ہوں جو لوگ پڑھتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھ گئے اور نماز میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر میرے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا اے عقبہ! تم کیا سمجھے؟ یہ دونوں سورتیں سوتے وقت بھی پڑھا کرو اور بیدار ہو کر بھی پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17296]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 814
الحكم: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17297 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" يَا ابْنَ عَابِسٍ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ مَا تَعَوَّذَ الْمُتَعَوِّذُونَ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عابس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابن عابس! کیا میں تمہیں تعوذ کے سب سے افضل کلمات کے بارے میں نہ بتاؤں جن سے تعوذ کرنے والے تعوذ کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیوں نہیں، فرمایا دو سورتیں ہیں سورت فلق اور سورت ناس۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17297]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 814
الحكم: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17298 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو عُشَّانَةَ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أُثْكِلَ ثَلَاثَةً مِنْ صُلْبِهِ، فَاحْتَسَبَهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ أَبُو عُشَّانَةَ مَرَّةً:" فِي سَبِيلِ اللَّهِ" وَلَمْ يَقُلْهَا مَرَّةً أُخْرَى وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے تین حقیقی بچے فوت ہوجائیں اور وہ اللہ کے سامنے ان پر صبر کا مظاہرہ کرے تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17298]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح ، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 17299 مسند احمد
حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، إِسْمَاعِيلَ ، قَيْسٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُنْزِلَتْ عَلَيَّ سُورَتَانِ، فَتَعَوَّذُوا بِهِنَّ، فَإِنَّهُ لَمْ يُتَعَوَّذْ بِمِثْلِهِنَّ" يَعْنِي: الْمُعَوِّذَتَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر دو سورتیں نازل ہوئی ہیں تم ان سے اللہ کی پناہ حاصل کیا کرو، کیونکہ ان جیسی کوئی سورت نہیں ہے مراد معوذتین ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17299]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 814
الحكم: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17300 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَّامٍ ، عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْرَقِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْرَقِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ الثَّلَاثَةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالْمُمِدَّ بِهِ، وَالرَّامِيَ بِهِ" . وَقَالَ: " ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ، إِلَّا رَمْيَةَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ، وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ، وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ، فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عَلَّمَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان میں، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17300]
حکم دارالسلام
حديث حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله الأزرق، وقد أضطرب فى إسناده
الحكم: حديث حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله الأزرق، وقد أضطرب فى إسناده
حدیث نمبر: 17301 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، مُحَمَّدٌ ، كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نذر کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17301]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد مولى المغيرة بن شعبة، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد مولى المغيرة بن شعبة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17302 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهِ، مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام شرائط میں پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ حق دار وہ شرط ہے جس کے ذریعے تم اپنے لئے عورتوں کی شرمگاہ کو حلال کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17302]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2721، م: 1418
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2721، م: 1418
حدیث نمبر: 17303 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلَ ، قَيْسٌ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُنْزِلَ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ سورة الناس آية 1 إِلَى آخِرِ السُّورَةِ، و قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ سورة الفلق آية 1 إِلَى آخِرِ السُّورَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر ایسی دو سورتیں نازل ہوئی ہیں، کہ ان جیسی کوئی سورت نہیں ہے، مراد معوذتین ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17303]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 814
الحكم: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17304 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، يَحْيَى ، بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَأَصَابَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ جَذَعَةً، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، فَقَالَ:" ضَحِّ بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کئے تو میرے حصے میں چھ ماہ کا ایک بچہ آیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق قربانی کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17304]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5547، م: 1965
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5547، م: 1965
حدیث نمبر: 17305 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي سَفَرٍ، وَمَعَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُمَّنَا، فَقَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ، وَأَتَمَّ الصَّلَاةَ، فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنْ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو علی ہمدانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سفر پر روانہ ہوا، ہمارے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر ہوں، آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہیں، لہذا آپ ہماری امامت کیجئے، انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص لوگوں کی امامت کرے، بروقت اور مکمل نماز پڑھائے تو اسے بھی ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی اور جو شخص اس میں کوتاہی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، مقتدیوں پر نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17305]
حکم دارالسلام
حديث حسن، إسماعيل ضعيف فى روايته عن غير أهل بلده، لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، إسماعيل ضعيف فى روايته عن غير أهل بلده، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17306 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْيَحْصَبِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْيَحْصَبِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا، مُرْهَا فَلْتَخْتَمِرْ، وَلْتَرْكَبْ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مالک رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے پیدا چل کر دوپٹہ اوڑھے بغیر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سختی کا کیا کرے گا؟ اسے حکم دو کہ وہ دوپٹہ اوڑھ کر سوار ہو کر جائے اور تین روزے رکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17306]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: «ولتصم ثلاثة أيام» ، وهذا إسناد فيه ضعف، عبيدالله بن زحر مختلف فيه، والأكثر على تضعيفه
الحكم: حديث صحيح دون قوله: «ولتصم ثلاثة أيام» ، وهذا إسناد فيه ضعف، عبيدالله بن زحر مختلف فيه، والأكثر على تضعيفه
حدیث نمبر: 17307 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبُو الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْخَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ، ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ، ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً، فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ، ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً أُخْرَى، فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ أُخْرَى، حَتَّى يَخْرُجَ إِلَى الْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص گناہ کرتا ہو، پھر نیکی کے کام کرنے لگے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے، جس نے اتنی تنگ قمیص پہن رکھی ہو کہ اس کا گلا گھٹ رہا ہو، پھر وہ نیکی کا ایک عمل کرے اور اس کا ایک حلقہ کھل جائے، پھر دوسری نیکی کرے اور دوسرا حلقہ بھی کھل جائے یہاں تک کہ وہ اس سے آزاد ہو کر زمین پر نکل آئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17307]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17308 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُلَيْلٍ السَّلِيحِيُّ ، أَبِي ، عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُلَيْلٍ السَّلِيحِيُّ ، وَهُمْ إِلَى قُضَاعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ جَالِسًا قَرِيبًا مِنَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَخَرَجَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَاسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ، فَخَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: وَكَانَ مِنْ أَقْرَإِ النَّاسِ قَالَ: فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ رِجَالٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالملک بن ملیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن میں منبر کے قریب حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، محمد بن ابی حذیفہ آئے اور منبر پر بیٹھ کر خطبہ دینے لگے، پھر قرآن کریم کی کوئی سورت پڑھی اور وہ بہترین قاری تھے، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بہت سے ایسے لوگ قرآن پڑھیں گے جن کے حلق سے وہ آگے نہ جائے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17308]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالملك بن مليل
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالملك بن مليل
حدیث نمبر: 17309 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، عَمَّنْ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، عَمَّنْ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا، فَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ نَأْكُلَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَذِنَ لَنَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا، میں نے زکوٰۃ کے جانوروں میں سے کھانے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17309]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي الذى سمع عقبة بن عامر
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي الذى سمع عقبة بن عامر
حدیث نمبر: 17310 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، أَبِي عُشَّانَةَ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُخْبِرُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَمْنَعُ أَهْلَ الْحِلْيَةِ وَالْحَرِيرَ، وَيَقُولُ: " إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ حِلْيَةَ الْجَنَّةِ وَحَرِيرَهَا، فَلَا تَلْبَسُوهَا فِي الدُّنْيَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اہل خانہ کو زیورات اور ریشم سے منع فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر تمہیں جنت کے زیورات اور ریشم محبوب ہیں، تو دنیا میں انہیں مت پہنو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17310]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، رشدين بن سعد ضعيف، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، رشدين بن سعد ضعيف، وقد توبع