زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَبُو السَّمْحِ ، أَبُو قَبِيلٍ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ ، حَدَّثَنِي أَبُو قَبِيلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنِّي أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي اثْنَتَيْنِ: الْقُرْآنَ وَاللَّبَنَ، أَمَّا اللَّبَنُ: فَيَبْتَغُونَ الرِّيفَ وَيَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ وَيَتْرُكُونَ الصَّلَوَاتِ، وَأَمَّا الْقُرْآنُ: فَيَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ فَيُجَادِلُونَ بِهِ الْمُؤْمِنِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اپنی امت کے متعلق کتاب اور دودھ سے خطرہ ہے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کتاب اور دوسرے خطرے کا کیا مطلب؟ فرمایا کہ اسے منافقین سیکھیں گے اور اہل ایمان سے جھگڑا کریں گے اور دودھ کو پسند کرتے ہوں گے اور اس کی وجہ سے جماعت سے نکل جائیں گئے اور جمعہ کی نمازیں چھوڑ دیا کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17421]
حکم دارالسلام
حديث حسن، أبو السمع ضعيف، يعتبر به فى المتابعات والشواهد
الحكم: حديث حسن، أبو السمع ضعيف، يعتبر به فى المتابعات والشواهد