بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 171
صفحہ 9 از 9
حدیث نمبر: 17451 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، ابْنِ شِمَاسَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُغَيِّبَ مَا بِسِلْعَتِهِ عَنْ أَخِيهِ إِنْ عَلِمَ بِهَا تَرَكَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے سامان میں کوئی ایسا عیب چھپائے کہ اگر اسے وہ عیب معلوم ہوجائے تو وہ اسے چھوڑ دے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17451]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 17452 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ عَيَّاشٍ ، أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِيِّ ، فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ اللَّخْمِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِيِّ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ، صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ"، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ، أَمْلِكْ لِسَانَكَ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ"، قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ، أَلَا أُعَلِّمُكَ سُوَرًا مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهُنَّ، لَا يَأْتِيَنَّ عَلَيْكَ لَيْلَةٌ إِلَّا قَرَأْتَهُنَّ فِيهَا: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" ، قَالَ عُقْبَةُ: فَمَا أَتَتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ إِلَّا قَرَأْتُهُنَّ فِيهَا، وَحُقَّ لِي أَنْ لَا أَدَعَهُنَّ وَقَدْ أَمَرَنِي بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ فَرْوَةُ بْنُ مُجَاهِدٍ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ: أَلَا فَرُبَّ مَنْ لَا يَمْلِكُ لِسَانَهُ، أَوْ لَا يَبْكِي عَلَى خَطِيئَتِهِ وَلَا يَسَعُهُ بَيْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا عقبہ! رشتہ توڑنے والے سے رشتہ جوڑو، محروم رکھنے والے کو عطاء کرو اور ظالم سے درگذر اور اعراض کرو۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ پھر میری ملاقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عقبہ! اپنی زبان کی حفاظت کرو اپنے گھر کو اپنے لئے کافی سمجھو اور اپنے گناہوں پر آہ وبکاء کرو۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ پھر میری ملاقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عقبہ بن عامر! کیا میں تمہیں ایسی سورتیں نہ بتاؤں جن کی مثال تورات، زبور، انجیل اور قرآن میں بھی نہیں ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سورت اخلاص سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں اور فرمایا عقبہ انہیں مت بھلانا اور کوئی رات ایسی نہ گذارنا جس میں یہ سورتیں نہ پڑھو، چنانچہ میں نے اس وقت سے انہیں کبھی بھولنے نہیں دیا اور کوئی رات انہیں پڑھے بغیر نہیں گذاری۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17452]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 814
الحكم: إسناده حسن، م: 814
حدیث نمبر: 17453 مسند احمد
موسى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا موسى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: ذُو الْبِجَادَيْنِ: " إِنَّهُ أَوَّاهٌ"، وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ رجلًا كَثِيرَ الذِّكْرِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ، وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ فِي الدُّعَاءِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذولبجادین نامی ایک آدمی کے متعلق فرمایا وہ بڑا آہ وبکاء کرنے والا ہے، وہ شخص قرآن کی تلاوت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرتا تھا اور بلند آواز سے دعاء کرتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17453]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17454 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَرَكِبَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِلَى مِصْرَ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يَبْقَ مِمَّنْ حَضَرَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَا وَأَنْتَ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سَتْرِ الْمُؤْمِنِ؟ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا عَلَى عَوْرَةٍ سَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، فَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَا حَلَّ رَحْلَهُ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سفر کر کے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، لیکن وہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ مجھے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کا پتہ بتادو، چنانچہ وہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ ہمیں وہ حدیث سنائیے جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خود سنی ہے اور اب کوئی شخص اس کی سماعت کرنے والا باقی نہیں رہا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں اپنے بھائی کے کسی عیب کو چھپالے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈال دے گا؟ یہ حدیث سن کر وہ اپنی سواری کے پاس آئے، اس پر سوار ہوئے اور واپس چلے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17454]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، ابن جريج لم يدرك أحدا من الصحابة
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، ابن جريج لم يدرك أحدا من الصحابة
حدیث نمبر: 17455 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي عِمْرَانَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، ثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: اتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ، فَقُلْتُ: أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ أَوْ سُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ: " لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چلا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوار تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک قدموں پر ہاتھ رکھ کر عرض کیا کہ مجھے سورت ہود اور سورت یوسف پڑھا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک تم سورت فلق سے زیادہ بلیغ کوئی سورت نہ پڑھو گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17455]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 814
الحكم: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17456 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، شَيْخٍ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ مَعَافِرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ، كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، فَإِذَا صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ قَعَدَ فِيهِ، كَانَ كَالصَّائِمِ الْقَانِتِ حَتَّى يَرْجِعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب انسان وضو کر کے نماز کے خیال سے مسجد آتا ہے تو ہر وہ قدم جو وہ مسجد کی طرف اٹھاتا ہے، فرشتہ اس کے لئے ہر قدم کے عوض دس نیکیاں لکھتا جاتا ہے اور بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے والا نماز پڑھنے والے کی طرح ہوتا ہے، یہاں تک کہ واپس چلا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17456]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17457 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو عُشَّانَةَ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: لَا أَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا مِنْ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف نسب کر کے کوئی ایسی بات نہیں کہوں گا جو انہوں نے نہ کہی ہو، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے، وہ اپنے لئے جہنم میں ٹھکانہ بنا لے۔ اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے دو آدمی ہیں جن میں سے ایک شخص رات کے وقت بیدار ہو کر اپنے آپ کو وضو کے لئے تیار کرتا ہے اس وقت اس پر کچھ گرہیں لگی ہوتی ہیں، چنانچہ وہ وضو کرتا ہے، جب وہ ہاتھ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، چہرہ دھوتا ہے تو ایک اور گرہ کھول جاتی ہے، سر کا مسح کرتا ہے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے اور جب پاؤں دھوتا ہے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو نظر نہیں آتے کہ میرے اس بندے کو دیکھو جس نے اپنے نفس کے ساتھ مقابلہ کیا، میرا یہ بندہ مجھ سے جو مانگے گا وہ اسے ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17457]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17458 مسند احمد
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ أَحَدُهُمَا مِنَ اللَّيْلِ فَيُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقَدٌ فَيَتَوَضَّأُ، فَإِذَا وَضَّأَ يَدَيْهِ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَه، انحَلَّتْ عقْدَةٌ، وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ لِلَّذِينَ وَرَاءَ الْحِجَابِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا فَهُوَ لَهُ" .
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17459 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو قَبِيلٍ ، أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ، كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَالْقَاعِدُ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ كَالْقَانِتِ، وَيُكْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّينَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب انسان وضو کر کے نماز کے خیال سے مسجد آتا ہے تو ہر وہ قدم جو وہ مسجد کی طرف اٹھاتا ہے، فرشتہ اس کے لئے ہر قدم کے عوض دس نیکیاں لکھتا جاتا ہے اور بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے والا نماز پڑھنے والے کی طرح ہوتا ہے اور اسے نمازیوں میں لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ واپس چلا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17459]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وهو سيئ الحفظ
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وهو سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17460 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي عُشَّانَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ"، فَذَكَرَ مِثْلَهُ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17460]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17461 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنِ لَهِيعَةَ ، أَبُو قَبِيلٍ ، أَبِي عُشَّانَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَاَ ابْنِ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو قَبِيلٍ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17461]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن