بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 171
صفحہ 5 از 9
حدیث نمبر: 17371 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي عُشَّانَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَعْجَبُ مِنَ الشَّابِّ لَيْسَتْ لَهُ صَبْوَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ اس نوجوان سے خوش ہوتا ہے جس میں جوانی کی نادانی نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17371]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواية قتيبة بن سعيد عنه مقبولة
الحكم: حسن لغيره، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواية قتيبة بن سعيد عنه مقبولة
حدیث نمبر: 17372 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي عُشَّانَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَّلُ خَصْمَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جَارَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے پیش ہونے والے دو فریق پڑوسی ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17372]
حکم دارالسلام
حديث حسن، فابن لهيعة قد توبع
الحكم: حديث حسن، فابن لهيعة قد توبع
حدیث نمبر: 17373 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي عُشَّانَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُكْرِهُوا الْبَنَاتِ، فَإِنَّهُنَّ الْمُؤْنِسَاتُ الْغَالِيَاتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹیوں کو برا نہ سمجھا کرو، کہ وہ انتہائی گراں قدر غمخوار ہوتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17373]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد تفرد به
الحكم: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد تفرد به
حدیث نمبر: 17374 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ ، شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَمَّنْ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ عَظْمٍ مِنَ الْإِنْسَانِ يَتَكَلَّمُ يَوْمَ يُخْتَمُ عَلَى الْأَفْوَاهِ، فَخْذُهُ مِنَ الرِّجْلِ الشِّمَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس دن منہ پر مہر لگا دی جائے گی تو سب سے پہلے انسان کے جسم کی جو ہڈی بولے گی وہ اس کی بائیں ران ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17374]
حکم دارالسلام
حسن لغيره دون قوله: «من الرجل الشمال» ، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الذى روي عن عقبة بن عامر
الحكم: حسن لغيره دون قوله: «من الرجل الشمال» ، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الذى روي عن عقبة بن عامر
حدیث نمبر: 17375 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، أَبَا سَعِيدٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ . ح وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ، قَالَ يَزِيدُ: الرُّعَيْنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُخْتٍ لَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلْتَخْتَمِرْ، وَلْتَرْكَبْ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے پیدا چل کر دوپٹہ اوڑھے بغیر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری ہن کی سختی کا کیا کرے گا؟ اسے حکم دو کہ وہ دوپٹہ اوڑھ کر سوار ہو کر جائے اور تین روزے رکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17375]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: «ولتصم ثلاثة أيام» ، وهذا إسناد فيه ضعف، عبيد الله بن زحر مختلف فيه، والأكثر على تضعيفه
الحكم: حديث صحيح دون قوله: «ولتصم ثلاثة أيام» ، وهذا إسناد فيه ضعف، عبيد الله بن زحر مختلف فيه، والأكثر على تضعيفه
حدیث نمبر: 17376 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهِ، مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام شرائط میں پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ حق دار وہ شرط ہے جس کے ذریعے تم اپنے لئے عورتوں کی شرمگاہ کو حلال کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2721، م: 1418
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2721، م: 1418
حدیث نمبر: 17377 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ ، أَبِيهِ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ يَنْهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین اوقات ہیں جن میں نماز پڑھنے یا مردوں کو قبر میں دفن کرنے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں منع فرمایا کرتے تھے، (١) سورج طلوع ہوتے وقت، یہاں تک کہ وہ بلند ہوجائے (٢) زوال کے وقت، یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے (٣) غروب آفتاب کے وقت، یہاں تک کہ وہ غروب ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17377]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 831
الحكم: إسناده صحيح، م: 831
حدیث نمبر: 17378 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الجُهني
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الجُهني ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ" أَوْ" لَمْ نَرَ مِثْلَهُنَّ" يَعْنِي الْمُعَوِّذَتَيْنِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر ایسی دو سورتیں نازل ہوئی ہیں، کہ ان جیسی کوئی سورت نہیں ہے، مراد معوذتین ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17378]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 814
الحكم: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17379 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ ، أَبِيهِ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ، عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَهُنَّ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یوم عرفہ، دس ذی الحجہ (قربانی کا دن) اور ایام تشریق ہم مسلمانوں کی عید کے دن ہیں اور کھانے پینے کے دن ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17379]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17380 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَذَعِ، فَقَالَ: " ضَحِّ بِهِ، فلَا بَأْسَ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے چھ ماہ کے بچے کے متعلق قربانی کا حکم پوچھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اس کی قربانی کرلو کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17380]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17381 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ، دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اور اپنے ہاتھوں کو کسی کے خون سے رنگین کئے ہوئے نہ ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17381]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17382 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُوسَى بْنَ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ ، أَبِي ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ، وَأَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَعِنْدَ قَائِمِ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین اوقات ہیں جن میں نماز پڑھنے یا مردوں کو قبر میں دفن کرنے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں منع فرمایا کرتے تھے، (١) سورج طلوع ہوتے وقت، یہاں تک کہ وہ بلند ہوجائے (٢) زوال کے وقت، یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے (٣) غروب آفتاب کے وقت، یہاں تک کہ وہ غروب ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17382]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 831
الحكم: إسناده صحيح، م: 831
حدیث نمبر: 17383 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عُلَيٍّ ، أَبِيهِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عُلَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَوْمَ عَرَفَةَ وَأَيَّامَ التَّشْرِيقِ، هُنَّ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَهُنَّ أَيَّامُ أَكَلٍ وَشُرْبٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یوم عرفہ، دس ذی الحجہ (قربانی کا دن) اور ایام تشریق ہم مسلمانوں کی عید کے دن ہیں اور کھانے پینے کے دن ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17383]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17384 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُهْدَةُ الرَّقِيقِ ثَلَاثٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا غلام کی ذمہ داری تین تک رہتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17384]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع عقبة بن عامر، ثم هو مضطرب
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع عقبة بن عامر، ثم هو مضطرب
حدیث نمبر: 17385 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُهْدَةُ الرَّقِيقِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا غلام کی ذمہ داری تین تک رہتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17385]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، راجع ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 17386 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبَا الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ" قَالَ: وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُفَارِقُ عُقْبَةَ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو الخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ سوار ہو کر جائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17386]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1866، م: 1644
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1866، م: 1644
حدیث نمبر: 17387 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17387]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1866، م: 1644
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1866، م: 1644
حدیث نمبر: 17388 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ رَاكِبَانِ، فَلَمَّا رَآهُمَا قَالَ:" كِنْدِيَّانِ مَذْحِجِيَّانِ" حَتَّى أَتَيَاهُ، فَإِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِجٍ، قَالَ: فَدَنَا إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا لِيُبَايِعَهُ، قَالَ: فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ رَآكَ فَآمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ، مَاذَا لَهُ؟ قَالَ:" طُوبَى لَهُ"، قَالَ: فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ لِيُبَايِعَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ آمَنْ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ وَلَمْ يَرَكَ؟ قَالَ: " طُوبَى لَهُ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ"، قَالَ: فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ، فَانْصَرَفَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو عبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ دو سوار آتے ہوئے دکھائی دیئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا کہ ان کا تعلق قبیلہ کندہ کے بطن مذحج سے ہے، جب وہ قریب پہنچے تو واقعۃ دو مذحجی تھے، ان میں سے ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کے لئے آگے بڑھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک ہاتھوں میں تھام کر کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بتائیے کہ جس شخص نے آپ کی زیارت کی، آپ پر ایمان لایا، آپ کی تصدیق کی اور آپ کی پیروی کی، تو اسے کیا ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کے لئے خوشخبری ہے، اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک پر ہاتھ پھیرا اور واپس چلا گیا، پھر دوسرے نے آگے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک بیعت کے لئے تھاما تو کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص آپ پر ایمان لائے، آپ کی تصدیق اور پیروی کرے لیکن آپ کی زیارت نہ کرسکے تو اسے کیا ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا اس کے لئے خوشخبری ہے اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک پر ہاتھ پھیرا اور واپس چلا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17388]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17389 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" يَا ابْنَ عَابِسٍ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ مَا تَعَوَّذَ بِهِ الْمُتَعَوِّذُونَ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عابس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابن عابس! کیا میں تمہیں تعوذ کے سب سے افضل کلمات کے بارے میں نہ بتاؤں جن سے تعوذ کرنے والے تعوذ کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیوں نہیں، فرمایا دو سورتیں ہیں سورت فلق اور سورت ناس۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17389]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 814
الحكم: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17390 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، قَتَادَةَ ، نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، اكْفِنِي أَوَّلَ النَّهَارِ بِأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، أَكْفِكَ بِهِنَّ آخِرَ يَوْمِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! دن کے پہلے حصے میں تو چار رکعت پڑھ کر میری کفایت کر، میں ان کی برکت سے دن کے آخرت تک تیری کفایت کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17390]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح