الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ابْنُ جَابِرٍ ، الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ، إِذْ قَالَ لِي:" يَا عُقْبَُ، أَلَا تَرْكَبُ؟" قَالَ: فَأَجْلَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْكَبَ مَرْكَبَهُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَُ، أَلَا تَرْكَبُ؟" قَالَ: فَأَشْفَقْتُ أَنْ تَكُونَ مَعْصِيَةً، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْتُ هُنَيَّةً، ثُمَّ رَكِبَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ؟ قَالَ: قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَقْرَأَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ بِهِمَا، ثُمَّ مَرَّ بِي، قَالَ:" كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقْبَُ؟ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَكُلَّمَا قُمْتَ" ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هُوَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَابِسٍ، وَيُقَالَ: ابْنُ عَبْسٍ الْجُهَنِيُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری کے آگے آگے چل رہا تھا، اچانک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عقبہ! تم سوار کیوں نہیں ہوتے؟ لیکن مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کا خیال آیا کہ ان کی سواری پر میں سوار ہوں، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا اے عقبہ! تم سوار کیوں نہٰ ہوتے، اس مرتبہ مجھے اندیشہ ہو کہ کہیں یہ نافرمانی کے زمرے میں نہ آئے، چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اترے تو میں سوار ہوگیا اور تھوڑی ہی دور چل کر اتر گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوبارہ سوار ہوئے تو فرمایا اے عقبہ! کیا میں تمہیں ایسی دو سورتیں نہ سکھا دوں جو ان تمام سورتوں سے بہتر ہوں جو لوگ پڑھتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھ گئے اور نماز میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر میرے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا اے عقبہ! تم کیا سمجھے؟ یہ دونوں سورتیں سوتے وقت بھی پڑھا کرو اور بیدار ہو کر بھی پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17296]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 814
الحكم: إسناده صحيح، م: 814