بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 171
صفحہ 7 از 9
حدیث نمبر: 17411 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، عُقَبْة بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، عَنْ عُقَبْة بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ أَكْثَرَ مُنَافِقِي هَذِهِ الْأُمَّةِ لَقُرَّاؤُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے اکثر منافقین قراء ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17411]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل مشرح بن هاعان
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل مشرح بن هاعان
حدیث نمبر: 17412 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفُضِّلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ عَلَى الْقُرْآنِ بِأَنْ جُعِلَ فِيهَا سَجْدَتَانِ؟ فَقَالَ: " نَعَمْ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا پورے قرآن میں سورت حج ہی کی یہ فضیلت ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اور جو شخص یہ دونوں سجدے نہیں کرتا گویا اس نے یہ سورت پڑھی ہی نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17412]
حکم دارالسلام
حسن بطرقه وشواهده دون قوله: «ومن لم يسجدهما فلا يقرأهما» ، وهذا الإسناد ضعيف، حديث مشرح عن عقبة خاصة مقال
الحكم: حسن بطرقه وشواهده دون قوله: «ومن لم يسجدهما فلا يقرأهما» ، وهذا الإسناد ضعيف، حديث مشرح عن عقبة خاصة مقال
حدیث نمبر: 17413 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَسْلَمَ النَّاسُ، وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے اور عمرو بن عاص ایمان لائے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17413]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين
الحكم: حديث محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 17414 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُوسَى يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ الْغَافِقِيَّ ، إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ الْغَافِقِيَّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ"، فَلَمَّا نَزَلَتْ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قَالَ:" اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ فسبح باسم ربک العظیم نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں شامل کرلو (اسی وجہ سے رکوع میں سبحان ربی العظیم کہا جاتا ہے) اور جب سبح اسم ربک الاعلی نازل ہوئی تو فرمایا اسے اپنے سجدہ میں شامل کرلو۔ (اسی وجہ سے سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہا جاتا ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17414]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 17415 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي قَبِيلٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ ، قَالَ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ : وَحَدَّثَنِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " هَلَاكُ أُمَّتِي فِي الْكِتَابِ وَاللَّبَنِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْكِتَابُ وَاللَّبَنُ؟ قَالَ:" يَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَيَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَيُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَيَبْدُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوقبیل سے سندا مروی ہے کہ میں نے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے صرف ذیل کی حدیث سنی ہے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اپنی امت کے متعلق کتاب اور دودھ سے خطرہ ہے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کتاب اور دوھ سے خطرے کا کیا مطلب؟ فرمایا کہ اسے منافقین سیکھیں گے اور اہل ایمان سے جھگڑا کریں گے اور دودھ کو پسند کرتے ہوں گے اور اس کی وجہ سے جماعت سے نکل جائیں گئے اور جمعہ کی نمازیں چھوڑ دیا کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17415]
حکم دارالسلام
إسناداه حسنان
الحكم: إسناداه حسنان
حدیث نمبر: 17416 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبَا الْخَيْرِ ، عُقْبَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْخَيْرِ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَسْمَعُ أَذَانَ الْمَغْرِبِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا أُعَجِّبُكَ مِنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ؟ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَغْمِصَهُ، قَالَ عُقْبَةُ : أَمَا إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا يَمْنَعُكَ الْآنَ؟ قَالَ: الشُّغْلُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ابو تمیم جیشانی رحمہ اللہ کو نماز مغرب کی اذان سننے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا، تو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابو تمیم کی اس حرکت سے آپ کو تعجب نہیں ہوتا کہ وہ نماز مغرب سے قبل دو رکعتیں پڑھتے ہیں، میرا مقصد ابو تمیم کو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کی نظروں میں گرانا تھا، لیکن حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ کام ہم بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں کرتے تھے میں نے پوچھا کہ پھر اب کیوں نہیں کرتے؟ فرمایا مصروفیت کی وجہ سے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17416]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1184
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1184
حدیث نمبر: 17417 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُوبَ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرُّعَيْنِيُّ ، وَأَبُو مَرْحُومٍ ، يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُوبَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرُّعَيْنِيُّ ، وَأَبُو مَرْحُومٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ ہر نماز کے بعد معوذات (جن سورتوں میں قل اعوذ کا لفظ آتا ہے) پڑھا کروں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17417]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 814
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 814
حدیث نمبر: 17418 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبُو عِمْرَانَ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا: سَمِعْنَا يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ وَسُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ، إِنَّكَ لَمْ تَقْرَأْ سُورَةً أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا أَبْلَغَ عِنْدَهُ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ" ، قَالَ يَزِيدُ: لَمْ يَكُنْ أَبُو عِمْرَانَ يَدَعُهَا، وَكَانَ لَا يَزَالُ يَقْرَؤُهَا فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چلا، نبی صلی اللہ علیہ سوار تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک قدموں پر ہاتھ رکھ کر عرض کیا کہ مجھے سورت ہود اور سورت یوسف پڑھا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عقبہ کے نزدیک تم سورت فلق سے زیادہ بلیغ کوئی سورت نہ پڑھو گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17418]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 814
الحكم: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17419 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يُضِيفُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو مہمان نوازی نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17419]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل سوء حفظ ابن لهيعة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل سوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 17420 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ الْمَعَافِرِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْ كَانَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ، مَا مَسَّتْهُ النَّارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر قرآن کریم کو کسی چمڑے میں لپیٹ کر بھی آگ میں ڈال دیا جائے تو آگ اسے جلائے گی نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17420]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، مشرح عن عقبة خاصة مقال، وابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف، مشرح عن عقبة خاصة مقال، وابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17421 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَبُو السَّمْحِ ، أَبُو قَبِيلٍ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ ، حَدَّثَنِي أَبُو قَبِيلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنِّي أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي اثْنَتَيْنِ: الْقُرْآنَ وَاللَّبَنَ، أَمَّا اللَّبَنُ: فَيَبْتَغُونَ الرِّيفَ وَيَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ وَيَتْرُكُونَ الصَّلَوَاتِ، وَأَمَّا الْقُرْآنُ: فَيَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ فَيُجَادِلُونَ بِهِ الْمُؤْمِنِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اپنی امت کے متعلق کتاب اور دودھ سے خطرہ ہے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کتاب اور دوسرے خطرے کا کیا مطلب؟ فرمایا کہ اسے منافقین سیکھیں گے اور اہل ایمان سے جھگڑا کریں گے اور دودھ کو پسند کرتے ہوں گے اور اس کی وجہ سے جماعت سے نکل جائیں گئے اور جمعہ کی نمازیں چھوڑ دیا کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17421]
حکم دارالسلام
حديث حسن، أبو السمع ضعيف، يعتبر به فى المتابعات والشواهد
الحكم: حديث حسن، أبو السمع ضعيف، يعتبر به فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 17422 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَنْصُورٍ ، دُخَيْنٍ الْحَجْرِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَنْصُورٍ ، عَنْ دُخَيْنٍ الْحَجْرِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِ رَهْطٌ، فَبَايَعَ تِسْعَةً وَأَمْسَكَ عَنْ وَاحِدٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايَعْتَ تِسْعَةً وَتَرَكْتَ هَذَا؟! قَالَ:" إِنَّ عَلَيْهِ تَمِيمَةً"، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَقَطَعَهَا، فَبَايَعَهُ، وَقَالَ: " مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں (دس آدمیوں کا) ایک وفد حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے نو آدمیوں کو بیعت کرلیا اور ایک سے ہاتھ روک لیا، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ نے نو کو بیعت کرلیا اور اس شخص کو چھوڑ دیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے تعویذ پہن رکھا ہے، یہ سن کر اس نے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اس تعویذ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے بھی بیعت لے لی اور فرمایا جو شخص تعویذ لٹکاتا ہے وہ شرک کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17422]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 17423 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا النَّذْرُ كَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نذر کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17423]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17424 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَصَارَ لِعُقْبَةَ جَذَعَةٌ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ! قَالَ:" ضَحِّ بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کئے تو میرے حصے میں چھ ماہ کا ایک بچہ آیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق قربانی کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17424]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 17425 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، الْأَسْلَمِيُّ ، أَبُو عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيُّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي الْأَسْلَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ فِي مَخْرَجٍ خَرَجْنَاهُ، فَحَانَتْ صَلَاةٌ، فَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَؤُمَّنَا، فَأَبَى عَلَيْنَا، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَؤُمُّ عَبْدٌ قَوْمًا إِلَّا تَوَلَّى مَا كَانَ عَلَيْهِمْ فِي صَلَاتِهِمْ، إِنْ أَحْسَنَ فَلَهُ، وَإِنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعلی ہمدانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سفر پر روانہ ہوا، ہمارے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم نے ان سے عرض کیا آپ ہماری امامت کیجئے، (انہوں نے انکار کردیا اور) فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص لوگوں کی امامت کرے بروقت اور مکمل نماز پڑھائے تو اسے بھی ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی اور جو شخص اس میں کوتاہی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، مقتدیوں پر نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17425]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الأسلمي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الأسلمي
حدیث نمبر: 17426 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَيِّ، وَكَانَ يَكْرَهُ شُرْبَ الْحَمِيمِ، وَكَانَ إِذَا اكْتَحَلَ اكْتَحَلَ وِتْرًا، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ وِتْرًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے داغنے سے منع فرمایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گرم پانی پینے کو ناپسند فرماتے تھے، جب سرمہ لگاتے تو طاق عدد میں اور جب دھونی دیتے تو وہ بھی طاق عدد میں دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17426]
حکم دارالسلام
حديث حسن صحيح، رواه عن ابن لهيعة أبو عبدالرحمن المقرئ، وروايته عنه صالحة
الحكم: حديث حسن صحيح، رواه عن ابن لهيعة أبو عبدالرحمن المقرئ، وروايته عنه صالحة
حدیث نمبر: 17427 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا، وَإِذَا اكْتَحَلَ أَحدُكم، فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی دھونی دے تو طاق عدد میں اور سرمہ لگائے تو وہ بھی طاق عدد میں لگائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17427]
حکم دارالسلام
حديث حسن كسابقه
الحكم: حديث حسن كسابقه
حدیث نمبر: 17428 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اكْتَحَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ، فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی دھونی دے تو طاق عدد میں اور سرمہ لگائے تو وہ بھی طاق عدد میں لگائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17428]
حکم دارالسلام
حديث حسن كسابقه
الحكم: حديث حسن كسابقه
حدیث نمبر: 17429 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، هَارُونَ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، مَوْلًى ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ مِثْلَهُ سَوَاءً، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أنَّ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ مَوْلًى لِشُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا تیر جس چیز کو شکار کر کے تمہارے پاس لے آئے اسے کھالو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17429]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام رجل فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام رجل فيه
حدیث نمبر: 17430 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، مَوْلَى ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ مَوْلَى شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا تیر جس چیز کو شکار کر کے تمہارے پاس لے آئے اسے کھالو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17430]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام رجل فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام رجل فيه